جنھوں نے آئی پی پیز کے معاہدے کیے، وہ کپیسٹی پیمنٹس دیں، بیچیں ان کی جائیدادیں، قوم کیوں بجلی نہ بننے اور استعمال نہ کرنے کے پیسے دے۔ سجاد مصطفی باجوہ @sajjadmustafa
عہدِ حاضر کے ممتاز قادراکلام اُستاد شاعر، نہایت حلیم ،بردبار اور روادار انسان اقبال راہی صاحب آجکل شدید علیل ہیں اور سروسز ہسپتال میں داخل ہیں ،
آج اُن کی عیادت کرنے گئی،حکومتِ پنجاب کی طرف سے اُنھیں علاج معالجہ کی بہترین سہولیات مہیا کی گئی ہیں لیکن بیمار انسان کے گھر میں سو طرح کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں .
بیماری کی اذیت جھیلتے اقبال راہی صاحب اگرچہ بول نہیں پا رھے تھے مگر مجسم تشکر اور اخلاص کے احساس میں ڈوبے دکھائی دئیے.اُن کی آنکھوں کے آنسو دیکھ کر دل چاہا انسان اتنا اختیار رکھتا کہ اپنے عزیز لوگوں کے وجود سے بیماری کی تکلیف ڈیلیٹ کر سکتا . تکلیف کے باعث ان کے چہرے کی بشاشت اور حوصلہ قابلِ رشک تھا.
اقبال راہی صاحب نے اپنی شاعری اور عمل سے محبت،انسان دوستی اور زندگی کی خوبصورتیوں کو لفظوں اور احساس کا پیرہن عطا کر کے سماج میں اخلاص کی خوشبو پھیلائی ہے .دعا ہے کہ اُنھیں بیماری کی اذیت سے نجات ملے ، میں نےکہا آپ جلد صحتِ یاب ہو کر اپنے گھر لوٹیں تاکہ ہم آپ کی ادبی خدمات کے صلے میں آپ کے اعزاز میں محفلِ دوستاں کا اہتمام کر سکیں .
ادیب برادری کو ایسے شائستگی اور رواداری کے پیکر ادیب کا خیال کرنا چاہیے کیونکہ حرفِ تسلی بیمار انسان کو بیماری سے لڑنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے .رب اُنھیں صحت دے ،
آمین followers@
عِشق اَجیہا جادُو کیتا
چھِٹ کُو چانن لنبو کیتا
شاہ حُسین دی اَکھ اُگھیڑی
ہور بَھلَا کِیہ مَادُھو کیتا
لوں لوں دے مڈھ لکھ لکھ چشماں
لوں لوں باھو باھو کیتا
ویلے َکنِّیں مُندراں پائیاں
رُت سَمے نُوں سَادُھو کیتا
تیرے تے اِتبار سَجن میں
آپنے آپ تُوں وادُھو کیتا
ساہواں اوہدی تسبی کیتی
جس تن من سی قابو کیتا
شالا دُھپ کدی نہ لگے
میں پَلکاں نوں تَنبو کیتا
عِشق دا ہر فرمان میں صغرا
اپنی ذات تے لاگو کیتا
سید نور ایک نہایت خوبصورت ،مہذب ،محبوب اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں،ان کے اعلیٰ اخلاق، خلوص اور شخصی خوبیوں کے باعث ایک وسیع حلقۂ احباب ان سے دلی احترام اور محبت رکھتاہے. ان سے ملاقات ہمیشہ خوشگواریت کا حامل ہوتی ہے.
آج سید نوراسٹوڈیوز میں کچھ وقت پاکستان فلم انڈسٹری کی ممتاز شخصیات کے ساتھ گزار کر بہت اچھا لگا . اس محفل میں سید نور کے علاوہ صائمہ نور، شازل نور، اداکارہ نغمہ اور ایک نئی اداکارہ بھی موجود تھیں. یہ چند گھنٹے نہایت خوشگوار اور یادگار بن گئے.
سید نور پاکستان فلم انڈسٹری کا ایسا روشن ستارہ ہیں جو اب محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں.وہ بیک وقت کہانی کار، پروڈیوسر اور ہدایت کار ہیں . انہوں نے متعدد کامیاب فلمیں تخلیق کیں ہیں جو صرف تفریح ہی فراہم نہیں کرتیں بلکہ معاشرے میں شعور، آگہی اور مثبت اقدار کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتی ہیں. پاکستانی سینما کی ترقی اور احیاء میں ان کی خدمات فابلِ ستائش ہیں.
ہر وقت مسکراتی اور جھلملاتی صائمہ نور ایک باصلاحیت اور خوبصورت فنکارہ ہونے کے ساتھ ایک شاندار انسان بھی ہیں،ان کی خوبصورتی صرف ظاہری نہیں بلکہ ان کا باطن بھی حسنِ اخلاق اور خیر سے مزین ہے.حلیمی،رواداری، شائستگی اور شگفتگی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں،پاکستانی فلم انڈسٹری میں ان کا شمار کامیاب ترین اداکاراؤں میں ہوتا ہے ، وہ اُن چند اداکاروں میں شامل ہیں جو کبھی کسی قسم کی بیان بازی کا حصہ نہیں بنتیں ، اپنی بے مثال فنی صلاحیتوں کےساتھ ساتھ صائمہ نور نے اپنے مثبت رویے اور حُسن اخلاق سے بھی شائقین کے دل جیتے ہیں .
ان دنوں وہ اپنی نئی فلم کی ریکارڈنگ میں مصروف ہیں جبکہ ’’للکارا سنگھ‘‘ کی ڈبنگ بھی جاری ہے. اس موقع پر سید نور کی نئی فلم کے چند گانے دیکھنے کا اتفاق ہوا جو بے حد پسند اچھےلگے .
امید ہے ،آنے والے دنوں میں سید نور کی مزید خوبصورت اور معیاری فلمیں ہمیں دیکھنے کو ملیں گی ، لاہور فلم نگری ہے یہاں فلمیں بنتی رہنی جاہیے
آج ایک محفل میں ججوں کی تنخواہ اور پینشن پر بات ہورہی تھی ،ایک سینئیر سیاستدان کہنے لگے ،،میں نے قبل ازوقت ریٹائر ہونے والے دو دوست ججوں سے پوچھا ،
آپ نے قبل از وقت استعفی /ریٹائر منٹ کی غلطی کیوں لی ،
کہنے لگے غلطی کیسی؟
جتنی ہماری تنخواہ تھی اُتنی ہم بغیر کسی چخ چخ پینشن لے رہے ہیں اور دیگر کام بھی کررہے ہیں ،
پوچھاپینشن کتنی ھے ،
کہنے لگے 38 لاکھ
دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں .
ان ججوں میں کئی میاں بیوی ہیں ، اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک طرف ایک گھرمیں ماہانہ کتنی رقم جا رہی ہے اور دوسری طرف اعلی تعلم یافتہ لوگ رُل رہے ہیں .
کیا ریاست کے تمام اداروں کے ایک گریڈ کے ملازمین کے لیے عزت و وقار کے علاوہ قومی خزانے سے دی جانے والی مراعات اور پنشنوں کا نظام کسی حد تک پائیدار اور منصفانہ نہیں ہونا چاہیے،
یہ ظالمانہ روش کیسے ختم ہوگی
صرف ایک غلط فیصلہ ،؟
عائشہ ثناء اپنے دور کی مقبول ترین مارننگ شو میزبانوں میں شمار ہوتی تھی,پی ٹی وی پر اس کا پروگرام بے حد پسند کیا جاتا تھا،قومی و نجی سطح کی بڑی تقریبات کی میزبانی کے لیے بھی وہ پہلی ترجیح سمجھی جاتی تھی،خوبصورتی، شگفتہ مزاجی اور حاضر جوابی نے اسے محفلوں کی جان بنا دیا تھا.
مجھے وہ زندگی سے بھری لڑکی بہت اچھی لگتی تھی، بارہا اس کے پروگرام میں شرکت کی،بہت محبت اور احترام سے ملتی تھی ،
اس کی دونوں شادیاں ناکام رہیں مگر دونوں سے دو بیٹے وہ اپنی جان سے عزیز رکھتی تھی، ڈاکٹر عمر عادل کے گھر اُس کے چھوٹے خوبصورت بیٹے حمزہ کی معصوم مسکراتی صورت دیکھ کر پوری محفل فریفتہ ہو گئی تھی .
شادیوں میں ناکامی کے باوجود وہ پوری قوت سے زندگی کی رہگزر پر رواں دواں تھی کہ ایک غلط فیصلہ اس کی پوری زندگی کا رخ بدل گیا.
چند دوستوں کے مشورے پر اس نے ایک بڑے کاروباری منصوبے میں سرمایہ کاری کر دی.اس مقصد کے لیے نہ صرف اپنی تمام جمع پونجی لگا دی بلکہ سُود پر بھاری قرض بھی لے لیا.اسے یقین تھا کہ یہ سرمایہ کاری اس کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی مگر اُس کی توقعات کے برعکس منصوبہ ناکام ہوا اور ساری سرمایہ کاری ڈوب گئی.
جب خواب ٹوٹتے ہیں تو صرف امیدیں ہی نہیں بکھرتیں بلکہ انسان کا پورا وجود ان کے ملبے تلے دب کر رہ جاتا ہے،عائشہ پر قرضوں اور سُود کا بوجھ بڑھتا گیا،ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی،وہ ایک ایسی بند گلی میں پہنچ چکی تھی جہاں ہر راستہ اندھیرے میں گم ہوتا دکھائی دیتا تھا،آخرکار اسے وہ قدم اٹھانا پڑا جس کا تصور بھی شاید اس نے کبھی نہ کیا ہو،ایک پڑھی لکھی، باوقار اور خوددار عورت جو کبھی روشنیوں کے حصار میں رہتی تھی، اپنے ہی شہر،اپنے ہی لوگوں اور اپنی ہی شناخت سے دور جانے پر مجبور ہو گئی.
پریشانی اور مجبوری کے عالم میں وہ مختلف دوستوں کے قرض حتیٰ کہ ڈاکٹر عمر عادل کی چالیس لاکھ روپے کی کمیٹی لے کر ملک سے باہر چل گئی.بعد میں اس کے بچے بھی اس کے پاس پہنچ گئے،آج کئی برس گزر چکے ہیں،وہ امریکہ میں کہیں گمنامی کی زندگی گزار رہی ہے.کملازمت کرکے بچوں کو تعلیم دلوا رہی ہے. کسی سے اُس کا رابطہ نہیں .
چند روز قبل ڈاکٹر عمر عادل کا ولاگ سُن کر اچانک عائشہ یاد آ گئی،
میں سوچنے لگی کہ برسوں اسپاٹ لائٹس، کیمروں اور عوامی محبت کا مرکز رہنے والی
کیلیے بھرا میلہ چھوڑ کر چلے جانا کتنا اذیت ناک ہوا ہوگا.وہ میلہ جس میں آپ کی پہچان ہو،آپ کے دوست ہوں،آپ کی کامیابیاں ہوں،آپ کی ہنسی گونجتی ہو اور لوگ آپ کی آمد کے منتظر رہتے ہوں.
،
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عمر عادل آج بھی اس کے بارے میں تلخی سے بات نہیں کرتے،اگرچہ چالیس لاکھ روپے کی رقم معمولی نہیں ہوتی لیکن ان کا کہنا ہے کہ عائشہ فطرتاً بُری عورت نہیں تھی وہ حالات کے بھنور میں پھنس کر خود کو بچانے کی اس حد تک جانے پر مجبور ہوگئی تھی .
زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید یہی ہے کہ بعض اوقات ایک غلط فیصلہ برسوں کی محنت،شہرت اور آسودگی کو نگل جاتا ہے،اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ انسان کو کامیابی کے زمانے میں بھی احتیاط، تدبر اور حقیقت پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے.
میں اُس کے لئے دل سے دعا کرتی ہوں کہ اس کے تمام مسائل حل ہو جائیں، وہ اپنے وطن واپس لوٹ آئے اور پہلے کی طرح وقار اور خوشی سے جینا شروع کرے .
انسان صرف روٹی، کپڑے اور مکان کا محتاج نہیں ہوتا،وہ اپنے لوگوں،اپنی یادوں،اپنی پہچان اور اپنے ماحول میں موجود کئی محبتوں سے توانائی حاصل کر کے زندہ رہتاہے اور جب انسان اپنے ہی میلے سے بچھڑ جائے تو یہ محرومی اُس کی روح کو مضمحل کر دیتی ہے .
جھانک کر آنکھ کے پردے سے لگے زینے میں
ہم اُتار آئے ہیں دل اپنا تیرے سینے میں
کل تو سچ یہ تھا کہ منزل نہ کوئی رستہ تھا
آج سچ یہ ہے کہ لطف آنے لگا ہے جینے میں
لفظ قاصر ہیں بہر طور بیاں کرنے سے
لطف جو آتا ہے دیدار کی مے پینے میں
ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی اردو شاعری کی کلیات سے
ہر لفظ کو کاغذ پر اُتارا نہیں جاتا https://t.co/wkTHnjoxMC