Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں اور مطالبات کی منظوری تک گھروں کو واپس نہ جائیں
ہمارے مطالبات ہیں:
26ویں ترمیم کا خاتمہ
جمہوریت اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
میں نے ایک لیڈرشپ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو احتجاج کو لیڈ کرے گی اور تمام مذاکرات کرے گی
عمران خان کے ساتھ جیل میں روا سلوک اور ان کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی خبریں نہایت تشویشناک ہیں۔ قوم کو فوری طور پر ان کی خیریت کی یقین دہانی کرائی جائے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ تحریکیں نظم کے بغیر کامیاب نہیں ہوتیں اور اسی لئے ہمیشہ خود کو پارٹی ڈسپلن کا پابند رکھتا ہوں مگر اس وقت معاملہ میرے اور میری قوم کے لیڈر کی زندگی کا ہے۔ اگر فوری طور پر خان صاحب سے ان کی بہن، ڈاکٹر اور پارٹی قیادت کی ملاقات نہیں کرائی جاتی تو میں اپنی قوم، آئی ایس ایف، یوتھ ونگ، لیبر ونگ، منتخب اراکین اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، بلدیاتی نمائندوں اور یو سی، وی سی تک کے کارکنان کو کہنا چاہتا ہوں کہ تیاری کرلیں ہم نے ڈی چوک کی کال دینی ہے اور اس عزم کے ساتھ شرکت کرنی ہے کہ اب عمران خان کو لے کر ہی واپسی ہوگی۔ اڈیالہ جیل جا کر ہم کسی کو ہمارے احتجاج کی آڑ میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقع نہیں فراہم کریں گے، اس میں عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔
فیصلہ ساز سن لیں! آپ ہماری جانوں، عزتوں سے کھیلتے رہے اور ہم نے سب صبر سے برداشت کیا۔ اب ہمیں کوئی سبق نہیں پڑھانا۔ آپ کو ملک کے وقار کی فکر ہوتی تو چوروں کو ملک پر مسلط کرکے ملک کے سب سے قابل فخر سپوت کو جعلی کیسوں میں قید نا کرتے۔ ایسے موقع پر اس سے ملاقاتوں پر پابندی نہ لگاتے۔ آپ کو ایس سی او کانفرنس سے سروکار ہوتا تو آئینی ترمیم کے لیے جوڑ توڑ میں نہ مصروف ہوتے۔ آپ کو خوفِ خدا ہوتا روز ظلم کرکے، لوگوں کو اغوا کرکے، قید رکھ کے ان پر تشدد کرکے بیانیے نہ بنا رہے ہوتے۔ جو کیا سو آپ نے کیا! ہم نے پرامن رہتے ہوئے صرف اپنا حق مانگا، صرف انصاف کی بات کی۔ظلم سہہ کر بھی ہم موردِ الزام ہی ہیں تو یونہی سہی۔
آپ نے راستے کھودنے ہیں، کنٹینر لگانے ہیں سو بسم اللہ۔ ہم پیدل مارچ کریں گے، رکاوٹوں سے عوامی سیلاب نہیں رکتے یہ بات آپ کو اب تک معلوم ہوچکی ہوگی اور جن کے اختیار میں روکنا تھا ان کو آپ نے اپنے بیانیوں سے متنازع بنا دیا۔ اب جو نکلیں گے انہیں روکنا پھر ہمارے بھی بس میں نہ ہوگا۔
فوری طور پر عمران خان کی خیریت کی خبر۔ یا ڈی چوک پر آپ سے سامنا۔
بانی تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
۱-
اپنی قوم کو ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ وزیر آباد اور جوڈیشل کمپلیکس واقعات میں مجھے قتل کرنے کی دو مرتبہ کوشش کی گئی تھی۔ وزیر آباد واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج آئی ایس آئی نے چوری کی، جہاں مجھ پر حملہ ہوا، وہاں کا کنٹرول رات کو آئی ایس آئی نے سنبھال لیا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر سے ان کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ بوکھلا کر انہوں نے جیل میں سختی بڑھا دی ہے۔ میرے ساتھ تعینات عملہ، جو چیک کرتا تھا کہ کھانے میں زہر تو نہیں، کو چوتھی مرتبہ تبدیل کردیا گیا ہے۔ مجھے جس سیل میں رکھا ہے وہ اوون کی طرح گرم ہے، اس لیے پسینہ آتا ہے مگر ان تکالیف کے باوجود میں کوئی ریلیف نہیں چاہتا۔ جیل کے مجھ سے متعلقہ تمام انتظامی امور آئی آیس آئی کنٹرول کرتی ہے۔ دوبارہ کہہ رہا ہوں مجھے کچھ ہوا تو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی ذمہ دار ہوں گے۔
بشری بیگم کے کمرے میں بھی چوہے ہیں، جب نماز پڑھتی ہے تو چوہے گرتے ہیں، 3 مہینے سے چوہوں کے بارے میں شکایت کررہی ہے، اب عدالت کو آگاہ کیا ہے۔
۲- جلسہ ملتوی کرنے کی وجہ پہلے ہی بیان کر چکا ہوں۔ اس کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ساری حکومت جھوٹ پر چل رہی ہے، میں تو ان کی خبر تک نہیں پڑھتا۔ میرا اسٹیبلیشمینٹ سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے، اگر ان سے بات ہوگی تو صرف ملک اور آئین کے لیے ہوگی۔
۳- جیسے اسرائیل، فلسطین کو کہہ رہا ہے کہ ماضی میں جو ہوا اس کو بھول جائیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ میں فراڈ الیکشن کو بھول جاؤں! امن وامان انصاف سے آتا ہے، مشرقی پاکستان والے انصاف مانگ رہے تھے، ہمارے خلاف نہیں تھے، آپ جس قومی مفاہمت کی بات کررہے ہیں اس سے قبل انصاف تو کریں، صرف بھیڑ بکریاں ڈنڈوں سے کنٹرول ہوسکتی ہیں انسان نہیں۔ بنگلہ دیش میں کیا ہوا، آرمی چیف، چیف جسٹس اور پولیس چیف سب وزیراعظم کے تھے، مگر عوام نکلی تو اپنا حق حاصل کرلیا۔ یورپ کو یکھیں اس نے کتنے فوجی آپریشن کیے۔ آپ جو مرضی کرلیں، 8 فروری کو آپ کا بیانیہ قوم نے مسترد کردیا۔ لوگ آرمی سے پیار کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیں تحفظ دیتے ہیں۔ 8 فروری کے الیکشن سے قبل، 9 مئی کی آڑ میں عوام پر فالس فلیگ آپریشن کیا گیا، اس آپریشن میں ہم پر تشدد کیا گیا، ہماری پارٹی پر پابندی لگائی گی، لیکن عوام نے اپنی رائے کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے ہر بیانیے کو مسترد کیا۔
۴-
دوسری جانب فارم 47 کی حکومت مسلط کردی، جنہیں اداروں میں اصلاحات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے صرف قرض لئے، جس سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ تمام اثاثے بیرون ملک ہونے کے باعث، انہیں پاکستان کی ترقی یا تنزلی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پروفیشنلز ملک چھوڑ کر جارہے ہیں جس سے بیروزگاری اور مزید مہنگائی کا دور آرہا ہے۔ شوکت خانم کے CEO نے بتایا کہ پروفیشنلز کے باہر جانے سے ادارہ چلانے میں مشکل ہورہی ہے۔ منصوبہ بندی اور اصلاحات صرف مینڈیٹ والی حکومت کرسکتی ہے۔ اگر عوام تنقید کرے تو یہ ڈیجیٹل دہشتگرد بنا دیتے ہیں۔ انٹرنیٹ سروس بند ہوئی تو عوام نے احتجاج کیا انہیں یہ تنقید برداشت نہیں، اب عوام اپنی مشکلات کی شکایت نہ کرے، ان سب مسائل کا ذمہ دار بھی قوم ایک خاص ادارے کو سمجھتی ہے۔ مجھے ملک کی فکر ہے میرا جینا مرنا پاکستان ہے ، میرا ملک سے باہر کوئی پیسہ نہیں، میں زرداری نواز شریف کی طرح ڈیل نہیں کرسکتا، میری اپیل ہے کہ فوج ہم سب کی ہے ملک کو مضبوط ادارے کی ضرورت ہے، جو ہو رہا ہے یہ خودکشی ہے۔
۵-
محسن نقوی نے دبئی میں بیوی کے نام پر پانچ ملین ڈالر کی مالیت کی جائیداد بنا رکھی ہے۔ یہ گندم اسکینڈل میں ملوث ہے، ملک کا سب سے بڑا فراڈ الیکشن اس نے کروایا، کیا قابلیت ہے اسکی؟ کرکٹ تباہ کرچکا ہے، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہے۔ ہر روز کے پی اور بلوچستان میں شہادتیں ہو رہی ہیں۔ پنجاب پولیس کو تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا ہے، جس سے چور اور ڈکیت اتنے طاقتور ہوگئے ہیں کہ وہ اب پولیس کو ہی شہید اور اغوا کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ سفارشی محسن نقوی 2008 کا نیب زدہ ہے۔
کرکٹ واحد کھیل ہے جسے پوری قوم ٹی وی پر بڑی دلچسپی سے دیکھتی ہے، طاقتوروں نے اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے، ایک سفارشی کو لا کر کرکٹ بھی تباہ کردی۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ ورلڈ کپ میں پہلی چار اور T 20 کی 8 ٹیموں میں تک میں جگہ نہ بنا سکے۔ اور پھر کل بنگلہ دیش سے ٹیسٹ میچ میں بری طرح شکست کھا کر نئی تاریخ رقم کردی۔ اڑھائی سال قبل اسی ٹیم نے بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی، اڑھائی سال میں ایسا کیا ہوا کہ اتنی تنزلی کا شکار ہوچکی ہے کہ گے آج بنگلہ دیش سے بھی دس وکٹوں سے ہار گئے، اس سب کیوجہ سے سارا نزلہ ایک ادارے پر گر رہا ہے۔
ہم مڈل کلاس لوگوں کی زندگی بڑے اندیشوں، بڑی بے یقینی میں گزرتی ہے۔ ہم دودھ کے جلے، بڑے pessimistic ہوتے ہیں، چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔ سیاست پر بات آئے تو تحقیر آمیز مسکراہٹ کے ساتھ ”یہ سب ایک جیسے ہیں“ کہہ کر خود کو بڑادانشور سمجھتے ہیں کہ جیسے ہم کسی بڑے جال سے بچ جاتے ہیں۔ کچھ فوجی آمریت کے متعدد ادوار اور کچھ موروثی سیاست دانوں کے اپنے کرموں نے کبھی مڈل کلاس کی سیاست کو ملک میں فروغ پانے بھی نہیں دیا۔ ووٹ دینا غریب کا فرض اور حکمرانی امیر کا حق سمجھ کر ہم اپنے احساسِ برتری اور کمتری کے درمیان پینڈولم ہی بنے رہے۔ ایک نسل نے زندگی ایسے نکال لی۔ امید تو بہت سوں کو یہی تھی کہ اگلی بھی ایسی ہی نکال لے گی۔۔ غریب نان بریانی پہ ووٹ دے گا۔ امیر راج کرے گا۔ مڈل کلاس والا ”یہ سب ایک سے ہیں“ کہہ کر اپنی فہم کے خبط میں رہے گا۔
یونیورسٹی کے زمانے میں جب آئی ایس ایف کی بنیاد ڈالی تو بڑے طنزیہ لہجے اور تحقیر آمیز مسکراہٹوں کا سامنا کیا۔ ہر خیر خواہ بغل سے گزرتے ”یہ سب ایک جیسے ہیں“ کی زہریلی دھار کان میں انڈیل کر جاتا تھا۔ بہت سے مراحل پر ان لہجوں کی چبھن حقیقتوں میں تبدیل ہوئی۔ بہت سی ان مسکراہٹوں سے اس راستے میں دوبارہ ملاقات ہوئ۔ بڑی بار تیقن میں ”ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا“ کے خنجر گھونپے گئے۔ لیڈر شپ بڑی ذمہ داری کا کام ہوتا ہے ایک جنبش آبرو میں آدمی کی توقیر عرش سے فرش پہ آجاتی ہے، کم ہی کوئی اپنے حرف کے معیار پہ پورا اتر پاتا ہے۔۔ سو بڑے بت ٹوٹتے دیکھے ہیں اور زندگی مستقل اسی خوف میں گزری ہے کہ کب کون سا چکنا چور ہو۔
آج عمران خان کو قید میں ایک سال مکمل ہوجائیگا۔ میری دھرتی کا اثاثہ وہ جو میری قوم کی تقدیر بدل سکتا تھا اپنے دن سلاخوں کے پیچھے کاٹ رہا ہے۔ وہ اس سلوک کا تو کبھی بھی مستحق نہ تھا، وہ تو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے قابل تھا۔ میرے لیے ہر وہ شخص تاعمر ناقابلِ معافی رہے گا کہ جو عمران خان کے ساتھ اس سلوک میں کسی بھی صورت سہولت کار بنا، بحیثیتِ کارکن میں اُس کے خود پر لاگو کیے ڈسپلن کا پابند ہوں مگر بحیثیتِ پاکستانی میرے لیے یہ بہت شرم کا مقام ہے کہ میرے ملک کا سب سے جری بیٹا ناحق پابندِ سلاسل ہے۔ اور وہ وقت کہ جو اس ملک کو عظیم تر بنانے میں صرف ہوسکتا تھا کیسے برباد ہورہا ہے۔
یہ میرا ایمان ہے کہ عمران خان اس جنگ میں سرخرو ہوگا۔ جلد یا بدیر۔ مگر اس وقت کے زیاں کے لیے، اس کو پہنچنے والی ہر تکلیف کے لیے میں بحیثیت پاکستانی تمام عمر شرمندہ رہونگا، عمران خان سے بھی اور اپنی قوم کی آئیندہ آنے والی نسلوں سے بھی۔
مگر وہ ۲۰-۲۱ سالہ جوان کہ جس نے اِس شخص میں امید دیکھی، اُسے مشعل راہ سمجھا، اپنا لیڈر مانا۔۔ وہ جس نے اپنے مڈل کلاس کے curse سے نظریں بچا کر اس شخص کی پیروی میں اس میدان خارزار میں قدم رکھا آج وہ میری نگاہوں میں سرخرو کھڑا ہے۔
کہیں ہر وہ خدشہ، اندیشہ، وہ تذبذب کا لمحہ، وہ لحظہ بھر کے یقیں کی لڑکڑاہٹ، وہ ایمان کی لرزش سرنگوں ہے۔ وہ لوگ کہ جن تک عمران خان کا پیغام پہنچایا، جن کی آنکھوں میں امید کی شمع جلائی۔ اپنی زبان سے ادا ہونے والا ہر حرف۔ اپنے ساتھ قدم ملا کر چلنے والے، اپنے سے منسوب لوگوں کے سامنے میں سربلند ہوں تو اس شخص کی استقامت، اس کے ایمان کے باعث۔
میں شرمندہ ہوں مگر مجھ میں موجود ایک نوجوان کو بہت فخر ہے، وہ سمجھتا ہے اس کی زندگی ضائع نہیں گئی۔ کسی سچے آدمی کی بات کے یقیں میں بسر ہوئی ہے۔ کسی باکردار شخص کی پیروی میں صرف ہوئی ہے۔
ہم قدم قدم پر ڈسے ہوئے لوگوں کے لیے یہ بڑی بات ہے کہ جس کی خاطر ہم اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر نکلیں وہ ہمارے لیے ایسے بھڑ جائے کہ اس کے سامنے سب ہیچ ہوجائے۔ ہم ”یہ سب ایسے ہیں“ کے خنجر پسلیوں میں لے کر پھرنے والی قوم کا مان کوئی ایسے رکھ لے کہ وفاداری کے معیار ہی بدل جائیں۔ ایسے بھلا کب ہوا ہے۔ ہماری تقدیر میں کوئی عمران خان اس سے پہلے بھلا کب لکھا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا عدالت سے پیغام:
(۳۰ جولائی ۲۰۲۴)
پاکستان تحریک انصاف ۹۰ فیصد اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ فارم ۴۷ کے سہارے آئی ہوئی کٹھ پتلی حکومت بطور ادارہ فوج اور قوم کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بگاڑ کا سبب بننے والے اقدامات اور اشخاص پر تنقید کی۔ ماضی میں بھی چند اشخاص کے بند کمروں کے فیصلوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے پیچھے جنرل ضیاء تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے پیچھے جنرل یحٰیی خان کا ہاتھ تھا۔ اگر آپ ان غلطیوں پر آنکھیں اور تنقید بند کر دیں گے تو یہ ملک سے بالعموم اور فوج سے بالخصوص ظلم ہو گا۔ کوئی بھی فرد واحد ادارہ نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی بھی ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ گھر کا کوئی بچہ بگڑ جائے تو اس پر اصلاح کی غرض سے تنقید کی جاتی ہے اور یہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے۔
فارم ۴۷ کٹھ پتلی مافیا سے کوئی بات چیت ہو گی نہ مذاکرات۔ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل نافذ ہے۔ سیاسی اور نتیجتاً معاشی عدم استحکام سے ہر طبقہ بری طرح متاثر ہے۔ ہر عہدے پر انہی کے نمائندے مسلط ہیں۔ محسن نقوی اس کی سب سے بدترین مثال ہے۔ محسن نقوی سے کبھی بات نہیں کروں گا،اس نے آئی جی پنجاب سے ملکر ہمارے لوگوں پر ظلم کیا۔ یہ ظل شاہ کی موت کے ذمہ دار ہیں، یہ بیرون ملک کہیں نہیں جا سکے گا، باہر ممالک میں تشدد سے نفرت کی جاتی ہے۔ مریم نواز نے آئی جی پنجاب کو اسی لئے رکھا ہوا ہے کہ اس نے پی ٹی آئی پر ظلم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کٹھ پتلی حکومت کے بجائے اصلی فیصلہ ساز فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے، فوجی قیادت اپنا نمائندہ مقرر کرے تو ہم مشروط مذاکرات کریں گے۔
مذاکرات کے لئے پہلا مطالبہ ہے کہ ہمارا چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ مذاکرات کے لئے دوسرا مطالبہ اسیران کی رہائی اور جھوٹے مقدمات کا خاتمہ ہے۔ تیسرا مرحلہ صاف شفاف الیکشن کا انعقاد ہے جس کے بغیر ملک کی سالمیت خطرے میں ہے-
ملک میں غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ میرے جیل کے کمرے کی صفائی کرنے والے کا بجلی کا بل ۴۰ ہزار آیا ہے۔ بجلی کے بلوں اورٹیکسسز میں ہوشرباء اضافہ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت کرتا ہوں۔میری پارٹی قیادت اور کارکنان کو ہدایات ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کریں۔
جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یہ انسانیت کی توہین اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہمارے ۲۵ ورکرز اور ان کے اہل خانہ اب تک غائب ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا کوارڈینیٹر احمد جنجوعہ کو گھر سے گرفتار کرکے دہشتگرد بنا دیا گیا۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے نکلنے والے بلوچ عوام کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور عوام میں بڑھتی ہوئی نفرت اور احساس محرومی کا سدباب کرنا چاہیے۔
میں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ ان کا تعصب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا تو عامر فاروق نے اسے درست قرار دیا۔ میرے اور بشریٰ بی بی کے سارے کیسز کی سماعت عامر فاروق ہی کرتے ہیں۔ وہ مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتے تھے۔ جب میں ان پر عدم اعتماد کا واضح اظہار کر چکا ہوں تو انہیں اصولی طور پر میرے، میری پارٹی اور میری اہلیہ کے تمام کیسز سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔
یہ دونوں جماعتیں سمندر میں ڈوب رہی ہیں اور جوتے کے سہارے لٹک رہی ہیں جس پر ۹ مئی کا ٹیگ لگا ہے۔ اس لیے یہ ملک میں انتشار اور تفریق پیدا کر کے اپنے جعلی اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔ ۲۸ سالہ جدوجہد میں کبھی توڑ پھوڑ کی بات نہیں کی۔ ۹ مئی واقعات میں ہماری بے گناہی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھپی ہے۔ اگر ۹ مئی میں تحریک انصاف کا کوئی بندہ ملوث ہے تو اسے ضرور سزا دیں-
خوفزدہ جعلی سرکار تحریک انصاف کو دبانے کے لیے ہر غیر جمہوری ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔ ساری جماعتیں جلسے کر رہی ہیں ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ۵ اگست کو ایک بہت بڑا جلسہ صوابی میں کر رہے ہیں۔ اگلا جلسہ اسلام آباد میں کریں گے۔ عوام تیاری کرے۔