کچھ عرصہ ایک ہسپتال میں رہنا پڑا۔ یہاں پاکستان جیسی سہولیات تو نہیں کہ آدھا خاندان ساتھ ہسپتال منتقل ہوجائے۔ دن کو کوئی آگیا تو آگیا۔ نہیں آیا تو بھی مناسب۔ اکیلے دن اکیلی راتیں۔ اب تو کوئی طویل کالز بھی نہیں کرتا۔ آدھی دنیا سے تو ٹائم زون ہی الٹ ہے۔ بوریت یوں دور کی کہ سینکڑوں اکاونٹس سےڈی ایم میں ہیلو ہائے کی۔ کچھ سے دوستی ہوگئی۔ کچھ سے بس ہیلو ہائے رہی۔ انہی دوستوں میں سے ایک کسی بڑے شہر میں کوئی آن لائن بائک سروس چلاتا ہے۔ وہ نوجوان روزانہ دس بارہ گھنٹے بائیک چلاتا ہے۔ شام میں کسی ادارے سے کچھ کورس وغیرہ کررہا ہے۔
اسے پوچھا ایکس پر کیا لینے آتے ہو۔ کہتا ہے اپنا حصہ ڈالنے۔ بولا میرے لائکس ، ری پوسٹس سے میرے ایک رپلائی سے جو فرق پڑتا ہے وہ تو پڑے۔ کبھی کبھی دوہرے تہرے کردار نبھاتے ہوئے تھکاوٹ ہوجاتی ہے تو جی چاہتا ہے یہ سلسلہ تو چھوڑ دیا جائے۔ پھر مجھے اپنا وہ دوست یاد آجاتا ہے جو آٹھ دس گھنٹے بائک چلانے کے بعد اپنی پڑھائی کے ساتھ بھی اگر اپنا کام اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کررہا ہے تو مجھے کیا تکلیف ہے۔ میں اس دوست کو اپنی موٹیویشن سمجھتا ہوں۔
آج اسلام آباد دھماکے کی خبر آئی تو ساتھ چل رہا تھا کہ وہاں بائیک سروس بائیکیاکے رائڈرز بھی کھڑے ہوتے ہیں جو اس دھماکے کا نشانہ بنے۔ فورا اس کا خیال آیا اور دل بیٹھ سا گیا۔شہید ہونے والوں کے جتنے نام جہاں جہاں دستیاب تھے دیکھے۔ اس کا نام اس میں نہیں تھا۔ زرا تسلی ہوئی۔ لیکن پھر خیال آیا جو شہید ہوگئے وہ بھی تو میرے دوست کی طرح تپتی دھوپ میں سخت سردی میں اپنا روزگار کماتے ہیں۔ زیادہ تر طالبعلم یا پھر وہ لوگ جنکی عمر کوئی سخت کام کرنے کی نہیں رہی یا وہ جنہیں کوئی اور کام نہیں ملتا۔ سخت محنت ، سخت مشقت۔ معلوم نہیں کیسی کیسی ذمہ داریاں۔ کیسے کیسے بوجھ۔ کتنے بچے۔ کیا کیا مجبوریاں۔
پھر ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کا خیال آیا جو کبھی قصہ خوانی بازار دھماکے کا نشانہ بنے تو کہیں کسی فٹبال سٹیڈیم میں دھماکے کا۔ کچھ داتا دربار دھماکے کی زد میں آگئے تو کچھ بری امام۔ جو شہید ہوئے انکی الگ کہانیاں۔ جو زخمی ہوئے انکی الگ۔ کچھ عمر بھر کے لیے معذور ہوکر اپنے گھر والوں پر بوجھ بن گئے تو کچھ ابھی تک شاید اس ٹراما سے ہی باہر نہیں نکلے ہوں گے جس سے وہ اڑتی گردنیں ، کٹے بازو اور پھٹی ہوئی لاشیں دیکھ کر گزرے ہوں گے۔
ہم میں سے کس نے کبھی سوچا ہے کہ ان ہزاروں لاکھوں لوگوں پر یعنی ان لاکھوں خاندانوں پر کیا گزری ہوگی جو دس بیس سال پہلے ان دھماکوں کا شکار ہوئے؟ انکے بوڑھے ماں باپ کس کرب سے گزرتے ہوں گے؟ کتنی بیوائیں بے یارو مددگار گھروں میں پڑی سسکتی ہوں گی؟ کتنی بیٹیاں باپ کے دست شفقت کے بغیر کن حالات میں گھروں سے رخصت ہوئی ہوں گی؟ کتنے بچوں نے سکول چھوڑا ہوگا؟ کتنوں کی جمع پونجی علاج معالجوں پر لگ گئی ہوگی؟
انکا تو موت کے وقت کہیں نام نہیں آتا۔ انکی لاش مرنے والوں کی گنتی میں اضافہ کرتی ہے۔ انکی کٹی ہوئی ٹانگ زخمیوں کی گنتی میں۔ کیا کبھی کسی نے ان لوگوں کی خبر لی؟ کیا کسی نے انکی داد رسی کی؟ کیا کسی جگہ انکے چہرے دکھائی دیے جو اس سب سے متاثر ہوئے؟ کہیں بھی نہیں کبھی بھی نہیں۔
اور المیہ یہ کہ وہی کھیل اب دوبارہ کھیلا جارہا ہے۔ ایک ڈکٹیٹر ، ایک ذہنی مریض ، ایک پاگل اور اسکا نیم پاگل ٹولہ اپنے مفادات کی خاطر ایک بار پھر ہزاروں لوگوں کے گھر اجاڑنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ انہیں ایک اندھی جنگ میں جھونکنے کی تیاری میں ہے۔ ان لاشوں ، ان زخمیوں کے بدلے امریکی آقاؤں کی آشیر باد ملے گی۔ توسیع ملے گی۔ سینوں پر میڈل سجیں گے۔ تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ ہوگا۔ دو سو ارب ڈالر کی ایمپائر دوگنی چوگنی ہوگی۔ پلاٹوں کی خرید و فروخت میں پراپرٹی ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔
ہمارے قاتل ، ہمارے امن کے قاتل ہمارے سینوں پر مونگ دلتے ہوئے خود کو ہمارا محسن ٹھہرائیں گے۔ ہمیں اپنا نجات دہندہ قرار دیں گے۔ ہمیں ہمارے مستقبل کا ضامن قرار دیں گے۔ ہمارا ہر حق اس “ خدمت “ کے عوض چھین لیں گے۔ ہمیں جہنم میں دھکیل کر ہماری لاشوں پر اپنی جنتیں تعمیر کریں گے۔ ہم مرتے رہیں گے۔ وہ جیتے رہیں گے۔
آگے درندے بیٹھے ہیں، اِس بات سے بے خبر یہ معصوم بچی ایک دُکان پر گئی، لیکن واپس نہیں لوٹی، تلاش پر دُکان کے اوپر بنے کمرے میں کباڑ سے یہ کلی مرجھائی ہوئی ملی، دُکان پر انسان نما درندوں نے بچی کا جسم نوچ لیا،
انکو سر عام سزا کیوں نہیں دی جاتی؟
اقوام متحدہ کا بیان 🚨
ہمیں یہ رپورٹ ملی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو بنیادی قانونی تحفظات تک رسائی کے بغیر طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھا گیا ہے۔
عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، وکلاء اور خاندان کے افراد تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے
#KhansIsolationIsACrime
کیا یہ بیٹیاں والے نہیں ہیں جنہوں نے قوم کی بیٹی ماہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی؟
عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ایک totalitarian state بنتا جا رہا ہے۔
This is Muntaha, a 7-year-old girl from Sargodha, who went to a nearby shop to get something but never came back. Later, her body was found, sexually abused and murderd. This pic is a slap in the face of Punjab’s govt. They’ve failed to protect kids. Absolutely heart breaking 💔.
پہلے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے کیسز عدالت میں لگتے تھے، پھر عدالت کو جیل میں شفٹ کیا گیا۔ اس کے بعد فیسلیس ٹرائلز اور سرکاری وکیل کے ذریعے یک طرفہ فیصلہ سنا کر انصاف کا قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی نوجوان وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے قید رکھا گیا ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز کو طاقت سے دبا دیا جائے۔
قاسم خان سوری
اس رجیم نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں سے بھی مقابلہ کیا ہے۔ ماہرنگ بلوچ کے ساتھ، ایمان مزاری کے ساتھ،یاسمین راشد کے ساتھ ۔ مرد صرف مردوں سے لڑتے ہیں اس رجیم نے عورتوں سے بھی جنگ چھیڑ رکھی ہے
ایرانیوں نے امریکہ کو Absolutely Not کہا تو ایران کے گرویدہ ہو گئے (ہونا بھی چاہئے) لیکن اپنے ایک سیاسی مخالف نے امریکہ کو Absolutely Not کہا تو اس جیل میں ڈال دیا
واہ رے حکمرانو
After my brother Mashal Khan’s lynching, my education was stopped for a year, but my dreams could not be silenced.
Journalism was Mashal’s passion. I promised to continue the journey he couldn’t finish.
Today, I graduate in Journalism. A promise made, a promise fulfilled. ❤️
Of course we are not privileged like @CMShehbaz to get our children speedy justice but we still hope for some justice after almost 5 months of illegal captivity thru sham trial & illegal conviction order for our children Imaan & Hadi. #ReleaseImaanAndHadi
🚨 پولیس والے تنگ کر رہے ہیں کہ چلے جائیں کیونکہ تحریک انصاف نے کہا تھا 7 بجے چلے جائیں گے لیکن مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے بھی ایک ٹویٹ کرنا چاہیے تھا کہ تحریک انصاف 7 بجے جائے گی ہم نہیں جائیں گے۔
نورین خان نیازی
اپنے پیاروں کے جنازے دفنا کر واپس گھروں کو نہیں گئے، انہوں نے"عسکری جرگہ" میں بیٹھ کر اپنے پیاروں کی لاشوں کی قیمت وصول نہیں کی
سوشل میڈیا پر #گولی_کیوں_چلائی کا ماتم نہیں کیا
یہ کشمیری ہیں، پہاڑوں کی مانند ہیں یہ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے
تم ایسے کیوں نہ بن سکے پاکستانیو؟
سانحہ راولا کوٹ بیشک بہت بڑا ہے اس کا عُشرعشیر بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ لیکن کشمیریوں نے تمام ڈیجیٹل شواہد جمع کرکے اوورسیز کشمیریوں کو بھجوا دیے ہیں نمبر کافی زیادہ ہے