جن مفتیان، صوفیا اور علمائے سوء کی خاموشی پر آج شور مچا رہے ہو، ان کے خلاف بروقت آواز اٹھائی تھی، مگر تب یہی لوگ تمہیں اکابرِ اہلسنت نظر آتے تھے۔ وہ تب بھی دین کے غدار تھے، آج بھی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تمہاری آنکھیں بہت دیر سے کھلیں۔ اب کھیل تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
مردِ حق 👇
فاروقِ اعظمؓ کی اجتہادی بصیرت اور ساحل عدیم کی تجدد آمیز جہالت
ابو محمد
سوشل میڈیا کے دور میں تاریخ کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے۔ اسی سلسلے میں ساحل عدیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے موجودہ
۱/۲۲
صحابۂ کرام کے اجتہادات کو علمی دیانت کے ساتھ بیان کرے، اور ایسے تجدد پرور افراد سے اجتناب کرے جو تحقیق کی بجائے جذبات کو معیار بناتے ہیں اور جہالتِ عامہ کو فروغ دیتے ہیں۔
۲۲/۲۲
پیش قدمی کو مؤخر کرنا تھا۔ اس واقعے کو اس کے حقیقی تاریخی اور عسکری تناظر سے کاٹ کر پیش کرنا نہ صرف صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بصیرت پر افتراء ہے بلکہ تاریخِ اسلام کے ساتھ بھی ایک سنگین علمی خیانت ہے۔ امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی مصادر کو انہی کے اصل سیاق میں سمجھے،
۲۱/۲۲
اعتنائی یا منکرات کی وجہ سے دعوتِ اسلام سے دستبرداری کا اعلان نہیں تھا، بلکہ ایک بالغ نظر خلیفہ کا وہ اجتہادی اور تزویراتی فیصلہ تھا جس کا مقصد لشکرِ اسلام کو غیر ضروری ہلاکت سے محفوظ رکھنا، مفتوحہ علاقوں کو مستحکم کرنا، ریاست کے دفاع کو یقینی بنانا اور مناسب وقت تک
۲۰/۲۲
اور نہ ہی اسلامی فکری روایت کے۔ کسی بھی تاریخی واقعے کو موجودہ سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنے سے پہلے اس کے اصل مصادر، سیاق، مخاطب، مقصد اور زمانی و مکانی پس منظر کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ کسی قوم سے نفرت، کسی خطے سے بے
۱۹/۲۲
معتبر تاریخی روایت میں اپنی طرف سے ایسے مضامین شامل کر دیے جن کا اصل متن میں وجود ہی نہیں، پھر انہیں موجودہ پاکستان کی سیاسی و سماجی صورتِ حال پر منطبق کرکے ایک جذباتی قصہ بنا دیا۔ یہ طرزِ استدلال نہ علمی دیانت کے مطابق ہے، نہ اصولِ تحقیق کے، نہ محدثین و مؤرخین کے منہج کے،
۱۸/۲۲
مصلحت کے مطابق کارروائیاں جاری رہیں۔ یہ ایک عظیم ریاستی قائد کی سوچ تھی کہ وسائل، رسد، افرادی قوت اور سیاسی استحکام کو نظر انداز کرکے محض جذبات میں فتوحات کا دائرہ وسیع نہ کیا جائے۔
اس لیے ساحل عدیم کا یہ پورا بیانیہ تاریخی تحقیق کے معیار پر قائم نہیں رہتا۔ انہوں نے ایک
۱۷/۲۲
مکران میں بھی یہی حکمت اختیار کی گئی۔ دریا قدرتی دفاعی حد تھا، اس کےپار رسد کا نظام کمزور تھا، دشمن جغرافیہ سے واقف اور جنگجو تھا، جبکہ اسلامی لشکر مسلسل فتوحات کے بعد پہلے ہی وسیع محاذوں پر مصروف تھا۔ ایسے میں پیش قدمی روک دینا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ترین عسکری بصیرت تھی۔
۱۵/۲۲
سیدنا فاروق اعظمؓ کی یہی حکمت عملی دیگر محاذوں پر بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ نے شام، عراق اور ایران کی فتوحات کے بعد کئی علاقوں میں عسکری حد بندی قائم کی، سرحدی استحکام کو ترجیح دی اور ہر محاذ پر بیک وقت غیر محدود پیش قدمی کی اجازت نہیں دی، جبکہ دوسری سمتوں میں ضرورت اور
۱۶/۲۲
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیصلہ ایک اعلیٰ درجے کا تزویراتی اور ریاستی اجتہاد تھا۔ ہر فتح کے بعد اگلی مہم شروع کر دینا دانش مندی نہیں ہوتی۔ ایک ذمہ دار ریاست پہلے مفتوحہ علاقوں میں نظم، عدل، رسد، مواصلات، دفاع اور انتظامی استحکام قائم کرتی ہے، پھر آئندہ توسیع کا فیصلہ کرتی ہے۔
۱۴/۲۲
قائم ہوا، انسانوں کو غلامی سے نکالا گیا اور توحید کا نور عام کیا گیا۔ لہٰذا یہ تصور کہ سیدنا عمرؓ نے ہندوستان کی سمت پیش قدمی اس لیے روک دی کہ وہاں منکرات زیادہ تھے، اسلامی تاریخ، فقہِ جہاد اور مقاصدِ شریعت تینوں کے سراسر خلاف ہے۔
درحقیقت سیدنا عمر بن خطاب
۱۳/۲۲
موجودگی ہی کسی خطے کو چھوڑ دینے کا معیار ہوتی تو سلطنتِ ساسانیہ اور سلطنتِ روم، جن میں شرک، ظلم، طبقاتی استحصال، جنسی بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط بدرجہ اتم موجود تھا، کبھی اسلامی ریاست کا حصہ نہ بنتیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے؛ اسلام انہی علاقوں میں پہنچا، وہاں عدل
۱۲/۲۲
فکر کا بنیادی اصول ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور ان کے وارثین کا مشن ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ اگر کسی علاقے میں منکرات کی کثرت ہو تو یہی چیز دعوتِ اسلام، اقامتِ عدل اور اصلاحِ معاشرہ کی ضرورت کو بڑھاتی ہے، نہ کہ اس سے فرار کا جواز بنتی ہے۔ اگر منکرات کی
۱۱/۲۲
ناقابلِ اصلاح معاشرے کی تصویر ہوتا، تو اسلامی لشکر کی آمد کے بعد عوامی فلاح، معاشی بحالی اور مظلوموں کی کفالت کو اس انداز سے کیوں بیان کیا جاتا؟ یہ اشعار واضح کرتے ہیں کہ اسلامی فتح کا مقصد محض عسکری غلبہ نہیں بلکہ امن، عدل، رزق اور انسانی وقار کا قیام تھا۔
یہ بھی اسلامی
۱۰/۲۲
علاقے کی جغرافیائی دشواری، رسد، پانی، خوراک، مواصلات اور فوجی استعداد ہے۔ یہ ایک سپہ سالار کی رپورٹ اور ایک خلیفۂ وقت کی عسکری مشاورت ہے، نہ کہ کسی معاشرے کی اخلاقی مردم شماری۔
اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت یہ ہے کہ روایت کے آخری حصے میں خود فاتحِ مکران، حکم بن عمرو
۸/۲۲
رضی اللہ عنہ کے اشعار نقل ہوئے ہیں، جن میں وہ فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ مکران کی بیوائیں اور محتاج لوگ لشکرِ اسلام کی آمد سے آسودہ ہوئے، قحط اور بھوک کے بعد ان کے گھروں میں رزق پہنچا، اور سردیوں کے دھویں سے خالی چولہے دوبارہ آباد ہوئے۔ اگر یہ خطہ صرف اخلاقی فساد اور
۹/۲۲
مفتوحہ علاقے کے استحکام پر توجہ دیں۔
اس پوری روایت میں کہیں ایک لفظ بھی ایسا موجود نہیں جس میں زنا، عورتوں پر ظلم، اخلاقی بے راہ روی، معاشرتی انحطاط یا انیس بیس سماجی برائیوں کا ذکر ہو۔ روایت کا پورا اسلوب ریاستی، عسکری اور تزویراتی ہے۔ گفتگو کا محور دشمن کی قوت،
۷/۲۲
لشکر کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، بلکہ اس سے آگے کے علاقے اس سے بھی زیادہ دشوار ہیں۔ اس پر سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ جب تک میں ذمہ دار ہوں، میرا کوئی لشکر مکران سے آگے نہیں بڑھے گا، اور حکم بن عمرو اور سہیل بن عدی کو لکھ بھیجا کہ دریا سے آگے پیش قدمی نہ کریں اور موجودہ
۶/۲۲
خطے کی جغرافیائی، عسکری اور معاشی کیفیت دریافت فرمائی۔ جواب میں اس نے عرض کیا کہ اس سرزمین کا ہموار حصہ بھی گویا پہاڑ ہے، پانی کم ہے، پھل ناقص ہیں، دشمن نہایت دلیر ہے، خیر کم اور مشکلات زیادہ ہیں، وہاں کثیر سامان بھی قلیل محسوس ہوتا ہے اور قلیل سامان کے ساتھ جانا اپنے
۵/۲۲
حکم بن عمرو التغلبي رضی اللہ عنہ نے مکران فتح کیا۔ فتح کے بعد انہوں نے خمس اور فتح کی خبر امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں روانہ کی اور آئندہ پیش قدمی کے متعلق رہنمائی طلب کی۔ قاصد، صحار العبدي، جب مدینہ پہنچے تو سیدنا عمرؓ نے حسبِ معمول اس
۴/۲۲