نکلو لاہور- کپتان کی خاطر!
اٹھو لوگوں! یہ لمحہ ہے کہ زنجیریں پگھل جائیں
جو صدیوں کا اندھیرا ہیں،
وہ سب منظر بدل جائیں
نہ ڈر کی دیواریں باقی ہوں،
نہ خاموشی کا راج رہے
ہر ایک دل میں سچ بولے، اور انقلاب کی لاج رہے!
#سٹریٹ_موومنٹ_کی_تیاری_پکڑیں#چلو_چلو_لاہور_چلو
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ��وا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرن��م کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
میں “لا الہ الا اللہ” کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے- میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔ ہمارا ایمان ہی ہماری ”حقیقی آزادی“ کا ضامن ہے، کیونکہ یہ کلمہ انسان کو خوف کی زنجیریں توڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔
عمران خان
(8 ستمبر 2025)
سینیٹر خرم ذیشان کے گھر پرحملہ کھلی ریاستی دہشتگردی ہے۔
یہ منظم بزدلانہ کارروائی اُس وقت ہوئی جب انہوں نے پریس کانفرنس کے فوراً بعد سچ سامنے رکھا اور گھناؤنی سازش کو بے نقاب کیا.
حملے سے چند گھنٹے پہلے فیصل واڈا ٹی وی پر بیٹھ کر خرم ذیشان کو “دہشتگرد” کہہ کر دھمکیاں دے رہا تھا اور پھر عین اسی لائن پر فائرنگ ہوگئی۔ یہی فارمولہ ہے: پہلے کردار کشی، پھر دھمکی، پھر گولیاں.
سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کیلئے غنڈے، پروپیگنڈا اور ریاستی مشینری استعمال ہو رہی ہے.
خرم ذیشان کے کھر پر حملہ فرد پر نہیں۔ سچ، آئین اور پاکستانیوں کی جمہوری آواز پر حملہ ہے.
زہنی مریض کے ٹومی چاہے جتنا بھونکیں
ہم عمران خان کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے، اور ظلم کے خلاف ہر آواز اٹھائیں گے.
#StandWithKhurramZeeshan
عمران احمد خان نیازی
اس ملک کا بےتاج بادشاہ
اس قوم کے دلوں کی دھڑکن
کروڑوں پاکستانیوں کی امید
سب سے۔محب وطن پاکستانی
پاکستان عمران خان ہے
اور
عمران خان پاکستان ہے
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہل��ہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
“میرا نام ہے عمران احمد خان نیازی!
دیکھیں ISPR صاحب، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا!”
#GetWellSoonDG#PakistanLovesImranKhan
کیا لکی مروت میں شہید ہونے والو کو بھی دہشت گرد ڈکلئیر کر دیا جائے گا یا ایک دفعہ پھر کہا جائے گا کہ گولہ دشمن ملک یا دہشت گردوں نے فائر کیا تھا؟ واٹس ایپ میڈیا پھر لکی مروت کے شہدا کو کسی کے کھاتے میں ڈال دے گا۔پھر لاشوں پر بیانیہ بنایا جائے گا۔ آپ کو کہا تھا ناں کہ ڈرون مارٹر اور گولہ یہ سب بڑے سمجھدار ہیں یہ صرف معصوم پاکستانیوں کے گھروں پر ہی گرتے ہیں کیونکہ یہی ہمارا تجربہ ہے ایسے ہی مارٹر گولوں کی بارش ہمارے گاؤں پر بھی ہوئی تھی جس سے ایک دن میں کئ�� جنازے اٹھے تھے لیکن رات کو ٹی وی پر خبریں چلی تھیں کہ ”دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، متعدد ہلاک“ حالانکہ اس دن ایک بھی دہشت گرد نہ مرا، نہ ان کا ٹھکانہ نشانہ بنا، بس ہم پر ہی قیامت گرائی گئی۔ وہ ۲۰۰۸ تھا آج ۱۸ سال بعد بھی وہی پلے بک ہے۔۔۔ ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اگر روزانہ جنازے نہ اٹھیں تو ان کو چین نہیں آتا۔مقصد خوف پیدا کرنا امن کے احتجاج روکنا پھر آپریشن کی خواہش پوری کرکے ریلیونٹ رہنا اور اس کی آڑ میں وسائل پر قبضے کرکے کمٹمنٹ پوری کرنا ہے۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ قوم کا شک تو اس وقت دور ہوگیا تھا جب ہم نے نئی جنگ کی منصوبہ بندی کے وقت سے اس کو ایکسپوز کیا،دو دفعہ اپنا امن خود بحال کیا لیکن امن کی آوازوں کی سر کی قیمت لگائی گئی غدار اور دہشت گرد قرار دیا گیا۔سرحد پر باڑ کے باوجود باآسانی قافلوں کی صورت ان کو لایا جا رہا تھا مالاکنڈ میں تو ان کو پھیلنے سے پہلے ہم نے نکال دیا لیکن نگران حکومت میں ان کو جنوبی اضلاع کی جانب بسا دیا گیا۔اب آپریشن کا راگ الاپا جا رہا لیکن امن کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، تحریک زور سے جاری ہے لوگ اپنا امن خود بحال کرنا چاہتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں لیکن علاقے سے ایک فریق نہیں بلکہ دونوں کو نکال کر ہی امن ممکن ہے۔ اس لیے باجوڑ قومی جرگہ امن کے لئے خود “دونوں” فریقین سے جرگہ کرنے لگا ہے کیونکہ ��ونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ بدامنی میں ہمیشہ سے دونوں کا کردار رہا ہے اور دونوں سے باجوڑ سے نکلنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
مہمند میں بھی حالات تیزی سے خرابی کی طرف لے جائے جا رہے ہیں اور آپریشن کے پلان کے مطابق دوسرے مرحلے میں مہمند کا بھی نام ہے۔ باجوڑ اور تیرہ سے یکجہتی کرنے کے لئے سجاد مہمند روزانہ کی بنیاد پر قوم کے ساتھ مل کر امن کے لئے آواز اٹھا رہا ہے۔آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے ساتھ مل کر آواز اٹھائیں کہ آپریشن نامنظور، ڈرون حملے نامنظور، ڈالری جنگ اور وسائل پر قبضہ نامنظور۔ میں یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ باجوڑ سے وزیرستان تک امن تحریک کے دوستوں کی زندگیوں کو “ریاست” کی طرف سے خطرہ ہے۔
کراچی کے دوست جو امن تحریک میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے تھے ان کو بھی پیغام ہے کہ آپ بھی اپنے ان پاکستانیوں سے جو سفید پرچم لے کر ملک میں امن کے لئے نکلے ہیں ان کا ساتھ دیجئے تمام دوستوں کو میں نے پیغام بھیج دیا ہے انشاءاللہ جلد کراچی میں امن مارچز کا آغاز ہوگا۔ ہم سب نے مل کر امن کا قائم کرنا ہے۔مشکل ضرور ہے لیکن حکمت، حوصلے، اتفاق اور جہد مسلسل سے انشاءاللہ ہم ایک دفعہ پھر اپنا امن بحال کریں گے اور ڈالری جنگ کو روکیں گے۔
اس سب ”میڈ اپ“ بد امنی میں آئین کی بحالی اور عمران خان، بشری بی بی سمیت ناحق اسیران کی رہائی کی تحریک بلکل بھی پس پشت نہیں ڈالی جائیگی۔ کیونکہ عمران خان کی ابسولوٹلی ناٹ کی للکار اپنے لوگوں کو ایندھن بنانے سے انکار تھا اور آج اگر وہ باہر ہوتے، ان کا مینڈیٹ نہ چھینا جاتا، تو نہ ڈرون ہوتے نا ہی آپریشن اور نہ بد امنی۔۔آپ کی تمام تجاویز کے ساتھ اپنی تجاویز بھی پارٹی کو بھیج دئیے ہیں لیکن چونکہ عمران خان کی طرف سے نامزدہ کردہ عہدیداران کی طرف سے یہی پلان فی الحال ��ائنل ہوا ہے کہ ۵ اگست کو ہر صوبے نے صوبائی تنظیم کے پلان کے مطابق چلنا ہے لہٰذا اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔