جان ہم دے دیں گے بارڈر بھی ہم سنبھالیں گے لیکن 84 فیصد بجٹ بھی ہمارا ہوگا ڈی ایچ اے و کینٹ سمیت سب کچھ ہمارے حوالے ہوگا پہر دفاع جانے ہم جانے بولو منظور ہے ؟
فوجی شہداء کی زمینیں ایک فوجی آمر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ہڑپ کر جانے کے بعد فوجی شہداء کی تضحیک کرنا اور حقیقی جمہوریت کا علمبردار ہونے کا ڈرامہ کوئی مولانا فضل الرحمن سے سیکھے۔۔!!!
سبحان تیری قدرت۔۔!!!
#ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
ہر فوجی نے حلف اٹھایا ہے کہ میں سیاست میں کوئی حصہ نہیں لوں گا۔ جب آپ اپنا حلف توڑیں گے تو میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ حلف توڑنے کے بعد پھر تم فوجی نہیں رہے، پھر تیرا احترام میرے اوپر لازم نہیں رہے۔ ہم پارلیمنٹ کو عوام کا نمائندہ ادارہ سمجھتے ہیں، اس میں عوام کے نمائندے ہونے چاہیے۔ آج... سیاست پر ان کا قبضہ ہے۔ شاید تمہیں گھمنڈ ہو کہ تمہاری پشت پر امریکہ ہے، میں واضح کر دینا چاہتا ہوں جن پر تمہیں گھمنڈ ہے، پرسوں وہ افغانستان سے دم دبا کر بھاگا ہے۔ اگر افغان قوم ان کو بھگا سکتی ہے اپنی سرزمین سے، تو پاکستانی قوم بھی ان کو اپنی سرزمین سے بھگا سکتی ہے۔
#معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #مولانا_کی_للکار
اسلام آباد:
نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش موجود تھے۔
#معافی_مائی_فٹ
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
مولانا کی ساڑھے پانچ منٹ کی تقریر پہلے 24 گھنٹوں میں اگر ایک کروڑ لوگوں نے سُنی تھی تو جوابی بیانیہ سازوں اور بیانیہ بازوں کی بدولت وہی تقریر پچیس کروڑ عوام سمیت دنیا میں وائرل ہوگئی ہے عالمی ذرائع ابلاغ سوشل میڈیا میں بھرپور کوریج جاری ہے، دلچسپ بات یہ کہ DGISPR ن لیگ اور وزارت اطلاعات خود خاموش ہیں اور پراکسیز کو یہ ڈیوٹی دی ہے جن کی وجہ سے مولانا کا موقف مزید پذیرائی حاصل کررہا ہے ۔۔۔
مولانا فضل الرحمن صاحب سے معافی کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن ان کی جماعت نے ایک اور بیان پوسٹ کردیا ، اب تک یہی نظر آرہا ہے کہ وہ اس لڑائی کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں ، آگے آگے دیکھیے ، ہوتا ہے کیا
🚨 میں نے مولانا فضل الرحمان صاحب کے قریبی ذرائع سے پوچھا کہ مولانا صاحب کیخلاف قصور میں FIR درج ہو چکی ہے، گوجرانولہ میں ایک جج صاحب مولانا صاحب کو بلا رہے ہیں، ہو سکتا ہے اگلے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں ملک کے طول و عرض میں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں مولانا صاحب کیخلاف اور بھی متعدد FIRs کا اندراج ہو جائے تو آپ کیا کریں گے؟ انہوں نے جواب دیا ہم پہلے کیا کرتے ہوتے ہیں؟ اگلی ہے سانس میں کہا ہم نہ تو پیش ہونگے اور نہ ہی ضمانت کروائیں گے، جس نے بھی مولانا صاحب کو گرفتار کرنا وہ اسلام آباد میں ہیں آ کے گرفتار کر لیں
کبھی آپ نے سوچا مولانا فضل الرحمان پر نصف درجن سے زائد خودکش حملے کیوں ہوئے؟ کیونکہ دہشتگردوں اور خوارج کی نظر میں مولانا واجب القتل ہیں، مگر کیوں؟ اس لئے کہ وہ پاکستان کے آئین، قانون، پارلیمان اور جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں یعنی وہ خوارج کے مقابلے میں ریاست کیساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے فقط خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ دہشتگردوں اور خوارج کیخلاف باقاعدہ تقاریر کیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں، ایک بندہ جس کی 40 سالہ جمہوری جدوجہد ہے اسے غدار اور باغی قرار دینا انتہائی بدقسمتی ہے، ریاست پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے، اگر میری جانب کوئی اشارہ کرے کہ آپ کے دامن پہ داغ لگا ہے بجائے اس کے کہ میں اس داغ کو دھوؤں الٹا اشارہ کرنے والے کے گلے پڑ جاؤں، ستم ظریفی اور شومی قسمت تو دیکھئے کہ جنہیں یہ بھی نہیں پتا کہ TANQEED "ت" سے لکھی جاتی ہے یا "ط" سے وہ بھی مولانا فضل الرحمان پر تنقید کر رہے ہیں