دارالعلوم کا مزاج مزاجِ عمری ہے، وہ دین سے متعلق مسئلوں میں ذرا بھی لچک برداشت نہیں کرسکتا، دنیا کو اس کا یہ مزاج پسند آئے نہ آئے وہ دین کی بنیاد میں گھن لگنے نہیں دے گا.
#منکووووووول
عربی کا ایک مقولہ ہے:
”لو أن إمرأة نقلت جبلاً وقيل لها سلمت يداك لزال تعبها“
عورت اگر پہاڑ توڑ کر دوسری جگہ منتقل کر دے اور اسے اتنا کہہ دیا جائے کہ تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو اسکی تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔
١- جو شخص رات کو باوضو سوئے پھر (اس حالت میں) اس کو موت آ جائے تو وہ شہید مرا۔
٢- جو شخص رات کو باوضو سوتا ہے تو ایک فرشتہ ساری رات اس سے جڑا رہتا ہے۔ اس کے لئے ان کلمات سے استغفار کرتا ہے کہ اے اللہ ! اپنے فلاں بندے کی مغفرت کردے کہ وہ رات باوضو سویا ہے۔
(رواہ مسلم)
مخلوق کامزاج ہے کہ وہ انتقام لیکرخوش ہوتی ہے،اس سےاس کےجذبہ اناکوتسکین ملتی ہےاورکلیجہ ٹھنڈاہوتاہے،لیکن اللہ تعالی کی ذات پررحمت کاغلبہ ہےاوروہ رحمان ورحیم ہے،اسی لئےاسےگنہ گاروں کومعاف کرکےخوشی ہوتی ہے،انسان انتقام کےبہانےڈھونڈتاہےاوراللہ تعالی بہانوں سےمغفرت کےفیصلےفرماتےہیں۔
آگہی کی دنیا میں عقل نے پہلی شکست بابری مسجد کی شہادت پر تسلیم کی تھی، مگر دل نے عین اسی لمحے بہت ہی مضبوطی کے ساتھ یہ یقین دلایا تھا کہ "الاسلام يعلو ولا يعلى عليه" کہ تمہیں سرخرو ہوگے بشرطیکہ تم کمزور نہ پڑے، دشمن کے ظاہری و باطنی حملے نے تمہارے جسم و روح کو مفلوج نہ کیا۔!!
”نماز رزق کو کھینچ لاتی ہے، صحت کی محافظ ہے، تکالیف رفع کرتی ہے، بیماریاں دور کرتی ہے، دل کو تقویت دیتی ہے، چہرہ روشن کرتی ہے، طبیعت خوشگوار بناتی ہے، سستی کو پرے مارتی ہے۔“
|[ شيخ الإسلام امام ابن القيم رحمه الله || زاد المعاد : ٣٠٤/٤ ]|
رسول اللہ ﷺنےفرمایا:
اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کرعلم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے۔
(صحیح بخاری ، ۱۰۰)