آپ نے ہندوستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا
جی ہم خود مختار ریاست ہیں جس سے مرضی معاہدہ کریں
آپ نے چاہ بہار میں مودی کیلئے عروسی بستر سجایا
جی ہم ایک آزاد ملک ہیں جو مرضی کریں
آپ یمن میں حوثیوں سمیت دیگر عرب ممالک میں اپنی پراکسیز کو انگلی دے کر ان ممالک میں دہشتگردی کیوں کرواتے ہیں
جی ہم آزاد مملکت ہیں جو مرضی کریں
آپ نے امریکہ اسرائیل جنگ دوران عرب ممالک پر حملے کئے لیکن آپ کے میزائل اس ملک تک نہ پہنچے جنہوں نے آپکو لتاڑا تھا
جی دیکھیں ہم جو چاہے کریں آپ کون ہیں
تو یہاں آپ سے سوال ہے کہ ہم ترکیہ سعودیہ کے ساتھ معاہدہ کریں تو آپکی بنڈ کیوں پٹاکے مار رہی ہے
ناظرین مکالمہ یہیں ختم ہو گیا ہے
پاکستان سعودیہ ترکیا کا معاہدہ فرقہ وارانہ ہے، امریکی غلامی ہے، غلط ہے. اسکی مذمت ہونی چاہئے اور اسکے خلاف مہم چلنی چاہئے.
اب نظر ڈالیں حلال معاہدوں پر جن پر پاکستان میں مکمل خاموشی تھی:
2001 میں ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب نے افغانستان میں ریجیم چینچ اور قبضہ کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ طاجيكستان میں خفیہ معاہدہ کیا تھا، جسکے مطابق ایران نے افغانستان میں ریجیم چینج اور قبضہ کرنے میں امریکی اور نیٹو افواج کی مکمل عسکری اور انٹیلیجنس مدد کی، ایرانی افسران باقاعدہ افغانستان کے اندر امریکیوں کے ساتھ تھے. پاکستانی مدد صرف ائیر سپیس تک محدود تھی.
2003 میں ایرانی نظام نے خفیہ معاہدے کے تحت امریکی برطانوی افواج کو بغیر لڑے عراق پر قبضہ کروایا. پاسداران کے مجاہد، امریکی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے. اسوقت سعودیہ نے امریکی اڈوں کو خالی کروا دیا تھا کہ سعودی سرزمین سے عراق پر قبضہ نہیں ہونے دے سکتے. امریکی افواج نے قطر میں بیس بنایا اور ایران کی مدد لی.
2003 میں ایرانی نظام نے اپنے نیوکلیئر پروگرام بچانے کیلئے امریکہ اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ معاہدہ کیا، جسکے مطابق مراعاتوں کے بدلے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بے نقاب کردیا اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی.
2004 میں ایرانی نظام نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جو "کسی ملک کے خلاف نہیں تھا!" (سمجھ گئے ہوں گے!)
2011 میں ایرانی نظام نے روس کے ساتھ شام کی عوام کو کچلنے کا معاہدہ کیا ایک ظالم حکمران کو بچانے کیلئے. دس لاکھ سے زیادہ شامی مارے گئے تھے.
2011/2012 کے لگ بھگ ایرانی نظام نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ چابہار میں اڈہ قائم کرنے کا خفیہ معاہدہ کیا. پاسداران انقلاب اسلامی فورس کے اڈوں کے درمیان کمانڈر کلبھوشن یادیو کا سیاحتی دفتر کھولا تھا جو "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
2015 میں یمن جنگ پر پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں کی تاکہ پاکستان یمنی اور سعودی حکومتوں کا ساتھ نہ دے، ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد آ گئے ہمارے حکام کو ریاض جانے سے روکنے اور پیچھے سے بھارتی حکام کو سعودیہ بھیج دیا پاکستان کی پوزیشن خراب کرنے.
2015 میں ایرانی نظام نے امریکہ اور بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کئے جن سے بے تحاشا مالی فوائد کے ساتھ ساتھ یہ معاہدہ بھی کہیں ہوا کہ مغرب اور ایران ملکر کام کریں گے مشرق وسطی میں اور "عرب بہار" مظاہروں کے ذریعے عرب بادشاہتوں کو گرائیں گے.
2016 میں ایرانی نظام نے مودی جی اور افغان صدر کو چابہار معاہدے کیلئے مدعو کیا، گوادر کی توڑ میں، لیکن یہ اقدام بھی "کسی کے خلاف نہیں تھا!"
یہ سب حلال معاہدے تھے. اصل غلط معاہدہ وہ ہے جو پاکستان نے مکہ میں سعودیہ اور ترکیا کے ساتھ کیا ہے.
حلال اتحاد 2016:
ایک طرف نیتن یاہو کا کزن مودی ، امریکہ کا پالتو اشرف غنی اور 56 بہنوں کا اکلوتا بھائی خام نائی کا نمائندہ ایرانی صدر حسن روحانی ۔
آج تین مسلمان ممالک کیا اکھٹے ہوگئے تو گھوڑے کے روڑے کو چوم کر پیدا ہونے والوں کو تکلیف ہورہی ہے
تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاض میٹرو سٹیشن پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کی تصویر اسی میٹرو سٹیشن پر دکھائی جارہی ہے اور یہ عمل ہم اوورسیز پاکستانیوں کیلئے باعث عزت و فخر ہے
ناظرین یہ واقعی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے
یہ صاحب جو بھی ہیں کم از کم مسلمانوں کے ہمدرد نہیں لگ رہے ایک طرف ایران کا سب سے بڑا مطالبہ امریکہ کی پڑوسی ممالک یعنی خطے سے انخلا سے جڑا تھا
جس کو پاکستان کامیابی سے آگے بڑھاتے ہوئے عربوں میں یہ سوچ بیدار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ امریکہ آپکو نہیں بچائے گا اگر خود کو بچانا ہے تو سعودیہ عرب پاکستان کی چھتری تلے آئیں اپنی سیکیورٹی تحفظ کا ہم خود فیصلہ کریں گے
ایران کو بدترین جنگ سے بچایا اب ایران کے مطالبے امریکیوں کے انخلا کو یعنی عربوں کو امریکی سیکیورٹی گارنٹیوں سے دور کررہا ہے اس پر ایران سے وابستہ چند حلقے اس پر بھی اعتراض کررہے ہیں جبکہ ایک مثبت عمل یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران کی سویلین حکومت نے دبے الفاظوں میں مسلمانوں کی یکجہتی بارے بیان دیا جو مکہ معاہدے والے دن دیا گیا جس میں خاموش حمایت کا پیغام بھیجا گیا
حکومت وقت سے گزارش ہے ایسے اہم ریاستی بین الاقوامی مسلمانوں کے مفادات سے جڑے فیصلوں پر شدت پسند شرارتی عناصر کے تبصروں کو محدود کیا جائے
مجھے حیرانگی ہے اور افسوس بھی ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ پر بھی یہاں موجود ایک طبقہ سخت تکلیف میں ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جن کو ہر اچھے سے تکلیف ہوتی ہے؟
اگر میں کھل کر اور ننگے الفاظ میں بات کروں تو پاکستان سعودیہ اور ترکی کا حالیہ دفاعی معاہدہ اسرائیل سے تو سعودیہ کو تحفظ دے گا مگر اصل میں یہ ایران کے سعودیہ بارے عزائم کے خلاف ایک اعلان ہے اسی لئے ایران اور ایران نواز کل سے مسلسل تڑف رہے ہیں
ایران ایک دفعہ پہلے بھی حرم پر قبضے کی کوشش کر چکا ہے جب اسلحہ لے کر حرم پاک کو یرغمال بنا لیا تھا
تین بڑی مسلم طاقتیں پاکستان، سعودیہ عرب اور ترکی کا ارض حرم میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی حفاظت کی قسم کھانا اور دفاع حرمین شریفین کے نام پر اکٹھا ہونا امت مسلمہ میں اتحاد کی جانب بہت بڑی پیشرفت ہے پوری امت مسلمہ اور بالخصوص ان تین ممالک کی حکومتیں اور عوام نہایت مبارکباد کی مستحق ہیں
اگر آپ کو جاننا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کی کیا اہمیت ہے تو پتا کریں کہ کونسے تین ممالک اس کے مخالف ہیں اور انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔
ان کا نام جان کر آپ کو فخر ہو گا کہ پاکستان ایسے عظیم معاہدے کا حصہ بنا ہے۔،