وقت قلیل باتیں طویل، شکوے ہزار پر جانے دیجئے ۔ ۔ ۔ چائے پیجیئے ☕
Quality Manager by Profession | Insaafi by Passion | Poetry Lover | RTs are not Endorsement
بھٹو نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے فیڈرل سیکیورٹی فورس بنائی، جس کا سربراہ مسعود محمود تھا. پارلیمان سے کوئی ترمیم کروانی، سیاسی جوڑ توڑ کرنا ہو یا نیشنل عوامی پارٹی کو دہشتگرد قرار دے کر کچلنا ہو سب کام یہی فورس انجام دیتی.
بھٹو کے خلاف سرکاری گواہ کون تھا؟ وہی مسعود محمود
فواد چوہدری صاحب ،
فوج سے سپیس عوام نے لے کر دینی تھی اور عوام نے آٹھ فروری کو ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا
مطلب خان کی سیاسی حکمت عملی کی عوام نے تائید کر دی
ایک فریق آئین کو ہی نہیں مان رہا تو کیا اسے آئین کا تابع ہونے کا مشورہ دینے کی ضرورت ہے یا عوامی مینڈیٹ والوں کو غیر آئینی اقدام کرنے والوں کا تابع ہونے کا؟
ملک آئین کے مطابق چلانا ہے یا چند جنرلوں کی خواہشات کے مطابق ؟
کبھی ایوب کبھی یحییٰ کبھی ضیاء کبھی مشرف اور کبھی عاصم منیر ؟
کیا دائرے میں ہی گول گول گھومنا ہے ؟
اور اگر جرنیلوں کے سامنے بھاؤ تاؤ کر کے ہی ملک چلنے ہیں تو پھر عمران خان سیاست میں آئے ہی کیوں ؟ جب اس بھاؤ تاؤ کر کے سپیس لینے کے ماہر نواز زرداری سیاست میں موجود تھے -
آپ نے سارا وقت جنرل باجوہ سے انگیجمنٹ کی۔ انہوں نے آپکے پلے کیا چھوڑا ؟
آپ بار بار کہتے ہیں فوج سے رابطہ ختم نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ آپ کا جنرل باجوہ سے بھرپور رابطہ تھا۔ کیا انہوں نے آپکے رابطے کا احترام کیا۔ انکے لگائے ہوئے سارے جرنیلوں نے آپ کے حلقے سے ایک سیاسی نابالغ کو فارم 47 پر جتوا کر اسمبلی میں بھجوا دیا۔ آپ تو انگیجمنٹ والا رویہ رکھتے تھے۔ انکا احترام بھی کرتے تھے۔ سیاسی رموز سے بھی واقف تھے۔ پھر انہوں نے آپکی جگہ پر ایک نابالغ کو چنا۔
کئی بار میز پر بیٹھ کر ہارتے جانا اور بیٹھے رہنے سے ہار کر میز سے اٹھ جانا بہتر ہوتا ہے۔
باقی یقین کریں ملک سے باہر ایک ایک دن مشکل گزرتا ہے۔ دعا ہے خان صاحب جیل سے باہر آئیں اور ہم بھی آپکے برابر والی چھت پر پتنگ چڑھائیں تُنکے ماریں پیچے لڑائیں۔ کیوں پاکستان سب کا ہے۔ اس کی رجسٹری ہمیں ملک بدر کرنے والے جرنیلوں نے نہیں کروا رکھی۔
عمران خان کو مذاکرات کے نام پر جو خاموشی آفر ہوتی ہے ، جو مصالحت آفر ہوتی ہے ، جو جلاوطنی آفر ہوتی ہے وہ وہی ہے جو بارہا بینظیروں ، زرداریوں اور نواز شریفوں نے حاصل کی۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ پیپلزپارٹی سندھ کے کچھ وڈیروں کی جماعت ہے زرداری ، گیلانی اور پورا شریف خاندان جعلی نشستوں اور جعلی ووٹوں پر اقتدار میں ہے۔ کیا عمران خان اس لعنت زدہ مصالحت کو قبول کرلے؟
رجیم چینج کے بعد عمران خان نے دو دفعہ ایوان صدر میں جنرل باجوہ سے ملاقات کی۔ گرفتار ہونے سے پہلے گرفتار ہونے کے بعد جیل سے بار بار مذاکرات کا اعلان کیا۔ کئی دفعہ مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ اس وقت بھی عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو مذاکرات کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ یعنی وہ مذاکرات جس میں عمران خان کو اس کا مینڈیٹ واپس دیا جانا چاہیے ، اس ملک میں جمہوریت کی راہ ہموار ہونی چاہیے اسکے لیے عمران خان آج بھی تیار ہے۔
پھر اسکے ساتھ ساتھ عمران خان کے پاس مقبولیت ہے۔ عمران خان کے پاس عوام کا دوتہائی مینڈیٹ ہے۔ عمران خان کے پاس تین سال کی حکومت کے زبردست اعداد و شمار ہیں۔ چھ فیصد گروتھ ریٹ ، ریکارڈ ایکسپورٹس ، ریکارڈ ترسیلات زر ، ریکارڈ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ہے ، ریکارڈ جاب کرئیشن اور امن و امان کی بہترین صورتحال جیسے معجزے ہیں۔
دوسری سائیڈ کے پاس کیا ہے؟ ملک برباد کردیا ہے ، گروتھ ریٹ آدھے سے بھی کم کردیا ہے۔ انویسٹمنٹ ساری بھاگ چکی ہے۔ ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں ، تین سال میں تین ہزار فوجی مروا دیے ہیں ، ایک صوبہ علیحدگی کی نہج پر پہنچ چکا ہے دوسرے میں فوجی قافلے سخت سیکیورٹی میں حرکت کرتے ہیں ، ایک ٹانگ اسرائیل میں اڑائی ہوئی ہے دوسری سعودی عرب میں ، تیسری ٹانگ امارت نے گھسا رکھی ہے۔
آپ نے باون شہداء کا ذکر کیا ، آپ نے چونتیس ہزار گرفتار شدگان کا ذکر کیا لیکن آپ نے خفیہ کیمروں کا نہیں بتایا ، برہنہ ویڈیوز کا نہیں بتایا ، بہن بیٹی بچے اغواء کرنے کا نہیں بتایا ، گھر توڑنے کا نہیں بتایا ، خواتین کے نام پر بلیک میل کرنے کا نہیں بتایا۔ عمران خان ان باون شہداء کی ، ان چونتیس ہزار جیل جانے والوں کی اور ان کروڑوں لوگوں کی امید ہے۔ وہ سسکتے ہوئے ، وہ دل ہی دل میں روتے ہوئے حساب کے انتظار میں ہیں وہ مذاکرات کے انتظار میں نہیں ہیں۔
اگر سیاست فوج سے سپیس لیکر وزیراعظم بننے یا وزیراعلی بننے یا صدر بننے کا نام ہے تو اس لعنت کا نام شہباز، مریم اور زرداری ہے۔ اگر سیاست اس سپیس کی وکالت کا نام ہے تو ایسے مہروں کا نام فیصل واوڈا اور فواد چوہدری ہے ، اسد عمر ہے اور عمران اسماعیل ہے۔
جن مذاکرات سے آپ جیسوں کی وزارتیں سیدھی ہونی ہیں ، جن مذاکرات کی سے اقتدار کی باریوں کا کھیل آگے چلنا ہے ، ان مذاکرات کے لیے عمران خان تیار نہیں عوام تیار نہیں۔ جن مذاکرات سے ملک میں جمہوریت آنی ہے ، انصاف کا نظام بحال ہونا ہے ، سزا و جزا ہونی ہے اس کے لیے فوج تیار نہیں ہے۔ عمران خان فوج کے پسندیدہ مذاکرات سے انکار کی قیمت صعوبتوں کی شکل میں برداشت کررہا ہے۔ فوج عوام کے پسندیدہ مذاکرات سے انکار کرکے اس ملک کو برباد کررہی ہے۔
جتنا زور ادھر منہ کرکے لگاتے ہیں اتنا زور دوسری طرف منہ کرکے لگائیں۔ بلکہ نہیں ہمارا ماحول آلودہ ہوگا۔ آپ جدھر ہیں ادھر بیٹھ جائیں۔
اقرار بھائی آپ بالکل درست فرما رہے ہیں ڈاکٹر اسرار نے جو کچھ کہا تھا وہ آج عملاً جلوہ گر ہوتا دکھائی دے رہا ہے
دراصل یہ بیان عمران خان اور جمائما کی شادی کے 3 دن بعد کا ہے
ڈاکٹر اسرار صاحب نے یہ گفتگو اسی زمانے میں کی تھی اور یہ ویڈیو بھی مستند ہے
تاہم اگر ہم تحقیق و تدبر کا راستہ اختیار کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اسرار نے اپنی اس تقریر کے تقریباً 7 سے 8 مہینے بعد ایک رسالہ شائع کیا جسے انہوں نے عمران خان کے نام سے موسوم کیا
اس دور میں ڈاکٹر اسرار آرڈر آف الیومناٹی اور یہود کی جانب سے عالمی شخصیات کو جال میں پھنسانے کے موضوع پر تحقیق کر رہے تھے چنانچہ عمران خان کی شادی بظاہر ان کے نظریے سے ہم آہنگ محسوس ہوئی
لیکن بعد ازاں جب عمران خان کی فکری جہت اور عملی رویہ ان پر واضح ہوا
تو انہوں نے اپنی سابقہ رائے سے رجوع کیا!!!
اور ایک مفصل رسالے میں انہیں عالمِ اسلام کا ابھرتا ہوا ستارہ قرار دیا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصد کے لیے منتخب فرمایا ہے
انہوں نے عمران خان کے حق میں یہ شعر بھی نقل کیا
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا بدن زیر کفن کانپ رہا ہے
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت عمران خان عملی سیاست میں وارد نہیں ہوئے تھے
مزید یہ کہ ایپسٹین فائل ایک بدنام زمانہ شخص اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی کی ایک ای میل کا شائع ہوئی جس میں عمران خان کو مغرب کے لیے آیت اللہ خامنہ ای چین کے صدر اور روس کے پیوٹن سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا
جو ڈاکٹر اسرار کی بات کو صحیح ثابت کرتا ہے
عمران خان ان قوتوں کے لیے چیلنج ہیں جو اسلام کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں اور ان کے مخالفین خواہ بیرون ملک ہوں یا اندرون ملک ان میں بے چینی پائی جاتی ہے
عمران خان سے خوف واضح نظر اتا ہے
تو ڈاکٹر اسرار احمد کی بات بالکل صحیح ہے
یہاں جس کو دیکھو عمران خان کا آنکھیں عطیہ کرنے کے اعلان کرتا پھر رہا جبکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
عمران خان کو CRVO نامی بیماری ہے جس میں آنکھ کے ریٹینا کی مرکزی رگ میں بلڈ کلاٹ ہو جانے سے ریٹینا کو خون اور آکسیجن نہیں مل رہا، سوجن اور شدید نقصان ہو رہا ہے۔
عطیہ صرف کارنیا (آنکھ کی سامنے کی شفاف تہہ) کا ہوتا ہے۔ یہاں مسئلہ ریٹینا اور آپٹک نیرو کا ہے۔ پوری آنکھ یا ریٹینا کا ٹرانسپلانٹ ابھی تک ممکن نہیں ہے۔
کھوکھلی بیان بازی چھوڑیں اور عمران خان کے پراپر علاج اور رہائی کے لیے کوشش کریں۔ یہ بیماری اس قدر تکلیف دہ ہوتی ہے کہ درد کے مارے انسان چاہتا ہے کہ اپنی آنکھ ہی نکال دے۔ آپ لوگ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ عمران خان کس تکلیف سے گزر رہا ہے 💔
حسین حقانی کو پیسے ملیں تو یہ اپنی روزانہ چوبیس بار بولی لگوائے اور ہر گھنٹے نئے مالک کے حکم پر بکواس کرے
یہ رہا پورا کلپ جس میں عمران خان اس کے بالکل الٹ بات کر رہا ہے کہ پہلے ڈیورنڈ لائن کی جگہ کوئی سرحد نہیں ہے اور اب ہم باڑ لگا رہے ہیں تاکہ آمد ورفت روکی جا سکے
Happy Birthday to my esteemed friend @Nouman_S_Butt a man whose very essence is a testament to loyalty, grace, and strength.
May the Almighty adorn your life with perpetual grace, crown your endeavors with resounding success, and bless your noble heart with profound joy.
مبشر زیدی، اقرار الحسن کے بعد منصور علی خان بھی پروپیگنڈا کررہے ہیں مگر عمران کی کہی بات نہ مکمل سن رہے ہیں نہ پڑھ رہے ہیں۔ دونوں جگہ 1967 کا ذکر ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس میں فلسطینی ریاست کا پورا خدوخال موجود ہے مگر موجودہ حکمرانوں سے سوال کرنے کی بجائے سوال، تنقید جیل میں بیٹھے عمران خان پر ہورہی ہے۔
@tariqchaaj آپ کا حال منافقین مکہ والا ہے جو آدھی آیت کا ترجمہ " مت جاؤ نماز کے نزدیک" کی ترویج کرتے تھے۔ عمران خان کی تقریر میں دو ریاستی حل کی مکمل تشریح ہے جسے فلسطین اور عرب ممالک تسلیم کرتے ہیں۔ مگر موجودہ 21 نقاط میں ایسا کچھ نہیں ہے
@safinakhan آپ کا حال منافقین مکہ والا ہے جو آدھی آیت کا ترجمہ " مت جاؤ نماز کے نزدیک" کی ترویج کرتے تھے۔ عمران خان کی تقریر میں دو ریاستی حل کی مکمل تشریح ہے جسے فلسطین اور عرب ممالک تسلیم کرتے ہیں۔ مگر موجودہ 21 نقاط میں ایسا کچھ نہیں ہے
@Aadiiroy2 آپ کا حال منافقین مکہ والا ہے جو آدھی آیت کا ترجمہ " مت جاؤ نماز کے نزدیک" کی ترویج کرتے تھے۔ عمران خان کی تقریر میں دو ریاستی حل کی مکمل تشریح ہے جسے فلسطین اور عرب ممالک تسلیم کرتے ہیں۔ مگر موجودہ 21 نقاط میں ایسا کچھ نہیں ہے