اہل مدینہ کا حضورﷺ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنے کا صدیوں پرانا انداز۔
The most simple and profound rendering of Salaam on Prophet Muhammad PBUH, in Madina that has been practiced for centuries.
سستی روٹی پراجیکٹ
مہنگائی کے اس دور میں ہزاروں دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہیومن کیئر فاؤنڈیشن کراچی کی مختلف کچی آبادیوں میں 7 سستی روٹی تندور چلا رہی ہے، جہاں آج بھی صرف 10 روپے میں بڑے سائز کی تازہ روٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
ہر تندور پر روزانہ 200 کلوگرام آٹا استعمال ہوتا ہے، جس سے تقریباً 2,000 روٹیاں تیار ہوتی ہیں۔ یوں روزانہ 14,000 روٹیاں ہزاروں مستحق افراد تک پہنچتی ہیں۔
ہر تندور کو روزانہ 50 کلوگرام آٹے کی ایک بوری درکار ہوتی ہے، جس کی موجودہ قیمت 7,000 روپے ہے۔ ساتوں تندور صرف ایک دن چلانے کے لیے 49,000 روپے کے تعاون کے محتاج ہیں۔
اس کارِ خیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ضرورت مند اپنی عزتِ نفس کے ساتھ روٹی خریدتا ہے، جبکہ آپ کا عطیہ خاموشی سے اس کی بھوک مٹا دیتا ہے۔
آئیے! اس نیکی میں حصہ لیجیے، تاکہ کوئی مزدور، کوئی ماں اور کوئی معصوم بچہ بھوکا نہ سوئے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے مال و رزق میں بے شمار برکتیں عطا فرمائے۔ آمین۔
تعاون کے لیے درج ذیل بینک اکاؤنٹ اور 03152318682 پر موجود ایزی پیسہ اور جاز کیش اکاؤنٹ بنام سلیم احمد کے ذریعے رقم بھیجی جاسکتی ہے۔
SALEEM AHMED
Meezan Bank-Kokan Colony Baldia, Karachi
Account Number: 99610104550766
IBAN: PK08MEZN0099610104550766
In Pakistan, we are taught there is only ONE way to succeed.
Business means open a restaurant, chai dhaba, or clothing brand in DHA.
Success means go to USA, UK, or Dubai.
Investment means only buy a plot file in Bahria.
Career means only do CSS or become a doctor/engineer.
Reality is totally different.
There is no single correct way to build a business.
There is no single correct way to invest or make money.
Same is true for Fitness, Relationships, Career, and Life.
Some people make crores from YouTube, some from a small shop in Anarkali. Some get fit at a Rs. 5000 gym, some by walking in a park.
Stop searching for "what works" in Pakistan.
Start searching for what works FOR YOU.
جب یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سبزی کھانے والے Vegetarian لوگ گوشت کھانے والے سے زیادہ تحمل مزاج، امن پسند اور cool mind ہوتے ہیں۔۔۔۔
اسکے علاوہ ان میں سوگر ، کینسر ، بلڈ پریشر، موٹاپا جیسی بہت سے بیماریاں بھی گوشت خوروں سے بہت کم ہوتی ہیں۔۔۔۔
پھر اس طرف کوئی آگہی کیوں نہیں دیتا۔؟
200 یونٹس کا بل : 3600
201 یونٹس کا بل : 10,200
اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ 6 ماہ کے دوران 1 مرتبہ بھی آپ 200 سے زائد یونٹس استعمال کریں گے تو آپکا بل اگلے ماہ اگر 100 یونٹ بھی استعمال کرین گے تو آپ کو وہ رعایت نہیں ملے گی جو پروٹیکٹڈ صارفین کو ملتی ہے
بجلی کے بل:
برداشت کی آخری حد ختم ہو چکی؟
خاموش معاشی حملہ بند کرو
199 یونٹ بل 3500 روپے
ظلم کی انتہا 201 یونٹ بل 9000
ہر یونٹ کے ساتھ بڑھتی عوام کی پریشانی
ظالمانہ نظام ختم کرو غریب عوام کو سکون سے جینے دو۔
ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں
قیصر شریف
پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور
#PetrolDieselPrice #PublicAwareness #LPGPriceHike #protest #humanrights #PetrolPrice #insidestorywithmohsinbilal
دنیابھرکے قوانین میں شاید ھی کوئی ایسا اصول ھوکہ معمولی سی حدعبور کرنے پر معاشی قتل کی اچانک بھیانک سزاکئی گنا زیادہ بڑھاکر صارف پر زبردستی تھوپ دی جائےبجلی کےبلوں میں200یونٹ سے صرف ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال ھونے پرصارف پراضافی بوجھ ڈال کرقیامت ڈال دی جاتی ھےایسی مثال دنیا بھر
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
میزان بینک نے مجھے فون پر اطلاع دی ہے کہ صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ کے 18 مارچ 2026 کے حتمی فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے بجائے، صرف Rs. 216,000 کی رقم واپس نہ کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ ایک عام پاکستانی آخر صرف Rs. 216,000 کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل کیسے کرے؟ مقدمے کے اخراجات کہاں سے لائے؟
میں دو سال سے زیادہ ہر قانونی فورم پر گیا۔ Meezan Bank نے میری شکایت مسترد کی، پھر Banking Mohtasib گیا، وہاں سے بھی ریلیف نہ ملا۔ اس کے بعد میں نے صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ سے رجوع کیا، جہاں باقاعدہ سماعت ہوئی۔ میں بغیر کسی وکیل کے خود پیش ہوا، جبکہ Meezan Bank کی جانب سے ان کا وکیل پیش ہوا۔ دونوں فریقین کو سننے کے بعد میرے حق میں فیصلہ آیا اور بینک کو Rs. 216,000 واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ میں نے ای میلز لکھیں، برانچ گیا، SBP Sunwai پر شکایت کی، دوبارہ Banking Mohtasib سے رجوع کیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ پہلے کہا گیا معاملہ Senior Management کے پاس ہے، اور اب بتایا جا رہا ہے کہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
کیا ایک عام شہری کو انصاف حاصل کرنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی نئی قانونی جنگیں ہی لڑنی ہوں گی؟ اگر ایک حتمی فیصلہ بھی عام شہری کو ریلیف نہ دے سکے، تو پھر انصاف آخر کہاں ملے گا ۔
اب آپ بتائیں الیٹ اور مافیا کے اس خادم اعلی شہباز شریف بارے ہم ہمیشہ یہی کہتے تھے نا کہ یہ غریب کا دشمن ہے
یہ ہر الیٹ مافیا کے مفاد کا خیال رکھتا ہے بس غریب عوام انکے اقتدار میں تباہ ہے