پاکستانیو کل عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 5 ڈالر فی بیرل کم ھوئیں مگر پاکستان میں رات کو پٹرولیم مصنوعات مہنگی کردی گئیں جس سے ثابت ھوتا ھے کہ ہمارے ملک میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ھونے کا سبب عالمی منڈی نہیں بلکہ مقامی حرام زدگی ھے
پاکستانیوں وہاں ایک پیپر لیک ہونے پہ G-Z نے آسمان سر پہ اٹھا لیا ہے۔اور یہاں ہم ہزراروں کی تعداد میں ایک فٹبال میچ دیکھنے کے لیے اکھٹے ہوتے جائیں گے لیکن تب باہر نہیں جائیں گے جب پٹرول مہنگا ہو رہا ہو گا،جب اکانومی کولیپس ہورہی ہو گی،تب نہیں جائیں گے جب جہاز خریدا جا رہا ہو گا اور خرید کے کہا جائے گا ہاں تو خریدا ہے جہاز ۔
Well said!! 👌 Oh, he just quoted the Quran even without knowing it! 😏 Yes, "we are here on this earth as visitors". Non of us are free until all of us are free.
@a_rehman313 اس نے اور بھی کچھ کہا جیسا تمام عالم اپس میں مساوات قائم کرنے اور خاص کر مظلوم فلسطینوں کیلئے جو اواز اٹھایا جو شاید کوئی مسلمان حکمران بھی اتنا دلیری سے نہ اٹھا سکا ہو ،
زنجیروں سے باندھا گیا یہ بچہ کوئی مجرم نہیں، کوئی جنگی قیدی نہیں بلکہ مدرسے کا طالب علم ہے جسے زنجیروں سے باندھ کر تالہ لگا کر قید کیا گیا ہے۔ اور یہ کوئی پرانا واقعہ نہیں، ابھی کی خبر ہے۔
اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ اس مدرسے میں خوش نہیں، وہاں نہیں پڑھنا چاہتا لیکن کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اسے کیا مسئلہ ہے، کیا پریشانی ہے۔ وہ خوش کیوں نہیں۔
بلکہ اسے زنجیروں سے باندھ کر قید کیا گیا کہ وہ یہاں رکنا چاہے یا نہ رکنا چاہے، اسے ہر صورت یہیں رہ کر پڑھنا ہو گا۔
کیا ان ظالموں کو اتنا بھی احساس نہیں کہ بچہ مدرسے کے اندر کیسے چلے گا ، واش روم جائے گا تو کیسے جائے گا۔ وہ چلنے کی کوشش میں گرے گا تو زخمی ہو گا۔ اس طرح تو جانوروں کو بھی زنجیریں نہیں باندھی جاتیں کہ وہ چل بھی نہ سکیں۔
آپ یقیناً قاری اور مدرسے کو مجرم سمجھیں گے لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ اکیلے مجرم نہیں ہیں۔ اس بچے کے والدین بھی مجرم ہیں۔
اس بچے کے والد نے قاری کو خود اجازت دی ہے کہ اسے زنجیروں سے باندھ کر رکھو تاکہ یہ وہیں رہے۔ اس طرح مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے اس بچے کو سیالکوٹ کے ایک مدرسے میں زبردستی روک کر رکھا گیا ہے۔
بچہ اتنا تنگ تھا کہ زنجیروں میں پاؤں بندھے ہونے کے باوجود مدرسے سے بھاگ نکلا۔ گلیوں سے ہوتا ہوا کسی پاس کے علاقے میں پہنچ کر بیٹھ گیا اور وہاں کسی نے یہ ویڈیو بنا کر شئیر کی ہے۔
ہمیں آواز اٹھانی چاہیے کہ اس قاری کو گرفتار کیا جائے، جس نے بچے کو زنجیروں سے باندھا اور اس بچے کے والد کو بھی گرفتار کرنا چاہیے جس نے بچے کو پیدا کر کے پھینکنا جائز سمجھا۔ جس نے خود اجازت دی کہ بچے کو باندھ کر رکھو۔
بچے صرف پیدا نہیں کرنے ہوتے، ان کی ذمہ داری بھی لینی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ والدین جو بچوں کی ذمہ داری نہیں لیتے ان کو اس غفلت کی باقاعدہ سزا ملنی چاہیے تاکہ باقی والدین ہوش کے ناخن لے سکیں۔
اس بچے کو ابھی فوری طور پہ حکومت کی طرف سے امداد ملنی چاہیے کہ جب بچے کے والدین اس کی ذمہ داری نہ اٹھا سکیں تو حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچے کی ذمہ داری لیں۔ وہ اربوں کھربوں کا ٹیکس صرف اپنی جیبیں بھرنے کے لیے لیتے ہیں کیا؟
عدالت کو چاہیے کہ فوری طور پہ اس کے والد کو اور اس قاری کو سزا دیں تاکہ تسلسل سے ہوتے ان واقعات کی روک تھام میڻ کچھ تو مدد ملے۔ ویڈیو میں بچے کی باتیں سنی جا سکتی ہیں، مدرسہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
گو دعویِٰ تقوی نہیں درگاہِ خدا میں
بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں
افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ
کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی
RuthlessZQ
ہم جیسوں کی زندگی میں خوشیاں انے لگتی ہیں تو موت سامنے اکر کھڑی ہو جاتی ۔ اللہ رکھا پیپسی کی اچانک موت کی وجہ کیا بنی ؟
لاہور کی گلیوں میں جہاں کبھی اس کے قہقہے گونجتے تھے وہاں آج ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی ہے کیونکہ اللہ رکھا پیپسی اب اس دنیا میں نہیں رہا اور جو خبر آئی وہ اتنی اچانک تھی کہ یقین ہی نہیں آتا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تک وہ ہنسی بکھیر رہا تھا اور پھر ریکارڈنگ کے دوران ہی دل نے ساتھ چھوڑ دیا اور وہ ہمیشہ کے لیے چپ ہو گیا ۔
جو ساری زندگی دوسروں کو ہنسانے کے لیے وقف کر گیا تھا اور یہی وہ ستم ظریفی ہے جو ہر بار دہرائی جاتی ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ سجانے میں گزار دیتے ہیں وہ خود اکثر تنہائی اور خاموشی میں اپنی آخری سانسیں لیتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ اس ہنسی کے پیچھے کتنے دکھ چھپے ہوئے تھے۔
سنئیر جرنلسٹ شہریار خان نے کہا میری اللہ رکھا پیپسی کے خاندان کے ایک فرد سے بات ہوئی ہے ۔ اللہ رکھا شدید ڈپریشن میں تھا۔ داماد دھمکیاں دیتا تھا ، موٹر سائیکل بھی چھین کر لے گیا تھا۔
بیٹی کی شادی کے بعد اللہ رکھا پیپسی اکیلا رہتا تھا ۔ مالی مشکلات نے رہی سہی کسر نکال دی ۔ آج صبح اسی ڈپریشن میں ہارٹ اٹیک ہوا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔ ہمیشہ مسکراہٹ اور برجستہ جگتیں ۔۔ کیا کمال کا زندہ دل آدمی تھا۔۔
مگر ستم ظریفی یہی ہے کہ اللہ رکھا پیپسی جیسے فنکار کسمپرسی کی زندگی گزار کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد کسی کو ان کی برسی تک یاد نہیں رہتی ۔
اللہ رکھا پیپسی اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔ مگریہ ہزاروں اداس چہروں کو خوشیاں دے کر گیا ہے ۔۔
اللہ رکھا پیپسی نے برسوں اسٹیج پر اپنی برجستہ جگتوں اور بے مثال میمکری سے پنجاب کے تھیٹر کو زندہ رکھا اور پبلک ڈیمانڈ جیسے مقبول شو کا حصہ بن کر لاکھوں گھروں میں خوشی کا پیغام پہنچایا اور ہر اس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ لایا جو دن بھر کی تھکن کے بعد صرف چند لمحوں کا سکون ڈھونڈتا تھا ۔
اور شاید یہی اس فنکار کی سب سے بڑی عبادت تھی کہ وہ خود کتنا ہی تھکا ہوا کیوں نہ ہو اسٹیج پر آ کر ہر درد بھلا دیتا تھا اور آج جب وہ خود ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا تو یہ سوال پیچھے چھوڑ گیا کہ ہم نے اپنے فنکاروں کو زندگی میں وہ عزت اور توجہ کیوں نہیں دی جو ان کے مرنے کے بعد ان کے لیے آنسوؤں کی صورت میں بہائی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اللہ رکھا پیپسی کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے، آمین۔
ان کی وفات کی اصل وجہ کا حتمی علم متعلقہ طبی رپورٹ یا خاندان ہی کو ہو سکتا ہے، اس لیے غیر مصدقہ باتوں میں احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی سے بے شمار لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیری، یہی ان کے فن کا خوبصورت سرمایہ ہے۔
11 ارب کا استعمال بھارتی پنجاب کے وزیراعلی نے 11 ارب کا تھرمل پاور پلانٹ خرید کر 600 یونٹ تک بجلی فری کر دی صوبے میں جس سے تقریبا 80 فیصد گھروں کا بل مفت ہوگیا اور یہاں پنجاب کی ماں نے 11 ارب کا جہاز خرید لیا
یہ طالب علم ان فراڈیئے والدین کی اولادیں ہیں جو یورپ امریکہ اپنے دس دس بچوں کے ساتھ غیر قانونی طور پہ آ کر جھوٹ بھول کر سٹیٹس حاصل کر کے عمر بھر ریاست کے پیسے پہ ہر قسم کی سہولت حاصل کرتے ہیں
ان کے بچے لاکھوں ڈالر یا یورو ریاست کے استعمال کر کے تعلیم حاصل کرتے ہیں
پھر جب وقت آتا ہے تو ان کو اپنی ثقافت روایت اور مذہب یاد آ جاتا ہے
ایسے تمام لوگوں اور ان کی اولادوں پہ یورپ امریکہ اور دیگر مغرب ممالک آنے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے
یا فوری طور پہ ان کے پاسپورٹ اور قانونی سٹیٹس چھین کر ان ملکوں سے نکال دینا چاہیئے
یہ کیا بات ہوئی اپنی غلطیاں اللہ پر ڈال دیں
جس گھر میں آپ نے ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا اسکی خستہ حالت آپ کو پتہ نہیں تھی کیا؟؟
باہر کھلی جگہ پر بھی بچوں کو بٹھایا جاسکتا تھا
ذیشان نے ن لیگی وزیر کے سامنے صرف ایک سچی بات کرنے کی گستاخی کی — کہ اس کی تنخواہ 40,000 روپے مقرر ہے جبکہ اسے صرف 19,000 روپے دیے جا رہے ہیں۔ اسی سچ کے عوض اس کی نوکری چھین لی گئی۔ اس نے اپنے بچوں کی خاطر بحالی کی التجا کی، مگر انکار کر دیا گیا، اور آخرکار اس نے اسی دفتر میں خود کو آگ لگا لی جس نے اسے نکالا تھا۔
نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، نہ کوئی ہسپتال گیا، نہ اس کے بچوں کے لیے کوئی امداد۔ بچوں کا باپ تو واپس نہیں آ سکتا لیکن ن لیگ ترجیحات ضرور عوام کے سامنے آ گئی ہے #سُتھرا_پنجاب کہاں ہے؟ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کہاں ہیں؟ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کہاں ہے؟ خاموشی۔ بے حسی !!
#JusticeForZeeshan