نوجوان جعلسازوں سے ہوشیاررہیں اور ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک جانے کیلئے قانونی طریقہ اپنائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کل پاکستان میں نوجوانوں سے لاکھوں روپے لیکر غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجنے کاگھناؤناکاروبار چل رہا ہے، ایساکاروبار کرنے والی مافیا بے روزگارنوجوانوں کو”ڈنکی“کیلئے کشتیوں میں بھرکرنامعلوم مقام پر بھیجتے ہیں، اس خطرناک سفرمیں کشتیاں سمندرمیں ڈوب جاتی ہیں اور بے گناہ نوجوان مارے جاتے ہیں۔دوسری طرف اعلیٰ تعلیم کیلئے نوجوانوں کو امریکہ، برطانیہ اوردیگرمغربی ممالک میں یونیورسٹیوں اورکالجوں میں داخلوں کاجھانسا دیاجاتا ہے کہ ہمیں اتنی رقم دے دو، ہم تمہارا داخلہ فلاں ملک کی فلاں یونیورسٹی میں کرادیں گے۔ غریب ومتوسط طبقے کے لوگ اپنی جمع شدہ پونجی ان جعلسازوں یا ان ایجنٹوں کے حوالے کردیتے ہیں جوکہ غریب نوجوانوں کی جمع پونجی لیکرغائب ہوجاتے ہیں اورپھربیرون ملک ملازمتوں اورداخلوں کاجھانسا دینے کے لئے دوسرے ایجنٹ آجاتے ہیں۔ ملک میں یہ گھناؤنا دھنداچل رہا ہے۔حکومت ملک میں ایمرجنسی لگانے، الطاف حسین اور عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں تو مصروف ہے لیکن قوم کے نوجوانوں کولوٹنے والے ان جعلسازوں کوپکڑنے کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ چند روز قبل بھی اسلام آباد میں ایک المناک واقعہ رونما ہوا کہ ایک بچی نے بیرون ملک کسی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے اپنی ماں کازیور اور والدین کی جمع پونجی فروخت کرکے بڑی رقم کسی ایجنٹ کو دی،بعد میں معلوم ہوا کہ اُس یونیورسٹی کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ اس بیٹی نے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی۔
میں تمام والدین اورنوجوانوں سے اپیل کرتاہوں کہ خداکے واسطے ایسے جعلسازوں اور نوسربازوں سے ہوشیاررہیں اوران کی باتوں میں آکر اپناگھرمت لٹوائیں۔غیرقانونی ذرائع استعمال کرکے نہ تو اپنی جان خطرے میں ڈالیں،نہ جعلسازوں کے ہاتھوں لٹ کر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھائیں کیونکہ ایساتباہ کن راستہ اختیارکرنے سے نہ صرف آپ بھی اپنی جان دیں گے اورآپ کے والدین زندگی بھرکاصدمہ اٹھائیں گے۔ آپ اعلیٰ تعلیم یاملازمت کیلئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں تو ضرور جائیں لیکن اس کیلئے جائز اورقانونی طریقے اختیارکریں، متعلقہ ملک کی ایمبسی سے رابطہ کریں، ان ممالک کے ویزے کی درخواست دیں، ضروری دستاویزات فراہم کریں اورقانونی طریقے سے بیرون ملک جائیں۔ مگرجعلسازوں سے ہوشیار رہیں اوران کے جھانسوں میں ہرگزنہ آئیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 485 ویں فکری نشست سے خطاب
16،اکتوبر2026ء
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ ایک المناک سانحہ ہے جس میں میڈیا اطلاعات کے مطابق 29 بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق ہوگئے۔ میں اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور زخمیوں کی صحتیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔
اس واقعے کی گحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر مٹھائیاں MQM نے نہیں بلکہ فوج کی بنائی MQM-P نے بانٹیں۔
گورنر راج کے نفاذ پر مٹھائیاں بانٹنا زرداری کو سپورٹ کرنا ہے
خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کا نفاذکرکے پختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کا خون کیا گیا ہے، یہ آمرانہ اقدام جمہوریت کےلئے ایک سیاہ اقدام ثابت ہوگا۔
پاکستان میں گزشتہ 79برسوں سے جمہوریت کاخون ہوتاچلا آیاہے، منتخب جمہوری حکومتوں کی کوئی قدرو منزلت نہیں ہے، ملک میں جمہوریت کے نام پر جوپارلیمانی سیاست ہورہی اس میں جمہوریت کےنام پر دو خاندانوں کی آمریت رائج ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کو شروع دن سے قبول نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول اورملک میں آئین وقانون کی بالادستی کے لئے لانگ مارچ نکالا تو ہر دور میں جمہوریت کا خون کرنے والی طاقتوں نے آج خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی منتخب حکومت اوراسمبلی کومعطل کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوران کے رفقا ء کوگرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اوران کے بارے میں کچھ نہیں پتہ چل رہاہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔
میں سوال کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کوبرطرف کرنے کی کیاوجہ ہے؟ اگر ہم ایک لمحےکے لئے یہ مان بھی لیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کررہی تھی، تو گزشتہ 20 برسوں سے آپ دہشت گردی کے خلاف مختلف ناموں سے ایک کے بعد دوسرااوردرجنوں آپریشن کرتے آئے ہیں، جس کے لئے پشتونوں کوان کے گھروں سے نکال کرآئی ڈی پیز بناکرخیموں میں رہنے پر مجبور کیاگیا، پھربھی آپ نے دہشت گردی کا صفایاکیوں نہیں کیا؟ بات یہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سہیل آفریدی جن مطالبات کے لئے لانگ مارچ کررہے تھے، جس کی حمایت میں لوگ اس میں شامل ہورہے تھے،اسی وجہ سے سہیل آفریدی کی حکومت کو برطرف کیا گیا ہے۔ وہاں گورنرراج اور ایمرجنسی ہی نافذ نہیں کی گئی بلکہ اب صوبے کوفوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اگر ایسے آمرانہ اقدامات کرکے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہاں امن قائم ہوگیا ہے، تویہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد کی اطلاع دیتی ہے۔ ان آمرانہ اورجابرانہ اقدامات کے نتیجے میں اب خیبرپختونخوا کا ہرپشتون یہ سوچنے پر مجبور ہےکہ کیا وہ پاکستان کاحصہ نہیں ہیں؟ کیا یہ ملک ہمارانہیں ہے؟ آخرہماراکیا قصور ہےکہ ہماری دوتہائی اکثریت سےمنتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے؟ ہم خیبر پختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کونہیں مانتے، میں فارم 47کی موجودہ حکومت اور اس کےسرپرستوں سے کہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت کوبرطرف کرکے وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کاآمرانہ اقدام فی الفور واپس لیا جائے، خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، صوبائی حکومت بحال کی جائے اوروہاں بھیجی گئی فوج کو واپس بلایا جائے۔
غیور پشتون عوام گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ظالمانہ اقدام کوکسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے، پشتون عوام صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے الزامات کوبھی مستردکرتے ہیں۔
ٓصدرآصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کی منتخب جمہوری حکومت کوختم کرنے کے فرمان پر دستخط کرکے خیبرپختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کاجوخون کیا ہے، پشتون عوام اس کونہیں بھولیں گے اوراس ظلم کاحساب لیں گے۔ پشتون عوام سمجھتے ہیں کہ تم ملک کے صدرنہیں بلکہ ایک ظالم وجابر ہواورظالموں کے بادشاہ ہو۔ گورنرراج اورایمرجنسی کےظالمانہ اقدام کی کہیں کوئی گنجائش نہیں ہے اورجولوگ اس جابرانہ اقدام کی حمایت میں آئین وقانون کی تشریح کررہے ہیں وہ ان درباری ملاؤں کی طرح ہیں جواپنے مطلب کےلئے قرآن کی آدھی آدھی آیات کی تشریح کرکے عوام کودھوکہ دیتے ہیں۔ایسے ہی ملاؤں نے سہیل آفریدی کوبھی دھوکہ دیا۔ اسی طرح آئین کی تشریح کرتے ہوئے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی گئی اور سپریم کورٹ اور دیگراعلیٰ عدالتوں کومفلوج کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ان کے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔سپریم کورٹ عمران خان کوشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن اس کے فیصلے کوبوٹوں تلے روند دیا گیا۔
میں خیبرپختونخوا کے پشتون عوام سے کہتا ہوں کہ آپ ان حالات سے مایوس نہ ہوں،اپنی صفوں میں اتحاد برقراررکھیں اور اپنے اتحاد سے اس ظلم وجبر کامقابلہ کریں۔ الطاف حسین حقوق کی جدوجہد میں پشتون عوام کے ساتھ ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 484 ویں فکری نشست سے خطاب
11 اکتوبر 2026ء
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
آصف زرداری نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے فرمان پر دستخط کئے ہیں، مستقبل میں ان کےہاں بھی گورنر راج نافذ ہوگا، بھٹو dynasty یا خاندانی حکمرانی کا خاتمہ ہوگا، نوازشریف dynasty کا بھی خاتمہ ہوگا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کو ختم کیا جائے
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذ عوام کی آواز کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کاایک ایساحربہ ہے جوآمرانہ ہتھکنڈوں کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان اس وقت کی صورتحال انتہائی نازک دور میں داخل ہوگئی ہے، اس نازک صورتحال میں ہر گزرتے ہوئے دن اورلمحے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہورہا ہے، خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس پر تحریک انصاف کاردعمل کیا ہوگا، خیبرپختونخوا کے عوام اس ظالمانہ اور غیرآئینی وغیرقانونی اقدام کو قبول کریں گے یانہیں؟ گورنر راج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق چھین لئے جائیں گے توخیبرپختونخوا کے عوام اس پر شعوری، فکری اورعقلی لحاظ سے کس طرح ردعمل کا اظہارکرتے ہیں؟
پاکستان میں یہ المیہ رہاہے کہ پاکستان میں کبھی جمہوری قوتوں کوپھلنے پھولنے اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں کئے گئے، عوامی امنگوں کے خلاف فیصلے کئے گئے جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، ملک دولخت ہوگیا، اب بلوچستان کی صورتحال آپ کےسامنے ہے، اگرگورنرراج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے خیبرپختونخوا میں بھی ایسی ہی صورتحال نے جنم لیا توکس کانقصان ہوگا؟بدقسمتی سے حکمراں طاقت کے نشے میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہر ایکشن کاری ایکشن ضرورہوتا ہے۔
میں یہی کہتا ہوں کہ طاقت کااستعمال کسی بھی جانب سے ہو، اگرحق اورسچ کی بات کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا میں یہ سمجھتاہوں کہ حکومت کوبات چیت کاراستہ اختیارکرنا چاہیے، صلح جوئی کا راستہ اختیارکرناچاہیے، نہ کہ ظلم کا راج نافذ کیا جائے، کیونکہ ظلم سے عوام کے دل جیتے نہیں جاتے، بلکہ اس سے عوام میں نفرتیں پیداہوتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر483 ویں فکری نشست سے خطاب
10 اکتوبر2026ء
آفتاب الدین بقائی مرحوم کا نام ایم کیوایم کی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، الطاف حسین
#AftabBaqaiRIP
میں ایم کیوایم کے سینئر بزرگ رکن اورایم کیوایم کی ایڈوائزری کونسل کے انچارج محترم آفتاب الدین بقائی مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پر ان کے صاحبزادوں اوردیگر تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ، آفتاب بقائی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آفتاب الدین بقائی صاحب کا نام ایم کیوایم کی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، انہوں نے اپنی گھریلو مشکلات، اپنی علالت کےباوجود نہ صرف جیل کی صعوبتیں برداشت کیں بلکہ متعدد بار چھاپوں اور گرفتاریوں کابڑی بہادری اورجرات کے ساتھ سامنا کیا اوروہ ہمیشہ تحریک کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیار رہتے تھے۔
میں پاکستان سمیت اوورسیز ممالک میں ایم کیوایم کے تمام وفاپرست ذمہ داروں، کارکنوں اورہمدردوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آفتاب بقائی مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پرمرحوم کے بلند درجات کیلئے اپنے اپنے اوورسیز یونٹوں، چیپٹروں، زونوں، سیکٹر اورعلاقائی یونٹوں میں دعائیہ اجتماعات منعقد کریں، مرحوم کو خراج عقیدت پیش کریں، ان کی روح ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کریں اورانہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
بہت بہت شکریہ
الطاف حسین
آفتاب الدین بقائی مرحوم کو پہلی برسی پر خراج عقیدت
8، اکتوبر2026ء
صوبہ KPK میں گورنر راج یاایمرجنسی کانفاذ اور یمن میں پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کے اقدامات خاکم بدہن سانحہ مشرقی پاکستان جیسے ایک اور سانحے کو جنم دینے کاسبب بن سکتے ہیں، الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کہنےکوایک آزاداورخودمختارملک ہےلیکن اگردیکھا جائے تو پاکستان نےامریکہ، یورپ اوربرطانیہ کے مفادات کیلئےکردارادا کیاہے، پاکستان کی فوج نے قیام پاکستان کے بعد سے آج تک جو کردار ادا کیاہے وہ ایک آزاد وخودمختار ملک کی افواج کےبجائے ایک غلام ملک کی فوج کی حیثیت سے کیاہے اورہمیشہ طاقتورممالک کے مفادات کیلئے کرائے کی فوج کاکردارادا کیاہے۔
فلسطینی آبادیوں پر اسرائیلی افواج کےحملوں میں فلسطینی بہت بڑی تعداد میں شہید وزخمی ہوئے اور زندہ بچ جانے والے فلسطینیوں نے اسرائیلی حملوں سے بچنے کیلئے ہجرت کی اور اردگرد کے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے، کچھ مصر، شام اور اردن چلے گئے جہاں انہیں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رکھاگیا تھا، تقریباً ایک لاکھ سے زائد فلسطینی اردن میں قائم کیمپوں میں رہ رہے تھے اورایک بڑے کیمپ میں چالیس سے پچاس ہزار فلسطینی مقیم تھے۔
1970ء میں بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے اردن کی سلطنت کو حکم نامہ ملا کہ اپنے ہاں سے فلسطینی عوام کو نکالو کیونکہ فلسطینی عوام قابض اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اوران پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ اردن کی فوج نے امریکہ سے درخواست کی کہ ہمارے پاس اتنی فورسز نہیں ہے اورہمیں فلسطینیوں کی بیدخلی کیلئے بڑی تعداد میں فوج درکارہے، اس درخواست پر امریکہ نے پاکستان کوحکم دیاکہ پناہ گزینوں کے کیمپ سے فلسطینیوں کو نکالنے کیلئے اردن کی فوج کی مدد کریں۔
امریکہ کے حکم پر پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کواردن کے کیمپوں سے نکالنے کیلئے جنرل ضیاء الحق (جواس وقت بریگیڈئیرتھے)کی سربراہی میں دوڈویژن فوج کواردن بھیجاتھا، پاکستانی فوج نے فلسطینیوں کے کیمپ کا گھیراؤکرکے اندھا 2/2دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 10 ہزارسے زائد فلسطینی بزرگ، خواتین، نوجوان اوربچے بچیاں شہید ہوگئے جبکہ فلسطینی تنظیمیں شہداء کی تعداد اس سے زیادہ بتاتی ہیں۔ اردن میں فلسطینیوں کے اس قتل عام کو”بلیک ستمبر“ کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام ستمبر1970ء میں کیاجاتا ہے اور اس قتل وغارتگری کانتیجہ یہ نکلا کہ دسمبر1971ء میں ایک لاکھ پاکستانی فوج کو بھارتی فوج کے آگے ہتھیارڈالنے پڑے اور پاکستان دولخت ہوگیا۔
1979ء میں امریکہ اورروس کے درمیان سردجنگ جاری تھی،1979ء میں افغانستان کی اُس وقت کی روس نواز حکومت کی درخواست پرروسی افواج افغانستان آجاتی ہے۔امریکہ نے روس کوافغانستان سے نکالنے کے لئے مذہب کاہتھیاراستعمال کیا، پاکستان کی فوج کو جہادکے نام پر شہریوں کوروس کے خلاف لڑنے کے لئے تیار کرنے کاحکم دیا۔ پاکستانی فوج امریکی مفادات کیلئے روس کے خلاف جہادی دستے تیارکرتی ہے اور اس کامرکز صوبہ خیبرپختونخوا کو بناتی ہے، جہاں جنگی تربیت کے مراکزقائم کئے جاتے ہیں، پاکستان بھر میں تیزی سے جہادی مدرسے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں، افغانستان کے نوجوانوں کو بھی روس کے خلاف جہاد کے نام پرلڑنے کے لئے ٹریننگ کے لئے افغانستان بھیجا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان بنائی جاتی ہے۔ امریکہ 20 سال افغانستان میں رہنے کے بعد واپس چلاجاتا ہے لیکن اس کاخمیازہ افغانستان اورپاکستان کے عوام کوبھگتنا پڑا،ملک میں دہشت گردی کابازارگرم ہوگیا، جن طالبان کوپاکستان کی فوج نے بنایاانہی طالبان کے خلاف فوج نے خیبرپختونخوا میں 30 سے زائد آپریشن کیے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں کئے گئے فوجی آپریشن اورڈرون حملوں میں ایک لاکھ سے زائد پشتون عوام مارے گئے،آج بھی فوجی آپریشن کیاجارہاہے۔ہم امریکی مفادات کے تحفظ میں روس کی جنگ میں شامل ہوکرآج تک اس جنگ سے نکل نہیں پائے ہیں، 30 فوجی آپریشن کے باوجود طالبان کو ختم نہیں کرسکے اوراب پاکستان نے سعودی عرب میں یمنی حوثیوں کے خلاف اپنی فوج بھیج چکاہے اور حوثیوں کے خلاف پاکستانی ائیرفورس کوبھی استعمال کیا جارہاہے۔
سعودی عرب،پاکستان اورترکیہ کے درمیان ”مکہ معاہدہ“ طے پاچکا ہے، اس معاہدے کے باوجود ترکیہ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کرکے ترکی کے صدرکوپابند کردیا ہے کہ ترکیہ کی فوج کو سعودی عرب نہیں بھیجاجائے گا لیکن پاکستان کی فوج کوسعودی عرب بھیج دیاگیا ہے اورمزیدافواج کوبھی بھیجاجارہاہے۔ ہم نے غیرملکی طاقتوں کے مفادات کے لئے پہلے اردن میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی فوج کو بھیجا،پھرعالمی طاقتوں کے مفاد کی جنگ میں افغانستان میں اپنی فوج اورشہریوں کوجھونکا اوراب یمن کے خلاف جنگ کے لئے اپنی فوج سعودی عرب بھیج رہے ہیں۔ خدا کیلئے پاکستان کی فوج کوکرائے کی فوج کے طورپر دوسرے ممالک بھیجنے کاسلسلہ بند کیاجائے۔
1/2
خبریں آرہی ہیں کہ حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنرراج یاایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہےاور اس سلسلےمیں آج اسلام آباد میں اجلاس بلا لیا گیا ہے، میں ان خبروں پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانوں کومتنبہ کرتاہوں کہ اگر آپ نےخیبر پختونخوا میں گورنرراج نافذ کیا یا ایمرجنسی لگانے کا کوئی بھی جارحانہ و ظالمانہ اقدام کیا تو آپ کا ایسا اقدام خاکم بدہن کہیں سانحہ مشرقی پاکستان کی طرح ایک نئے سانحے کو جنم دینےکا سبب نہ بن جائے۔لہٰذا میں حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اس طرح کے کسی بھی ظالمانہ اقدام سے بازرہیں۔
حکمرانوں کوسمجھنا چاہیے کہ آج پورے ملک کے عوام خصوصاً نوجوان نسل بہت باشعور اوربیدار ہے، پہلے ملک میں ایک ٹی وی ہوا کرتا تھا اور عوام سے حقائق چھپائے جاتے تھے، آج ہرشخص کے ہاتھ میں ٹی وی ہے، سوشل میڈیا ہے، اے آئی ہے، آج کے عوام کوظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا۔
ملک کے کئی حصوں میں پہلے ہی آگ بھڑکی ہوئی ہے لہٰذا میں خبردار کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی جیسا ظالمانہ اقدام کرکے ملک میں مزید انتشار کی آگ نہ بھڑکائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 482ویں فکری نشست سے خطاب
9 اکتوبر 2026ء
حکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنرراج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔
لانگ مارچ کوطاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی توخدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے مزاحمت ہوگی ۔ الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اب واقعتا ایک ایسے نازک موڑ پر آگیا ہے کہ یہاں ہوشمندی سے کام نہ لیا گیا اور اس موڑ سے احتیاط سےنہ گزراگیا تویہ ملک کی سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔تحریک انصاف نےلانگ مارچ ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین وقانون کی بالادستی، پارلیمنٹ اورعدلیہ کے احترام اور ملک میں انصاف کے حصول کے لئے شروع کیا ہے لیکن اس پرموجودہ حکومت پاکستان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوجس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے، سہیل آفریدی، ان کی کابینہ کے ارکان کو افغانستان، انڈیااوراسرائیل سے جوڑ رہے ہیں، ان پر جس طرح ملک دشمنی کے سنگین الزامات لگائے جارہے ہیں اورخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی جو دھمکیاں دی جارہی ہیں، دوسرے لفظوں میں پشتونوں کوملک دشمن قراردیا جارہا ہے، یہ صورتحال ملک کے لئے کسی بھی طرح درست نہیں ہے بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ میں اس پر حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ اس وقت پاکستان جوسنگین صورتحال درپیش ہے اگرایسے میں لانگ مارچ کے جواب میں خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی اور لانگ مارچ کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو خدشہ ہے کہ پشتونوں کی جانب سے ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت ہوگی،اس سے پاکستان کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے، لہٰذامیراحکمرانوں کو مشورہ ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی باتیں چھوڑیں، سہیل آفریدی سے بات کریں۔
اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمراں خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ تسلیم کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا اورپشتونوں کے بارے جس طرح کی دھمکی آمیز زبان استعمال کررہے ہیں اس سے خیبرپختونخوا کے پشتونوں میں جوجذبات پیدا ہورہے ہیں، اسی کی روشنی میں سہیل آفریدی نے یہ متنبہ کیاہے کہ اگر پشتونوں کے خلاف ایسا ہی عمل کیاجاتارہا تو ہماری نسلیں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگائیں گی اورقومی ترانے کے احترام میں نہیں کھڑی ہوں گی۔لہٰذا حکمرانوں کوحالات کی اس نزاکت اور سنگینی کااحساس کرناچاہیے اوریہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چاہے انڈیا کے خلاف جنگ ہویاروس اورامریکہ کےدرمیان افغان جنگ ہو، پشتونوں نے ہردورمیں ہمیشہ پاکستان اور فوج کاساتھ دیاہے،آج جن طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، وہ طالبان قبائلی پشتونوں نے نہیں بنائے بلکہ ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بنائے تھے، پشتونوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ڈی پیز بنکر خود مشکلات سامنا کیا۔
پی ٹی آئی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور رہنماؤں کالانگ مارچ سے الگ تھلگ رہنا قابل غورہے،انہیں چاہیےکہ وہ ملک میں جمہوریت کی بقا،عدالتی نظام کی بحالی اورانصاف کے نظام کے لئے اس میں بھرپورشرکت کریں اور اگرشامل نہیں ہوناچاہتے توپھر شرافت کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیدیں۔
خیبرپختونخوا کے جوعوام اس مقصد کے لئے گھروں سے نکلے ہیں میں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں اوران کی کامیابی کے لئے دعاگوہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر ہنگامی 481ویں فکری نشست سے خطاب
5 اکتوبر 2026ء
فیلڈمارشل عاصم منیر، کورکمانڈرز اور آپریشنل کمانڈرزسمیت فوج کے تمام جرنیلوں کے لئے میراپیغام ہےکہ پاکستان کی تباہی وبربادی کاسبب ملک میں رائج کرپٹ سسٹم ہے،اس سسٹم کوتبدیل کریں،اس کے لئے سب سے بات کریں، عمران خان سے بات کریں، الطاف حسین سے بات کریں،جہاں تک الطاف حسین کاتعلق ہے تو مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے، مجھے نہ صدر بنناہے، نہ وزیراعظم بننا ہے، میں ملک کے نہیں کرپٹ سسٹم کے خلاف ہوں، میں پاکستان میں سسٹم کی تبدیلی چاہتا ہوں، میرٹ کانظام چاہتاہوں، میں ملک میں ایسامنصفانہ نظام چاہتاہوں جس میں تمام عوام کو ان کے حقوق حاصل ہوں، سب کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہو اور امیرو غریب کے امتیازسے بالاتر ہوکرعوام کی عزت نفس کا احترام کیاجاتا ہو، ملک میں سسٹم کی بہتری کے لئے، ملک کو یکجا کرنے، ملک کو ترقی دینے اور کرپشن سے نجات دلانے کے لئے میرے جو نکات بہتر لگتے ہوں، ان کومان لیں جو بہتر نہ لگیں ان پر بحث کرلیں۔
پاکستان 1947ء میں بظاہرآزادہوالیکن وہ عالمی طاقتوں کی گیرژن اسٹیٹ بن گیا، آج بھی ہماری فارن پالیسی امریکہ سے آتی ہے، میں حکمرانوں اورتمام فوجی جرنیلوں سے کہتاہوں کہ آپ امریکہ اور عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لئے کام کرنے کے بجائے پاکستان اورعوام کی بہتری کاسوچیں، عوام کے مفاد کے لئے کام کریں، ملک کو چوروں ڈاکوؤں سے نجات دلائیں۔ ملک میں صاف وشفاف الیکشن کرائے جائیں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کوالیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ہو، عوام کوآزادانہ ووٹ ڈالنے اور اپنے من پسند نمائندوں کومنتخب کرنے کی آزادی ہو، عوام عمران خان کواپنامینڈیٹ دیں یاجس کسی کوبھی مینڈیٹ دیں، اقتدار اس کے حوالے کردیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر481ویں فکری نشست سے خطاب
“The Pakistan Tehreek-e-Insaf’s decision to postpone its September 27 long march reflects the party’s severe political and organizational crisis.” — Altaf Hussain
#PTILongMarch
When the leaders of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) including the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi, announced in the first week of August that a long march would be held on September 27, I wondered whether it was a wise decision to announce the date so far in advance. I did not see any preparations for the long march, and during several of my previous intellectual sessions, I repeatedly raised this question before the public: Would PTI actually hold the long march on September 27 or not?
When Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister @SohailAfridiISF visited Sindh and, after travelling through various cities, reached Karachi, he did not hold the public gathering on Shahrah-e-Quaidin in Karachi that PTI had previously announced as part of its scheduled programme. No explanation was given to the public for the cancellation of that event. During my study circle, I repeatedly asked PTI workers and the public whether, in these circumstances, the long march would actually take place, so that they could consider the situation themselves.
Despite having announced the date well in advance, no visible preparations for the long march were made by PTI. At the same time, the government continued taking measures aimed at preventing the march. There were reports of the arrests of Imran Khan’s sisters and incidents involving the alleged abduction of @PTIofficial members of provincial assemblies and party office-bearers. Measures were also taken to block routes leading to Islamabad. Yet PTI did not appear to mount an effective response to these developments, and its silence created an unusual sense of tension.
Even after the Supreme Court had issued clear directions concerning Imran Khan’s transfer to Al-Shifa International Hospital, he was not transferred there, and the entire PTI leadership remained silent on the matter.
Finally, PTI postponed the long march scheduled for September 27 and announced that it would now be held on October 4. I believe that the decision to postpone the long march, together with PTI’s current situation, reflects the party’s severe political and organizational crisis.
I ask PTI workers and supporters to put their hands on their hearts and seriously consider whether the conduct of the present PTI leadership will help secure the release of Imran Khan, who has been imprisoned for three years, or whether it will instead strengthen the position of those who are keeping him in prison for a prolonged period.
Since November 26, 2024, the PTI leadership has not organized any strike, protest, or other effective form of protest in response to the situation. The protest programmes announced for the workers proved ineffective. Initially, workers were asked to climb onto rooftops and recite the Azaan as a form of protest. In other words, religion was brought into the protest programme. Later, PTI workers were asked to recite a poem by Habib Jalib as a form of protest. They were subsequently told to switch off their lights at 9 p.m. as a symbolic act of protest.
After a long period, PTI finally announced a long march for September 27, but even that was postponed just three days before the scheduled date.
Decisions of this nature are contributing to a situation in which Imran Khan could face illness and an even longer period of imprisonment. If Imran Khan’s life is put at risk during such a prolonged imprisonment, what will happen then?
As a political worker, I believe that the PTI leadership currently has neither a clear programme nor a coherent political narrative, nor does it appear to have an effective strategy for responding to the government’s actions against it. Its decision-making appears to reflect a lack of political foresight and commitment to its stated objective, as well as fear, hesitation and uncertainty.
1/2
الطاف حسین کے علاوہ پاکستان کے کسی اور لیڈرکا نام بتائیں جومڈل کلاس گھرانے سے نکلا ہو اورملک کی تیسری بڑی پارٹی بنائی ہو۔
کوئی الطاف حسین جیسا ہو تو سامنے لائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الطاف حسین 40سال پہلے فوج کے کرپٹ جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اورآئین وقانون کے خلاف اقدامات پر آوازاٹھاتا تھا تو اس وقت پنجاب کےلوگوں نے الطاف حسین کی بات کونہیں سمجھا بلکہ اسے ملک دشمن اورفوج مخالف قراردیا گیا اور طرح طرح کے الزامات لگائے لیکن آج جب وہی باتیں کرنے پر عمران خان پرایسے ہی الزامات لگائے جارہے ہیں تو کہا جارہا ہے کہ یہ الزامات غلط ہیں۔ آخریہ کیا سوچ ہے کہ الطاف حسین پر لگائے گئے الزامات درست اورعمران خان پر وہی الزامات غلط ہیں؟
میں سوال کرتاہوں کہ الطاف حسین کے علاوہ پاکستان کے کسی اور لیڈرکا نام بتائیں جومڈل کلاس گھرانے سے نکلا ہو، اس نے ٹیوشن پڑھاپڑھا کر، اسٹال لگا کر اپنی تعلیم مکمل کی ہو، جس نے اتنی بڑی پارٹی بنائی ہو،محنت مزدوری کی ہو، فیکٹریوں میں کام کیا ہواورگلی گلی جاکررات دن کی محنت سے اپنی پارٹی کوپھیلایا ہو، اسے ملک کی تیسری بڑی پارٹی بنایا ہو؟ الطاف حسین کے علاوہ کسی اوردوسرے لیڈر کا نام بتائیں کہ جس نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کوہی اسمبلیوں میں بھیجاہو، جونہ خود اسمبلی کاممبر بنا ہو اور نہ اپنے بہن بھائیوں کواسمبلیوں میں بھیجا ہو؟ نوازشریف اورآصف زرداری زندہ ہیں، ان سے پوچھ لیں کہ الطاف حسین نے کبھی اپنے لئے ایک گززمین یاکوئی پائی پیسہ لیا، کبھی اپنے یااپنے خاندان کے لئے کچھ مانگا؟ کوئی الطاف حسین جیساہو تو سامنے لائیں۔
الطاف حسین ملک میں رائج فرسودہ کرپٹ سسٹم کوبدلنے آیاتھا، اس نے ملک بھر میں اپنے پیغام پھیلایا، تمام قوموں کے لوگوں کوگلے سے لگایااورایم کیوایم کوپورے ملک میں پھیلانے کی کوششیں شروع کیں توفوج نے ایم کیوایم کے خلاف بھرپورآپریشن شروع کردیا جوآج تک جاری ہے۔
میں ایم کیوایم میں واحد تھا جو پارٹی کو پارلیمانی سیاست میں لے جانانہیں چاہتاتھا لیکن مرکزی کمیٹی کے اصرار پر پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کافیصلہ کیا، مجھے معلوم تھا کہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست انتہائی گندی اوردلدل ہے،میں نے اپنی مرکزی کمیٹی کو سمجھایا تھا کہ تم جس کوبھی اسمبلیوں کے ایوانوں میں بھیجوگے، اس کو کھودو گے،کیونکہ پاکستان کے پارلیمانی ادارے گندے اوردلدل کےادارے ہیں جو بظاہر صاف نظرآتے ہیں لیکن جو اس میں گیا وہ گند اوردلدل میں پھنس گیا، میں نے کسی کو صاف نہیں دیکھا۔اس میں میرے اپنے لوگ بھی شامل ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر473 ویں فکری نشست سے خطاب
26 ستمبر 2026ء
پاکستان میں غیریقینی کی صورتحال تشویشناک ہے۔کہا جارہا ہے خیبرپختونخوا
میں اسمبلی معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا جارہا ہے ۔
پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کارکنوں کے ساتھ مذاق بند کرے، غیریقینی صورتحال کا خاتمہ کرے ۔
تاریخ تاریخ ہوتی ہے جس کوجھٹلایا نہیں جاسکتا اورتاریخ یہ ہے کہ مہاجروں کے ساتھ نفرت اورتعصب برتا گیا، مہاجروں کے ساتھ نفرت آج کی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ اسی نفرت اور تعصب نے مہاجروں میں اِس سوچ کوجنم دیا کہ پاکستان ایک دھوکہ ……پاکستان ایک غلطی …… پاکستان ایک جرم……پاکستان ایک سزا ……پاکستان ایک گناہ ہے۔
یہ بات صرف ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے اردو بولنے والے مہاجروں کے لئے ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کے لئے سوچنا ہوگا کہ ہم نے کیا کھویا اورکیا پایا؟ اس حوالے سے تفصیلی حقائق جاننے کے لئے میری کتاب ” پاکستان کی آزادی کے پچاس برس …… کیا کھویا، کیا پایا “ موجود ہے۔
یہ جرم، یہ گناہ اور سزاصرف ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے لئے ہے۔ تحقیق کرلی جائے کہ جب غیرمنقسم ہندوستان میں 1945-46ء میں مرکزی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے توہندوستان کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کوکہاں کہاں کامیاب کرایا۔ اس میں مشرقی پاکستان کوایک طرف رکھ دیجئے کیونکہ وہ اب پاکستان سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں 1945-46ء میں سینٹرل اورصوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے تو جہاں پاکستان بنا، یعنی موجودہ پاکستان کے علاقوں میں آل انڈیا مسلم لیگ کوملنے والی نشستوں کی تعداد 8 تھی اورجہاں پاکستان نہیں بنا وہاں آل انڈیا مسلم لیگ کو مرکزی قانون سازاسمبلی کی22 نشستیں ملیں۔ کیا یہ دھوکہ نہیں کہ جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کو 22 نشستیں ملیں وہاں پاکستان نہیں بنا اور جہاں 8 نشستیں ملیں وہاں پاکستان بنایا گیا؟ کیا یہ ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ نہیں؟ کیا یہ سزا نہیں؟ کیا یہ جرم نہیں؟
تمہارا جرم یہ ہےکہ تم نے آل انڈیا مسلم لیگ کو زیادہ ووٹ کیوں دیے؟ یہ تمہاری سزا ہے کہ تمہاری نشستیں زیادہ ہیں لیکن تمہارے علاقوں میں تمہیں پاکستان نہیں دیں گے۔ تمہارا گناہ یہ ہے کہ جب تمہیں 22نشستیں ملی تھیں توتم نے 8 نشستوں والے پاکستان کوقبول کیوں کیا؟ یہ گناہ نہیں ہوا تو پھر کیا ہوا؟
جہاں مسلم لیگ کو22 نشستیں ملیں آپ نے ان تمام مسلمانوں کوبھارت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا، یہ ان کے ساتھ دھوکہ اورفراڈ نہیں تھا توکیا تھا؟ یہ ظلم نہیں تھا، ناانصافی نہیں تھی توکیا تھا؟
آج پاکستان کے ماما وہ بنے پھرتے ہیں جواُس وقت انگریزوں کے جوتے صاف کررہے تھے۔
محصورین بنگلہ دیش:
قیام پاکستان کے بعد جومہاجرہندوستان سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں آباد ہوئے جنہیں بہاری کہا جاتا ہے، جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک چلی تو انہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا، پاکستان کوبچانے کے لئے 1971ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کا شانہ بشانہ ساتھ دیا، جس کی پاداش میں وہ مہاجرلاکھوں کی تعداد میں گاجرمولی کی طرح کا ٹ دیے گئے لیکن جب سقوط ڈھاکہ ہوا، پاکستان کی فوج نے ہتھیارڈال دیے اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکربنگلہ دیش بن گیا، پاکستان کی فوج تو انڈیا میں قیدرہ کر دوسال بعد پاکستان واپس آگئی لیکن پاکستان کا ساتھ دینے والے ان مہاجروں کو 55سال گزرجانے کے باوجود آج تک پاکستان نہیں لایا گیا، وہ آج بھی بنگلہ دیش میں ریڈکراس کے کیمپوں میں محصور ہیں، وہ کیمپوں میں سسک رہے ہیں پھربھی ان کے کیمپوں پر آج بھی پاکستان کے پرچم لگے ہوئے ہیں۔ کیا ریڈکراس کے کیمپوں میں ان مہاجروں کی سسکتی ہوئی زندگیاں پاکستان پر، پاکستان کی فوج کے منہ پر ایک بھرپور طمانچہ نہیں کہ وہ پاکستانی فوجی جنہوں نے 1971ء کی جنگ میں ہتھیارڈالے وہ دو سال میں وطن واپس آگئے اور جنہوں نے پاکستان کی خاطر بنا ہتھیار فوج کا ساتھ دیا، انہیں پاکستان واپس نہیں لایا گیا، پاکستان آنے کی راہ تکتے تکے ان کی کئی نسلیں دنیا سے چلی گئیں اورموجودہ نسلیں آج تک ریڈکراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ ہم نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے جوبھی تحریری معاہدے کئے ان میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کا نکتہ شامل تھا لیکن کوئی حکومت ان پاکستانیوں کووطن واپس نہیں لائی۔اگر پاکستان کوبچانے کے لئے لازوال قربانیاں دینے والے ان مہاجروں کوپاکستان واپس نہیں لایا گیا تویہ پاکستان قائم نہیں رہے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 474 ویں فکری نشست سے خطاب
27 ستمبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے27 ستمبر کےلانگ مارچ کوملتوی کرنا، تحریک انصاف کے شدید سیاسی اور تنظیمی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ الطاف حسین
#PTILongMarch
جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنمااور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اگست کے پہلے ہفتہ میں 27ستمبر کو لانگ مارچ کااعلان کیا تومجھے یقین نہیں آیا کہ لانگ مارچ کے لئے اتنی لمبی تاریخ دینا درست فیصلہ ہے؟ اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کسی قسم کی تیاری دیکھنے میں نہیں آئی اورمیں اپنی گزشتہ کئی فکری نشستوں میں عوام کے سامنے یہ سوال رکھتا رہا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کادورہ کیا اوروہ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچے تو پی ٹی آئی کے اعلان اورطے شدہ پروگرام کے باوجود انہوں نے کراچی میں شاہراہ قائدین پر جلسہ نہیں کیا جس کے بارے میں عوام کوکچھ نہیں بتایا گیا۔ میں اپنی فکری نشستوں میں PTI کے کارکنوں اور عوام سے باربار یہ سوال کرتا رہا کیا ایسی صورتحال میں لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ تاکہ وہ اس بارے میں غوروفکرکرسکیں۔ اتنی لمبی تاریخ ہونے کے باوجودتحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی کوئی تیاری نظر نہیں آئی، دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس لانگ مارچ کوروکنے کے لئے جارحانہ اقدامات کئے جاتے رہے،عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کواغوا کرنےکے واقعات بھی ہونے لگے،اسلام آباد آنےوالے راستوں کو بندکرنے کے اقدامات بھی ہوتے رہے مگراس پر تحریک انصاف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیااوراس کی خاموشی نے ایک عجیب تناؤپیدا کردیا۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیااوراس پر بھی تحریک انصاف کی پوری قیادت مکمل خاموش رہی۔
بالآخر تحریک انصاف نے آج 27ستمبر کے لانگ مارچ کومؤخرکردیااور اعلان کیا گیا ہے کہ اب 4 اکتوبرکولانگ مارچ کیاجائے گا۔ میں سمجھتاہوں کہ لانگ مارچ کوملتوی کرنے کا فیصلہ اورتحریک انصاف کی موجودہ صورتحال اس کے شدید سیاسی بحران اور تنظیمی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اورہمدردوں سے سوال کرتاہوں کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کایہ طرز عمل تین سال سے جیل میں قید عمران خان کی رہائی میں معاون ومددگار ثابت ہوگا یا انہیں طویل عرصہ تک قید میں رکھنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا؟
صورتحال کے حوالے سے پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے 26 نومبر2024ء کے بعد کوئی ہڑتال، احتجاج یا کسی قسم کا مؤثراحتجاج نہیں کیا گیا۔کارکنوں کو جو احتجاجی پروگرام دیے گئے وہ قطعی بے اثر تھے، پہلے کارکنوں کو پہلا احتجاجی پروگرام دیا گیا کہ وہ چھتوں پر چڑھ کر اذان دیں، اس طرح انہیں مذہب کا چورن دیا گیا، پھر اعلان کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان بطور احتجاج حبیب جالب کی نظم پڑھیں، پھر کہا گیا کہ احتجاج کے طورپر رات 9بجے لاٹیں بند کریں۔ بڑے عرصہ بعد27 ستمبرکو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن اسے بھی تین روزقبل ملتوی کردیا گیا۔اس قسم کے فیصلے عمران خان کوبیماریوں اورمزیدلمبی قید کی طرف لے جانے کاعمل ہے۔اگر لمبی قید کے دوران عمران خان کی زندگی کوکوئی نقصان پہنچا تو کیا ہوگا؟
ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی قیادت کے پاس نہ کوئی پروگرام ہے، نہ بیانیہ ہے اور نہ ہی حکومت کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی کوئی حکمت عملی موجود ہے۔ ان میں سیاسی تدبر کی کمی، مقصد سے عدم دلچسپی، فیصلوں میں بزدلی، خوف اور گھبراہٹ کا عنصر نظرآتاہے۔ اس تمام تر سیاسی کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کے ان کارکنوں کا ہورہا ہے جوجذبے سے بھرپوراورسڑکوں پر نکلنے کے لئے بے چین تھے، اب وہ شدیدمایوسی اور اضطراب کاشکارہیں۔
حالانکہ میں نے پی ٹی آئی والوں کومخاطب کرتے ہوئے احتجاج کے حوالے سے یہی کہا تھا کہ ” اگر ابھی نہیں توپھر کبھی نہیں“۔
اس دوران حکومت کے وزرا اوررہنماؤں کی جانب سے بھی جوبیانات دیے گئے وہ بھی افسوسناک ہیں، وفاقی وزیراطلاعات عطاء تارڑ تو ایک موقع پر تحریک انصاف پر تنقید کرتے کرتے شدت جذبات میں اتنے آگے نکل گئے کہ انہوں نے تحریک انصاف کی پختونخواہ کی قیادت کوللکارتے ہوئے پشتون قوم کوہی گالی دیدی اوریہ کہاکہ ”یہ کس مٹی کے لوگ ہیں“۔عطاتارڑجواب دیں کہ پشتون اگراس مٹی کے نہیں تو پھر کس مٹی کے ہیں؟ مجھے حیرت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس بات کانوٹس نہیں لیا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 472 ویں فکری نشست سے خطاب
25 ستمبر 2026ء
میں پاکستان کو دنیا کا ایک مضبوط ترین ملک دیکھنا چاہتا ہوں ۔
I want to see Pakistan as one of the strongest nation of the world. Altaf Hussain
#17SepBirthdayOfAltafHussain
I do not oppose the military; I oppose a system that is unfair and harsh. Altaf Hussain
#17SepBirthdayOfAltafHussain
I have never been opposed to individuals. My opposition is directed towards a system that is unfair and suppressive. I do not have a problem with the military. I think all nations require a military for protection, and Pakistan is no exception. However, the military is acting outside of its legal boundaries, with military personnel placed in different roles that should be occupied by civilians. The whole framework of the nation is being controlled by army leaders.
There is no true democracy in Pakistan; instead, it is controlled by the military, which holds significant power. In the UK, regular people are often unaware of who the army leader is, but here, even kids are familiar with the names and backgrounds of the army leader and other important military figures.
Army leaders take part in political matters as well. I do not oppose the military itself; I oppose their involvement in political activities. I stand against dishonest politicians, wealthy landowners, and untrustworthy army leaders. When I criticized the military and government agencies meddling in politics, people labeled me as someone against the army and a traitor to the nation. I faced backlash from Punjab, Kashmir, and the whole country.
In 1992, the Army Chief at that time, General Asif Nawaz, organized a military action aimed at the MQM.
To mislead the country, a list of 72 important targets was created. This list did not include Altaf Hussain, his siblings, or any leaders from his party, MQM. Instead, it featured Asif Zardari, close friends of Benazir Bhutto, the deceased Ghulam Mustafa Jatoi, the late Pir Pagara, and other well-known landowners. The public was informed that a military action would take place in Sindh to target serious criminals, kidnappers demanding money, and the powerful people who supported them.
I had clearly communicated my worry that the mission would truly target the MQM. My worry turned out to be accurate, and on June 19, 1992, the military action aimed at the MQM began.
Throughout the mission, it was reported that thousands of MQM members were reportedly killed without legal process, and many others were said to have vanished. Numerous missing individuals have not been found in many years and continue to be unlocated today.
The remark made by ex-Federal Interior Minister Chaudhry Shujaat Hussain is documented, indicating that MQM members were murdered and laid to rest in the Margalla Hills of Islamabad.
While the operation was happening, the army would surround whole neighborhoods, force the young and old out of their houses, take off their shirts, and gather them in large open areas like groups of livestock. Throughout this time, it was claimed that women faced mistreatment inside their homes, similar to what occurred in East Pakistan.
When the campaign against the MQM was taking place and our members were being killed, people in Punjab and Khyber Pakhtunkhwa celebrated and shouted praises for the Pakistan Army. After the events of May 9, when PTI supporters in Punjab began to be arrested, they claimed that their party was facing harsh treatment.
I believe that even a small fraction of what the MQM and the Muhajirs went through has not happened to PTI workers in Punjab. How many PTI leaders, party officials, and workers lost their lives? How many people went missing?
I aimed to transform the dishonest political system in Pakistan, and I still wish for improvements in the current way of governing. I want to free Pakistan from the powerful landowners and local rulers. I desire a system where every person has the same rights, no matter their faith or beliefs.
Altaf Hussain.
London. UK.
Public address on his 73rd birthday in London via TikTok on September 19, 2026.
میں فوج کے خلاف نہیں، غیرمنصفانہ اور ظالمانہ سسٹم کے خلاف ہوں۔ الطاف حسین
#17SepBirthdayOfAltafHussain
میں کبھی کسی کے خلاف نہیں تھا، میں غیرمنصفانہ اورظالمانہ سسٹم کےخلاف تھا، میں فوج کے خلاف نہیں، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں ہر ملک کے دفاع کے لئے فوج کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں بھی فوج ضروری ہے لیکن وہ اپنے آئینی دائرہ کار سے باہررہ کرکام کررہی ہے، تمام اداروں پر سویلین کے بجائے فوج کے افسران متعین ہیں۔ملک کا پورانظام فوج کے حکام کے ماتحت ہے۔ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy)ہے یعنی ملک، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ذریعےچلایا جارہاہے۔برطانیہ میں شہریوں کواپنے آرمی چیف کانام تک معلوم نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں آرمی چیف سے لیکرتمام اہم عہدوں پر فائزفوجی حکام کے نام اور تفصیلات بچے بچے کومعلوم ہوتی ہیں۔ فوج کے جرنیل سیاسی معاملات میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔میں فوج کے خلاف نہیں، فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہوں، میں کرپٹ سیاستدانوں، فیوڈلزاورکرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں،جب میں نے سیاست میں فوج اور سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف بات کی تومجھے فوج کا مخالف اور ملک دشمن قراردیدیا گیا۔ پنجاب، کشمیر پورا ملک میرے مخالف ہوگیا۔ 1992ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نوازنے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کا منصوبہ بنایا، قوم کودھوکہ دینے کے لئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست تیار کی، اس فہرست میں الطاف حسین یااس کے بھائیوں بہنوں یا ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے نام نہیں تھے بلکہ آصف زرداری، بینظیر کے کامدار، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم، پیرپگارا مرحوم اور دیگربڑے بڑے وڈیروں کے نام تھے اورقوم کو یہ بتایا گیا کہ سندھ میں بڑے بڑے ڈاکوؤں، اغوا برائےتاوان کی وارداتیں کرنے والوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں کے خلاف فوجی آپریشن کیاجائے گا۔جبکہ میں نے واضح الفاظ میں اس خدشےکااظہار کردیا تھا کہ یہ آپریشن اصل میں ایم کیوایم کے خلاف ہوگا۔میری بات سچ ثابت ہوئی اورفوج نے 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا۔اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، سینکڑوں کو لاپتہ کردیا،بہت سےلاپتہ کارکنان کئی برسوں سے آج تک لاپتہ ہیں۔سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین کابیان ریکارڈ پر ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کومارکراسلا م آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفن کردیاگیا تھا۔ آپریشن کے دوران فوج پورے پورے علاقوں کے محاصرے کرکے نوجوانوں اور بزرگوں کو گھروں سے نکال کران کی قمیضیں اتار کر انہیں بھیڑبکریوں کی طرح میدانوں میں جمع کرتی اوراس دوران گھروں میں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی، جیسامشرقی پاکستان میں کیا گیا تھا۔
جب ایم کیوایم کےخلاف آپریشن ہورہا تھا اورہماری لاشیں گرائی جارہی تھیں تو پنجاب اورخیبرپختونخوا میں لوگ خوشیاں منارہے تھے اورپاک فوج زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ جب 9مئی کے واقعے کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کےکارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں توپی ٹی آئی والوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پر بہت ظلم ہورہا ہے۔میں کہتاہوں کہ جتنا ظلم ایم کیوایم اورمہاجروں کے ساتھ ہواہے اس کا پانچ فیصد بھی پنجاب میں پی ٹی آئی والوں پر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے کتنے لیڈر، پارٹی ذمہ داران اورکارکنان شہید کئے گئے؟ کتنے لوگ لاپتہ کئے گئے؟
میں پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کو تبدیل کرناچاہتا تھا اورآج بھی موجودہ کرپٹ سیاسی نظام حکومت کی تبدیلی چاہتاہوں۔ میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں سے نجات دلاناچاہتا ہوں، میں میں ایساسسٹم چاہتاہوں کہ ہرشہری کویکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کامذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔
الطاف حسین
لندن میں 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
19 ستمبر 2026ء
میرے گھر پر حملہ کرنے والے سمجھ رہے تھے کہ وہ مجھے ڈرا دیں گے
لیکن دیکھ لو
میں آج کے پروگرام میں آگیا
اور صحافی حضرات بھی دیکھ لیں کہ اس ہال میں کوئی سیٹ خالی نہیں ہے
#17SepBirthdayOfAltafHussain
وہ سمجھ رہے تھے کہ میں خوف زدہ ہوجاؤنگا مگر الطاف حسین اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔