قاضی گیا۔ اب مسرت ہلالی گئیں۔ ایسے ہی باقی لوگ عہدوں سے جائیں گے یا فوت ہو جائیں گے۔۔ دیکھنے اور سیکھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کی رخصتی پر لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد کر رہے ہیں۔ آپ کو انصاف کا علمبردار سمجھتے ہیں یا انصاف کا قاتل۔ فیصلے کے لیے اب تاریخ کے انتظار کی بھی ضرورت نہیں۔
یاسر شامی رضا ڈار کے بعد ایک اور تہلکہ خیز دل دہلا دینے والی اسٹوری سامنے لے آئے،، پولیس حراست کے دوران دوجوان خواتین کی ہلاکت کے دعوے کی قلعی کھول دی،،، یاسر شامی خواتین کی گرفتاری سے چند منٹ قبل بنائی گئی ویڈیو سامنے لے آئے جس میں تندرست دیکھائی دے رہی ہیں جبکہ پولیس نے دعوی کیا تھا کہ وہ خواتین نشے کی زیادتی کے باعث جان کی بازی ہار گئہں تھیں
جسٹس مسرت ہلالی نے خود شادی نہیں کی اور ان کا کوئی بچہ بھی نہیں تھا اس لیے اسے دوسروں کے بچوں کی تکلیف نہیں تھی
اس نے سینکڑوں کے حساب سے بچوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے، بلا چھیننے والا فیصلہ دے کر ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے،
ڈاکٹر شہباز گل
کراچی نکل آیا ہے اب جمہوریت بھی بہال ہو گی اور عمران خان بھی رہا ہوں گے ،
جب عوام جاگتے ہیں تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے، اور انصاف کی راہ کھلتی ہے۔
حلیم عادل شیخ کی قیادت میں شہری اپنے آئینی حقوق کی واپسی اور اداروں کی شفافیت کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
#Sindh
#WorldwideProtestsForImranKhan
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
انہوں نے پہلے اپنی بھوک ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور بھوک کتنی ہے اس کا فیصلہ بھی انہوں نے ابھی نہیں کیا۔
جیسے شادی میں کھانا کھلتا ہے۔ اور دنیا ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے ہی بلکل مڈل کلاسئیے پڑ گئے ہیں اور محسن کی کوئی پرواہ نہیں۔
سو سے زیادہ صحافیوں کا عوامی خرچ پر پانچ دن کا ؤزٹ کسی صورت عمران خان کی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔
ہمیں ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ عوامی پیسے کا درست استعمال ہی خان کی ترجیح رہی ہے۔
کوئٹہ میں زیارت کے شہداء کی میتیں سامنے رکھ کر جاری دھرنے کو آج 7 روز ہو گئے ہیں، ہزاروں افراد دھرنے میں شامل ہیں
اور اب یہ سب لوگ اپنے اصل مجرم کو پہچان چکے ہیں، " معدنیاتی دہشتگردی بند کرو بند کرو " کے نعرے بلند
عمران خان کو عاصم منیر کی جیل میں جھوٹے مقدمات میں بیگناہ قید ہوئے 1075 اور بشریٰ بی بی کو 809 دن ہو چکے ہیں، عمران خان پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ظلم و جبر مسلسل جاری ہے اور انہیں پچھلے 9 ماہ سے شدید گرمی میں چھوٹی سی کال کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، عمران خان سے ان کی فیملی، ذاتی معالجین اور وکلاء سے ملاقاتوں پر پابندی ہے، عاصم لا کے تحت گزشتہ آٹھ ماہ سے اسٹیبلشمنٹ کی بدترین قید تنہائی اور بر وقت علاج نہ ہونے کے باعث عمران خان کی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے۔
#ReleaseImranKhan
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
ڈاکٹر شہباز گل 🔥
شفیع جان پختون خواں کا وزیراطلاعات کہتا ہے احتجاج کا فیصلہ محموداچکزئی کریں گے کیونکہ عمران خان نے کہا
ہاں بلیو پاسپورٹ اپنی تنخواہیں ٹھیکے ساتھ 100 صحافیوں کو سیر کروانا بجٹ یہ فیصلے خود کریں گے
کیونکہ ان سب میں ان کو عمران خان یاد نہیں ان کو شرم ہی نہیں آتی یہ سب کہتے ہوۓ
KP حکومت نے عمران خان کے نظریے کی ایسی کی تیسی پھیر دی ہے، انہوں نے سو صحافیوں کو KP مدعو کیا ہے اور اس کا مکمل بتایا ہے کہ کون کون سے ہوٹل میں رکیں پھر وہاں سے وہاں لے جایا جاۓ گا اس پر لاکھوں خرچ ہوں گے
کیوں بھئی آپ کیوں عوام کے پیسے کو ایسے ضائع کرو گے
اطہر کاظمی
ڈاکٹر شہباز گل کا دعوی 🚨
مولانا کی سیاسی انٹری ہے انکو کہا گیا ہوگا ہم نے KpK میں Pti کو بدنام کردیا ہے
اور رہی سہی کسر سہیل آفریدی اور دوسرے نکال رہے ہیں یہ ٹائم ہے آپ چھلانگ مار دیں عوام میں آپکی بات بن جائیگی
اب یہ مولانا کی لانچنگ ہورہی ہے
اتنی بڑی تعداد میں بھارت ، بنگلہ دیش ، ناروے ، جرمنی ، انگلینڈ کے سپاہی تنخواہ کے بدلے گولی کیوں نہیں کھاتے ؟ کیونکہ وہاں کے جرنیلوں کو سیاست ، حکومت ، معیشت ، سفارت اور کنٹرول کا کیڑا نہیں ہے۔