کوئی خون بلوچ خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے، کوئی پیارا بلوچ لاپتہ افراد سے زیادہ پیارا نہیں ہے، میں عمران خان کا پیغام لے کر آیا ہوں سارا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے،
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
نواب نور��ز اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے اتارنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا گیا؟
بریگیڈیئر ریاض حسین نے جو کہ اس وقت آپریشن کے کمانڈر تھے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور سمجھوتے کے نتیجے میں سوراب تا لسبیلہ ایک نئی ریاست تشکیل دے کر اسے نواب نوروز کے ماتحت کیا جائے گا اور ان کی حیثیت ایک بااختیار حاکم ( یعنی نواب آف مکران) کے برابر ہوگی اور مقامی انتظامیہ اور دیگر ریاستی امور ان کے ماتحت ہوں گے۔
’جواب میں نواب نوروز نے لکھا کہ میں بلوچی رسم و رواج اور تشخص کا سودا ہرگز نہیں کروں گا۔ یہ ہماری سر زمین ہے جس کے ٹکڑے کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔‘ نوروز خان نے کہا کہ ’اگر حکومت مذاکرات کی خواہشمند ہے تو پہلے اپنی فوجیں واپس بلا لے، خان آف قلات کو فوری طور پر رہا کرے، حکومت قلات کی حاکمیت بحال کرے اور بلوچستان کے تمام گرفتار شدہ قیدیوں کو رہا کرے۔‘
جب مراعات کی پیشکش کے باوجود نواب نوروز خان بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو ایک جرگہ نواب نوروز کے ��اس بھیج دیا گیا اور جرگہ کی گود میں قرآن مجید کو بطور ضامن رکھ کر بھیجا گیا کہ وہ اس کی ضمانت پر پہاڑوں سے اتر جائیں۔
کتاب کے مطابق جب مسلح کاروائیاں کرنے والے نیچے آئے تو انھوں نے قرآن مجید کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم اس کا صدقہ اتاریں گے مگر ہتھیار نہیں ڈالیں گے، سرکاری وفد ان کو مسلسل قرآن کا واسطہ دے کر یہ یقین دلاتا رہا کہ حکومت اپنے وعدے پر قائم ہے۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا کہ ’نواب نوروز اور بلوچوں نے کہا کہ جب قرآن کو ضامن بنا رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر کیا ضمانت ہوگی اس لیے جب وہ نیچے آئے تو پھر حکومت اپنے وعدوں سے پھر گئی اور ان کو گرفتار کیا گیا۔‘
گرفتاری کے بعد نواب نوروز خان سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کو کوئٹہ کے قلی کیمپ منتقل کیا گیا جب نواب نوروز خان کو لایا گیا تو اس میں سات سو افراد کو رکھا گیا تھا، کتاب م��ں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھ ماہ تک قلی کیمپ میں ٹارچر کے بعد ان کو سینٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹر مری کے مطابق گرفتاری کے بعد نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو ان اذیت خانوں میں منتقل کیا گیا جو کہ جاپانیوں کو ٹارچر کرنے کے لیے انگریزوں نے بنائے تھے، ملٹری کورٹ سے نوروز خان کو بڑی عمر کی وجہ سے عمر قید جبکہ بیٹے سمیت ��ات دیگر ساتھیوں کو سزائے موت دی گئی اور تمام قیدیوں کو سکھر اور حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا۔
جب جیل سپرینٹنڈنٹ نواب نوروز خان کے پاس تعزیت کرنے آئے اور کہا کہ آپ کے بیٹے اور ساتھیوں کو پھانسی ہوئی ہے تو نواب نوروز خان نے پھانسی پانے والے اپنے بیٹے کی مونچھوں کو اوپر کرتے ہوئے کہا کہ 'صرف بٹے خان نہیں بلکہ یہ سب میرے بیٹے ہیں، یہ مرے نہیں بلکہ ان کی شادی ہے، مرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن مجید پر فیصلہ کرنے کے بعد ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔'
اپنے بیٹے سمیت سات افراد کو پھانسی کے پانچ سال بعد نواب نوروز 25 دسمبر 1965 کو حیدرآباد جیل ہی میں وفات پا گئے، حیدر آباد جیل میں وفات پانے کے بعد نواب نوروز کی لاش کی بھی قلات میں پھانسی پانے والے سات افراد کے ساتھ تدفین کی گئی، نوروز خان نے حیدرآباد جیل میں بھی معافی کی پیشکش کو مسترد کیا۔
'نواب نوروز اور ان کے ساتھی' نامی کتاب کے صفحہ نمبر 72 پر حیدرآباد جیل کے اس وقت کے سپرینٹنڈنٹ راشد سعید کے تاثرات درج ہیں، راشد سعید کے حوالے سے کتاب میں کہا گیا ہے کہ ’آخری دم تک یہ کہا گیا کہ تم معافی مانگ لو ہم نہ صرف تمہاری سرداری اور جاگیرداری بحال کریں گے بلکہ تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو آزاد کریں گے، مگر وہ بھی دھن کے پکے تھے انھوں نے یہ پیشکش یہ کہہ کر رد کر دی کہ اگر میرے مولا کی طرف سے یہی لکھا ہے تو یہ مجھے منظور ہے۔‘
کتاب: 'نواب نوروز خان اور ان کے ساتھی'
اختر مینگل نے راستے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے مسئلہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ پر اٹکا ہوا ہے کیونکہ بہت اوپر سے ضد ہے کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو اندر ہی رکھنا ہے اسے نوبل انعام کے لیے کیسے نامزد کیا جا سکتا ہے۔
عمران ریاض خان
🚨اہم ترین
لکپاس دھرنے میں صاحبزادہ حامد رضا نے پنجاب کی طرف سے بلوچ عوام سے معافی مانگ لی ۔ بلوچ عوام کی جانب سے بھرپور پزیرائی
میں پنجاب کی طرف سے معافی مانگتا ہوں جو آواز آج پنجاب آپ کے لیے بلند کر رہا ہے یہ ہمیں بہت پہلے بلند کرنے چاہیے تھی ۔ صاحبزادہ حامد رضا
میں نے اختر مینگل سے کہا کہ میں بھی بلوچ ہوں آپ استعفیٰ دیتے ہیں تو میرا بھی استعفیٰ لے لیں ہم بلوچستان کا خون گرتا نہیں دیکھ سکتے۔
سردار لطیف کھوسہ بلوچ ایڈووکیٹ
"اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت ہونی چاہیے، مگر بات چیت اس موضوع پر ہو کہ وہ بیرکوں میں واپس کب اور کیسے جائیں گے۔"محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP#ImranKhan
Link : https://t.co/3GO0Mcc9fG
صبغت اللہ شاہ جی کو میں کئی سالوں سے ذاتی طور پر جانتا ہوں، ایک انتہائی زیرک،پرامن اور بالغ نظر کارکن اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھنے والے قائد ہیں۔ان کی اغوا اور جبری گمشدگی کی مذمت کرتاہوں۔پاکستان کے حکمرانوں کو عقل کب آئے گی؟؟؟ماہرنگ بلوچ، سمی دیں بلوچ کے بعد اب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سینئر رہنما صبغت اللہ شاہ جی کوگرفتار کرکے نا معلوم جگہ پہ منتقل کر دیا گیا۔ کیا ریاست کے پاس ہر مسلے کا حل صرف جبری گمشدگی ہے؟؟
صبغت اللہ شاہ جی کو فوری بازیاب کیا جائے۔
تمام جبری گمشدگان کو بازیاب کرو۔
اے عید تجھے کیا بتاؤں
میں نے ایسے لوگ کھوئے ہیں
جو میری عید ہوا کرتے تھے
سمی دین بلوچ نے پچھلی عید اس پلے کارڈ کے ساتھ سڑک پر گذاری اس عید پر وہ کراچی جیل میں بند ہے یہ عید اسکی والدہ اور بہن ایسے ہی کسی بینر کے ساتھ سڑک پر گذاریں گی
#EndEnforcedDisappearances
آخر ہمیں ہو کیا گیا ہے؟ ہمارے نوجوان اگر آئین کے احترام کی ، قانون کی حاکمیت اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں تواُنھیں جیلوں میں بند کرنے کی کیا تُک ہے؟ یہ کونسے دانشور ہیں جو دوریاں بڑھانے پر تُلے ہوئے ہیں؟
میں چالیس دن کی تھی جب میرے والد کو لاپتہ کیا گیا۔ آج میں گیارہ سال کی ہو گئی ہوں، لیکن اب بھی میرے والد لاپتہ ہیں۔ زویا بلوچ
#ZoyaBaloch
https://t.co/V4882XIo3u