مونچھوں والی مسرت شاہین کو اسٹیبلشمنٹ نے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے مقابلے میں لانچ کیا ہے۔ کل 1997 میں ایک مسرت شاہین کو لایا گیا تھا آج اسکا نام و نشان تک نہیں باقی۔
نہ تب مولانا کی سیاست ختم ہوئی تھی نہ آج ہوگی ان شاءاللہ العزیز
#فخر_ملت_مولانا#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس #معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو
میں اپنے ملک کے اندر بات کر رہا ہوتا ہوں۔ اگر میرے بیانیے پر غلط الزام لگایا جاتا ہے، مجھے ایک ابتلا میں مبتلا کرنے کے بعد جب میں نے اس کا دفاع کیا، تو اب میرے دفاع کو کاؤنٹر کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ چل رہا ہے، ہندوستان میں یہ ہو رہا ہے۔
جب بنگال میں آپ سرنڈر کر رہے تھے، اُس وقت انڈیا پر کیا اثر تھا؟ اُس وقت ہندوستان کیا پیغام دے رہا تھا؟ ان کو ایسی باتوں پر شرم نہیں آتی؟
خود کو ٹھیک کرو، اور جب آپ ٹھیک ہوں گے تو قوم آپ کو مبارک باد دے گی۔
انڈیا نے ہم پر حملہ کیا، اور سب سے پہلے فضل الرحمٰن کھڑا ہو گیا اپنی فوج کو سپورٹ کرنے میں۔ اور جب آپ نے بہادری دکھائی، تو میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ میں نے آپ کو تنہا تو نہیں چھوڑا۔
ہم ملک میں آئین کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ملک کے اندر انصاف کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اُس میں ملک کے رکھوالے اپنے ہی قوم اور اپنے ہی شہریوں کی نیتوں پر شبہ کرتے ہیں، اور ہمارے ملک کے رکھوالے اپنے ہی شہریوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔
ملک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے، اخلاص رکھنے والے، اُس کے لیے قربانیاں دینے والوں پر جب ہمارے ملک کے رکھوالے شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، تو پھر بحث چھڑے گی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
#فخر_ملت_مولانا
#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو
فخرِ ملت مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف ہمیشہ عوامی مسائل اور قومی مفاد کے گردگھومتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، اسلیے عوام مؤثر اور عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں تاکہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
#فخر_ملت_مولانا#سرکاری_چمچے_فلاپ#بارڈر_یا_بیرکس #معدنیات_فروش_ٹولہ #مہنگائی_کا_جواب_دو
اسلام نے رائے کے اظہار کرنے پر کسی قسم کی قدغن نہیں لگائی ۔ آئین پاکستان نے بھی اظہار رائے کی آزادی پر پابندی نہیں لگائی۔لیکن ہمارے ملک پاکستان میں ، بولنے اور لکھنے پر پابندی ہے۔جو اسلام اور آئین دونوں کے خلاف ورزی ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں عملا نہ اسلام ہے نہ آئین۔