رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لوگو!
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
(بخاری،۲۹۶۶)
رجیم چینج آسمان سے چند بم گرا دینے سے نہیں ہوتا، بلکہ زمین پر لاکھوں فوجیں اتارنے سے ہوتا ہے۔
اسرائیل کے چار پانچ میزائل داغ دینے سے ایران میں کوئی نظام تبدیل نہیں ہو جائے گا۔
جو طاقت پچیس کلومیٹر کے غزہ پر ہزاروں ٹن بم برسا کر بھی نہ وہاں رجیم چینج کر سکی
ابو عبیدہ کی تازہ ٹویٹ:
"رفح کے محصور مقامات پر ڈٹے ہوئے ان مزاحمت کاروں کو سلام، جنہوں نے ذلت اور ہار ماننے سے انکار کردیا اور ہتھیار ڈالنے کےبجائے شہادت کو ترجیح دی۔
انکی بہادری کی داستانیں آنے والی نسلوں کےلیے نصاب بنیں گی اور ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا"
میرے بھائی ابو عبیدہ کا آخری کلام: "امت کے نام
کوئی غافل قیامت کے دن یہ نا کہے
کہ
اللہ ہم تک تو الفاظ نہیں پہنچے
پڑھیے
ریکارڈنگ کرنے والا مزاحمتی عملہ بتاتا ہے جب ہمارے سامنے ا بوعبید ہ نے آخری تقریر ریکارڈ کروائی تو منظر کچھ ایسا تھا ۔
ریکارڈنگ کا آغاز ہوتا ہے، ا/بوعبید ہ کا سانس اکھڑا ہوا ہے،
وہ بار بار رکتے ہیں، ان کا ہاتھ شدتِ غم سے مصلے یا زمین کو چھوتا ہے۔
وہ کیمرے کی طرف نہیں، بلکہ جیسے عرشِ الٰہی کی طرف دیکھ کر پوری قوم سے مخاطب ہیں
"اے وہ لوگو جو ہمارے دین کے دعویدار تھے تم اللہ کے سامنے ہمارے دشمن ہو،
تم ان معصوموں کے قاتلوں کے برابر ہو جن کی چیخیں تمہاری سرحدوں پر آکر دم توڑ گئیں۔
ہم نے گمان کیا تھا کہ تم ایک جسم کی طرح ہو،
لیکن تم تو مردہ لاشیں نکلے جنہیں اپنی عیش و عشرت کے کفن سے پیار تھا۔"
(وہ ہچکیوں کے درمیان رک کر اپنے آنسو پونچھتے ہیں، ریکارڈنگ تیسری بار بند کرنی پڑتی ہے، پھر دوبارہ شروع ہوتی ہے...)
"تمہارے سمندر، تمہاری فوجیں، تمہارے اسلحے کے ڈھیر..
. یہ سب کس کام کے؟
جب تم ایک ماں کی چادر نہیں بچا سکے۔ تمہارے منبروں سے نکلنے والی دعائیں ہمیں نہیں پہنچیں،
کیونکہ تمہارے دل دنیا کی محبت میں زنگ آلود ہو چکے تھے۔
خدا کی قسم! ہم نے بھوک، پیاس اور زخموں کو سہہ لیا، لیکن تمہاری بے حسی نے ہمارے جگر چھلنی کر دیے۔
تم نے ہمیں اکیلا چھوڑ دیا جب زمین تپ رہی تھی اور آسمان سے آگ برس رہی تھی۔"
(ان کے لہجے میں اب وہ جلال اور درد ہے جو کلیجہ چیر دے)
"جاؤ! اپنی سرحدوں پر پہرے دو،
اپنی تجوریوں کو بھرو، لیکن یاد رکھنا.
.. کل قیامت کے دن جب اللہ پوچھے گا کہ 'تمہارے بھائی ذبح ہو رہے تھے اور تم مصلحتوں کے نام پر خاموش تھے'،
تب تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ ہم نے اپنا لہو دے کر حجت تمام کر دی ہے
۔ اب اللہ نے اس تھکے ہوئے م��اہد کو آواز دی ہے: 'اے میرے بندے! بہت بوجھ اٹھا لیا، اب آ جا، یہ تیرے لیے آرام ہے'۔"
(وہ ایک طویل سسک لیتے ہیں، جیسے روح تڑپ اٹھی ہو)
"اب اس امت کو اپنی اس خاموشی اور ناکامی کا ذائ��ہ چکھنا ہوگا۔
جب تم پر وہ وقت آئے گا کہ تمہارا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا، تب تمہیں اپنے اس ساتھی کی یاد آئے گی
جسے تم نے تنہا چھوڑ دیا تھا۔ ہم تو جنت کے راستے پر نکل پڑے ہیں،
وہ راستہ جو صرف اللہ کی طرف جاتا ہے... مگر تمہارا راستہ؟ تمہارا راستہ ذلت اور پچھتاوے کی طرف جاتا ہے۔"
(وہ سر جھکا لیتے ہیں، آواز ختم ہو جاتی ہے، صرف رونے کی سسکیاں باقی رہ جاتی ہیں...)
بحوالہ
فلسطین الھوی ۔۔۔
کتنا بد بخت ہے وہ جاسوس جس نے پوری امت کے دل زخمی کئے اور اپنے لیے دنیا و آخرت کی تباہی خرید لی ۔۔
خدا طاغوت کے ہر ح��اری چاپلوس اور جاسوس کتے کو تباہ و برباد فرمائے