اپنے علاقے دیپالپور کی عوام کی بہتری، فلاح اور خدمت کا عزم لے کر میں نے حلقہ پی پی-189 سے پاکستان مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کے لئے درخواست جمع کروا دی ہے۔
آپ سب کی دعاؤں سے کامیابی کے لئے پرامید ہوں۔ انشاء اللہ قائدین، جماعت اور عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔
#NawazSharifInQuetta
کوئٹہ:14 نومبر
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور صدر شہبازشریف کی بلوچستان کی اہم سیاسی قیادت سے ملاقات شروع
بلوچستان کی ترقی ہمیں ہمیشہ سے عزیز رہی ہے، نوازشریف
ہم نے بلوچستان میں ہزاروں کلومیٹر سڑکوں کا جال بچھانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہوسکے، نوازشریف
گوادر سے کوئٹہ ساڑھے چھ سو کلومیٹر کی سڑک تعمیر کرکے بلوچستان کے عوام کو سفر کی بہترین سہولیات فراہم کیں، نوازشریف
گوادر کوئٹہ سڑک کی تعمیر سے دو دن کا سفرکم ہوکر آٹھ گھنٹے رہ گیا ، نوازشریف
اس سڑک کی تعمیر کے دوران چالیس سے زائد نوجوان شہید ہوئے تھے، انہیں سلام پیش کرتے ہیں، نوازشریف
گوادر سے خضدار اور رتو ڈیرو شاہراہ تعمیر کرکے جنوبی بلوچستان کے علاقوں کو سندھ سے جوڑا گیا، نوازشریف
اِن دونوں سڑکوں کی بنیادہم نے 1998-1999 میں رکھی تھی، نوازشریف
ہکلہ اور ڈی آئی خان روڈ: ہگلہ اور ڈی آئی خان کی بنیادہم نے رکھی تھی ، نوازشریف
اس منصوبے پر چار سال کام رُکا رہا، وزیراعظم شہبازشریف نے دوبارہ کام شروع کرایا، نوازشریف
یارک ساگو ژوب شاہراہ کو دورویہ اور بہتر بنانے، این 50 سے ملانے کا کام ہم نے شروع کیا، نوازشریف
بسیمہ سے خضدار تک شاہراہ تعمیرکی گئی، نوازشریف
یک مچ سے خاران کی سڑک کی تعمیر کا آغاز کیا جو تقریباً تکمیل کے قریب ہے، نوازشریف
جاپان کے تعاون سے راکھی گاج سے بے واتا تک سڑک بنائی جو شمالی بلوچستان کو جنوبی پنجاب (ڈی جی خان) سے جوڑتی ہے، نوازشریف
ہم نے قلات ، کوئٹہ، چمن ،خضدار، کراچی دورویہ (این 25) پر کام شروع کیا، نوازشریف
اس پر کام نہ روکا جاتا تو اب تک مکمل ہوتی، سولہ ماہ کی حکومت میں پھر کام شروع ہوا، ، دوسے تین سال میں مکمل ہوگی، نوازشریف
اللہ تعالی کے فضل وکرم سے 1998-1999 میں کوسٹل ہائی وے کی بنیاہم نے د رکھی تھی، نوازشریف
گلگت سکردو ہائی وے ہم نے شروع کی، 62 ارب روپے کی لاگت سے ہم نے ہی مکمل کی، نوازشریف
بلوچستان کے لئے ترقی اور ڈیویلپمنٹ کا جو کام ہم نے شروع کیاتھا، ہماری حکومت کے بعد وہ سفر روک دیا گیا، نوازشریف
ہمارا شوق تھا ہماری محبت تھی ہماری فکر تھی بلوچستان کے لئے، نوازشریف
ہم نے 1998 میں گوادر کی ترقی کا سفر شروع کیا تھا یہ آج اور کل کی بات نہیں ہے، نوازشریف
دہشت گردی کو ہم نے مکمل طور پہ ختم کیا، نوازشریف
لوڈشیڈنگ کو مکمل طور پہ ختم کر دیاتھا، نوازشریف
بلوچستان میں 400 سے زائد چھوٹے ڈیم کے منصوبے شروع کئے، نوازشریف
بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں کے پانچ ہزار سے زائد طالب علموں کو وظائف دئیے، نواز شریف
پسماندہ علاقوں کے ان ہزاروں بچوں نے وظائف پر بہترین تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی، نواز شریف
تربت، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی، پشین، گوادر، نوشکی اور وڈھ میں یونیورسٹی کیمپس کھولے جہاں ہزاروں نوجوان زیر تعلیم ہیں، نواز شریف
ہم گوادر تک پانی پہنچا چکے تھے، بعد میں کام رک گیا، نواز شریف
ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلے،سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر چلیں گے، نواز شریف
سب کے ساتھ تعاون کا رشتہ جوڑا تھا، اس رشتے کو مزید مظبوط بنائیں گے، نواز شریف
سیاسی قائدین نے نوازشریف کی آمد اور ملاقات پر شکریہ ادا کیا
سیاسی قائدین نے ملک بالخصوص بلوچستان کی ترقی کے لئے نوازشریف کے جذبے اور سوچ کو سراہا
قائدین کا مستقبل میں اشتراک عمل اور سیاسی تعاون کرنے پر اتفاق
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی چار سال بعد اپنے گھر رائیونڈ واپسی
نواز شریف کی واپسی رائیونڈ میں تمام اہل خانہ کے لئے عید کا سماں بن گیا
نواز شریف کا آمد پر شریف خاندان کے تمام افراد اور بچوں نے مل کر استقبال کیا
نوازشریف کی ہمشیرہ نے گھر میں داخل ہونے پر بھائی کا استقبال کیا
مرحوم عباس شریف کے بچوں سمیت تمام عزیز واقارب اور بچوں نے نوازشریف سے ملاقات کی اور اپنے جذبات کا اظہار کیا
اس موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے
حنا پرویز بٹ کے ساتھ لندن میں ہونے والا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہی نہیں، قابل نفرت بھی ہے۔ بدتمیز، بدتہذیب، بد اخلاق،بد دماغ اور بدنما رویوں کی پہچان بن جانے والا ذہنی بیماروں کا ٹولہ ہے جو برطانیہ میں رہ کر ملنے والی آزادی کو دوسروں کے حقوق چھننے اور ان کی توہین کرنے کے لئے ناجائز طور پر استعمال کررہا ہے اور ہر روز کم ظرفیوں کی ایک نئی گہرائی میں اترتا جاتا ہے ایسے زومبیز کے لئے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے جن کا مہذب معاشرے بھی کچھ نہیں "بگاڑ" سکے۔ منہ پر بالٹی پہنے والے گٹر ذہن کی یہ غلاظت ملک کے اندر ہی نہیں، بیرون ملک بھی تعفن پھیلا رہی ہے، جو 9 مئی کا مجرم ہے