یہ سرزمین احتجاجا اب دوبارہ کبھی کوئ عمران خان پیدا نہیں کرے گی
یہ کون ہے جسکا فین شاہ رخ خان،امیتابھچن، پیوٹن، عامر خان، دلیپ کمار، ضیاالحق، قطر کا بادشاہ، اردوگان، مہاتیر ، ڈیانا، سدھو، فواد خان، ٹرمپ، پرنس ولیم، طالبان، شہزادی کیتھرائن، ویوین رچرڈ اور دنیا کے بڑے بڑے صحافی اور اینکرز ہیں، اور دنیا کے ہر ملک اور ہر شہر میں جسکے کروڑوں فینز ہیں، لیکن پٹواریوں کے مطابق یہ سب یوتھیے ہیں
کیا 76 سال میں پاکستان کے کسی شخص یا برانڈ کو یہ عزت ملی؟ اور ہم اس برانڈ کو 200 مقدموں میں پھنسا کر دو ماہ میں 350 پیشیاں بھگتا چکے ہیں، اور آخر میں ایک مبینہ طور پر غیر قانونی فیصلے سے اسے گرفتار کرتے ہیں،
کوئ سیریس نفسیاتی مسئلہ ہے ہمارے ساتھ یا ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم monsters یا psychopaths بن چکے ہیں، انصاف، انسانیت، پاکستانیت سے دور ہوچکے، بس اپنی ہوس، حرص اور انا میں گم psychopaths
اگر ہمیں اس شخص کی قدر نہیں تو بس پھر ہمارا انجام دور نہیں،یہ سرزمین احتجاجا اب دوبارہ کبھی کوئ عمران خان پیدا نہیں کرے گی
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے اپنے مضحکہ خیز فیصلوں سے قانون کو مذاق اور انصاف کے اداروں کو کوٹھا بنا کر رکھ دیا ہے۔ الہ آباد کی طوائف کے کوٹھے کے اصول انصاف کے اداروں کے کوٹھے سے زیادہ پاکیزہ ہیں۔
جج ہمایوں دلاور نے جسٹس عامر فاروق کی سہولتکاری سے جو کچھ کیا ہے، وہ انصاف کے منہ پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہے۔ اس صورتحال پر پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار، صوبائی بار کونسلز، ہائیکورٹ بارز اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی خاموشی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔
اگر عمران خان یا اس کے ساتھیوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے تو قانون انہیں ٹانگ دے مگر قانون اور انصاف کا مذاق بنا کر مت ٹانگے۔ انصاف کو انصاف نظر آنا چاہیے۔
قیامِ پاکستان کے بعد لوگ اپنی جان مال عزت آبرو کی حفاظت کے لیے ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ اب ان کی اولادیں اپنی جان مال عزت آبرو کو غیرمحفوظ پا کر دوبارہ ترکِ وطن پر مجبور کر دی گئی ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ ریاست کے لیے ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ 😢
@therealaitzaz@AUKhanOfficial1@GovtofPakistan@AbidSZuberiASC
Dear Prof. Dave Petley, VC Univ. of Hull, Dr. Caroline & respected faculty at University of Hull, Uk. I am compelled to draw your attention to a development that if ignored risks undermining Hull’s good name & standing in the academic world.
A junior Judge, by the name, Humayun Dilawar, from Pakistan, has been added, in the last minute, to a legal training program/seminar relating to Human Rights & principles of law, starting at Hull, this week. Apparently his name is a last minute replacement as reward for a bizarre court decision he was to deliver on Aug 5, in Islamabad. It’s widely believed that decision (in gross violation of principles of law & justice) against former PM, Imran Khan of imprisonment & disqualification from elections, has been forced by Pakistani military to stop Mr. Khan from participating in forthcoming elections. Universities & law departments are notorious for ascertaining facts & meticulous research; you don’t need to take my words or messages of hundreds of Pakistanis who are writing to you. You just need to appoint a researcher to quickly scan Pakistani English press like Dawn & Tribune, and Pakistani Twitter handles of prominent legal personalities. Check the statement of Pakistan Supreme Court Bar Association that clearly concludes that Judge Dilawar’s decision is only to prevent Imran Khan from fighting elections. But is this about a politician? Unfortunately not, as your research team will find out it’s military managed strategy to deny free fair and transparent elections to 240 million people of Pakistan.
I may add, thousands of political workers, activists and leaders are in jail in Pakistan, one of the most prominent TV Anchor & Journalist Arshad Sharif was assassinated in Kenya & another prominent journalist Imran Riaz is now missing for almost three months despite High Courts demanding his appearance. Your researchers will find much more troubling details about what is happening in Pakistan.
Under the circumstances, Univ of Hull allowing this Judge Humayun Dilawar, to attend a program on Human Rights will undermine the very concepts of Law, Justice & Human Rights & will encourage fascism in Pakistan & send a wrong signal to the whole world.
I will strongly urge the University of Hull faculty & students to investigate the issues highlighted above & by other Pakistanis who are writing to you & then judge if this controversial man can be allowed to participate in the program! Sincerely: Dr. Moeed Pirzada, TV Anchor, Journalist & Editor in forced Exile, Washington DC @UniOfHull@VC_Hull@Cargib1@HullCity@HulllawsocIt
@soldierspeaks پہلے سوچتا تھا کہ ان عظیم سپوتوں کو بارڈر پر جا کر دیکھوں لیکن اب شکر کرتا ہوں ایسی غلطی نہیں کی، باجوہ اور اس کے پیروکاروں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے پاک فوج کی ساخت کو، جسے بحال کرتے شاید ہماری عمر ختم ہو جائے، آنکھیں کھولو اب نہیں تو کب؟
“ عظیم ہستی “
مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال امریکہ کے شہر بفیلو میں اس ہسپتال میں ہوا جہاں ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد فاروق ملازم تھے اور علاج کے لیے انہیں وہاں لے گئے تھے اور اس دن 22 ستمبر 1979 کی تاریخ تھی ڈاکٹر احمد فاروق نے بفیلو سے نیویارک کے لیے ان کی میت کو چارٹرڈ طیارے کے ذریعے منتقل کیا مولانا کے اہل خانہ بھی ان کی میت کے ساتھ نیویارک پہنچے نیو یارک ائیر پورٹ پر ایک بڑی تعداد میں مسلمان جمع ہوئے اور مولانا کی نماز جنازہ ادا کی وہاں جنازہ پڑھنے والے لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ائیر پورٹ کے جس ایریا میں نماز ادا کی گئی وہ جگہ ناکافی ہوتی گئی لوگ بڑھتے گئے اس طرح چھ مرتبہ نماز ادا کی گئی اس کےبعد وہاں پر لکڑی کا تابوت جس میں میت لائی گئی تھی ائر لائن والوں نے اس کو اپنے کارگو کیبن کے مطابق دوبارہ بنانے کا کہا چنانچہ وہاں تابوت نیا بنوانا پڑا اس کے بعد میت کو لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر لایا گیا جہاں پر پورے یورپ سے ہزاروں مسلمان مولانا کی نماز جنازہ کےلیے جمع تھے چنانچہ وہاں نماز جنازہ ادا کی گئی اس کے بعد لندن سے کراچی لایا گیا کراچی میں میاں طفیل محمد صاحب کی امامت میں لاکھوں افراد نے نماز جنازہ ادا کی کراچی سے پھر میت کو 24 ستمبر 1979 کو عصر کے وقت لاہور لایا گیا اور مولانا کی رہائش گاہ اچھرہ منتقل کردیا گیا اور نماز عشاء سے اگلے دن صبح دس بجے تک لوگ لائنوں میں لگ کر مولانا کی آخری زیارت کرتے رہے کئی لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ صبح تک ان کی باری نہیں آسکی صبح دس بجے 25 ستمبر کو مولانا کے جسد خاکی کو قذافی سٹیڈیم لے جایا گیا جہاں کم وبیش پچیس لاکھ افراد نے علامہ یوسف القرضاوی رحمۃاللہ علیہ کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی اور پھر ظہر کے بعد مولانا مودودی ذیلدار پارک اچھرہ میں ان کی رہائش گاہ کے لان میں سپرد خاک کردیا گیا اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں ان پر ۰۰۰❤️💐
السلام علیکم صبح بخیر۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حج سے واپسی پر غدیر کے مقام پر سپیشل خطبہ دیا۔ جس میں جناب مولا علی علیہ السلام کا ھاتھ پکڑ کر فرمایا " جس کا میں مولا اس کا علی
مولا "
@kalsoom96@RanaSidiq پی ٹی آئ کو ان تمام حربوں کیلئے تیاری کرنی ہو گی، کیونکہ جنہوں نے عمران خان پر کراس لگایا ہوا ہے وہ ہر صورت کسی نا کسی حربے سے الیکشن کو الیکشن میں بدلیں گے، کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ الیکشن صاف شفاف ہونگے
ایک لیٹر تیل پہ اب آپ 60 روپے لیوی ٹیکس دیں گے
بجلی 50 روپے یونٹ خریدیں گے اور پھر اس پہ چالیس فیصد ٹیکس بھی دیں گے، کھانے پینے کی ہر چیز کی قیمتیں اب دوگنی بھریں گے
اور اس کے بدلے فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز آپ کو ذلیل بھی کرے گی اور چادر و چار دیواری کا تقدس بھی روند ⬇️
کل تک جو عمران خان کو طعنے دیتے تھے ،الزام لگاتے تھے، گالیاں دیتے تھے کہ عمران خان نے پاکستان کو IMF کے آگے گروی رکھ دیا ھے، پاکستان کو بیچ دیا ھے، خودداری بیچ دی ھے آج پورا پاکستان IMF کے آگے بیچ کر اسے عظیم کامیابی کہا جا رھا ھے۔ اب سب وہ لفافے بھی غائب ہیں۔
نریندرا مودی نے عمران خان کے صحت کارڈ منصوبے کی طرز پر اپنی عوام کو پانچ لاکھ روپے تک علاج کی سہولت مفت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا
اور ہمارے حکمران صحت کارڈ منصوبے کو برباد کر رہے ہیں
جسٹس منیر
لوگ قبر کو بھی معافی نہیں دیتے ۔ نظریہ ضرورت فیم جسٹس منیر کی وفات کے بعد انکے اہل خانہ بہت پریشان رہتے تھے۔ کوئی ان کی قبر پر ہر ہفتے پھٹ پرانے بوسیدہ جوتے رکھ جاتا تھا۔
کافی جدوجہد کے بعد ایک بہت ضعیف شخص کو قبر پر جوتے رکھتے ہوئے پکڑ لیا گیا۔
ان سے پوچھا گیا:
برباد کر دیا۔ اپنے آپ کو سکون دینے کے لیے میں جسٹس منیر کی قبر پر جوتا مارتا نہیں ، رکھ جاتا ہوں ۔
میرا ایمان یے کہ میرا رکھا ہؤا جوتا اسے فرشتے مارتے ہیں۔"
راوی: اے کے بروہی ایڈووکیٹ