Analyzing qualitative data (like notes, reports, interviews) takes a lot of time and labor.
MyRA is an AI-powered app that can help you with it.
It's GDPR compliant and doesn't store or sell your data.
Here's how to use it:
The Arabs used to say:
The honest does not swear, the confident does not justify, the sincere does not regret, the generous does not boast, and the loving does not tire.
یہ بات ہے غالباً 1984 کی
شدید گرمی کے روزے شروع ہو چکے تھے
اس وقت میرے پاس تین بچے تھے جن میں سے سب سے چھوٹا 8 ماہ کا تھا
اور ساس سسر کے ساتھ میں خود اور میرے شوہر بھی تھے۔یہاں یہ بتا دوں کہ شوہر اکلوتے بیٹے تھے تو گھر مدد کے لیے نند یا دیورانی وغیرہ نہیں تھیں۔
ابھی اے سی وغیرہ کا رواج بہت کم تھا
ہمارے گھر میں ائر کولر رات کو صحن میں چلتا تھا اور دن کو اینٹوں والا کولر کمروں میں-
گرمی اتنی شدید ہوتی تھی کہ جب میں سحری پکا کر باہر صحن میں لگا چکی ہوتی تو میرا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کرتا تھا۔پھر تھوڑا بہت کھانے کے بعد لسی پی کر روزہ رکھ لیا کرتی تھی۔یہی حال افطاری کے وقت ہوتا کہ جب افطاری پکا کر میز پر لگا کر فارغ ہوتی تو
اس وقت حالت یہ ہوتی کہ ایک کھجور کھانے کے بعد ایک پورا جگ شکنجبین کا پی جاتی لیکن روٹی اندر نہیں جاتی تھی-
اکثر رات جب سسر ابا تراویح پڑھ کر آتے تو ان کی تھکاوٹ دیکھ کر میں کوشش کرتی کہ ضرور ان کی پنڈلیاں دباؤں۔۔
ان کی کوئی بیٹی نہیں تھی اس لئے وہ مجھے سگی بیٹیوں جیسا ہی چاہتے تھے
ایسی ہی ایک شام تھی لیکن اس دن بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار تھا۔میں نے سوچا کہ آج تھوڑے سے پکوڑے بنا لیتی ہوں
بیسن وغیرہ تیار کر کے رکھا ہوا تھا-
روٹیاں بنا کر میں نے کڑاہی میں گھی ڈالا سب سے چھوٹا میری گود میں ہی تھا
میں نے چوکی پر بیٹھ کر جب گھی تیز گرم ہو گیا تو پہلا پکوڑہ کا آمیزہ ایک چمچ سے اس کڑکڑاتے گھی میں ڈالا-
اسی اثنا میں گود والے بیٹے نے کھینچ کے ٹانگ ماری اور کڑاہی اس کے پیر کے اوپر الٹ گئی-
بیٹے کا پاؤں ایسا جلا تھا کہ پاؤں کی ہڈی تک نظر آنا شروع ہو چکی تھی-
ابھی روزہ کھلنے میں کچھ ٹائم تھا-
بچہ بلک بلک کے رو رہا تھا-
اسی وقت میں اکیلی ہی گھر کے قریب موجود ڈسپنسری میں لیکر بھاگتی ہوئی پہنچ گئی-
میرے پیچھے پھوپھو اور سسر ابا بھی آ گئے-
اس رمضان شریف کے دوران ہرروز اس کی پٹی تبدیل کروانے کیلے بھی جانا ہوتا تھا-
اور باقی کی روٹین بھی حسب معمول برقرار رہی-اور مزے کی بات یہ کہ ان دنوں عبادت، تلاوت، اور روزے رکھنا اب سے بہتر اور مزے کے لگتے تھے-
اب وہ بیٹا ماشااللہ مزید پڑھنے کیلئے پاکستان سے باہر گیا ہوا ہے
نہ وہ دن رہے ہیں نہ یہ دن رہیں گے-
میں یہ سوچ کر بڑی مطمئن ہوتی تھی کہ میری زندگی کے آخری سالوں میں رمضان ٹھنڈا ہو گا۔ لیکن یہ بھول گئی تھی تب زندگی کی بھی شام ہونے والی ہوگی۔طاقت بھی کم ہو چکی ہوگی۔
اب زندگی میں ٹھہراؤ ہے-سحری افطاری ٹیبل کے اوپر تیار ملتی ہے
لیکن
اب عبادت کا وہ مزہ نہیں -
زیادہ وقت بیٹھ کر تلاوت نہیں کر سکتی
پیارے بچو.. اگر اس وقت آپ صحتمند ہیں، جوان ہیں، مشقت برداشت کر سکتے ہیں تو اس وقت سے فائدہ اٹھائیں-
رمضان شریف کی سورت میں اللہ نے ہمیں بہت بڑی نعمت سے نوازا ہے-اس وقت سے فائدہ اٹھالیں.. آج اس رمضان میں اللہ کو راضی کر لیں
در جوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری
اللہ ہم سے نیکی کے کام کروائیں اور پھر ہماری نیکیوں کو ہماری آخرت کیلیے محفوظ بھی رکھیں.. آمین
روبینہ قریشی۔۔(نشر مکرر)
وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
جاری ہے 👇
#قومى_زبان
ایک شمع سے دوسری شمع ' ایک بچے سے دوسرا بچہ ' حلقہ در حلقہ ' کڑی در کڑی ۔۔۔۔ ایک زنجیر ۔ یہ ہی اخوت ہے ۔ یہ ہی مواخات ۔ اخوت یونیورسٹی آپ کی منتظر ہے ۔
✍️ آٹھ مسائل
ایک روز شیخ شفیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد حاتمؒ سے پوچھا
"حاتم! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو.؟"
حاتم نے کہا.. "بتیس برس سے.."
شیخ نے پوچھا "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟"
حاتم نے کہا "صرف آٹھ مسئلے"
شیخ نے کہا "انا للہ وانا الیہ راجعون ... میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے.. تُو نے صرف آٹھ مسئلےسیکھے؟"
حاتم نے کہا "استادِ محترم! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا"
شیخ نے کہا "اچھا بتاؤ کیا سیکھا ہے؟"
حاتمؒ نے کہا،
1: میں نے مخلوق کو دیکھا تو معلوم ہوا ہر ایک کا محبوب ہوتا ہے قبر میں جانے تک، جب بندہ قبر میں پہنچ جاتا ہے تو اپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنا محبوب "نیکیوں" کو بنا لیا ہے کہ جب میں قبر میں جاؤں گا تو یہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رہے گا
2: لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی چیز ہے تو اسے سنبھال کر رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے، پھر فرمانِ الہی پڑھا، "جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے" (سورۃ النحل آیت 96)، تو جو چیز مجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیر دیا تا کہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے جو کبھی ضائع نہ ہو
3: میں نے خدا کے فرمان پر غور کیا، "اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا، جنت اسی کا ٹھکانہ ہو گا" (سورۃ النازعات آیت 40)، تو اپنے نفس کو بُرائیوں سے لگام دی، خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی، یہاں تک کہ میرا نفس اطاعتِ الٰہی پر جم گیا
4: لوگوں کو دیکھا ہر ایک کا رجحان دنیاوی مال، حسب نسب، دنیاوی جاہ و منصب میں پایا.. ان امور میں غور کرنے سے یہ چیزیں ہیچ دکھائی دیں، اُدھر فرمان الٰہی دیکھا، "درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے" (سورۃ الحجرات آیت 13)، تو میں نے تقوٰی اختیار کیا تاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں
5: لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ آپس میں گمانِ بد رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو بُرا کہتے ہیں، دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا، "دنیا کی زندگی میں ان کی بسر اوقات کی ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں" (سورۃ الزخرف آیت 32)، اس لیے میں حسد کو چھوڑ کر خلق سے کنارہ کر لیا اور یقین ہوا کہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، خلق کی عداوت سے باز آگیا
6: لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت و خون کرتے ہیں، اللہ کی طرف رجوع کیا تو فرمایا، "درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو"، (سورۃ فاطر آیت 6)، اس بنا پر میں نے صرف اس اکیلے شیطان کو اپنا دشمن ٹھہرا لیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رہوں
7: لوگوں کو دیکھا، پارہ نان (روٹی کے ٹکرے) پر اپنے نفس کو ذلیل کر رہے ہیں، ناجائز امور میں قدم رکھتے ہیں، میں نے ارشادِ باری تعالٰی دیکھا، "زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو" (سورۃ ہود آیت6)، پھر میں ان باتوں میں مشغول ہوا جو اللہ کے حقوق میرے ذمے ہیں، اس رزق کی طلب ترک کی جو اللہ کے ذمے ہے.
8: میں نے خلق کو دیکھا، ہر ایک کسی عارضی چیز پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی زمین پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنی تجارت پر، کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر، کوئی ذہنی اور علمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے، میں نے خدا کی طرف رجوع کیا، یہ ارشاد دیکھا.. "جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے" (سورۃ طلاق آیت3)، تو میں نے اپنےخدا پر توکل کیا، وہی مجھے کافی ہے"
شیخ بلخیؒ نے فرمایا، "اے میرے پیارے شاگرد حاتم! خدا تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے، میں نے قرآن کے علوم پر مطالعہ کیا تو ان سب کی اصل جڑ انہی آٹھ مسائل کو پایا، ان پر عمل کرنے والا گویا چاروں آسمانی کتابوں کا عامل ہوا"
📚احیاء العلوم.. امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ
شاه رخ خان کی فلم کا تین منٹ اکتیس سیکنڈ کا یہ کلپ آپکے لیۓ بُہت قیمتی ہے!!!
اس وقت مُلک میں الیکشن ھونے والے ہیں اپنی نسلوں کی بقاء اور مُلک کی ترقی کی خاطر ووٹ کا استمال بُہت سوچ سمجھ کر کیجیۓ گا خاندانی سیاست کا سلسلہ بند ھوناچاہیۓ!!!
ووٹ کو عزت دو!!!!
Lucky people work hard, have high integrity, show up on time, fight against a sense of entitlement, hold doors open, forgive first, anticipate outcomes, give more than they take, have good manners, show high rate of learning, are self-aware, optimistic, kind and are generous.