ایک لیٹر پٹرول پر 130 روپے لیوی/ٹیکسز کے خلاف کراچی سے خیبر تک کامیاب ہڑتال نے ثابت کردیا کہ پورا پاکستان جماعت اسلامی کی تحریک کی پشت پر کھڑا ہوگیا ہے۔ پٹرول پر بھتہ لیوی کے خلاف کامیاب پرامن ہڑتال میں عوام کے ساتھ تاجروں اور وکلاء نے بھی بھرپور حصہ ڈالا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام طبقات جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حکومت کی ٹیم معاملے پر مذاکرات کے لیے آج منصورہ آئی۔ ہم نے ان کا خیرمقدم کیا مگر ہمارا مؤقف ہے مذاکرات اور دھرنے ساتھ ساتھ چلیں گے ۔ جماعت اسلامی نے مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ عوام کو ریلیف دینا پڑے گا
آزادی مبارک ہو! تاریخ کا نیا باب
لبرٹی چوک پر نظر آنے والے مناظر دیکھکر لگ رہا ہے جیسے ملک قائد اعظم نے نہیں، پنجاب پر مسلط ٹک ٹاکر اور ان کے "سیاسی سپاہی" ذیشان ملک نے بنایا تھا۔
حقیقت یہی ہے کہ جب ملک میں مہنگائی کے ہاتھ میں لوگ خود سوزیوں پر اتر آئے ہوں اور آتش بازی پروگرام کی تشہیر ہو تو قائداعظمؒ کی بصیرت اور علامہ اقبالؒ کا خوابکا کیا کام۔
جن کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت یا نظریاتی پہچان نہ ہو، وہ تاریخ کے عظیم رہنماؤں کی تصویریں مٹا کر ہی خود کو بڑا محسوس کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
جہاں کبھی بانیانِ پاکستان کا وقار اور قومی بصیرت نظر آنی چاہیے تھی، وہاں اب ناچ گانے والے اداکاروں اور سستے شو مینوں کے بینرز سجے ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب حکومت کا کام صرف ریٹنگز، ویوز اور فلیکس لگانا رہ جائے، تو عوام کی چیخیں آتش بازی کے شور اور ڈھول کی تھاپ تلے دبا دی جاتی ہیں۔ یہ جشنِ آزادی نہیں، بلکہ فاقہ کشی کا شکار عوام کے زخموں پر نمک پاشی اور زرق برق نوٹنکی کا شاہکار ہے!
#جناح_کا_جانشین_عمران_خان
#ReleaseSenatorMushtaq#ReleaseDetainedStudents
کشمیر میں ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھانے اور 31 جولائی کے کشمیر یکجہتی جلسے کی قیادت کرنے کے بعد سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت درجنوں کشمیری طلبہ اور کارکنان گرفتار ہیں۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے گرفتار طلبہ کی رہائی، ریاستی جبر کے خاتمے اور کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے جس کا آج ساتواں روز ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھ کھڑے ہوں اور گرفتار طلبہ کی رہائی کا مطالبہ کریں۔
کل غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے سات ماہ کے بچے کی شھادت کے بعد غم سے نڈھال باپ نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے شیرخوار لختِ جگر کو آخری بار سینے سے لگایا بوسہ دیا ایک باپ کی بے بسی قوم کا نوحہ🇵🇸💔
تیزاب حملے میں زخمی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی حالت خطرے سے باہر ہے اور صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق آنکھوں کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم ابتدائی علاج کے دوران بینائی کے حوالے سے کچھ خدشات تھے۔
ڈاکٹر ماہ نور کراچی کے آغا خان اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں اسپتال حکام کے مطابق ان کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ جھلس گیا اور کچھ زخم گہرے ہیں، مگر علاج کامیابی سے جاری ہے۔
تیزاب پھینکنا صرف ایک جرم نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف سنگین حملہ ہے۔ کسی بھی عورت یا مرد پر اس طرح کا حملہ اس کی جسمانی صحت، ذہنی سکون اور پوری زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا تیزاب حملہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اختلاف، غصہ یا ذاتی رنجش کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ کسی دوسرے انسان کی زندگی برباد کر دے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔
معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ایسے جرائم کے خلاف آواز بلند کرے، متاثرین کا ساتھ دے اور مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے میں کردار ادا کرے۔ احترام، برداشت اور انسانیت ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہیں، جبکہ تشدد اور انتقام صرف تباہی کو جنم دیتے ہیں۔
لاہور ، محمود بوٹی گوہر آباد میں گڑ میں یہ صرف بچی نہیں گری بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی حکومت کے تمام دعوے ، وعدے اور اعلانات گر رہے ہیں
زمینی حقائق اور میڈیا پر پیش کردہ کارکردگی میں اتنا تضاد کیوں ؟پنجاب حکومت کی چمک صرف ویڈیوز، تصاویر تک محدود۔افسوس
بریکنگ🚨
اسرائیل روزانہ سینکڑوں بے گناہ غزہ والوں کو خاموشی سے پھانسی دیتا ہے۔ پھانسی دینے سے پہلے ان کے اعضا بھی چرا لیتے ہیں۔ اب خاموش مت رہنا۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
میرپور:۔
مالک مکان کے لیئے گھریلو کام کرنے س�� انکار کرنے والی خواتین پر گھر میں گھس کر تشدد کیا گیا کیسا معاشرہ ہے اور مرد اپنی مردانگی صرف عورت پر تشدد کرکے ہی دکھاتا ہے
میر پور پنجاب میں نہیں آتا۔ آزاد کشمیر میں ھے تو آزاد کشمیر کی پولیس اس بے حیاء وحشی کو پکڑے پلیز
#Pakistan #Femicide #Mirpur
پورا ملک بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے بری طرح متاثر ہے، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگا واٹ ہے اور اس وقت استعمال نصف سے بھی کم ہے۔ مگر عوام کو بجلی میسر نہیں! اگر تیل و گیس سے بجلی پیدا کرنے میں مشکلات ہیں تو دیگر ذرائع سے بآسانی درکار بجلی مل سکتی ہے۔ کیا پیداواری صلاحیت میں اضافہ صرف آئی پی پیز کو نوازنے کے لیے کیا گیا تھا؟ جو Capacity Charges کی مد میں بجلی بنائے بغیر ہزاروں ارب وصول کرچکی ہیں۔ پاور سیکٹر میں حکومتی نااہلی کی سزا عوام اور صنعت کار بھگت رہے ہیں اور فائدہ IPPs کا ہورہا ہے
پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، کل حق دو کراچی کا نعرہ لگانے پر شہریوں کو گرفتار کرے گی؟ یہ فسطائیت اور فاشزم نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ 18 سال میں 3 کروڑ سے زائد شہریوں کو پانی دے سکے نہ سڑکیں اور ٹرانسپورٹ! شہر کا انفراسٹرکچر تباہ کردیا، جب لوگ حق دو کراچی کا نعرہ لگاتے ہیں تو آپ دھمکیاں دیتے ہیں، سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے پر دہشت گردی کی دفعات سیاسی کارکنان پر لگاتے ہیں۔ کراچی صرف ایک شہر نہیں، منی پاکستان ہے، صوبہ سندھ کی 98 فیصد اور پاکستان کی آدھی معیشت کا انحصار کراچی پر ہے۔ پیپلز پارٹی کی کراچی دشمنی درحقیقت پاکستان دشمنی ہے۔ حق دو کراچی کا نعرہ کسی قوم، مسلک یا برادری کا نعرہ نہیں بلکہ کراچی میں رہنے والے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کی متفقہ آواز ہے۔ اس وقت تک یہ نعرہ لگتا رہے گا جب تک شہر کو اس کے تمام جائز حقوق نہیں مل جاتے۔
ایران کے آ��نائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیزی سے گر رہی ہے۔ پیٹرول و ڈیزل کی قیمت فوری بڑھانے والی حکومت پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ کرے اور آج ہی پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے
موجودہ حکومت کا 100 ارب کا ڈاکہ۔۔۔۔۔۔۔3/4 سال سے تو آپ کی شہباز شریف کی ،آصف زرداری کی اور آپ لوگوں کے سرپرستوں کی حکومت ہے،تو یہ 100 ارب ڈالر تو آپ لوگ لے گئے ہیں، آپ لوگوں کی رضامندی، سہولت کاری سے باہر لے گئے ہیں،
5 ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کی غلامی اور خود 100 ارب کا ڈاکہ۔۔۔
یہ خونخوار بدمعاشیہ پاکستان کے مسائل کی جڑ ہے،اسی مافیا نے پاکستان کو غلام،مقروض، غریب، پسماندہ اور ناخواندہ رکھا ہے۔عوام کے حق حکمرانی پر بھی ڈاکہ اور ملک کے وسائل پر بھی ڈاکہ۔۔
��ریبوں کا خون چوسنے والا ،آئی ایم ایف اور ٹرمپ کی غلامی کرنے والا کیخلاف بغاوت،
مزاحمت ہی آزادی کا حقیقی راستہ ہے۔
ہماری زمین سے تیل اور گیس دریافت ہو گئی لیکن بااثر لوگوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے ۔۔۔۔ اٹک کے گاؤں جنڈ کے غریب شخص کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی حیران کن کہانی ۔۔۔ جنڈ ضلع اٹک کے رہائشی تنویر گل کے بقول ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے علاقے میں گیس کمپنی پی پی ایل کھدائی کرنے آئی تو ہماری ذاتی ملکیتی زمین سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ۔ علاقہ کے کچھ لوگوں نے ہم سے کوڑیوں کے مول زمین لینا چاہی مگر ہم نے انکار کردیا تو پھر علاقہ پٹواری جاوید اختر نے کچھ غنڈوں اور پولیس کے ساتھ ملکر ہماری زمین پر جعلی کاغذات اور علاقہ پولیس کی مدد سے قبضہ کر لیا ، اس ناانصافی پر میں نے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کو درخواست دی انہوں نے جانچ پڑتال کروائی اور اپنی رپورٹ میں مخالفین کے قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا ساتھ ہی پولیس کو ہدایت کی کہ اصل مالکان کو قبضہ واپس دلایا جائے لیکن پولیس کی بااثر لوگوں سے ملی بھگت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہ ہوئی الٹا مجھ پر مختلف نوعیت کے چار مقدمات مختلف تھانوں میں درج کرکے مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ 6 دن حراست میں رکھا گیا اس دوران تش۔دد کیا گیا اور زمین کی ملکیت سےدستبردار ہونے اور اس پر قبضے کا کسی فورم پر ذکر نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگرمیں نے انکار کردیا تو پولیس نے جعلی مقدمات میں چالان کرکے جیل بھیج دیا ۔ تنویر گل کے بقول میرے بوڑھے والدین اور بیوی نے بھاگ دوڑ کرکے بڑی مشکل سے میری ضمانت کروائی ۔۔۔۔
تنویر گل نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ، انکی اہلیہ نے وزیراعلیٰ صاحبہ سے اپیل میں کہا ہے کہ یا تو ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، ہمارا حق ہمیں دلایا جائے اور ہماری جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور یا پھر ہمیں صاف انکار کردیا جائے تاکہ ہم پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی طرف رخ کر جائیں ۔