ہم غزہ سے مزید قریب ہو گئے ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آج رات ہم پر حملہ کیا جائے۔ میرا موبائل پہلے ہی اسرائیل نے جام کر دیا ہے لہذا اب اس ناکارہ فون کو میں سمندر برد کرتا ہوں۔
آپ سب سے یہی اپیل ہے جو میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ غزہ نہیں آ سکتے تو کم از کم تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام پاکستانی امریکی سفارت خانے پر لا متناہی پر امن دھرنا دیں کیونکہ امریکہ اس نسل کشی میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔
بذریعہ اکاؤنٹ ایڈمن
#SupportGaza
#NationRejectsTrumpDeal
پاکستان ’’صمود غزہ فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی افواج کے بزدلانہ حملے کی شدید ترین مذمت کرتا ہے۔ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد امدادی کارکن سوار تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا ہے۔ ان بے لوث کارکنان کا واحد ’’جرم‘‘ یہ تھا کہ وہ بے کس اور مظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔ پاکستان ان تمام کارکنان کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور فلسطینیوں تک امداد کی بلا تعطل ترسیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسرائیلی بربریت کو فوری طور پر روکنا اور فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا
ہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
#GlobalSumudFlotilla