حیرانی ہورہی ہے جنگ اخبار میں چھپنے والی صحافی قاسم عباسی کی رپورٹ کو آپ خود صحافی ہوتے ہوئے صرف “سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غلظ خبر” کا نام دے رہے ہیں؟
رپورٹ میں تو بہت کچھ ہے: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی آڈٹ رپورٹ (مالی سال 2024-25) کے مطابق 25 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ناقص پروفائلنگ اور سسٹم کی کمزوریوں کی وجہ سے 6 لاکھ سے زائد نااہل افراد کو اربوں روپے دیے گئے۔
خاص طور پر:
• 12,078 سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کے شریک حیات کو 515.712 ملین روپے (تقریباً 51.57 کروڑ) ادا کیے گئے، حالانکہ 2019 میں وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کو BISP سے واضح طور پر خارج کر دیا تھا۔
• 1 سے 16 گریڈ کے حاضر سروس ملازمین اور ان کی بیویوں سمیت پنشنرز اور ان کی بیگمات تک کو یہ رقم ملی۔
• ایک شخص کے نام پر 5,558 خواتین رجسٹرڈ تھیں!
یہ غریبوں کے حق کا ناجائز قبضہ ہے، جن کے مستحق واقعی مستحقین کو رقم نہیں ملی۔ اسی لیے لوگوں کا اس پروگرام پر بھروسہ ختم ہو چکا ہے۔
کیا بہتر نہیں ہوتا کہ چند ہزار ماہانہ ہاتھ پھیلانے کے بجائے ان لوگوں کو روزگار اور خودمختاری دلانے کی کوشش کی جائے؟ آپ صحافیوں کو تو اس کرپشن پر آگے بڑھ کر خود سوال کرنا چاہیے۔ اور اگر کچھ غلط ہے ادارے پر کیس کیجیئے، خبر چیلنج کیجیئے۔
https://t.co/66SS65nHlr
وڈے وڈے صحافی، اندر کی خبروں کے ماہر، آسمان پھاڑ تجزیے برپا کرنے کے دعوی۔۔۔
اور حالت یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے سادہ فارمولے کو نہیں سمجھ سکتے۔۔۔
بیچاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ملبہ ڈال رہے کہ جی حکومت ان کے دباؤ میں آ گئی اور عالمی مارکیٹ میں کمی صارفین کو ٹرانسفر نہیں کی۔۔۔
او بھائیو۔۔۔ قیمتوں میں کمی نہ کر کے جو بچت (لیوی میں اضافے سے) حکومت کو ہوتی وہ ٹیکس چوروں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے میں استعمال ہوتی۔۔۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
نام نہاد صحافت سے بچ کر جیو
پاکستان کی کامیابی کا صرف ایک ھی راستہ ھے پاکستان تمام صوبوں میں بھی مقامی قومیت، و زبان کی بنیاد پرچھوٹےچھوٹے صوبے یا وھاں کے مرحوم محب وطن قائدین کےنام پرخود مختار انتظامی زون بنادیاجائے۔
استحصالی طبقہ کی مخالفت کا سامنا ھوگامگر ناممکن نہیں پروپیگنڈہ بے اثر ھو جائیگا
پاکستان نسبتاً متنوع ملک ہے (لسانی، علاقائی، فرقہ وارانہ تنوع) مگر ریاست کی مرکزی ساخت (فوج، بیوروکریسی، پنجابی اکثریت) نے اس تنوع کو دبایا ہوا ہے۔ اس لیے پاپولزم یہاں اداروں کے خلاف اٹھ رہا ہے۔ تاہم:جیسے جیسے صوبائی آگاہی بڑھ رہی ہے (خصوصاً سندھ، بلوچستان، کے پی کے)، پاپولزم کی قومی سطح پر کامیابی مشکل ہوتی جائے گی۔
ڈیجیٹل میڈیا نے عارضی طور پر "ورچوئل یکسانیت" پیدا کر دی ہے، مگر حقیقی تنوع (ground reality) اسے توڑ رہا ہے۔
نتیجہ: مستقبل میں اتحادی سیاست (PDM طرز) یا علاقائی پارٹیاں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہیں، خالص پاپولزم نہیں۔
تنوع کو "قومی اتحاد" کے نام پر دبانے کی کوشش سے پاپولزم مزید ردِّعمل پیدا کر سکتا ہے۔
حقیقی pluralism (وفاقیت، زبانوں کا احترام، مذہبی آزادی) پاپولزم کی سب سے بڑی دوا ہے۔ یہ معاشرے کو "ایکو سسٹم" کی طرح مضبوط بناتا ہے جہاں کوئی ایک وائرس (پاپولسٹ بیانیہ) پورے نظام کو فالج نہیں کر سکتا۔
مختصر الفاظ میں بیان کریں تو یہ سمجھا جائے کہ ۔؟
پاپولزم یکسانیت کی پیداوار ہے اور تنوع اس کا قدرتی مخالف۔ جہاں تنوع زیادہ ہو، وہاں پاپولزم عارضی طوفان کی مانند آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ پاکستان میں اگر حقیقی وفاقیت اور ثقافتی احترام نافذ ہو جائے تو موجودہ پاپولسٹ لہر آہستہ آہستہ کمزور پڑ جائے گی۔ تاہم یہ عمل خود بخود نہیں ہوگا — اس کے لیے فعال، متنوع اور ادارہ جاتی سیاست کی ضرورت ہے۔
پھرجب اٹھارویں ترمیم کےحوالےکوئی بات ہوتی ھےتوسندھ کارڈنکل آتاھے۔۔اس ترمیم کیبعدصوبوں کوتگڑےفنڈزملتےہیں مگروہ عوام پرخرچ ہونیکی بجائےسیاسی وڈیروں کی جیبوں میں جارہےہیں۔ ڈگریاں بکتی ہیں اور پبلک سروس میں نقب لگائی جاتی ھے
بھٹو لٹیروں ڈکیتوں کا استعارہ
#پیپلزپارٹی_ایک_وباء
پیپلزپارٹی کے سندھ کا نوجہ: اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ میں تعلیمی بجٹ میں تین گنا سےزیادہ اضافہ ہوا لیکن شرح خواندگی الٹا کم ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیسہ کبھی کلاس رومز تک پہنچا ہی نہیں۔ 2023 میں یہ بات سامنے آئی کہ سندھ میں 56,000 اساتذہ مہینے میں صرف ایک یا دو بار اسکول جاتے تھے۔ صوبے میں اندازاً 7,000 گھوسٹ اسکول موجود ہیں۔https://t.co/9VCMlZ7r1x
آئی میڈیا کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کراچی میں کوئی ایک اردو بولنے والا بھیک مانگتا ہوا دکھا دیں، یہ سب باہر کے ہیں جبکہ خواتین کو غیرفطری کاروبار میں ملوث ہیں وہ بھی 99 فیصد باہرکی ہیں انہیں اغوا کیا گیا ہے
#ZarayeNews#ShabbarZaidi#Karachi
پیپلز پارٹی نے آج تک جتنی کرپشن کی ہے اگر اسکی
صرف زکوت نکال دے
تو کراچی کا انفرااسٹرکچر صحیح ہوسکتا ہے۔۔K4 پانی کامنصوبہ مکمل ہوسکتا ہے۔BRT مکمل کی جاسکتی ہے۔کراچی کی بجلی اور گیس کی ہروقت دستیابی ممکن بنائ جاسکتی ہے۔۔
جی ایسا ہئ ہے۔ جب KDA کے بنائے گئےکریم آباد انڈر پاس کی تصاویر مئر صاحب کے اکاؤنٹ سے کچھ اس طرح پوسٹ ہونگی جئسے کے وہ انہوں نے ہئ بنایا ہو، تو جو تنقید سندھ حکومت کے کھاتے میں آنا ہوتیں ہیں وہ بھی انہیں کو سننا پڑے گی۔ دوسری بات مرتضی وہاب بلاول بھٹو و PPP کے ترجمان بھی ہیں۔
اور یہ سچ کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ #کراچی پر ذبردستی PPP نے اپنا مئر مسلط کیا ہے۔ اسکے باوجود بھئ اپنے ہی مئر کو بے اختیار بھی رکھا۔چاہتے تو Sindh Local Govt Act میں فوری ترامیم لاکر مئر کو بااختیار بنا سکتے تھے۔ لیکن جتنے بے اختیار وسیم اختر تھے، اتنے ہئ بےاختیار مرتضی وہاب ہیں۔ شایدان سب کو ڈر تھا کہ حافظ نعیم مئر بن گئے تو اختیارات ملے یا نہ ملیں لیکن انکے کرپٹ نظام کو پوری طرح کراچی والوں کے آگے بےنقاب ضرور کردیں گے۔
پیپلز پارٹی کے سارے لیڈران گدیاں لیکر گھومتے ہیں کیونکہ کراچی کی سڑکوں کی بدحالی سے ان سب کو کمر کے درد نکل آۓ ہیں۔۔۔
کراچی ائیرپورٹ سے گھر تک جائیں تو ایک چوک میں موبائل چوری ہوجائےگا اور دوسرے چوک میں گھٹنے درد ہو جائینگے،
پیپلز پارٹی اپنے گورننس کی کوتاہیاں ہمارے سر پے نہ ڈالے؛
بیرسٹر دانیال چوہدری
#HumNews #PMLN #ppp
@MonaAlamm@DanyalChaudhary@SeharKamran
مفتاح اسماعیل صاحب نے صحیح کہا تھا، لوگوں کو لگتا ہے پیپلزپارٹی پارٹی کراچی میں کام نہیں کرتی کیونکہ کراچی میں انکا ووٹ بینک نہیں ہے۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کہیں بھی کام نہیں کرتی!!!
How PPP has failed Sindh. Must read by @YousufNazar Sahib.
"Yet the data is unforgiving. When the PPP took power in 2008, Sindh's literacy rate stood at roughly 58 per cent. The Pakistan Economic Survey 2024–25 reports it at 57.54 per cent—fractionally lower after eighteen years and trillions in education budgets."
https://t.co/9VCMlZ7YR5
پیپلز پارٹی سندھ کے ہر سرکاری نظام کو لوٹمار کے لئے استعمال کرتی ہے ،سندھ صوبہ میں sho کی پوسٹ کی قیمت لگتی اور ہر طرہ کا غیر قانونی کام سندھ سرکار کی سرپرستی میں ہوتا ہے ۔ پراسیکیوٹر سے لیکر ایڈوکیٹ جنرل تک اور سٹی کورٹ سے لیکر ہائ کورٹ کے ججز تک انکے رحم و کرم پر ہوتے ہیں
انسے کراچی کا کچرا تک تو صاف ہوتا نہیں- سڑکیں موہنجوڈارو کا منظر پیش کرتی ہیں اور انہیں پنجاب میں بلدیاتی نظام کی تکلیف ہے-
ہم جانتے ہیں کہ انکی پارٹی ہر طرح کے نظام کو لوٹمار کیلئے استعمال کرتی ہے-
بلاول صاحب, آپ چھوڑیں نظام کی باتیں- الله کا شکر ہے کہ پنجاب لاکھوں گنا بہتر ہے سندھ سے- یہاں کام ہوتا ہے, ٹھیکوں سے لوٹمار نہیں ہوتی-