آزاد کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے یہ دشمن کا بہت کاری وار ہے اُس نے بڑی لمبی اور طاقتور پلاننگ کے ساتھ یہ سب شروع کیا ہے بلکل کسی بالی ووڈ فلم کے اسکرپٹ کی طرح۔ دو چار لوگوں کو خرید کر اُن کے ذریعے ہزاروں محب وطن کشمیریوں اور پاکستانیوں کے جذبات کو اپنے قابو میں کرکے اُنھیں استعمال کرنے کا بہت ہی گھناؤنا کھیل شروع کیا گیا ہے اور اُن ہزاروں محب وطن لوگوں کو احساس ہی نہیں ہوپارہا کہ وہ تو ٹھیک ہیں اپنی آواز اُٹھانے میں مگر اُن سے جو یہ کام لے رہا ہے اُس کا مقصد کچھ اور ہی ہے ۔ مقصد واضح ہے کیونکہ کشمیر ہماری شہہ رگ حیات ہے اور اسی احساس اور تعلق کو دشمن اب ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے جہاں زیادہ محبت ہوتی ہے وہاں زیادہ غصہ ہوتا ہے یہ انسانی نفسیات ہے ۔ رزق دینے والی ذات خدا کی ہے انسان کا اُس پر اختیار نہیں اور نہ ہی کوئ انسان کسی کا رزق چھین سکتا ہے ، جس کشمیری قوم نے پاکستان کی خاطر ہر تکلیف اُٹھائ وہ چند چھوٹے فائدوں پر کبھی بھی پاکستان کو کمزور نہیں کرے گی اور جو پاکستان دنیا کے ہر محاذ پر کشمیریوں کی جنگ ہندوستان سے لڑتا رہا مگر نہ ڈرا نہ جھکا نہ ہٹا وہ جان بوجھ کر کبھی بھی کشمیر کو تنگ نہیں کرے گا اس لیے جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی تیسرے کی بھڑکائ آگ ہے جسے وہ برسوں سے دل میں لیے بیٹھا ہے وہ کشمیر کا ہمدرد نہیں بلکہ دشمن ہے جو وقتی طور پر ہمدرد بن کر کشمیریوں کے پیچھے سے پاکستان کی طاقت ہٹانا چاہتا ہے تاکہ پھر اپنا بدلہ کھل کر لے سکے ۔ یہ سب ہر محب وطن کے جاننا ضروری ہے ۔
#AzadKashmir
مظفرآباد میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر کے سانحے اور اس میں سوار تمام اہلکاروں کی شہادت پر میں بہت رنجیدہ ہوں۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں اور افواجِ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ قوم مادرِ وطن کے ان بہادر سپوتوں کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ دعا ہے کہ اللّہ رب العزت شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل سے نوازے۔ آمین
اپنا لونڈا نیلے پاسپورٹ پر یورپ پہنچا اور اسائلم اپلائی کرتے ہوئے ریاست پاکستان کا بلیو پاسپورٹ گروی رکھ دیا اور اب پنکھوں میں کاپیاں مار رہا ہے جبکہ والد ترنگا پٹہ پہن کر ایوان میں ہندوستان ایکشن کمیٹی حمایت میں مرے جارہا ہے
زمین ملی تو بنجر
پہلے ہم یہ بات کرتے تھے کے پاکستان ڈیفالٹ کر گا یا نہیں اور آج ہماری ساری گفتگو صرف Rate of growth پر ہے ۔
اب بات یہ ہو رہی ہے کے گروتھ ہو رہی ہے کم ہو رہی ہے
سہیل وڑائچ صاحب کہتے ہیں کہ جولائی سے حکومت کا زوال ہے، کیسے؟ میں نہیں جانتا۔ میں تو یہ بھی جانتا کہ متبادل کیا ہے، کیا عمران خان؟ یا مارشل لا؟ مجھے تو دونوں ہی بعید از قیاس لگتے ہیں۔ اللہ کے بھید اللہ جانے ۔
مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ اس جون میں مسلم لیگ نون اور پنجاب نے وفاق اور دفاع کے لئے دو بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پہلی گلگت بلتستان میں اپنی یقینی حکومت سے دستبرداری جو روایات کے مطابق ہمیشہ وفاق سے ہم آہنگی میں ہی بنتی ہے ، کیوں؟ آپ جانتے ہی ہیں اور دوسرے مسلم لیگ نون نے ہی وفاق اور دفاع کے لئے 700 ارب روپے کی خطیر رقم پنجاب کے ترقیاتی بجٹ سے پیش کی ہے جبکہ سندھ اور کے پی کا شئیر صرف ایک ایک سو ارب کے لگ بھگ ہے۔
میں نہیں جانتا کہ سہیل بھائی کا تجزیہ کن حالات و واقعات پر ہے مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ پاکستان کا سارا بوجھ مسلم لیگ نون اور پنجاب نے اٹھا رکھا ہے ورنہ ہم نے پنجاب سے باہر چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے پاکستان کو گالی دیتے ہی سنا ہے جیسے ابھی آپ کشمیریوں کو دیکھ لیں، جیسے محفوظ شہید کینال کا معاملہ دیکھ لیں یا کالاباغ ڈیم کا ۔۔ کہاں سے لاؤ گے ایسی مثال؟
نجم ولی خان