یہ کوئی وڈیرہ، سرمایہ دار نہیں بلکہ اپنی ہی قوم کا ایک عام سا دوکاندار ہے، شوکت نواز میر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ جب اُس کے لوگوں پر گولی چلی تو وہ کشمیر کے پہاڑ چڑھ کر واپس نہیں بھاگا گنڈا پور کی طرح، بلکہ اپنی عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے۔
انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے اس کے خلاف ہم آواز بلند کرتے رہیں گے
جب بھی کسی چلتی حکومت کو گرانا ہوتا ہے سب سے پہلے یہ 12 لوگ آگے آتے ہیں اور پھر باقی سب بھی شامل ہو جاتے ہیں
ہم بالکل غیر سیاسی تحریک چلا رہے ہیں ہمارا مطالبہ کشمیریوں کے حقوق ہیں
شوکت نواز میر
ٹرینڈ الرٹ 🚨
سب یہ ٹرینڈ #WhereIsImranKhan جوائن کریں اور مطالبہ کریں کہ عمران خان کو فوری طور پر سامنے لایا جائے۔
علیمہ خان نے آج پھر سے کہا ہے کہ اس وقت عمران خان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں
گزشتہ 8 مہینے سے جیل میں عمران خان کو ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ اُنکے پاس کتابیں ہیں نہ ٹی وی اور نہ کسی کو ان سے بات کرنے کی اجازت ہے۔ انکی آنکھ میں کلاٹ آیا ہے، ہمیں کم از کم تسّلی ہی کروا دیں کہ آپ انکے کھانے میں کچھ ملا نہیں رہے۔ دسمبر میں عمران خان میری بہن سے کہہ چُکے ہیں کہ یہ مجھے مار دینگے۔ ہم اپنے بھائی کی فکر کیوں نہ کریں؟ ہم پی ٹی آئی سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کچھ کریں۔ دباؤ ڈالیں تاکہ انہیں اس ظلم سے تو نجات ملے۔ ورنہ ان اسمبلیوں اور ووٹوں کا عمران خان کو کیا فائدہ ہے؟“
علیمہ خان کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گُفتگو
ایسئ خبریں چلوا کر بجٹ پاس کروانا اور عوام کی کشمیر سے توجہ ہٹانا مقصود ہے۔ اسپتال تو بحرحال خان کو نہیں لیجایا گیا۔ باقی تفصیلات کچھ دیر میں پتہ چل جائیں گی کہ بریگیڈیئر فہیم رضا کس کے کہنے پر کیا گیم چلا رہا ہے۔
🚨خوفناک انکشاف
صبح ہم نماز فجر ادا کرکے مسجد سے نکلے ہیں تو رینجرز کی گاڑیاں آئیں، ان پر بندوقیں فکس تھیں اور ہم پر انھوں بے سٹریٹ فائر کھول دیا، میری آنکھوں کے سامنے نوجوان شہید ہو گئے،
راولاکوٹ میں ہونے والے زخمی نوجوان کی گفتگو
ہم سب اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اتنے کشمیریوں کے خون بہہ جانے کے باوجود کہیں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سو بندہ بھی نہیں نکلا۔ یہی سکھایا تھا ہمیں خان صاحب نے؟
افسوس
پھر سے بجٹ پیش ہونا ہے۔ ہم نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے درخواست کی کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے: عمران خان کی چھ ماہ سے جاری قید تنہائی ختم کرکے ان کی فیملی سے ملاقات اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج کروایا جائے:علیمہ خان
was listening to a speech by Kashmir Action Committee leader, and the moment he mentioned Imran Khan, the entire crowd started clapping. I also watched another clip where Sardar Aman, one of their senior leaders, openly called for Imran Khan's release. I cant speak for everyone in AJK as I dont live there, but from what I have seen, it seems people have love for Imran Khan.
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
ہم نے سارا ہسپتال چیک کیا ہے لیکن عمران خان کو PIMS نہیں لایا گیا اب ہم الشفاء ہسپتال میں چیک کریں گے ، ورنہ یہ کشمیر کے معاملے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں،
شاہد خٹک
1
بجٹ سرپلس پر شدید تنقید کے بعد سہیل آفریدی کی عمران خان سے ممکنہ ملاقات کی خبریں چل رہی ہیں یا چلوائی جارہی ہیں۔
2
یعنی سہیل آفریدی اگر ایوان اور اسمبلی کو اپنے اختیارات کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے تو بہت ساری چیزیں بہت پہلے سے منوا لیتے۔
3
یعنی جب عمران خان کی بینائی کا مسئلہ بنا تو سہیل آفریدی پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری کی بجائے سڑک پر ہوتے تو عمران خان کو علاج کی سہولت بھی مل جاتی۔
4
بہت ساری چیزیں مس کرنے کے بعد سہیل آفریدی اپنی وقعت اور اہمیت کھو چکے ہیں۔ اب ملاقات عمران خان کی بہنوں اور وکلاء کی بھی ہونی چاہیے۔ کسی ممکنہ ملاقات کی صورت میں صرف سہیل آفریدی کی ملاقات اور پیغام کا کوئی اعتبار نہیں۔
5
یہ ایک ملاقات نہیں ہونی چاہییے عمران خان کی ہفتہ وار ملاقاتوں اور علاج کو سرپلس سے مشروط کیا جائے۔ آئی ایم ایف کو بھی خط لکھ دیا جائے کہ جس ہفتے عمران خان کی ملاقات نہیں ہوگی اسی ہفتے سرپلس ختم۔
6
وہ لوگ جو سہیل آفریدی پر سرپلس ، بجٹ ، صوبائی معاملات اور وغیرہ وغیرہ پر تنقید کرنے کو غلط قرار دے رہے تھے ان کا موقف بھی غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ اسی تنقید کے سبب چھ ماہ کے طویل عرصے کے بعد عمران خان سے ملاقات کی کوئی سبیل پیدا ہوئی ہے۔
7
ملاقاتوں کی یہ خبریں وقتی اشتعال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی چل سکتی ہیں لہذا یوتھیے سہیل آفریدی سے نا کوئی ہمدردی رکھیں نا ڈھیل دیں۔
8
اگر بجٹ پاس نا کرنے سے حکومت جاتی ہے تو چلی جائے۔ تحریک انصاف کا اقتدار اور تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کو اور تحریک انصاف کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ فوج گورنر راج لگائے یا اراکین توڑ کر اپنا وزیراعلی لائے۔
کرنل عامر نواز اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ گزشتہ رات میری زمین پر قبضہ کرنے آیا، میرے گھر میں توڑ پھوڑ کی
میرے ساتھ بدتمیزی کی
اس بہن کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ یہ کرنل جرنل کی بدمعاشیاں تمہارے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہیں
میں اس وقت خود پمز ہسپتال میں موجود ہوں۔ میڈیا پر قائد عمران خان کو یہاں لانے کی جو خبریں چلائی جا رہی ہیں، ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ نہ تو انہیں یہاں لایا گیا ہے اور نہ ہی یہاں ایسے کوئی آثار یا تیاریاں نظر آ رہی ہیں۔ جنید اکبر
#pakistan@JunaidAkbarMNA
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
سہیل آفریدی چونکہ کچہ بادام ہے اور ٹبری زیادہ ٹائٹ ہوگئی ہے تو کل ایک جذباتی سی تقریر ، اسی ہفتے کسی ریلی یا کسی ایسے ہی ملتے جلتے کرتب کا قوی امکان ہے۔ اب کافی وقت گزر گیا ہے۔ اب ان چیزوں پر کوئی اعتبار نہیں کرنے والا۔