محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے ان گنت ہرنوں کا شکار کرنے والی با اثر شخصیت ملک امیر وڈھ کو چولستان سے دوران شکار گرفتار کیا۔
بعد ازاں انہیں ایک لاکھ روپے جرمانہ کر کے انہیں چھوڑ دیا گیا۔
@SHABAZGIL
Please take a notice
@SHABAZGIL ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ بے فکر رہیں۔ حماد اظہر صاحب کی ڈیمانڈ پر ہی گرفتاری ہوئی ہے۔ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانا چاہتے ہیں میاں حماد اظہر صاحب
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
اگر نکل سکتے ہیں تو اس ملک سے نکل آئیے۔ اتنی بیدردی سے دنیا کا کوئی ملک آپ کو نہیں مارے گا۔ ہسپتال تو بہت حساس جگہیں ہیں ، ریسٹورنٹس اور سٹورز میں ایک ایک کمرے کی دوکانوں میں فائر ایگزٹس ہیں جنکو باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے۔ آگ بجھانے والے آلات لازمی ہیں۔ نہ ہونے پر سب کچھ سیل کرجاتے ہیں۔ ہر گھر میں ، ہر اینٹوں سے بنی عمارت میں فائر اور سموک الارم لگے ہیں۔ فائر الارمز کی چیکنگ ہوتی ہے۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ایک ایک بلڈنگ کا نقشہ ہے۔ کوئی ایک اینٹ کونسل کی منظوری کے بغیر نہیں لگ سکتی ، کچھ تبدیلی ہوتی ہے تو اطلاع کی جاتی ہے ، نقشے اپڈیٹ ہوتے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں ریسکیو والے دیواروں سے نا سر ٹکراتے پھریں۔ منٹ ڈیڑھ میں فائر بریگیڈ پہنچتا ہے۔ پولیس سے زیادہ سڑکوں پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یعنی کسی حادثے سے پہلے بچاؤ کا مکمل نظام تیار کیا جاتا ہے۔ حادثہ ہوجانا تو بہت بعد کی چیز ہے۔
یہاں حفاظت ؟ سیفٹی؟ جو تھوڑا بہت مال لگایا اس میں بھی کرپشن ، ملاوٹ ، آگ سپارکنگ سے لگی ہے تو ٹھیکیدار نے سستا مال ڈالا ہوگا ، کمپریسر پھٹا ہے تو سپلائر نے کک بیک دے کر سستا مال سپلائی کردیا ہوگا۔ نرسنگ سٹاف کو ہنگامی حالت کی ٹریننگ نہیں ہوگی۔ پھر اسکے بعد ؟ حادثہ ہوگیا؟ اللہ کی مرضی ، تم استعفی دو تم استعفی دو اسکے بعد طویل خاموشی۔
ہاں پاکستان غریب ملک ہے۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک جیسے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن جو وسائل ہیں وہ بھی جہازوں ، گالف کلبوں ، مراعات اور عیاشیوں پر لگ رہے ہیں۔ سسٹم کے اوپر ایک سانپ بیٹھا ہے جو سسٹم کے ایک ایک پرزے کو ڈنک مار رہا ہے۔ دو دن کا رونا پھر اگلے حادثے کا انتظار اور پھر یہی چیخ وپکار۔ آپ بس نکل آئیں ۔ موت یہاں بھی آسکتی ہے۔ لیکن آپ کو موت کے منہ میں دھکیلا نہیں جائے گا آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش موجود ہوگی۔
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
لوگوں کو اتنا مذہبی بنا دو کہ وہ محرومیوں کو قسمت سمجھیں، ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کریں حق کے لئے آواز اٹھانا گناہ سمجھیں غلامی کو اللہ کی مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا دن سمجھ کر چپ رہیں۔ سعادت حسن منٹو
جیل میں کیمرے بھی ہیں اور مائکس بھی۔ کہیں عمران خان نے ڈیل مانگی ہے یا سہولیات مانگی ہیں یا اس پر رضامندی ظاہر کی ہے تو اٹھا کر ہمارے منہ پر مار دو۔ اگر نہیں تو اپنا منہ صاف کرلو۔ رات کو نیازی تھوک کر چلا گیا ہے۔
ایک قلم فروش صحافی ایک جسم فروش طوائف سے زیادہ بدکردار ہوتا ہے، کیونکہ طوائف صرف اپنا جسم بیچتی ہے جبکہ ضمیر فروش صحافی اپنا ضمیر، قلم اور سچائی بیچ کر پورے معاشرے اور ریاست کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سعادت حسن منٹو
#غلاظت_نہیں_صحافت_کرو
ڈی جی صاحب، اب سمجھ آئی کہ آپ نے Comment Section کیوں بند کر کے رکھا ہے؟ کیونکہ، آپکے جو تنخواہ دار ہیں وہ بیچارے صرف ایک ہی طرح کی گالیاں نکالتے ہیں - مگر جو آذاد ذہن کے پاکستانی نوجوان ہیں وہ بڑے intelligent questions اٹھاتے ہیں: مثلا وہ پوچھتے ہیں: کیا راشد منہاس نے اپنے سینئر بنگالی افسر کی بات نہ مان کر حکم عدولی نہیں کئی؟ اگر ساری ٹرینگ حکم ماننے کی ہے تو راشد منہاس نے کیسے اندازہ لگایا کہ درست چیز کیا ہے؟ اور اگر اپنا ضمیر استعمال کرنے پہ راشد منہاس کو نشان حیدر مل گیا تو ہماری سوچ پہ دھشت گردی کے مقدمے کیوں؟ کون کرتا ہے یہ فیصلے؟ کچھ نوجوان یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیسے پتہ چلے کہ یہ کہانی سچی ہے؟ کاک پٹ میں کیا ہو رہا تھا؟ یہ کسے پتہ چلا؟ کہیں خالی حادثہ ہی تو نہیں تھا؟ امید ہے کہ DG صاحب کی اگلی پریس کانفرنس میں گریدہ فاروقی صاحبہ نوجوان نسل کی ترجمانی کرتے ہوے ڈی جی صاحب محترم ستارہ امتیاز، جرات اور تمغہ بصالت، Sword of Honour وغیرہ سے یہ سوال پوچھیں گئی! - تاکہ بہادر فوج کا Comment Section کھل سکے! پاک فوج زندہ باد!
سپریم کورٹ عمران خان سے ملاقات کیس میں بار بار فیملی اور PTI سے سیاست نہ کرنے کی گارنٹی مانگ رہی ہے حالانکہ یہ انکا اور عمران خان کا آئینی حق ہے۔ کیا یہی سپریم کورٹ فوج سے سیاست نہ کرنے کرنے کے حلف کی پاسداری کی گارنٹی مانگ سکتی ہے؟
کہہ کون رہا جس نے دشمنیاں نکالنے کے چکر میں پورا ملک کئی بار داؤ پر لگا دیا۔ بھٹو کی پھانسی کا بینفشری۔ زرداری پر تشدد کروانے والا۔ مخالفین کو عبرت بنانے والا۔ عورتوں کی ننگی تصاویر پھینکوانے والا۔ ماڈل ٹاؤن قتل عام والا۔ اور حال ہی میں عمران خان کو ٹھوکنے کا مطالبہ کرنے والا۔ یاسمین راشد سے ہار کر انہیں جیل میں بند کرکے انکی سیٹ پر قبضہ کرنیوالا۔
ڈاکٹر فیصل کا مطالبہ 🚨
مجھے خان صاحب کو دیکھے ہوئے تقریباً 2 سال کا عرصہ گزر گیا ہے، عمران خان کے مؤثر اور جامع علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی عمران خان تک رسائی دی جائے