She/Her “Accursed who brings to light of day, the writings I have cast away”-Yeats. Rheumatologist by profession. ❤️ poetry, photography, food, emojis, life🌹
یارررر!!! یہ وٹس ایپ پر پھولوں اور چائے دانیوں والے گُڈ مارننگ میسج مجھے مار دیں گے😭 بھولے سے کبھی کسی مشاعرے میں چلی جاؤں تو ضرور ایک آدھ شاعر (یا سامعین میں سے جو اکثر شاعر ہی ہوتے ہیں)فون نمبر لے کر وٹس ایپ پر چپکو ہو جاتا ہے اور پھر گلہ کہ آپ جواب نہیں دیتیں۔۔۔ کس چیز کا جواب بھئی؟
اب معاملہ یہ ہے کہ میرا وٹس ایپ قبرستان بن گیا ہے ایسے ہی ویلے اکاؤنٹس کا🙄
The Journey
One day you finally knew
what you had to do, and began,
though the voices around you
kept shouting
their bad advice --
though the whole house
began to tremble
and you felt the old tug
at your ankles.
"Mend my life!"
each voice cried.
But you didn't stop.
You knew what you had to do,
though the wind pried
with its stiff fingers
at the very foundations,
though their melancholy
was terrible.
It was already late
enough, and a wild night,
and the road full of fallen
branches and stones.
But little by little,
as you left their voices behind,
the stars began to burn
through the sheets of clouds,
and there was a new voice
which you slowly
recognized as your own,
that kept you company
as you strode deeper and deeper
into the world,
determined to do
the only thing you could do --
determined to save
the only life you could save.
Mary Oliver
“She started to scream. It was a loud, powerful, endless scream, the likes of which I never would have imagined coming out of such a slip of a girl.” A newly-translated story by Annie Ernaux, the winner of the 2022 Nobel Prize in Literature.
https://t.co/Zvt9j6UyHw
با دستور گانے والے نے کر دیا شاید بدستور کو۔
It’s a nazm, rather geet.. the conventional bounds of wazn etc are more loosely defined in it. The continuity is there in the written form in the use of mayassar, masalsal, and mukammal. باقی ہر شاعر کا ہر ایک شعر نگینہ نہیں ہوتا اور ہو بھی نہیں سکتا۔ نقاد بہر حال چاہتے ہیں کہ ایسا ہو۔ کچھ چیزیں نظر انداز کی جا سکتی ہیں زندگی میں بھی۔۔ اور شاعری پڑھنے/سننے میں تو بہر طور😊🙏🏻
Social media platforms are a sad place. I can pretend, lie to myself & say the contrary.. but for me, it makes me feel heavier, weaker, lesser.. most of the times.. Although i see most people exuding joy here and they seem to be celebrating life, yet it leaves me questioning myself more and more, caged in self-doubt, unfulfilled, unable to envisage that I could ever be that valiant in my expression of life and its meaning…& and that is where the sadness lies..
As i aimlessly pace my TL/X feed, i try to cope with the constant envy, may be jealousy for others.. all others…so complete, so cheerful, so absorbed in life, so pleasant..?
My questions are not to be asked of them, but to myself.. why is it so difficult to understand the happiness, the yapping, the colorful lives of others.. broadcasted 24/7.. achievements, successes, stories of self-worth..
On days like this, i want to hide, shield myself.. from happiness though?.. My inner self asks: shield yourself from positivity?? Why??!! …
It can not be unsightly, unsafe to experience, to see happiness..should not be..
May be SM gives me the moments when i start living Gogol’s theory of every funny story becoming sad if dwelled upon longer…
And if you’ve read my rambling this far, please note that icymi i am not referring to ‘news’ here.. 😊 That is a whole other dimension of sadness these days.
the words "musalsal", "mukammal", "mayassar", "ba-dastoor" in the song "phir la aya dil" have been my fav words used in a song which is so rare but sayeed quadri used these words so beautifully! 🥺❤️
اب بھی۔۔۔
تم اب بھی یاد آتے ہو
کبھی موسم بدلتا ہے
تو دل کے آئینے میں ایک دھندلا عکس بنتا ہے
تمہارے نام کے جگنو میری پلکوں پہ تارے بن کے رہتے ہیں
کہ جیسے روزنِ زنداں سے ہو کر چاند کی کرنیں
سرِ مقتل کسی دیوارِ عبرت پر لکھی تحریر پڑھتی ہوں
عجب پھر وحشتوں کا رقص ہوتا ہے
کہیں پھر سوچ میری قتل ہوتی ہے
میرے پیروں سے لپٹے روزو فردا مجھ سے ملنے کو ترستے ہیں
کہ جیسے عمر کٹتی ہو مگر پھر وقت تھم جائے
کہ جیسے آہٹوں کو دستکیں آواز دیتی ہوں
عجب دامِ رہائی ہے
کہ اب تو پیاس بھی ٹوٹی
تمہیں ملنے کی، تم سے بات کرنے کی، ذرا سی آس بھی ٹوٹی
محبت جان لیتی ہے، سنا تھا
وفا نا یافت کے بے مہر لمحوں میں
چراغِ جاں سرِ مقتل جلاتی ہے
محبت لذتِ اقرار کی خواہاں
وفا انکار کے رومان سے واقف
محبت رتجگوں سے خواب بُنتی ہے
اور اِن کی رائیگانی سے وفا امید چُنتی ہے
محبت میں کوئی نفع خسارہ ہو بھی جائے تو
وفا ان سب سے عاری
بکھرنے ٹوٹنے کی لذتوں کے غم سمیٹے
بھلے بے ذائقہ ہوں قرب کے گزرے ہوئے موسم
پر اس کی مشتِ خاکی میں
کسی کی یاد کی سب کہکشائیں قید رہتی ہیں
وہ جب چاہے انہیں آزاد کر دے
کہ بستی دل کی پھر آباد کر دے
سنا ہے ریل کی دو پٹڑیاں بھی
کسی لا متناہی پل میں شاید جاکے ملتی ہیں
عجب کارِتحیّر ہے وفا بھی
کہ اس بے انت لمحے کے تعاقب میں سدا رہ کر
یہ اپنے پاؤں سے لپٹی محبت پاس رکھتی ہے
محبت اور وفاؤں میں بس اتنا فرق ہوتا ہے۔۔
FS
گئے دنوں کی ایک نظم❤️😊
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے
اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے
وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں
ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے
یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے
اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے
کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے
خاطر غزنوی
جنازہ نکلتا ہے سیکولرزم کا پاکستان میں ہر دوسرے دن۔ روزِ اول سے۔ اور ہم کہتے نہیں تھکتے کہ جناح وانٹڈ اے سیکولر سٹیٹ۔ دلیل میں1947 کی ایک تقریر کا حوالہ دے کر ہاتھ جھاڑ لیتے ہیں ان کے اینتھیوزیئیسٹس۔۔ کچھ بھی کہہ لیں پاکستان کی بنیاد ہی ”مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں“ پر تھی۔۔
یہ مسلم نیشنلزم نہیں تو اور کیا ہے؟
سوال یہ ہے کہ آج ہم پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں، سیکولر یا تھیوکریٹک سٹیٹ؟
ریفرینڈم کروا لیں۔۔ بڑی اکثریت میں مولوی نکلیں گے اندر سے۔۔ سیاستدانوں سے لے کر عوام تک۔
مگر باقی دنیا ہمیں سیکولر چاہئے۔۔ جہاں مسلمان کو ہر طرح کی آزادی ہو۔ انڈیا میں بھی۔ یورپ اور امریکا میں بھی۔ بلکہ مغربی اقدار کا جنازہ نکل سکے تو وہ بھی ہم نکال دیں۔ جہاں ہم اقلیت، وہاں انصاف مذہبی آزادی میں ہے۔ جہاں ہم اکثریت، وہاں تمام دوسرے رنگ اور مذاہب کے لوگ حقیر، دوسرے درجے کے شہری!
ہم اپنی نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہاں مغرب میں بھی اور پاکستان میں بھی۔