بین الاقوامی سرحدی کشیدگی اور شدت پسند گروپوں کے متعلق دعووں کی صورت میں صحافتی اصول کے مطابق دونوں جانب کی باضابطہ توثیق تک خبر میں محتاط رویہ اپنانا ضروری ہے۔
دار الحکومت کابل میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد ن�� پریس کانفرنس میں پاکستان کے خلاف سنگین دعوے پیش کیے، جن میں کہا گیا کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں اور انتقامی کاروائیوں میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ طالبان کے نو مجاہد جنگجووں بھی شہید ہوئے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کے فضائی حدود اور سرحدوں کے دفاع کے حق کا اعادہ بھی کیا۔
ان دعوؤں کی آزاد ا��ر آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال ممکن نہیں ہے اور پاکستانی حکومت یا فوج کی جانب سے فوری طور پر باضابطہ ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آ��ی۔
#Update
An Afghan Taliban WhatsApp group, while reporting the attack on a Pakistani checkpoint at Baramcha in Helmand via wireless, claimed that the checkpoint has been completely destroyed and the bodies are buried under the rubble.
They also stated that the remaining walls of the checkpoint were demolished using an armored vehicle.
کرم ضلع کے ��رحدی علاقے گاوی میں پاکستانی فوج اور افغان طالبان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جو ابتدا میں ہلکے ہتھیاروں سے شروع ہو کر بھاری توپ خانے تک پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق وقفے وقفے سے گولہ باری جاری ہے اور دونوں جانب چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں ڈرون نگرانی کے آلات اور رادار سسٹم متاثر ہوئے جبکہ ایک بھاری گاڑی کی مدد سے سرحدی دروازے تباہ کیے گئے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
افغان ذرائع کے مطابق پکتیا کے ڈنڈ پتان سمیت مختلف سرحدی علاقوں میں پاک افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغان فورسز نے پاکستانی چوکیوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے بعض مقامات پر اہلکاروں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
کرم ضلع کے ��رحدی علاقے گاوی میں پاکستانی فوج اور افغان طالبان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جو ابتدا میں ہلکے ہتھیاروں سے شروع ہو کر بھاری توپ خانے تک پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق وقفے وقفے سے گولہ باری جاری ہے اور دونوں جانب چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
افغان صوبہ کنڑ کے سرحدی علاقے میں امارتِ اسلامی افغانستان کے مجاہدین اور پاکستانی فوج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے سرحدی علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
کرم ضلع کے ��رحدی علاقے گاوی میں پاکستانی فوج اور افغان طالبان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جو ابتدا میں ہلکے ہتھیاروں سے شروع ہو کر بھاری توپ خانے تک پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق وقفے وقفے سے گولہ باری جاری ہے اور دونوں جانب چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
کرم ضلع کے سرحدی علاقے گاوی میں پاکستانی فوج اور افغان طالبان فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جو ابتدا میں ہلکے ہتھیاروں سے شروع ہو کر بھاری توپ خانے تک پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق وقفے وقفے سے گولہ باری جاری ہے اور دونوں جانب چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا ��ے اضلاع ٹانک اور بنوں میں مسلح افراد نے دو الگ الگ حملوں میں ایف سی اہلکاروں اور ٹرک ڈرائیوروں کو اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق، ٹانک کے گاؤں کوٹ اعظم کے قریب چھٹی پر جانے والے تین ایف سی اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے بٹیاری کے مقام پر اغوا کیا۔
پشاور کے نواحی علاقے متنی میں واقع حسن خیل پولیس اسٹیشن پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تقریباً سات بتائی جاتی ہے، جن میں سے دو کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
آئی آن فرنٹ لائنز کو موصولہ ویڈیو اور اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کی تحصیل گومل میں پولیس اہلکار گل زمان ولد بختیار خان مزیانی سکنہ جٹی قلعہ نے کالعدم ٹی ٹی پی کے مقامی زمہ داران اور جنگجووں کے سامنے پولیس سروس چھوڑ کر آئندہ حلال روزگار اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آئی آن فرنٹ لائنز کو موصولہ ویڈیو اور اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک کے گاؤں تتور سے تعلق رکھنے والے آرمی صوبیدار رحمت اللہ ولد رحیم خان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) عسکریت پسندوں نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر گزشتہ رات شدت پسندوں کے نو گھنٹے طویل حملے کے دوران شدید جھڑپ کے نتیجے میں کپٹین حسین اختر، میجر رب نواز طارق سمیت 50 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ حملے میں نادرا آفس�� تین عمارتیں اور کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے موصول اطلاعات کے مطابق، پولیس ٹریننگ سینٹر پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ حملے میں کم از کم 50 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔