ماریہ میمن: اۤپ اتنے intensive اۤئی ایم ایف پروگرام میں ہیں۔۔۔
تیمور سلیم جھگڑا: کتنا intensive اۤئی ایم ایف پروگرام ہے جس میں اۤپ گلف اسٹریم جیٹ لے سکتے ہیں؟ جس میں اۤپ لینڈکروزرز لے سکتے ہیں؟
@Jhagra
ابصار عالم نے الزام لگایا ہے کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 370 لگایا تو ایکشن کمیٹی نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا
370 بھارت نے 2019 میں لگایا تھا اور ایکشن کمیٹی 2023 میں بنی یہ تو ایسا ہی ہے کہ میں کہوں ابصار عالم نے پیدا ہونے سے پہلے میٹرک پاس کیوں نہیں کیا
شہباز گل
انٹرنیشنل میڈیا کی ڈاکومنٹری 🚨
8 فروری 2024 انتخابات میں بدترین دھاندلی پر BBC نیوز نے باقاعدہ طور پر ڈاکومنٹری بنائی ہے
ساری دنیا کو پتہ ہے کہ 8 فروری انتخابات میں عمران خان کا مینڈیٹ چوری ہو گیا تھا
2026 تک کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) پنجاب پولیس کے ہاتھوں 930 سے زائد افراد مبینہ پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔ اکثر مقابلوں میں ایک ہی سرکاری موقف دہرایا جاتا ہے کہ پولیس ملزم کو لے جا رہی تھی کہ اچانک اس کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا، ملزم کو چھڑانے کی کوشش کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں ملزم مارا گیا۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شخص کو قانون کے مطابق سلوک کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے۔ پولیس کو سزا دینے کا اختیار نہیں؛ جرم کا تعین اور سزا دینا عدالتوں کا کام ہے۔ ان جعلی مقابلوں کی آزاد عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
بیرسٹر ابوذر سلمان خان نیازی
@SalmanKNiazi1
انٹرنیشنل میڈیا الجزیرہ نے نواز شریف کو دنیا کے سامنے ننگا کرکے کتے والی کردی
یاسمین راشد صاحبہ کو کیسے پرایا گیا اور نوازشریف کو کس طرح سے فارم 47 کی لاسٹک کی شلوار پہنائی گئی الجزیرہ نے ثبوتوں کے ساتھ وڈیو چلا دی۔۔
”گلگت بلتستان وزٹ کے دوران بچوں کو عمران خان کے نعرے لگاتے سنا، چٹانوں پر عمران خان سے منسوب 804 کا ہندسہ اکثر جگہوں پر لکھا ہوا دیکھا۔ 804 کا یہ ہندسہ گلگت بلتستان کے بہت سے لوگوں کا پسندیدہ ہے۔ 804 کا یہ ہندسہ کہیں انتخابات کا نتیجہ ہی نہ بدل ڈالے، یہی ڈر ہے کہ جنید اکبر اور اسد قیصر کو انتخابی مہم سے روکا گیا۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈران بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں مگر تحریک انصاف کو اس لیے اجازت نہیں کیونکہ اس کے لیڈر کا نام عمران خان ہے۔“ حبیب اکرم
@HabibAkram
#گلگت_بلتستان_کپتان_کا
About 7 Million Views now for the Cypher shared by @DropSiteNews.
Why is this is going viral? It is because everyone in Pakistan’s establishment including top Generals denied it and used the controlled electronic media to say the same.
Imran Khan and his Awaam proven truthful as the existence of cypher and its contents are public.
Truth finds its way! It remains to be seen which Generals in Pakistan get tried for Article 6.
ہم ڈرنے والے نہیں ہیں گولیاں مارنی ہیں تو ہمیں ماریں غریب کارکنوں کو کیوں مارتے ہو؟ گرفتار کرنا ہے تو ہمیں کریں غریب کارکنوں کو کیوں گرفتار کرکے لے جاتے ہو؟
محسن نقوی کا میسج آیا میں نے گوہر خان کو کہا کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں افواہیں پھیلاتے ہیں کہ ہم عمران خان کو رہا کررہے ہیں۔
آج سائفر پڑھ کر پوری قوم کو سمجھ جانا چاہئے کہ عمران خان کیوں جیل میں قید ہیں۔ کس لیے قید کیا ہوا ہے ؟ کیوں کہ وہ اپنے لوگوں کے لیے کھڑا تھا۔ ہمیں فخر ہے اپنے بھائی کے اوپر۔ اگر عمران خان پاکستان کے لیے قربانی دینے کو تیار ہے تو ہم بھی تیار ہیں گولی مارنی ہے گولی مارو جو مرضی کرو۔ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
پنجاب حکومت نے مریم نواز کی تشہیر کے لیے پہلے سال 7 ارب اور اب دوسرے سال ابھی تک 6 ارب 40 کروڑ روپیہ ٹک ٹاک پر لگایاہے
یعنی ابھی تک 14 ارب روپیہ صرف تشہیر پر خرچ ہو چکا ہے اب 2027 کے لیے مریم کی تشہیر کے لیے مزید 12 ارب روپیہ مانگا گیا ہے
انورسمراہ
محکمہ تعلیم میں سولہ گریڈ کے آفیسر امجد جو 9 مئی فالس فلیگ آپریشن کے بعد بے جرم پابند سلاسل کیے گئے۔
نو مئی کے روز وہ گھر پر تھے، فیس بک آئی ڈی سے پی ٹی آئی کی پوسٹس کی وجہ سے ان کو ملوث کیا گیا۔ ہمارے گھر کے واحد کفیل ہیں۔ ہمارا ذاتی مکان نہیں ہے کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ کوئی عدالت اپیل سننے کو تیار نہیں ہماری درخواست ہے کہ ان بے جرم سزاؤں کے خلاف ہماری اپیلیں سنی جائیں۔ شریک حیات پی ٹی آئی ورکر امجد علی(گوجرانولہ)
#Gujranwala51
میرے شوہر لوڈر پر کسی کے کرائے پر مصالحہ جات فروخت کرکے روزگار کماتے تھے، ان کو جب پکڑا گیا تو لوڈر اور سامان سب کچھ ساتھ لے گئے۔ ایک بچے کو سانس کا مسئلہ ہے، میں نے بچوں کی پڑھائی چھڑوا دی۔
گوجرانوالہ عمران خان کو سپورٹ کرنے کے جرم میں 9مئی فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے پابند سلاسل سلمان جاوید کی شریک حیات کی گفتگو
#Gujranwala51
تین سال سے بے گناہ میرا بیٹا جیل میں ہے، اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔ عمران خان سے بہت پیار کرتا تھا ۔ والدہ محمد ایاز
عمران خان سے محبت کے جرم میں آج تین سال سے میرا بھائی بے جُرم قید ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ حق سچ کی راہ میں ہمارا بھائی قربانی دے رہا ہے۔ بھائی ملک ایاز
9مئی فالز فلیگ آپریشن ، گوجرانوالہ سے ایک اور بے جرم قید پی ٹی آئی ورکر ملک ایاز کے بھائی اور والدہ کی گفتگو
#Gujranwala51
🚨اہم ترین
جیل حکام ہمیں بار بار بلا کر کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے اب بشریٰ بی بی کی آنکھ کا علاج ہو رہا ہے جیل حکام عمران خان کو وہ سزا دے رہے ہیں جو عدالت نے سزا سنائی ہی نہیں ۔
سلمان صفدر
سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی فیملی، وکلاء، ڈاکٹرز، بیٹوں تک بھی رسائی نہیں دی جارہی، ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔۔ پاکستان Commonwealth چارٹر پر عمل نہیں کررہا
برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں مطالبہ
2016 میں شہباز شریف کے لگائے گئے پاور پراجیکٹس آج بند پڑے سڑ رہے ہیں، مگر ان کی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے لیے مہنگی LNG امپورٹ کر کے زبردستی گھریلو صارفین کو ٹھونسی جا رہی ہے۔
IPPs کے وہ vested interests ہیں جو سالوں سے اس نظام کو جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ کمپنیاں بجلی بنائے یا نہ بنائے، پیسہ ہر صورت عوام سے نکال لیتی ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو 🚨
قاسم خان کہہ رہے ہیں، میرے والے کو 22 گھنٹے سیل کے اندر رکھتے ہیں جبکہ ذاتی ڈاکٹرز کو بھی ملنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہم اس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں