اگر غلطی سے بھی کہہ دو کہ پاکستان میں سب بُرا نہیں بہت کچھ اچھا بھی چل رہا ہے تو تلواریں نکال لیتے ہیں لوگ مگر اس سوال کا کوئ جواب نہیں دے گا کہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں چلے جاؤ بازار اور ریسٹورنٹس بھرے ہوۓ ملیں گے سڑکوں پر بمپر سے بمپر ملی گاڑیاں چل رہی ہونگی بڑے بڑے نۓ پروجیکٹس بنتے نظر آئیں گے روز سینکڑوں اشتہارات ملیں گے مختلف رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کے ۔ کونسے غریب ملک میں ایسا ہوتا ہے بھائ ؟
حکومتی اہل کاروں کے ہر طرح کے پروٹوکول کو فوری ختم کرنا ہوگا اس سے آپ حکومت اور عوام کے درمیان خلیج کو کم کرسکتے ہیں ۔
وزیروں مشیروں کو پولیس موبائلز کیوں چاہیے ؟ اگر انھیں عوام سے خطرہ ہے تو پھر وہ عوامی نمائندے نہیں ہوۓ اور اگر دہشت گردی کا خطرہ ہے تو پولیس خود دہشت گردی کا مسلسل شکار ہورہی ہے وزیر مشیر بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کریں ۔۔
آپ کو یہ خلیج فوری سے بھی پہلے ختم کرنا ہوگی یہ آپ کی حکومت کو طاقت دے گی کمزور نہیں کرے گی۔
وزیراعظم وزراء اعلی کا پروٹوکول بُک کے حساب سے ہو۔ گورنرز بھی کوئ زیادہ اہم نہیں ہر پارٹی نے اپنا سب سے فارغ بندہ گورنر لگایا ہوا ہے مگر اُن کے پروٹوکول اور ہاؤسز کی عیاشی اللہ کی پناہ ۔۔
مولانا بیان کے بعد کا احوال یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مذمت کررہی ہیں مذہبی اقابرین حتی کے مولانا مسلک کے جید علماء بھی مذمت کررہے ہیں اور شہدا کے اہل خانہ بھی میدان میں اتر چکے ہیں اور مولانا جماعت کے نور عالم خان نے بھی شدید مذمت کی ہے ان حالات میں عائشہ گلالئی جیسے بیانات انتہائی شرمناک ہیں
مولانا کے صرف ایک بیان پر اعتراض ہے اور رہے گا لیکن اس آڑ میں مولانا کی کردار کشی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اگر مولانا اپنے بیان پر رجوع کرلیتے ہیں تو یہ انتہائی خوش آئند ہے
کیس از ڈسمسڈ
سیاسی مذہبی اور شہدا کے وارثان مولانا بیان پر سراپا احتجاج ہیں اور ہر مکتبہ فکر مولانا پر شدید تنقید کررہا ہے لیکن افسوس کہ عمرانی یوٹیومرز کی طرح مولانا کی سوشل میڈیا ٹیم مولانا کو اس مقام پر پہنچا چکی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں
شکریہ مفتی طارق مسعود
جب سے مولانا نے شہدا کے متعلق توہین امیز الفاظ استعمال کئے ہیں تب سے مولانا جماعت کے باریش عہدیدار بھی رپلائی میں تشریف لائے اور غلیظ زبان استعمال کی جس پر مورخ ضبط قائم رکھتے ہوئے ٹی جے برانڈ اوزار بند سے نیچے جانے سے قاصر ہے لیکن مولانا کا کھوچل میڈیا “ اَت “ چکے ہوئے ہے اور یہ تمام افراد مولانا کے مدرسوں سے دینی دنیاوی تعلیم کے ماہر بھی ہیں
مولانا صاحب آپ سے اس ایک ایشو پر اختلاف ہوا ہے جس پر پارلیمانی زبان میں احتجاج ہورہا ہے لیکن آپ کے مفتی چاہتے ہیں کہ پاکپتن حجرہ والی لفاظی میں جواب دیا جائے لیکن مورخ “ مُٹھ “ رکھے ہوئے ہے
ڈسکلیمر ادارہ ھذا کسی اور اکاؤنٹ کی لفاظی کا ذمہ وار نہیں ہے اور یہ ذمہ وار چوہی نثار والا ہے
آج تو سب ہی انگلینڈ کو سپورٹ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، چیٹنگ کر کے سیمی فائنل تک پہنچنے والے ارجنٹینا کو اب فٹبال فینز سپورٹ کرنے کو بلکل تیار نہیں ہیں۔
رونالڈو فینز مرحلہ وار ذلیل ہوتے۔۔۔سب سے پہلے جب وہ گول نہیں کرتا تب ، پھر جب پرتگال باہر ہوتی تب، پھر جب میسی گول کرتا تب، پھر جب ارجنٹائن میچ جیت جاتی تب، پھر جب ارجنٹائن ہار کے باہر ہوتی تب بھی یہ ہی ذلیل ہوتے کیونکہ پورے ورلڈ کپ میں یہ کہتے رہتے فیفا سب کچھ اس لیے کر رہی تاکہ ارجنٹائن ورلڈ کپ جیتے 😆😆😆😆
Youtheyeee waise hi manhoos hain Jaise Ispeed aj kal hay ... Jis ko support kerta Messi ki dhushmani main aur Ronaldo ki chahat main woh Har jati....
Hahhahahhah Pity man and Pity Youtheyaa supporters... @IamHaiderSN
You have no idea about Messi .. You should see his records Man.. but you will not...
Hahhaha.. hansi a rahi hay tum per .. Man lo kafi arsa sa ghalt ho..