🚨عمران خان کی ایسی ویڈیو اپ نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی شہزادہ ایسی زندگی گزارنے والے شخص نے ہمارے لئے سب کچھ قربان کر دیا آج ہمارے لئے کن حالات میں پڑا ہوا ٹکے ٹکے کے لوگ اٹھ کر بھونک لیتے ہیں مگر افسوس ہم پر
عمران خان کا سنہری دور بہت یاد اتا ہے
Sometimes a person gets so entangled in the trap of love that they are sentenced to a lifetime of imprisonment, with no hope of escape. This is the true and living example .
ذرا سوچیں، اس بہن کے دل پر اس وقت کیا گزر رہی ہوگی... جب اس کے شوہر کی خون میں لت پت لاش اس کے سامنے پڑی ہو، وہ خود بھی زخمی حالت میں خون میں ڈوبی بیٹھی ہو، اس کی ننھی منھی بچیاں سسکیاں بھر رہی ہوں، اور وہ اپنے گھر سے سینکڑوں میل دور، ایک اجنبی شہر کے ہسپتال میں تنہا اس قیامت کا
یہ عسکری رجیم نہ تو عوام کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے اور نہ ہی مناسب اور صاف ستھری خوراک
دہشتگرد ہوں یا CCD ، پہلے گولی چلاتے ہیں بعد میں تحقیق کرتے ہیں ۔ ان سب کے منہ کو خون لگا ہوا ہے ۔
کراچی کا یہ خاندان جو راستہ بھول کر دشت میں دہشتگردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ گھر کا سربراہ موقع پر جانبحق ، بیوی زخمی ، بیٹیاں خوفزدہ
محسن نقوی صاحب یہ دہشت گردجس ایک SHO کی مارتھےوہ ایس ایچ او کیانوکری چھوڑگیا؟
یا دُم دبا کر بھاگ گیا ؟
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح .
آئینی ترامیم کا شاخسانہ
عدلیہ کے مضحکہ خیز فیصلے
جرم کے ثابت نہ ہونے کے باوجود دس دس سال کی سزائیں دی جا سکتی ہیں تو پھر مقدمات شواہد سے نہیں، احکامات سے چل رہے ہیں۔
#ShameOnJudges
(1000+ Days) امتِ مسلمہ کا لیڈر، عمران احمد خان نیازی، قیدِ تنہائی کے اندر، قیدِ تنہائی کے اندر ڈٹ کر جیل برداشت کر رہا ہے۔ وہ کوئی بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے نہیں بھاگ رہا۔کوئی ریلیف نہیں مانگ رہا۔بشری بی بی، اپنے خاوند کے ساتھ وفا نبھاتے ہوئے بغیر کسی کیس کے، بغیر کسی ایشو کے، وہ بھی بیچاری پابندِ سلاسل ہے۔ انکی بہنیں، روزانہ سڑک پر ایک عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر دوسرے عدالت کے دروازے پر پہنچتی ہیں، پر ان کی وہاں سنوائی کرنے والا کوئی نہیں۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی
@MoeenQureshiPTI
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے