”ایک طرف بلوچستان کا وزیراعلیٰ کینٹ ایریا سے باہر نہیں نکل سکتا، اور وہاں گورنر راج نہیں لگ سکتا، کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ وہاں کے وزیراعلیٰ صاحب کس طرح اقتدار میں آئے۔دوسری طرف ایک ایسے وزیراعلیٰ کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے ساتھ عوام کھڑی ہے اور جن کی بات پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔
@JunaidAkbarMNA جنید اکبر خان #AsimLaw
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل سیکریٹریٹ اسلام آباد آمد، پیپلزپارٹی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
سید نیئر حسین بخاری نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت کا پیغام پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تک پہنچایا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی آئینی و جمہوری معاملات پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کو اہم سمجھتی ہے۔
الجزیرہ کے ہوشربا انکشافات: اسلام آباد کی اہم شاہراہیں تقریباً 3,500 کنٹینرز سے بند، 18,000 تک سیکیورٹی اہلکار تعینات، جبکہ سیکیورٹی انتظامات پر روزانہ 3 لاکھ ڈالر سے زائد اخراجات کا دعویٰ۔ عوامی آمدورفت اور قومی وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے۔
قانون کو نظرانداز کرنے والے شارٹ کٹس اختیار کرنا بند کریں۔ ماورائے عدالت طریقے بظاہر سخت اور مؤثر دکھائی دے سکتے ہیں لیکن وہ ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب تفتیش ناکام ہو، گواہوں کو دھمکایا جائے، استغاثہ کمزور ہو اور مقدمات ختم ہو جائیں تو اگلا آپریشن صرف اسی ناکامی کے چکر کو دوبارہ شروع کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی نہیں بلکہ ناکامی کی ری سائیکلنگ ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ بندوق سے آگے بھی دیکھا جائے۔ عسکریت پسندی کو محرومی، کمزور طرزِ حکمرانی، ناانصافی، انتہا پسند بیانیے اور مواقع کی کمی غذا فراہم کرتے ہیں۔ عسکریت پسند کو ختم کر کے شکایت اور محرومی کی وجوہات کو برقرار رکھنا صرف گھڑی کو دوبارہ صفر پر لانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح کامیابی کو صرف مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد سے بھی نہیں ناپنا چاہیے۔ ہم سینکڑوں بلکہ بعض اوقات ہزاروں دہشت گردوں کے خاتمے کی خبریں سنتے ہیں۔ مگر ایک تکلیف دہ سوال باقی رہتا ہے: اگر دہشت گردوں کو مار دینا ہی کافی ہوتا تو دہشت گردی بار بار واپس کیوں آتی؟شہادت کے بارے میں بھی ہمیں ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم بجا طور پر شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن اچھی قیادت کا مطلب یہ بھی ہے کہ مشن کی تکمیل کے بعد اہلکاروں کو زندہ واپس لایا جائے۔ ہر بڑے حملے کے بعد بے لاگ جائزہ ہونا چاہیے: کیا ناکام ہوا، اسے کون درست کرے گا، اور کب تک کرے گا؟ اگر ہم ناکامی سے سبق نہیں سیکھتے تو ہم دراصل اس کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔بیرونی محفوظ پناہ گاہیں یقیناً اہم ہیں، لیکن وہ ہر چیز کی وضاحت نہیں کرتیں۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ ملک کے اندر کیا چیز بار بار ناکام ہو رہی ہے۔ جب سول اداروں کی صلاحیت جواب دے جائے تو فوج کو کارروائی کرنا پڑتی ہے مگر آخری مقصد قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پولیس کی قیادت میں نظام کی بحالی ہونا چاہیے۔
سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر کلیم امام کا انڈیپینڈنٹ اردو میں کالم
پنجاب کی عوام کے نام پیغام
پنجاب کے لوگو آپ کی عظیم قربانیاں ہیں، آپ جبر سہہ رہے ہیں، لیکن 4 اکتوبر کے بعد جب خیبرپختونخوا کا قافلہ اسلام آباد انٹرچینج کے قریب پہنچ جائے تو آپ نے نکل کر قافلے کا حصہ بن جانا ہے،
لیڈر کی خاطر یہ آخری قربانی ہم نے مل کر دینی ہے، شاہد خٹک
تحریک انصاف والے سمجھتے ہیں کہ اچکزئی صاحب کو وزیر اراعظم ہاوس جا کر شہباز شریف صاحب سے ملاقات کرلینی چاہیے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ ملاقات چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے ہے اس لیے ملاقات پارلمنٹ میں ہونی چاہیے
مصطفی نواز کھوکھر
نائب چیرمین۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان
#11thHour
Sharing low quality AI videos to spread lies, shows how dumb these people are. As Imran Khan had said
“ایک تو پڑھے لکھے نہیں اور اوپر سے سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے”
مت قتل کرو آوازوں کو ۔۔۔ اس وقت سے ڈرئیے جب آئینوں میں اپنے چہرے دیکھ کر آپ ڈر جائیں گے ، میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ کی پالیسی پر اب نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ اس پالیسی سے پاکستان میں نہ تو غیر ملکی سرمایہ کاری آئی نہ ہی معیشت مضبوط ہوئی اور نہ غربت کم ہوئی سفارتی کامیابیوں کا بہت شور ہے لیکن عام پاکستانی کو کیا ملا؟ https://t.co/QT3f1nBZ5S
کوئی بھی Adventure کرنے کی کوشش کی گئی یا ملک کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر یاد رکھنا ایسا عوامی ردعمل آئے گا کہ تمھیں سر چھپانے کیلئے جگہ نہیں ملے گی،
خیبرپختونخوا میں حکومت عوام کی طاقت سے آئی ہے اور عوامی طاقت ہی اس حکومت کی حفاظت کرے گی،
وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی
شبیر گجر جو لاہور سے فارم 45 کے حقیقی ایم پی اے ہیں،جس دن سہیل آفریدی لاہور آئے تھے،وہ بھی ان کے ساتھ تھے،اس دن میاں اکرم عثمان اور شبیر گجر کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا،میاں اکرم عثمان کو 3 ایم پی او کے تحت 1 مہینے کے لئے جیل بھیج دیا تھا،اور شبیر گجر کو 3 سال پرانے مقدمے اب نامزد کر کے کل 21 دن جسمانی ریمانڈ لے کیا گیا ہے۔۔یہ ہے 9 مئی کی حقیقت
@ChShabbirguj@salmanAraja@PTIofficial
اب تو ہم بھی چاہتے ہیں ونس فار آل ہو جاۓ ہم مرنے کے لیے تیار ہیں مارنا ہے مار دو سزاۓ موت دینی ہے دے دو
ہم پچھلے دو سال سے اپنے ورکرز کے ہاتھوں زلیل ہو رہے ہیں کہ عمران خان کو رہا کرواؤ،اس ریاست نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا اب یہ ہمیں مار دیں سزاۓ موت دے دیں ہم تیار ہیں
جنید اکبر
ان کو ایک قیدی کی ملاقاتیں بحال ہونا ، اسے اسپتال منتقل کرنا ، اسکے خاندان سے ملوانا منظور نہیں ، لیکن اس کے بدلے ایک صوبے کو مزید دلدل اور بدامنی میں دھکیلنا قبول ہے۔
ایسی ذہنیت کے ساتھ پاکستان میں کبھی استحکام نہیں آ سکتا ۔!
یوٹیوب ڈاکومینٹریز میں پاکستان کا تقریبا سب سے بڑا چینل TheKohistani نے اپنے ڈاکومینٹری The rise Of hitler میں ہٹلر کو آج کے پاکستانی نظام سے تشبیہ دے دی ! ہلٹر بھی بلیک ویگو میں بندے غائیب کرتا تھا !
ہوسکتا ہم لانگ مارچ کا آغاز پشاور کے بجائے خیبرپختونخوا کے کسی اور حصے سے کریں لیکن لانگ مارچ کی منزل اسلام آباد ہوگی
وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان
سہیل آفریدی نے اور ہم نے مشکل راستے کا انتخاب کر لیا ہے ہم کبھی اپنے لیڈر کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہمیں معلوم ہے کہ عوام بھی کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی
عمران خان کے سامنے یہ اقتدار بڑی ہی چھوٹی چیز ہے، ہم کبھی اقتدار کو مقصد اور نظریہ کے سامنے نہیں آنے دیں گے،
شاہد خٹک