I echo the @StateDept call for a full investigation of election interference and fraud in Pakistan. Now is the time for the international community to stand on the side of the people of Pakistan. We cannot recognize a new government until it is clear that democracy has prevailed.
Pakistanis have the right to elect their leaders without cell phone service shutdowns & other authoritarian practices aimed at undermining election results.
The U.S. must stand with the Pakistani people & make clear we will not support anyone working to undermine democracy.
WHAT AN INCREDIBLE FIGHT BACK, PAKISTAN!
Initial numbers showing 81% popular vote for PTI. Rigging is expected, but let’s hope it’s still 2/3 victory for Imran Khan! #MassiveTurnout#وزیراعظم_عمران_خان
اپنی نسلوں پہ احسان کریں۔
بچوں کو "ڈھاکہ سرینڈر" کی وڈیو لازمی دکھائیں۔
اسلامی تاریخ جنگوں میں شکست سے بھری پڑی ہے،
لیکن دشمن کے سامنے لاکھ کے قریب مسلمان فوج کا اکھٹے ہتھیار ڈالنا؟ شاید ہی کوئی مثال ہو ایسی
یہ وہ ذلالت ہے جواسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں صرف کمپنی کے حصے میں آئی
انا للہ وانا الیہ راجعون
آج تلمبہ میں میرے بیٹے عاصم جمیل کا انتقال ہوگیا ہے. اس حادثاتی موت نے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اس غم کے موقع پر ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں. اللہ میرے فرزند کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
مچھلی کے پیٹ میں قید یونس (ع) نے اللہ کے حضور اپنی دعا میں تسلیم کیا کہ ان سے ظلم ہوا۔ ایک پیغمبر، اللہ کی برگزیدہ ہستی نے (نعوذ باللہ) کیا ظلم کیا ہوگا؟
مایوسی! مایوسی ان کا اپنی ذات پر کیا ہوا ظلم تھا۔ یونس (ع) نے مایوسی میں ایک فیصلہ لیا اور اپنی دعا میں وہ اپنے اس فیصلے پر اپنے رب کے حضور پشیمانی کا اظہار کررہے ہیں۔ “لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین”۔
مایوسی آپ کے سامنے کی حقیقتوں کو دھندلا دیتی ہے اور کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللہ کی ذات ہے۔ اس کا وحدہ لا شریک لہ ہونا ہے۔ اس کا “قادر” ہونا ہے۔ مایوسی انسان سے اللہ کی اِس صفت کو جھٹلاتی ہے۔ اسی لیے مایوسی کُفر ہے۔ مایوسی انسان کو شرک پر آمادہ کرتی ہے۔
یونس (ع) کی دعا میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار بھی اسی لیے دہرایا گیا ہے کہ ہمیں یاد رہے کہ جب انسان کا اللہ کی قدرت پر یقین متزلزل ہونے لگتا ہے تب وہ لاشعوری طور پر دنیاوی خداؤں کی برتری تسلیم کرنے لگتا ہے۔ وہ مان جاتا ہے کہ گر کسی کی پاس طاقت ہے تو وہ مختار ہے آپ کے بھلے برے، عزت ذلت، زندگی موت کا، آپ کا ملک اس کے لگائے “وینٹی لیٹر” پر ہے۔ وہ رازق ہے آپ کا اور آپ اس کے سامنے “بیگرز کانٹ بی چوزرز” کی تفسیر۔ وہ جب کہتا ہے کہ “وی ول پش یو ان ٹو سٹون ایج” تو آپ اس کے قدموں میں اپنے بچوں کے سر لا کے رکھ دیتے ہیں۔ اُس کے دربار سے قاصد یہ حکم لے کر آجائے کہ فلاں قابلِ قبول نہیں تو آپ ایک ادنٰی نوکر کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر، چُوم کر اپنی خوداری کو داو پر لگا، بے قصور لوگوں کو کچلتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرنے نکلتے ہیں۔
دُنیا کا ہر بزدل، بے غیرت انسان دراصل اللہ کی قدرت سے مایوس، اُس کے اختیار میں اُس کی وحدانیت میں شراکت کا مُرتکب ہوتا ہے۔ اور دُنیا کا ہر ظالم، انسان کی اپنے رب کی قدرت سے مایوسی پر پنپتا ہے۔ مگر ہوتا وہی ہے جو آپ کا رب چاہتا ہے۔ وہ جب آپ کے سامنے ہر چہرہ عیاں کردیتا ہے، ہر اُس شخص، عہدے، ادارے، ہر اُس طاقت کی حقیقت کھول کے رکھ دیتا ہے کہ جس سے آپ نے آس لگائ ہو تو مقصد آپ کو ہارنے پر آمادہ کرنا نہیں ہوتا۔ یہ تسلیم کرانا نہیں ہوتا کہ کسی کا اختیار تمہارے رب سے بڑھ کر ہے، کسی نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کوئ منظورِ نظر ہے سو اب وہ باعثِ تکریم ہے اور جو اُس سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائگا۔۔ بلکہ آپ کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ اب جب کوئ نہیں رہا کہ جو تمہاری کامرانی کو اپنی عطا بتلا سکے تو اب تم نے میرے بھروسے میرے سہارے کھڑا ہونا ہے۔ اب تمہاری آنکھیں میری قدرت کے اعتراف کے لیے کھلنی ہیں۔ سوچیں کتنا ظلم ہو کہ جو پل آپ کے لیے طُور پر تجلی چمکنے جیسا ہو آپ آنکھیں موند لیں؟ جِس میں آپ کے لیے سمندر میں رستہ بننا ہو آپ عین اُس لمحے اپنے گھوڑوں کی بھاگیں کھینچ رہے ہوں۔ وہ کہ جس میں یہ فیصلہ ہونا ہو کہ آپ کے سامنے کی آگ نے آپ کے قدموں تلے گلزار بننا ہے آپ اُسی ساعت مایوسی کے بت کے سامنے سرنگوں ہوجائیں۔۔
اسی لیے بہادر آدمی نظر منزل پر رکھتا ہے۔ اُس کا محور اُس کا مقصد ہوتا ہے کیونکہ اُس کا رہ نما اُس کا ایمان ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے اس کے آس پاس گرتے بُرج اس کے رب کی حکمت کی نشانی ہیں اور جلد ہی اُس سے سوال ہوگا “اب کون ہے تمہارا میرے سوا” اور ایک وہی اپنی بے نیازی ترک کرکے سر جھکانے کا مقام ہوگا۔ اُس مقام تک اپنا سر اٹھا کر چلیں کیونکہ آپ کا لیڈر صرف “ایاک نعبد وایاک نستعین” کا دم بھرتا ہے۔ کوئ آپ کو اپنی جانوں پر مایوسی جیسا کفر طاری کرنے پر قائل نہ کرپائے کیونکہ آپ لاالہ الا للہ کے نعرے پر اکھٹی کی گئ قوم ہیں۔ اور لاالہ الا للہ کے ماننے والے کسی اور کی خدائ کے دعویٰ کے سامنے سرنگوں ہونے جیسے شرک کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔
ہمارے ایک بزرگ کہتے تھے
"پاکستان کی ہاں اور نہ میں اقوام عالم کے فیصلے ہوا کریں گے۔"
یااللہ ہمارے بزرگوں کو بخش دے۔ ان کی خطاؤں کو معاف کردے۔ ہمیں معاف کردے۔ آمین!
In the face of internal challenges, Arif Alvi's resignation would inadvertently pave the way for 'them' to take over the presidency sooner. It's crucial that he remains resolute, standing his ground against this power play within his staff. He must not resign.
Dr. Alvi just put his family and loved ones’ life in burning pot of vulnerability by sticking his neck out and telling the world how a non-political force is suffocating a constitutionally appointed man’s authority & putting the last democratic lights out. Massive Respect.
صدر مملکت کو ہرگز ہرگز استعفی نہیں دینا چاہیے اسٹیبلشمنٹ اس کی پالتو جماعتیں اور صحافی یہی چاہتے ہیں، صدر کو اپنا کیس آئینی طور پر لڑنا چاہیے ، خدارا صدر کا ساتھ دیں ، الٹے سیدھے مطالبے نہ کریں ، تھوڑا انتظار کریں صدر اپنے عملے کے خلاف کاروائی کریں گے اس کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے
Arif Alvi must not resign even though his staff is undermining him, no matter how insignificant the post is but by resigning he would effectively be handing over presidentship to establishment, he should fight it out & block whatever he can, we’re effectively under dictatorship
آئین سے غداری کس نے کی ؟ کس نے ان بلز کو دبانے کا حکم دیا ؟ یہ ہے اصل آرٹیکل 6 کا کیس ، سربراہ مملکت کو دھوکا دے کر آئین اور قانون کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے گئے
میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔
اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔
صدر صاحب شکریہ۔ آپ سرخرو ہوئے۔ اللہ مالک ہے۔ جب خدا بننے کا فیصلہ کر کیا گیا ہے تو پھر خدا جانے اور زمینی خدا۔ آپ تاریخ کی درست سمت کھڑے ہو گئے۔ یہ چھوٹی بات نہیں جو آپ نے کی ہے۔ آپ نے آج صدر ہونے کا حق ادا کیا۔ اور اس نظام کو ایکسپوز کر دیا ہے کہ یہاں کیا کیا ہوتا ہے