Today it’s 164 days of illegal incarceration thru sham trial & illegal conviction order for @ImaanZHazir & @AdvHadiali. Only the children of the privileged @CMShehbaz & judge Asif get speedy justice. For my children no justice at all so far.
Good to see some children atleast r getting speedy justice. My beloved daughter & son-in-law still struggling to get a hearing for a suspension of an illegal conviction sentence thru a sham trial. So @ImaanZHazir & @AdvHadiali will spend another Eid illegally incarcerated. Hope one day all our children get speedy justice. #ReleaseImaanAndHadi
Dr. Aneel Salman stated that Pakistan’s climate challenge is now about response capacity, not just awareness, calling for a shift from vulnerability to a climate-resilient development model.
#RISE#RiseToBeResilient#EmergencyResponse
Mr. Khurram Gondal, Chairman Pakistan Humanitarian Forum, highlighted Pakistan as a frontline country facing severe climate risks, stressing the importance of climate & risk financing, feasibility studies, and stronger multi-level attention.
Khurram Javed from @UNinPak highlighted rising donor fatigue and constrained global funding, stressing the need to prioritize the most vulnerable communities.
Today its 118 days of illegal incarceration for @ImaanZHazir & @AdvHadiali thru sham trial lacking in due process & law. No justice in sight. Always been abt vengeance, never abt law & justice or even due process. On Friday it will be 4 months of illegal incarceration. #ReleaseImaanAndHadi
Dr. Kamal Ahmad from NDMA emphasized that climate finance is a technical and economic discipline requiring strong planning, evidence-based design, and strategic thinking, and must be treated as a national priority beyond ministries alone.
@ndmapk
Grateful to our esteemed guests for joining the Iftar hosted by Islamic Relief Pakistan 🌙✨
More than a meal, it was a renewed commitment to compassion, community, and serving those in need. May this spirit continue to inspire hope and positive change 🤍
Islamic Relief’s UNFPA funded seminar united UN agencies, govt depts, civil society, media & more for a powerful panel pending legislation & cybercrime response.
Key insights from UNFPA, police, FIA & others, driving prevention & justice forward. @UNFPAPakistan@GovtofKPK
ماضی میں ہمیشہ آئین کی پامالی کا سہرا فوجی آمروں کے سر سجایا جاتا تھا مگر آجکل ماشااللہ انہیں کے سیاسی جانشینوں اور 1973 کےمرحوم آئین کے خالقوں کے لواکین کے ہاتھوں سرانجام دیے جارہا ہے
#ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا
انہوں نے صرف ایک شخص کی سیاست ختم کرنے کے لیے اپنی پوری سیاست اور جدوجہد راکھ بنا دی۔
اس وقت عدلیہ اور آئین کا ہونا ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔
اس دھوکے کو فوراً ختم کریں ورنہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی کہ نام نہاد جمہوریوں نے ایک شخص کے خوف میں کیا کچھ کر ڈالا .آئیں سب مل کر پاکستان کے آئین کے لیے سورۂ فاتحہ پڑھیں۔ اللہ آپ سب کے ساتھ ہو! #ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا
ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات کا ماحول!!!
معتبر ذرائع کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ترکیہ میں پاکستان اور افغانستان کے مابین مذاکرات کا عمل کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوا۔
جو چیز خاص طور پر قابلِ توجہ تھی وہ یہ تھی کہ پاکستانی وفد مذاکرات کے آداب سے ناواقف تھا، غیر منطقی اور بے ربط بیانات دے رہا تھا، اور بعض اوقات تو اس کا اندازِ برتاؤ ہلکا پھلکا اور نامناسب تھا۔
مذاکراتی ٹیم کے رویّے، کردار اور کیفیت کو درمیان کار (قطر اور ترکی) کے نمائندے بھی حیرت سے دیکھ رہے تھے اور غیر جانبدار انداز میں افغان وفد سے کہتے رہے کہ آپ لوگوں کا تعلق بہت مشکل پڑوسیوں سے ہے۔
ذیل میں ترکیہ مذاکرات کے اجلاس کے چند نکات آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں، جو انتہائی معتبر اور تیسرے فریق کے ذرائع سے حاصل ہوئے ہیں:
ـ اجلاس کی زیادہ تر شقیں حتمی ہو چکی تھیں، صرف ایک شق پر بحث جاری تھی جب پاکستانی طرف نے ہلکے اور غیر مناسب برتاؤ سے اجلاس کو انتشار زدہ اور خراب کر دیا۔
ـ پاکستانی وفد نے مذاکراتی میز پر اپنے اخلاق و ضبط کھو دئیے تھے؛ وہ ہلکے اور توہین آمیز رویّے کا مظاہرہ کر رہے تھے، جس نے درمیان کار (ترکی و قطر) کے نمائندوں کو بھی شدید دکھ پہنچایا۔
ـ پاکستانی ٹیم کے سربراہ، جو کہ بے ادبی کرنے والا شخص بتایا گیا، افغان جانب سے مطالبہ کر رہا تھا کہ آپ وہ تمام گروپ ہمارے لیے افغانستان سے طلب کریں اور ان کا کنٹرول کریں جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔
پاکستان کے اس مطالبے — کہ افغانستان سے وہ ٹی ٹی پی کے گروپ ہمارے حوالے کیے جائیں اور وہاں ان کا کنٹرول کیا جائے — نے بھی درمیان کار (قطری و ترکی نمائندوں) کو حیران کر دیا کہ یہ کیسی درخواست ہے کہ آپ اپنی باغی قوتیں ہم سے کنٹرول کروانے کا کہیں؟
افغان فریق کا جواب یہ تھا کہ وہ لوگ ہمارے متعلق نہیں ہیں، وہ آپ کے ملک کے باشندے ہیں؛ تو ہم کیسے آپ کے شہریوں اور جنگجو گروہوں کو اپنے ہاں طلب کریں اور ان کا کنٹرول سنبھالیں؟
ـ ایک اور مطالبہ یہ تھا کہ اگر پاکستان میں کسی قسم کا ٹی ٹی پی حملہ ہوا تو ہم اس کا بدلہ افغانستان سے لیں گے۔
افغان فریق نے جواب دیا کہ پاکستان کے اندر کے حملوں کا کنٹرول آپ کے عسکری اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے؛ ہمارا واحد فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنی سرحدی حدود سے آپ کی طرف کسی قسم کی گذرگاہ نہ ہونے دیں۔
ـ پاکستانی جانب کہا گیا کہ آپ ضمانت دیں کہ وہ تمام گروپ جو افغانستان سے پاکستان پر حملے کرتے ہیں، آپ کنٹرول کریں گے۔
افغان فریق نے کہا: ٹھیک ہے، ہم کسی کو اجازت نہ دیں گے کہ وہ ہمارے علاقے سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کرے، مگر بدلے میں پاکستانی جانب بھی ضمانت دے کہ وہ نہ تو خود پاکستان سے افغانستان کا فضائی حریم پامال کرے گا اور نہ ہی وہ امریکی ڈرون طیاروں کو اپنے فضا و حدود کے استعمال سے افغانستان کے حریم کی خلاف ورزی کی اجازت دے گا؛ اسی طرح داعش نما عناصر بھی پاکستان کی فضا استعمال کر کے افغانستان میں حملے نہیں کریں گے۔
ابتدائی طور پر پاکستانی وفد نے یہ قبول کیا، مگر کچھ دیر بعد انہیں ایک فون آیا، اور جب وہ فون کے بعد اجلاس میں واپس آئے تو اپنے موقف سے منہ موڑ گئے اور کہنے لگے کہ پاکستان امریکی ڈرون کا تدارک نہیں کر سکتا اور نہ وہ داعش کی ضمانت دے سکتاہے۔
ـ ایک اور دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ جب افغانستان کی جانب سے امریکی ڈرونز کے خلاف کارروائی اور پاکستان کی فضا سے نہ گزرنے کی بات سامنے آئی تو پاکستانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جنرل شہاب اسلم نے کہا کہ یہ بات نہیں ہونی چاہیے۔
قطر کے سفیر، جو اجلاس میں موجود تھے، نے انہیں کہا کہ جناب، غور سے سنیں اور بات کو ادھورا نہ چھوڑیں — یہ افغانوں کی تشویش ہے۔ جنرل شہاب نے کہا کہ جو امریکی ڈرون ہماری فضا سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں وہ آپ کے قطر کے اڈے سے اڑتے ہیں، آپ وہاں کیوں انہیں روکتے نہیں؟
قطری سفیر نے جواب دیا کہ وہاں ہمارے اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدہ موجود ہے۔
جنرل شہاب نے کہا کہ ہمارے بھی امریکہ کے ساتھ معاہدے ہیں (یعنی پاکستان کے پاس بھی امریکہ کے ساتھ افغانستان کے حریم کی خلاف ورزی کی اجازت یا سہولیات کے معاہدے ہیں)۔
مزید براں، مذاکرات کا سلسلہ عارضی طور پر رک گیا۔ قارئین خود اوپر دی گئی معلومات کی بنیاد پر اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ذمہ دار کون ہیں — کون پانی گندا کر رہا ہے اور کون اس میں مچھلیاں پکڑ رہا ہے۔