”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
Breaking News: Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan has been nominated for the Nobel Peace Prize, announce Pakistan World Alliance (PWA) members who belong to the Norwegian Political Party "Partiet Sentrum"
An important message from Former Prime Minister Imran Khan regarding the civil disobedience movement - December 19, 2024
“I had made two demands of the government:
1) Release of under-trial political prisoners.
2) The establishment of judicial commissions for transparent investigations into the incidents of May 9th (2023) and November 26th.
These are both legitimate demands, and if the government does not implement them by Sunday, the first phase of the civil disobedience movement, "boycott of remittances", will be launched. In this regard, we will appeal to Pakistanis living abroad that the situation in Pakistan is evident to you; democracy, the judiciary, and the media has been stifled, and a period of oppression and fascism is ongoing. Therefore, we urge you to start the boycott of remittances.
The courage and bravery with which Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) workers faced oppression on February 8 and November 26 are unparalleled. PTI is the second party after the Awami League in 1971, to face such state oppression. However, despite this, PTI has made history by achieving historic victories in the elections and continuing its struggle until November 26th.
November 26th is the darkest day in Pakistan’s history. On this day, unarmed people were shot at by snipers; young people were injured and martyred, and several individuals have been missing for three weeks. It is the government's responsibility to find the missing people. The government must answer: where are these people? Our people have made sacrifices for democracy. I direct Barrister Gohar and my parliamentary party to raise their voices in the assembly for these individuals. It is unacceptable that while blood is being shed in the country, the Parliament continues to function as usual.
As long as I am alive, I will fight for an investigation into the massacre of these individuals and will not rest until justice is served. Families of the martyrs are grieving. I myself was deeply distressed when I heard about the shootings, and despite taking sleeping pills, I could not sleep due to the agony of knowing that unarmed people were treated so mercilessly. Those who did not even break a window or a leaf were directly shot. Our people were absolutely peaceful, singing the national anthem, they embraced the soldiers and yet were shot and mercilessly killed. This was what Yahya Khan did to the Bengali people on March 25, 1971. No other party in the country has been treated like this. I will not allow the memory of November 26th to fade for as long as I live.
PTI's offer for negotiations was ridiculed, and it was made to look as if we had surrendered. The offer for talks and delaying the civil disobedience movement was made in the broader national interest.
If the government shows no interest, we will not force negotiations upon them. Our offer should never be seen as a sign of our weakness. If the government still wants to prevent the civil disobedience movement, they must contact us regarding our two demands or convince us that these demands are unconstitutional and cannot be addressed.
I have invited a negotiation team for a meeting in jail and provided their names. Now, we will see whether the government allows them to meet with me or not.
The government repeatedly accuses us of targeting the country via our civil disobedience movement. Let them be reminded that it is not the country but the illegitimate Parliament: the (National) Assembly, and the Senate that emerged from electoral fraud, which are being targeted. This government did not come to power through people's votes but through a conspiracy. General Bajwa conspired against our elected government and caused Pakistan a loss of 42 billion Dollars. This government has caused immense damage to the IT industry and other sectors, which is why the public is disillusioned with it. The economy is in ruins, and the business class and capitalists are transferring their money abroad.”
سابق وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام پیغام:
“اسلام آباد قتل عام کے شہدأ کا سن کر انتہائی رنجیدہ ہوں- دورِ حاضر کے جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ کی تاریخ دہرائی ہے- ان شہیدوں کا خونِ ناحق ضائع نہیں جائے گا اور ہم ان شہدأ کا کیس اقوام متحدہ سمیت ہر فورم تک لے کر جائیں گے-
حقیقی آزادی کی تحریک ان ہتھکنڈوں سے رکنے والی نہیں- نہ میں پیچھے ہٹوں گا نہ پاکستانی قوم- اگر ہم نے آج ہار مان لی تو پاکستانی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا-
پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے اور وہ پاکستان میں کہیں بھی کیا جا سکتا ہے- 9 مئی کو بھی ہمارے 25 کارکنان کو شہید کیا گیا اور اس بار بھی پرامن مظاہرین کو گولیاں مار کر خون کی ہولی کھیلی گئی اور درجنوں شہریوں کو شہید کیا گیا جو کہ بدترین ڈکٹیٹرشپ میں بھی نہیں کیا گیا-
ہماری کال پر لاکھوں پاکستانی تمام تر رکاوٹوں، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود آئینِ پاکستان اور جمہوریت کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچے لیکن ان پرامن لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے- اس بار شیلنگ اور ربڑ بلٹس سے آگے بڑھ کر سنائپرز اور دیگر جان لیوا اسلحے سے قتل عام کیا گیا جو ڈیتھ سرٹیفیکیٹس میں بھی سامنے آ چکا ہے- درجنوں مظاہرین کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کیا گیا اور 6 ہزار سے زائد کارکنان کو جھوٹے کیسز میں گرفتار کیا گیا-
میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر اس قتل عام کی تحقیقات کروائی جائیں اور قتل عام کا حکم دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں-
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ شہدا اور زخمیوں کے حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں کا ڈیٹا جلد از جلد پبلک کیا جائے اور تمام ہسپتالوں اور سیف سٹی کی CCTV فوٹیج محفوظ کی جائے تاکہ 9 مئی کی طرح شواہد غائب نہ کیے جا سکیں-
میں نے اپنی پارٹی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ہدایات دی ہیں کہ شہدأ کے لواحقین اور زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیں- جو لوگ لاپتہ ہیں ان کی بازیابی کے لیے تمام توانائی خرچ کریں اور جو لوگ گرفتار ہیں ان کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکلا کی ٹیمز کی حوصلہ افزائی کریں-
اسلام آباد قتل عام کے خلاف پشاور میں شہدا مارچ کا انعقاد کیا جائے اور پارلیمنٹ کا سیشن جلد از جلد بلا کر قرارداد پیش کی جائے-
اوورسیز پاکستانی دنیا بھر میں اس قتل عام کے خلاف آواز اٹھائیں اور پاکستان میں جاری ظلم و بربریت کے حوالے سے آگاہی مہم چلائیں-
میں اسلام آباد پہنچنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں- علی امین، بشریٰ بی بی، عمر ایوب، خالد خورشید، عالیہ حمزہ، شاہد خٹک، نوجوان لیڈرز سمیت مارچ کو لیڈ کرنے والے تمام سینئیر اور جونئیر پارٹی ممبران، ممبران اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو سراہتا ہوں-
پنجاب اور اسلام آباد میں جیسے کرفیو کا ماحول بنا کر تحریک انصاف کے کارکنان پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور ملکی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا یہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں- فارم 47 کے سہارے کھڑی کٹھ پتلی حکومت اور مافیا کے غلام پولیس کے آئی جیز صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے یہ ظلم کر رہے ہیں-
تحریک انصاف کے کارکنان متحد اور منظم ہو کر ملک پر مسلط مافیا کے خلاف اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے اگلے مرحلے کی تیاری کریں”
Thread: #IslamabadMassacre
26th November 2024 – a black day in the history of Pakistan where brute force and war-grade weapons were employed against unarmed peaceful citzens exercising their right to protest.
The exact number of casualties and injuries remain uncertain, as the area of the “operation clean up against civilians” was wiped out overnight, and hospital records have been tampered/blanketed to cover up and obfuscate the truth about the horrifying incident. For the last three days, families, lawyers, local and international Journalists are being denied access to the hospitals.
We are drawing the world’s attention by starting this thread to share video evidence of those who have been pronounced dead so far.
#PakistanUnderFascism
#UndeclaredMartialLaw
1/n
عمران خان کا جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
پاکستانی قوم اور تحریک انصاف کے کارکنان کو سلام جو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے، پرامن احتجاج میں شامل ہیں اور ملک پر مسلط مافیا کے سامنے اپنے مطالبات اور حقیقی آزادی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں
میرا اپنی ٹیم کو بھی پیغام ہے کہ آخری بال تک لڑیں، جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے
محسن نقوی کی ہدایات پر رینجرز اور پولیس نے ہمارے ورکرز پر فائرنگ اور شیلنگ کر کے پرامن شہریوں کو شہید اور زخمی کیا، اسے اس کا حساب دینا ہو گا!
شہری ناصرف پرامن تھے بلکہ شیلنگ اور فائرنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز کو بھی ریسکیو کرتے رہے-
اوورسیز پاکستانیوں کا بھی شکریہ جو ناصرف پاکستان میں موبلائزیشن کر رہے ہیں، فنڈز بھیج رہے ہیں، بلکہ اپنے اپنے ملکوں میں بھی تاریخی مظاہرے کیے
سوشل میڈیا وارئیرز بھی دنیا بھر میں ہمارے مطالبات اور پاکستان میں جاری ظلم و ستم کی بھرپور کوریج جاری رکھیں!!
مجھے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کی دھمکیاں دینے والوں کے لیے پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
جو اب تک نہیں پہنچ پائے وہ بھی ڈی چوک پہنچیں
مظاہرے میں شامل تمام پاکستانی پرامن رہیں، متحد رہیں اور ڈٹے رہیں جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے- یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے!!
“ہمارے تین مطالبات ہیں:
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
24 نومبر کا احتجاج نہ مؤخر ہو گا نہ معطل ہو گا-
آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے احتجاج کی تیاریوں پر بریفنگ دی- میں اپنے پارٹی عہدیداران، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
ہم ملک کی خاطر ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں- جس دن احتجاج کی کال دی تھی اسی دن لیڈرشپ کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی- مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری لیڈرشپ کمیٹی ان سے ہمارے تین مطالبات کے مطابق مذاکرات کرے گی- اگر مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں تو اسے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے!!
ملک میں کئی دہائیوں بعد نظریاتی سیاست واپس آگئی ہے- 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کراکے نظریاتی سیاست کا جنازہ نکالا گیا تھا اور تب سے سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، غیر جماعتی بنیادوں پر سیاست ہوئی اور ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ملنے شروع ہوئے- 8 فروری کے بعد تحریک انصاف بطورِ نظریاتی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے- لوگوں نے پارٹی ٹکٹ اور نظریے کو ووٹ دیا ہے- الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہونا خوش آئند بات ہے- تحریک انصاف کے تمام لوگ پارٹی ٹکٹ پر جیتے ہیں کیونکہ یہ نظریے کی لڑائی تھی- میں خود بھی نظریے کی وجہ سے جیل میں ہوں-
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیان دیتیں تو وہ بھی عندلیب عباس کی طرح باہر آ جاتیں، شاہ محمود قریشی ایک بیان دیتے تو وہ بھی باہر آ سکتے تھے، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت ہمارے لیڈرز اور کارکنان بھی آسان راستے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نظریے کا سودا کرنے سے انکار کیا- اب ہماری جماعت انقلابی جماعت بن چکی ہے، انقلاب ہی ملک کو مسائل اور دلدل سے نکال سکتا ہے-
24 نومبر کو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائے گا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو، باہر نہ نکلا تو اسکی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی- یہ احتجاج ٹیسٹ ہے پارٹی اور پارٹی لیڈرز کیلئے- مطالبات کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا!“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
“اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے ۔ میں پہلے صرف تحریک انصاف سے منسلک افراد کو احتجاج کی کال دیتا رہا ہوں مگر 8 فروری کے بعد اس ملک میں جمہوریت کے تابوت میں جو آخری کھیل ٹھونکا گیا ہے اسکے بعد پوری قوم کا فرض ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف باہر نکلیں۔ جس طرح آپ لوگ 8 فروری کو ہر مشکل کے باوجود اپنے ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے باہر نکلے تھے اسی جذبے سے 24 نومبر کو بھی نکلیں ۔
ملک میں اس وقت جمہوریت کے بنیادی ستون :قانون کی حکمرانی، صاف و شفاف انتخابات اور آزادی اظہار رائے تینوں معطل ہیں ۔ میڈیا پر سنسرشپ نافذ ہے، میرے بیانات نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے، اس کے علاوہ میڈیا ہر طرح سے پابندی کا شکار ہے، عوام کی زبان بندی کے لیے انٹرنیٹ میں بار بار خلل اندازی سے اس سال ملک کو 550 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اخبارات کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی کارکردگی صرف 27 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ سب گھناونے اقدامات صرف اس لیے اٹھائے جا رہے ہیں تا کہ کسی طرح تحریک انصاف کو کچلا جا سکے اور تحریک انصاف کی آواز دبائی جا سکے ۔
شہباز گل سے لیکر انتظار پنجوتھہ تک تحریک انصاف کے کارکنان کے ساتھ جبری گمشدگیوں، فسطائیت اور تشدد کا ایک پورا سلسلہ ہے جس میں ابھی تک کسی کو انصاف نہیں ملا۔ پنجاب حکومت اور پولیس یہ کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کو فوج کہہ رہی ہے۔ فوج ایک قومی ادارہ ہے، یہ کسی ایک شخص یا پارٹی کی نہیں اور ان واقعات سے ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کی بدنامی ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف ہر طرح کے مشکل وقت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے اور اب بھی تیار ہے۔ تحریک انصاف بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑی ہوئی جو ڈونلڈ لو اور جنرل باجوہ کی ملی بھگت تھی۔ جس کے بعد بوگس انتخابات کروا کہ بوگس اسمبلیاں تخلیق کی گئیں جنھوں نے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا اور جمہوریت کا وجود ، آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن ہی نہیں
میں ملک کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہوں ۔ نگران حکومت سے جب بھی مذاکرات کی بات کی انھوں نے اسکا جواب فسطائیت سے دیا ہمارے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔ سٹالن کی آمریت میں بھی ایسا جبر نہیں ہوا جیسا رجیم چینج کے بعد کے دورانیے میں تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ ہم نے جب وقت پر انتخابات کا کہا تو انھوں نے نواز شریف اور قاضی فائز عیسی کے آنے کا انتظار کیا ۔ یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں بر وقت انتخابات کو من پسند افراد کے لیے معطل کر دیا جائے اسلیے مذاکرات کا نہ ہونا ہماری نہیں انکی غلطی ہے ۔
24 نومبر کو احتجاج میں شامل ہونا سب پر لازم ہے ۔ اگر تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما یا ٹکٹ ہولڈر احتجاج میں شرکت کو یقینی نہیں بنا سکتا تو اسے جماعت سے لاتعلقی کر لینی چاہیے کیونکہ یہ فیصلہ کن وقت ہے جب پوری قوم آزادی کے لیے نکلے گی اور اس موقع پر کسی قسم کا عذر قوم کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتا ۔
یہ موقع پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کا ہے ۔ غلام قومیں تو اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اسی لیے ہمیں بحیثیت قوم موت کو غلامی پر ترجیح دینی ہو گی۔ لہذا 24 نومبر کی کال صرف تحریک انصاف کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی تو آزادی اور جمہوریت کا مطلب بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں جتنا وہ لوگ اپنے ممالک میں آزاد ہیں ویسی آزادی کا مطالبہ اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے لیے بھی کریں ۔ اوورسیز پاکستانی بھی اپنے اپنے ملک میں احتجاج ریکارڈ کروائیں اور تحریک انصاف کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
میرے پاکستانیو!! میں نے جتنا ہو سکا ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی دی، اور انشاء اللہ خون کے آخری قطرے تک آپ کی حقیقی آزادی کے لیے لڑتا رہوں گا۔ لیکن یہ جنگ صرف عمران خان کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔ اگر ہم آج اس ظلم و ستم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو ہماری آئیندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی- جمہور کی طاقت سے ظلم کے نظام کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے، انشاء اللہ۔ آج میں احتجاج کی فائنل کال دے رہا ہوں۔ 24 نومبر کو آپ سب نے اسلام آباد پہنچنا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے 10 سال کیلئے غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ ملک میں بوگس پارلیمنٹ، بوگس وزیراعظم، بوگس صدر اور بوگس جمہوریت ہے۔ اس وقت جنرل مشرف سے زیادہ خوفناک ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔ قانون کی بالادستی جمہوریت ازادی اور ملک کے مستقبل کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اپنے سہولت کاروں کی مدد سے مینڈیٹ چوری کر کے ملک پر قابض مافیا کے زیر انتظام جاری فسطائیت کے نظام، آئین و قانون اور عدلیہ پر مسلسل حملوں، ہمارے بے گناہ لوگوں کو زندان میں میں ڈالنے والی جعلی حکومت کو بتانا ہو گا کہ قوم کو یہ سب نامنظور ہے۔
24 نومبر کے احتجاج کی قیادت تحریک انصاف لیڈرشپ کرے گی۔ میں نے پارٹی رہنماؤں کو جامع احتجاجی پلان دے دیا ہے۔ میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، احتجاج کو لیڈ کرنے اور ختم کرنے کا اختیار اس کمیٹی کے پاس ہوگا۔ مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری کمیٹی ان سے مذاکرات کرے گی-
میں اپنی پارٹی قیادت کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
جہاں یہ احتجاج پارٹی لیڈرز، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ناظمین، اور صوبائی و مقامی تنظیموں کا امتحان ہے، وہیں یہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کا بھی امتحان ہے۔ میں ہر طبقے بشمول اپنے کاروباری طبقے، سول سوسائٹی، قانونی برادری، کسانوں، ریڑھی بانوں، تنخواہ دار طبقے سے کہتا ہوں کہ اسلام آباد پہنچیں۔ میرے نوجوان اور طلباء، جن کا مستقبل بالخصوص داؤ پر ہے، ان کو یہ ہدایت دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ اپنے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی میرا یہ پیغام ہے کہ قوم کے مستقبل کی خاطر دنیا بھر میں احتجاج کا حصہ بنیں اور پارٹی کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-
مجھے اپنی قوم پر مکمل بھروسہ ہے اور میں یہ پیشنگوئی کر رہا ہوں کہ 24 نومبر کو پورا پاکستان اسلام آباد پہنچے گا اور عوام کا سمندر ہر رکاوٹ اور کنٹینر کو بہا لے جائے گا۔ اس دن یک زبان ہو کر پوری قوم کے یہی مطالبات ہوں گے:
- چھبیسویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دے کر آئین کو اپنی پرانی حالت میں بحال کیا جائے
- چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی
- بغیر ٹرائل گرفتار سیاسی قیدیوں کی رہائی
میرے پاکستانیو، اب کی بار ہم نے اپنے مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں لوٹنا”
La ilaha illallah (There is no God, but One) means freedom, and the Holy Quran designates the highest rank after (God’s) messengers to martyrs. The positions of Syed Hassan Nasrallah and Ismail Haniya are very high (in the eyes of God) as they sacrificed their lives in the defense of their countries. I would rather be martyred fighting for my country like Tipu Sultan, than die like Bahadur Shah Zafar. I have always prayed to God for a death like Tipu Sultan’s.
God created man free. There is a famous quote by Rumi: “ When God has given you wings, why do you crawl like insects?”
In Pakistan, at this time, the Gang of Three, along with PDM, have colluded to make every state institution their slave. The Supreme Court is the only institution left, and now they are trying to subjugate that as well through unconstitutional amendments. Pakistan has no rule of law anymore, and there is no accountability. The Gang of Three has broken every law to get extensions (in their tenure), the most (adverse) impact of which has been on the economy.
All those in power now have their wealth stashed abroad, so they are mercilessly destroying the country’s institutions for their personal gain and power.
My Pakistanis!
All my efforts have been to liberate you, so now it is time that you break the shackles of fear and come out (for your rights). It’s time to Do or Die! I have made this sacrifice only for your liberty, so now is the time for you to think beyond your personal interests and come out at every call for protest for the sake of the country’s future.
Long Live Pakistan!
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام؛
۱-
قابض مافیا اور اس کے ہینڈلرز ملکی مفاد سے قطع نظر صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی پر حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ملک میں تمام اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایک سپریم کورٹ بچا ہے جوقوم کی آخری امید اور سہارا ہے۔ قوم کی اس آخری امید کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایک مرتبہ پھر من پسند شخص کو ایکسٹینشن دینے کے لیے پورے ادارے اور ملک کے نظام کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتخابی فراڈ کی شفاف تحقیقات سے بچ نکلنے کے لیے نئی آئینی ترامیم کی ذریعے قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کی کوشش کی جا رہی۔ ۲۰ سے کم سیٹیں جیتنے والی نون لیگ عدلیہ پر بالکل اسی طرز کا حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس طرح مسلم لیگ ن کی حکومت نے 1997 میں ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کی بار حملہ عدلیہ کے اختیارات سلب کرکے کیا جا رہا ہے۔
لیکن میں آج ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پوری قوم عدلیہ کے پیچھے کھڑی ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے عاری فارم 47 کی حکومت نے اگر آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم جانتی ہے کہ عدلیہ کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے ہم کسی صورت اس کو قبول نہیں کریں گے ۔ آئینی عدالت کا جو شوشہ انہوں نے چھوڑا ہے اس پر میں یہ واضح کر دوں کہ پاکستان تحریک انصاف ہر صورت ملک کی عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ ہم ملک بھر میں بھرپور احتجاج کی کال دیں گے۔
۲-
مجھ پر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کی ٹویٹ کی ایف آئی آر کاٹ دی گئی ہے تو ساتھ میں ان کو چاہیے کہ یہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ بھی قوم کو پڑھ کر سنا دیں۔اگر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر عمل کر لیا جاتا تو پاکستان میں کبھی مارشل لا نہ لگتا۔ اس وقت بھی ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پارلیمانی سیاست نہیں بلکہ کٹھ پتلیوں کی طرح چند اشخاص کے اشاروں پر ناچ رہی ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا کہہ کر بوٹ کو عزت دی جا رہی ہے۔
یہ مکمل طور پر قوم کو غلام بنانے جا رہے ہیں۔سپیکر کی مرضی کے بغیر پارلیمنٹ سے لوگوں کو کیسے اٹھایا جا سکتا ہے۔آج جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کل ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ سے آج تک کسی کو نہیں اٹھایا گیا۔ شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں سزا ہونے والی تھی باجوہ نے اس کو بچا لیا۔شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا ثابت شدہ کیس تھا۔منی لانڈرنگ کے کیس کے علاوہ شہباز شریف ، نواز شریف اور اسحاق ڈار پر تمام کیسز پرانے تھے۔ ہمارے دور میں رانا ثنا اللہ پر اے این ایف نے کیس بنایا تھا۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ رانا ثنا اللہ سے منشیات پکڑی گئی ہے ۔ اے این ایف کا سربراہ میجر جنرل تھا۔میں نے اے این ایف کے سربراہ کو بلایا اور اس سے پوچھا تھا۔ اس نے آ کر کابینہ کو بریفنگ دی تھی اور رانا ثنا اللہ کے کیس سے متعلق ثبوت پیش کیے تھے ۔ انھوں نے ہی ہمیں بتایا تھا کہ رانا ثنا اللہ سے منشیات پکڑی گئی ہے ۔ ہم سے پہلے کسی میں جرات نہیں تھی کہ ان کو بلا کر کابینہ کے سامنے اپنے ہی مخالفین کے بارے میں یہ سوال پوچھا جائے کہ آپ نے ان پر منشیات کا یہ کیس کیوں بنایا۔۔صحافی مطیع اللہ جان کو جب اٹھایا گیا تھا تو اس کو میں نے چھڑوایا۔
۳-
جلسہ کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ اجازت ملے یا نہ ملے، 21 ستمبر کو ہم ہر صورت لاہور میں جلسہ کریں گے۔ اسلام آباد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں مگر اسکے باوجود لوگ نکلے۔ پنجاب کیا پولیس اسٹیٹ بن گیا ہے جو ہمیں جلسہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ہم پارٹی کو سٹریٹ موومنٹ کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ میں اپنی قوم اور پارٹی کو کہہ رہا ہوں کہ تیاری کریں۔ جو بھی ہوگا اس کا ذمہ دار موجودہ رجیم ہو گا۔
جب آزادی کی جنگ ہوتی ہے تو قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔میں جیل میں سوا سال سے ناحق قید ہوں کیا یہ کوئی قربانی نہیں؟ میں لا اله الا الله پر یقین رکھتا ہوں۔ میں جان کی قربانی کے لیے بھی تیار ہوں لیکن کسی کی غلامی قبول نہیں کروں گا۔ قوم سے بھی کہتا ہوں کہ ان کی غلامی ہرگز قبول نہیں کرنی۔
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو
1
اس وقت ملک میں یحیی خان پارٹ ٹو ہے،
یحیی خان نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن کیا۔ یحییٰ خان پارٹ ٹو بھی یہی کام کر رہا ہے اور ملک کے ادارے تباہ کر رہا ہے، اس وقت جو ہورہا ہے اس سے پولیس اور ماتحت عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔
یحییٰ خان پارٹ ٹو کی ٹاؤٹ نگران حکومت نے مجھے جیل میں ڈالنے اور سزا دینے کے عوض، نگران حکومت نے جج ہمایوں دلاور کو اربوں کی زمین کے غیر قانونی این او سیز دیئے۔ گزشتہ روز بھی جج نے تین گھنٹے ہدایات لے کر بشری بی بی کے خلاف فیصلہ دیا۔
قاضی فائز عیسی کو توسیع اس لیے دی جا رہی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتخابی دھاندلیوں کو تحفظ دے رہا ہے۔
نواز شریف نے پہلے ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اب قاضی فائز عیسی کو توسیع دیکر حملہ آور ہونے جا رہے ہیں۔ جب مافیا اور ڈاکو عدلیہ پر حاوی ہوں گے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔
قاضی فائز عیسی نے پورے عدالتی نظام کو یرغمال بنوانے میں پوری سہولتکاری کی ہے۔
قاضی فائز عیسی کو مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تو زبردست احتجاج کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن کا کسی بھی عہدے پر توسیع نہ دینے کا بیان خوش آئند ہے۔
2
سنگاپور جیسے چھوٹے سے ملک جسکی آبادی کراچی سے بھی کم ہے ، وہاڻ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑے ملک پاکستان میں ایک ارب ڈالر سے بھی کم سرمایہ کاری آئی، جو کہ پاکستان کی تاریخ کی کم ترین سرمایہ کاری ہے، سرمایہ کاری وہاں آتی ہے، جہاں قانون کی بالادستی ہوتی ہے۔
یہاں ججز کو دھمکیاں مل رہی ہیں،، انکے رشتے دار اغوا ہو رہے ہیں، عدالتی فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، ایسے میں یہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟
آئی ایم ایف سے تب آزاد ہوں گے، جب بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔
1 کروڑ پاکستانی بیرون ملک آباد ہیں جو حقیقت میں پاکستان کو بچا سکتے ہیں۔
اس وقت اوورسیز پاکستانی دبئی اور دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری پر مجبور ہیں کیونکہ انکا سرمایہ محفوظ نہیں ہے۔ 1 کروڑ میں سے چند لاکھ اوورسیز پاکستانیوں نے بھی پاکستان میں سرمایہ کی تو پاکستان کے مسائل حل ہوجائیں گے، لیکن وہ سرمایہ کاری تب کریں گے جب ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوگی۔ پاکستان کا مستقبل، رول آف لاء سے مشروط ہے جو یحییٰ خان پارٹ ٹو اور قاضی فائز عیسی کی جوڑی نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
3
علی امین گنڈاپور اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی تھا، وہ انکا لحاظ رکھ کر مکمل بات نہیں بول نہیں رہا تاکہ ملک کا مذاق نہ بنے۔
خیبر پختونخوا میں پولیس جب خود کو بچانے لگ جائے گی تو لوگوں کو کون بچائے گا- پولیس والے جو باتیں کر رہے ہیں اگر وہ سچ ہیں تو خوفناک ہیں۔
اگر کوئی کوشش کر رہا ہے بات چیت کی تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو تو علی امین کے پاؤں پڑ جانا چاہئے کہ مذاکرات سے دہشتگردی کا مسئلہ حل کراؤ۔
جتنے ملٹری آپریشن پاکستان میں ہوئے اور کہیں نہیں ہوئے۔ مگر امن نہیں ہوا، کیونکہ یہ پالیسی ہی ناقابل عمل اورناقص ہے۔
اگر میں وزیراعظم ہوتا تو میں ضرور وزیراعلی خیبر پختونخواہ کو افغانستان سے بات چیت کی اجازت دیتا۔
نواز شریف کے دور حکومت میں پرویز خٹک کو افغانستان بھیجا گیا تھا۔ اشرف غنی کی حکومت، پاکستان مخالف تھی اس کے باوجود میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو بھی پاکستان بلایا۔
امن اور انصاف نہیں ہوگا تو سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟
علی امین گنڈاپور نے ہرگز خیبر پختون خواہ کو آزاد کروانے کی بات نہیں کی ، یہ جھوٹ اور پراپگینڈا ہے۔
تحریک انصاف واحد وفاقی پارٹی ہیں جو ملک کو اکٹھا رکھ سکتی ہے-
شہباز شریف کو وزیراعظم کہنے کا کوئی فائدہ نہیں، وہ ایک ٹاؤٹ ہے جو ہر چیز کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے این او سی لیتا ہے، کیا پتہ کل اس ٹاؤٹ کو بھی غائب کر دیں۔
4
سکندر سلطان گیند پھینکتا ہے، ایک سلپ میں قاضی فائز عیسیٰ کھڑا ہے تو دوسری سلپ میں عامر فاروق
یہ سارا فکس میچ ہے جو لندن پلان میں فکس ہوا جسکے سب کردار بےایمان ہیں۔
الیکشن کمیشن کے کیسز تو فورا سماعت کے لیے مقرر کر دئیے جاتے ہیں جبکہ ڈیڑھ سال سے توشہ خانہ کا کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہا، تین مرتبہ جلد سماعت کی درخواست دے چکے ہیں مگر اس کے باوجود سماعت نہیں ہوئی کیونکہ قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے-
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
1-
ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ فرد واحد اپنی طاقت بچانے کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا دے۔ یحیی خان نے بھی اپنی طاقت بچانے کے لئے عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کو دھوکہ دیا تھا۔ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ایک شخص نے اپنی طاقت اور اقتدار کی طوالت کے لیے ملک کو دولخت کر دیا۔ اس ایک شخص کی غلط پالیسی کی وجہ سے اس وقت ہمارے 90,000 فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ بھٹو نے 50,000 بے گناہ جانوں کے ضیاع کا خود اعتراف کیا تھا حالانکہ اصل گنتی اس سے کہیں ذیادہ تھی۔ ملک کی معیشت کو اس وقت اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا ۔ آج تک ہم اس نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے۔آج بھی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ آج پھر ایک شخص اپنی طاقت کو بڑھانے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے نظام کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے اور نظام کو تباہ کر رہا ہے۔
اس ملک کا مٹھی بھر اشرافیہ ملک کے تمام نظام وسائل، اقتدار اور طاقت پر قابض ہے۔ اس قبضہ گروپ کا جب دل چاہتا ہے آئین کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے، ججوں کو دھمکیاں دیتا ہے، جمہوریت کی عکاس پارلیمنٹ کے تقدس پر حملہ آور ہو جاتا ہے، عوامی نمائندگان کو اغواء کر لیتا ہے، ہمارے ایم این ایز کے گھر کی خواتین کو اٹھا لیتا ہے۔ اخلاقیات سے عاری یہ مافیا خود کو آئین اور قانون سے بالاتر گردانتا ہے۔ اسی چھوٹے سے طبقے ، اس اشرافیہ نے اس ملک کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔آج بھی اپنی ذات کے لئے یہی سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ واحد ادارہ بچا ہوا ہے اب اس پر بھی حملہ آورہو رہے ہیں۔
۲-
ملک میں ظلم و بربریت کا نظام نافذ ہے۔ ترقی اور عہدوں سے نوازنے کا پیمانہ عدلیہ میں تحریک انصاف کے خلاف فیصلے اور حکومت میں فسطائیت ہے۔ اس بات کی تین واضح مثالیں قاضی عیسی فائز، محسن نقوی اور ہمایوں دلاور ہیں-
قاضی فائز عیسی نے ہمارے اوپر مظالم کرنے والوں کو تحفظ دیا ۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان چھینا۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہماری درخواستیں نہیں سنیں۔ الیکشن میں دھاندلی پر سابق کمشنر راولپنڈی نے چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔اب اسی چیف جسٹس کو دوبارہ مسلط کرنے کے لیے فارم ۴۷ حکومت اور اس کے ہینڈلرز ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنا رہے ہیں۔ میرے پاکستانیوں آج اگر آپ قاضی فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے خلاف نہ نکلے تو ہمیشہ غلام رہیں گے۔
محسن نقوی نے سب سے زیادہ ظلم ہم پر کیا ہے۔ ظل شاہ کو پولیس نے تشدد کرکے قتل کیا،لاش سڑک پر پھینکی اور ایف آئی آر بھی میرے ہی خلاف کاٹی ۔ہم پر ظلم کرنے کے عوض محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور پی سی بی کا چیئرمین بنایا گیا۔
ہمایوں دلاور کی وجہ سے میں اور بشری بی بی آج غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہیں۔اس کے عوض ہمایوں دلاورکو اربوں مالیت کی زمین تحفے میں دے دی گئی ۔خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن کے پاس اسکے سارے ثبوت موجود ہیں ۔ اب ایف آئی اے نے خیبر پختونخواہ اینٹی کرپشن پر کیس کر دیا ہے۔
۳-
نواز شریف کو انھوں نے دبکا لگا کر روکا ہوا ہے،نہیں تو کب کا باہر بھاگ گیا ہوتا۔ مجھے یہ نہ بتائیں کہ کس کس کے پیسے اور جائیدادیں باہر ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ آج اس ملک کے جو ارباب اختیار ہیں ، جو اس نظام کے لاڈلے ہیں ان میں سے کس کے پیسے اور جائیدادیں ملک میں ہیں۔ سعد اللہ بلوچ کی بیوی اور بیٹی کو اٹھا لیا گیا ہے۔ انکو شرم نہیں آتی یہ اسمبلیوں میں گھس گئے اور پارلیمینٹرینز کو پکڑ لیا ۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا،کسی نے پہلے کبھی پارلیمنٹ سے کسی کو گرفتار نہیں کیا۔
۴-
پوری قوم کو کہتا ہوں آزادی بچانے کےلئے سٹریٹ مومنٹ کے لیے نکلنا ہوگا ۔ ہماری تحریک جمہوریت کے لئے جہاد ہے۔عدلیہ سے کہتا ہوں قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑے ہوں ۔ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ پوری پارٹی تیار رہے سڑکوں پر آنے کا اعلان جلد کریں گے۔ یاد رکھیں حقیقی آزادی کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے۔ میں اور میری بیوی جیل میں ہیں اور جیل میں رہنا ہمارے لئے عبادت ہے۔ اگر آپ کو بھی جیلیں بھرنی پڑتی ہیں تو اس سے دریغ نہ کریں۔ اگر آپ قربانی نہیں دیں گے تو آپ اور آپ کی آنے والی نسلیں غلام رہیں گی۔
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
۱-
خواجہ آصف نے فوج کو جتنا برا بھلا کہا کسی نے نہیں کہا۔ آج تک فوج کے خلاف جتنی بھی تقاریر کی گئیں ان میں خواجہ آصف کی تقریر پہلے نمبر پر ہے۔ پہلی مرتبہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا احسن اقبال نے بتایا۔ احسن اقبال نے فوج سے متعلق کہا تھا یہ ریاست کے اندر ریاست ہے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میانمار بننے جارہا ہے
۲-
نو مئی انکی انشورنس پالیسی ہے۔ نو مئی ختم ہوا تو انکی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائینگی۔ جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے یہ نو مئی کا شور مچانے لگتے ہیں۔ قوم کو ایک مرتبہ پھر بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اغواء کرنے کا جس نے حکم دیا اور جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی، نو مئی کی سازش اسی نے کی۔ نو مئی کی تحقیقات کرنی ہے تو اسکے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے-
۳-
ہم مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار ہیں لیکن بات انکے ساتھ ہوگی جو فیصلے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ فارم ۴۷ حکومت سے بات کرنا الیکشن میں انکے ڈاکے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ محمود خان اچکزئی کے پاس مذاکرات کا اختیار ہے ۔
۴-
ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں۔ ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے، دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلوانی ہے اورتیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ کا قیام ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کو توسیع دلانے کیلئے عدلیہ پر حملہ کیا جارہا ہے-
۵-
آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بننا پاکستان کیلئے اعزاز ہے ۔اگر چانسلر نہ بھی بن سکا تو کوئی بات نہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھ کر نکلنے والے alumni میں سے آج تک کبھی کسی کو وہ مقام نہیں ملا جو مقام کرکٹ کی تاریخ میں مجھے ملا ہے۔ میں پاکستان میں شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے بڑے فلاحی ادارے چلانے والا انسان ہوں۔ ہم نے دو کینسر ہسپتال بنائے، دو یونیورسٹیاں بنائی ہیں اور ایک یونیورسٹی بن رہی ہے۔ پاکستان میں ایک سیاسی پارٹی کو صفر سے شروع کر کے اس مقام تک لانے والا میں پہلا سیاستدان ہوں-
۶-
چوبیس گھنٹوں میں ، میں دو مرتبہ کھانا کھانے کے لیے اپنے سیل سے باہر آتا ہوں جو تقریبا دو گھنٹے بنتا ہے۔ یہ سب بار بار یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے میں کسی فائیو سٹار ہوٹل میں رہتا ہوں ۔ نواز شریف، زرداری اور شہباز شریف جب جیل میں تھے تو ان کو جیل کا سیل نہیں بلکہ ایک محل نما کمرے میں رکھا گیا تھا جس میں اٹیچ باتھ روم اور اے سی جیسی سہولیات میسر تھیں۔ مجھے تو ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جس کے ساتھ جڑی ہوئی دیوار اس چکی کی ہے جس میں سزائے موت کے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ مجھے جیل کی اس چکی میں ایک پنکھا ملا ہوا ہے ۔ جب شدید گرمی ہوتی ہے تو یہ سیل اوون بن جاتا ہے ۔میں شکایت نہیں کر رہا لیکن چاہتا ہوں کہ میری قوم کو پتہ چلے کہ میں کس حال میں یہاں رہ رہا ہوں۔
میری جیل کے سیل کے باہر سیکیورٹی پر معمور اہل کاروں کو ڈرا کر میرے سیل سے دور کر دیتے ہیں ۔ان کو یہ لگتا ہے کہ میں سیکیورٹی پر معمور اہل کاروں سے بات کر کے اپنا وقت گزارتا ہوں ۔ میرے پاس تو پڑھنے کو اتنا کچھ ہوتا ہے کہ مجھے کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ میں نے یونیورسٹی میں پھر سے داخلہ لے لیا ہے۔ زندگی میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے میں جو مطالعہ نہیں کر سکا ، اللہ نے مجھے اب موقع دیا ہے کہ میں اب اس کو پورا کر سکوں۔ جیل میں مطالعہ کر کے اللہ نے میرے علم میں جو اضافہ کیا ہے مجھے تو اس کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ لیکن ان کو یہ لگتا ہے کہ اس طرح کے حربے استعمال کر کے یہ مجھے جیل میں تنہا کر دیں گے۔
اللہ پر ایمان انسان کا خوف ختم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ جب تم ایمان لاؤ گے تو میں تمہارے خوف ختم کر دوں گا۔ میرا یہ ایمان ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اسی ایمان کے ساتھ آخر تک مافیا کے خلاف ڈٹا رہوں گا۔
۷-
گینز بُک میں دو نئی انٹریاں ہونے والی ہیں۔ ایک انٹری اس یوٹرن کی ہوگی جس میں ووٹ کو عزت دو کا کہہ کر بوٹ کو عزت دی گئی- نواز شریف اڑھائی سال تک ووٹ کو عزت دو کا کہتے رہے اور فوج اور مارشل لاؤں پر تنقید کرتے رہے اور پھر اسی فوج سے ڈیل کر کے ووٹ کے تقدس کی پامالی کی پرانی روایت کو برقرار رکھا۔ گینز بک میں دوسری انٹری اس پر ہوگی کہ نواز شریف چاروں امپائرمطلب چاروں چیف ملا کر کھیلا پھر بھی ہارگیا۔ دوسری پارٹی کو میچ کھیلنے ہی نہیں دیا گیا۔ جمہوریت کی باتیں کرنے والے بوٹ کے آگے لیٹ گئے ہیں۔ نواز شریف کے بارے میں پٹن کی رپورٹ ہے کہ یاسمین راشد سے جتوانے کیلئے نواز شریف کو 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
12 اگست 2024
فوج سارے پاکستان کی ہے اکیلے آرمی چیف یا کسی ایک سیاسی جماعت کی نہیں- جنرل عاصم منیر کو سوچنا چاہیے کہ قوم کیا فیصلے کر رہی ہے،کدھر کھڑی ہے اور فوجی قیادت کہاں کھڑی ہے، فوج اور عوام میں ایسا فاصلہ کبھی نہیں دیکھا- انہوں نے ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے آمنے سامنے کر دیا ہے-
نو مئی کو انہوں نے خود آگ لگائی ہے، آئی ایس آئی نے فوٹیج چھپا رکھی ہے تاکہ اصلی کردار سامنے نہ آ سکیں۔
حکومت نے اگر مخصوص نشستوں کا فیصلہ نہیں مانا اور چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینے کی کوشش کی تو ہم سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کریں گے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کو روکنے کے لیے انہوں نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی ہے اور اب یہ آئین میں بھی ترمیم کرنے کے لیے چور دروازوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ہمیں مخصوص نشتیں نہیں دے رہے۔ پہلے انہوں نے دو صوبوں میں الیکشن نہ کروا کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے، اب سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرکے دوبارہ آئین شکنی کی جا رہی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس لیے نہیں مان رہے کیونکہ انہیں دو تہائی اکٽریت چاہیے تاکہ قاضی فائز عیسی کو مزید بٹھا سکیں- ان لوگوں نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور اب سپریم کورٹ پر بھی حملے کر رہے ہیں، قوم انتظار کر رہی ہے، لاوا پک چکا ہے۔
چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے تھے، آرمی چیف نے انکی سپورٹ کی لیکن 8 فروری کو ان کا سارامنصوبہ ناکام ہو گیا۔ ہمارے حالات بنگلہ دیش سے زیادہ برے ہیں- حسینہ واجد نے بھی اپنے چیف جسٹس، آرمی چیف اور الیکشن کمیشن لگائے ہوئے تھے- بنگلہ دیش میں جب لوگ باہر نکلے تو فوج نے اپنی عوام پر گولی چلانے سے انکار کر دیا، بنگلہ دیش اور پاکستان کے حالات مختلف نہیں۔ 8 فروری کو ظلم کے باوجود ہماری پارٹی جیتی، اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ 90 فیصد عوام ہے، خالدہ ضیاء کے ساتھ وہ عوام نہیں ہے جو تحریک انصاف کے ساتھ پاکستان میں ہے۔ یہ اب جو مرضی کر لیں پاکستانی فوج عوام پر گولی نہیں چلائے گی، میں کال دینے لگا ہوں، لوگ تیار ہیں، خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے، اب لوگ جیلوں میں جانے اور جان دینے کو تیار ہیں، اگر آپ پاکستان میں آئین توڑیں گے تو نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔
الیکشن سے پہلے نو مئی کے نام پر ہماری پارٹی پر کریک ڈاؤن کیا گیا،۔ ہماری آدھی لیڈرشپ کو پکڑ کے جیل میں ڈالا گیا، آدھی لیڈرشپ انڈر گراؤنڈ ہو گئی،باقیوں کو ویگو ڈالے کے ذریعے پارٹی چھڑوا دی-
انہوں نے الیکشن میں بڑا فراڈ کیا ہے اب ان کو خدشہ ہے حلقے کھلیں گے تو ان کی ساری چوری عیاں ہو جائے گی، اسی لیے ٹریبونلز میں اپنے ججز کو بٹھانا چاہتے ہیں، ان کو معلوم ہو گیا ہے اتنا بڑا فراڈ کور نہیں ہو سکتا، راولپنڈی کے سابق کمشنر نے کہا 70،70 ہزار سے جیتنے والوں کو ہروایا گیاہے۔ پٹن نے کہا نواز شریف کے حلقہ میں 74 ہزار ووٹ ڈالے گئے۔
ان کو جب معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے تو ان کی کانپیں ٹانک جاتی ہے،حالانکہ میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے کوئی بات چیت نہیں رہی۔ ہم نے محمود خان اچکزئی کو سیاستدانوں سے مذاکرات کا اختیار دیا ہے، تحریک انصاف کٹھ پتلیوں سے مذاکرات نہیں کرے گی، اگر ہم ان کٹھ پتلی سیاست دانوں سے مذاکرات کریں گے تو اس کا مطلب ہے ہم نے موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیا۔
ہمارے مطالبات مسترد کرنے ہیں تو کر دیں، میں بات ملک کے لیے کرنا چاہتا تھا، تحریک انصاف کی مقبولیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے آپ نے بات نہیں کرنی نہ کریں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا عدالت سے پیغام:
(۳۰ جولائی ۲۰۲۴)
پاکستان تحریک انصاف ۹۰ فیصد اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ فارم ۴۷ کے سہارے آئی ہوئی کٹھ پتلی حکومت بطور ادارہ فوج اور قوم کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بگاڑ کا سبب بننے والے اقدامات اور اشخاص پر تنقید کی۔ ماضی میں بھی چند اشخاص کے بند کمروں کے فیصلوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے پیچھے جنرل ضیاء تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے پیچھے جنرل یحٰیی خان کا ہاتھ تھا۔ اگر آپ ان غلطیوں پر آنکھیں اور تنقید بند کر دیں گے تو یہ ملک سے بالعموم اور فوج سے بالخصوص ظلم ہو گا۔ کوئی بھی فرد واحد ادارہ نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی بھی ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ گھر کا کوئی بچہ بگڑ جائے تو اس پر اصلاح کی غرض سے تنقید کی جاتی ہے اور یہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے۔
فارم ۴۷ کٹھ پتلی مافیا سے کوئی بات چیت ہو گی نہ مذاکرات۔ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل نافذ ہے۔ سیاسی اور نتیجتاً معاشی عدم استحکام سے ہر طبقہ بری طرح متاثر ہے۔ ہر عہدے پر انہی کے نمائندے مسلط ہیں۔ محسن نقوی اس کی سب سے بدترین مثال ہے۔ محسن نقوی سے کبھی بات نہیں کروں گا،اس نے آئی جی پنجاب سے ملکر ہمارے لوگوں پر ظلم کیا۔ یہ ظل شاہ کی موت کے ذمہ دار ہیں، یہ بیرون ملک کہیں نہیں جا سکے گا، باہر ممالک میں تشدد سے نفرت کی جاتی ہے۔ مریم نواز نے آئی جی پنجاب کو اسی لئے رکھا ہوا ہے کہ اس نے پی ٹی آئی پر ظلم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کٹھ پتلی حکومت کے بجائے اصلی فیصلہ ساز فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے، فوجی قیادت اپنا نمائندہ مقرر کرے تو ہم مشروط مذاکرات کریں گے۔
مذاکرات کے لئے پہلا مطالبہ ہے کہ ہمارا چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ مذاکرات کے لئے دوسرا مطالبہ اسیران کی رہائی اور جھوٹے مقدمات کا خاتمہ ہے۔ تیسرا مرحلہ صاف شفاف الیکشن کا انعقاد ہے جس کے بغیر ملک کی سالمیت خطرے میں ہے-
ملک میں غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ میرے جیل کے کمرے کی صفائی کرنے والے کا بجلی کا بل ۴۰ ہزار آیا ہے۔ بجلی کے بلوں اورٹیکسسز میں ہوشرباء اضافہ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت کرتا ہوں۔میری پارٹی قیادت اور کارکنان کو ہدایات ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کریں۔
جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یہ انسانیت کی توہین اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہمارے ۲۵ ورکرز اور ان کے اہل خانہ اب تک غائب ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا کوارڈینیٹر احمد جنجوعہ کو گھر سے گرفتار کرکے دہشتگرد بنا دیا گیا۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے نکلنے والے بلوچ عوام کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور عوام میں بڑھتی ہوئی نفرت اور احساس محرومی کا سدباب کرنا چاہیے۔
میں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ ان کا تعصب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا تو عامر فاروق نے اسے درست قرار دیا۔ میرے اور بشریٰ بی بی کے سارے کیسز کی سماعت عامر فاروق ہی کرتے ہیں۔ وہ مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتے تھے۔ جب میں ان پر عدم اعتماد کا واضح اظہار کر چکا ہوں تو انہیں اصولی طور پر میرے، میری پارٹی اور میری اہلیہ کے تمام کیسز سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔
یہ دونوں جماعتیں سمندر میں ڈوب رہی ہیں اور جوتے کے سہارے لٹک رہی ہیں جس پر ۹ مئی کا ٹیگ لگا ہے۔ اس لیے یہ ملک میں انتشار اور تفریق پیدا کر کے اپنے جعلی اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔ ۲۸ سالہ جدوجہد میں کبھی توڑ پھوڑ کی بات نہیں کی۔ ۹ مئی واقعات میں ہماری بے گناہی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھپی ہے۔ اگر ۹ مئی میں تحریک انصاف کا کوئی بندہ ملوث ہے تو اسے ضرور سزا دیں-
خوفزدہ جعلی سرکار تحریک انصاف کو دبانے کے لیے ہر غیر جمہوری ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔ ساری جماعتیں جلسے کر رہی ہیں ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ۵ اگست کو ایک بہت بڑا جلسہ صوابی میں کر رہے ہیں۔ اگلا جلسہ اسلام آباد میں کریں گے۔ عوام تیاری کرے۔
Don’t underestimate the little things you do for others. No matter how small the act, it will come back to you eventually. The appreciation and thank you may be delayed for ages but that’s ok because your reward is truly with the Almighty. So do things out of love not obligation.