#قومی_زبان
ح��ام اور حلال ۔۔۔۔۔
شادی کے کئی سال بعد ابا اور بھائی اسکے گھر آرہے تھے ۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔ کئی پکوان تیار کیے تھے ۔۔ مشروب بنائے تھے ۔۔ خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی ۔۔ خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔۔ وہ بڑے شوق سے انکو ڈرائینگ روم میں لیکر آئی۔۔ باپ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا بھائیوں نے بھی حال چال پوچھا۔۔ وہ جلدی سے ٹھنڈے مشروب لے آئی۔۔
"ناں پتر ۔۔۔" باپ نے دیکھتے ہی کہا ۔۔ " ہمارے خاندان میں بیٹیوں کے گھر کا پانی بھی حرام سمجھا جاتا ہے ۔۔ اسے واپس لیجا ۔۔ ہم تو تجھے دیکھنے آئے تھے بس اب چلتے ہیں ۔۔" یہ کہہ کر ابا اور بھائی واپس چلے گئے اور اسے وہ دن یاد آگیا جب وہ دلہن بنی بیٹھی تھی ۔۔ کمرے میں اسکی سہیلیاں خوش گپیوں میں مصروف اسے چھیڑ رہی تھیں کہ ابا اور بھائی آگئے تھے ۔۔
"دیکھ پتر۔۔۔" ابا نے اس سے مخاطب ہو کر کہا تھا ۔۔۔ "ہمارے خاندان کی ریت ہے کہ شادی سے پہلے بیٹیاں اپنی جائیداد سے دستبرداری کرتی ہیں ۔۔ لے پتر تو بھی اس کاغذ پر سائن کردے۔۔۔"
اور پھر اس سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروا لیے گئے تھے ۔
اور اب وہ چپ چاپ کھڑی یہی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیسی ریت کیسا رواج ہے کہ بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا تو حرام ہے پر انکی جائیداد کا حصہ ہڑپ کرنا حلال ہے ۔
Copied
میں آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں آخر فوج کو عمران خان کی شادیوں سے مسئلہ کیا تھا/ہے ؟
پہلے جمائما سے کی تو اسکے خلاف شریف خاندان کو زہر اگلنے کا اشارہ کیا۔ اور طلاق کروا کے چھوڑی ۔
پھر ریحام کو فوج نے خود عمران خان سے شادی کے لیے تیار کیا تاکہ عمران خان کی کوئی کمزوری کوئی برائی ڈھونڈی جا سکے۔
(اسکا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسے فوج نے پلانٹ کیا وہ ریحام خان کا عمران خان کے خلاف کتاب لکھنا تھا)
اب جب عمران خان نے تیسری شادی کی ہے تب بھی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، لوٹ مار، بے روزگاری نہیں بلکہ عمران خان کی شادی ہے
ایسا کیوں ؟؟
کہیں ایسا تو نہیں فوج جنسی اسکنڈل میں ذیادہ دلچسپی رکھتی ہے اسی لیے چاہتی ہے جنسی بے راہ راوی کے شکار لوگ ہی سیاست کریں تاکہ انھیں بلیک میل کرنا آسان ہو؟!
ہم جانتے ہیں مریم نواز عمران خان بننا چاہتی ہیں لیکن سہیل آفریدی مریم نواز بننا چاہتے ہیں
صحافیوں کی ایک لسٹ آئی جنکوعوام کے ٹیکس کے پیسوں سے KP کی سیر کروائی جاۓ گی
علی امین جرنیلوں کیساتھ مل کر حلوہ کھا رہے تھے اس لیے ہٹایا گیا اب سہیل آفریدی بھی اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں
شہباز گل
سو سے زیادہ صحافیوں کا عوامی خرچ پر پانچ دن کا ؤزٹ کسی صورت عمران خان کی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔
ہمیں ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ عوامی پیسے کا درست استعمال ہی خان کی ترجیح رہی ہے۔
🚨 علیمہ خان کی اہم ترین پکار: "عمران خان کی زندگی بچانے کے لیے اب خاموش رہنے کا وقت نہیں!"
ملک بھر کے غیرت مند پاکستانیوں اور انصاف پسند حلقوں کے لیے علیمہ خان کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اپیل:
📌 اہم ترین مطالبات اور اپیل کے بنیادی نکات:
عمران خان کی زندگی کا تحفظ: یہ جنگ اب صرف سیاست یا قانون کی نہیں رہی، بلکہ عمران خان کی زندگی اور سلامتی کی جنگ بن چکی ہے۔ اگر ہم نے آج آواز نہ اٹھائی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
سپریم کورٹ سے انصاف کی امید: ہم عدالتِ عظمیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اگر سپریم کورٹ سے بھی انصاف نہ ملا اور مروجہ آئینی حقوق پامال کیے گئے، تو پرامن احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہے گا۔
ملک گیر پرامن احتجاج کی کال: پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے تمام عہدیداران، مخلص کارکنان اور عام عوام سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی زندگی کے تحفظ کے لیے پرامن انداز میں سڑکوں پر نکلیں۔
"گھروں سے باہر نکلیں، اپنے حقوق کی حفاظت کریں اور ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ سچائی اور قانون کی بالادستی کے لیے عوام کی طاقت ہی آخری امید ہے!"
بریکنگ نیوز 🚨گنڈا پور کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ شہباز گل نے سہیل آفریدی کو بے نقاب کردیا۔ قوم کے سامنے چھپے ہوئے جرنیلوں کے خفیہ اثاثے کی اصلیت کھول کر سامنے رکھ دی 🔥🔥
ایک مرتبہ پھر عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھون�� دیا گیا، سہیل آفریدی ایک کرنل کی مار نکلا۔ جسے خان نے اپنی رہائی کیلئے لایا تھا وہ اب جرنیلوں کے بیانیے کو پرموٹ کرنے والے 70 صحافیوں کو کے پی کے میں پانچ دن کیلئے مختلف ریسٹورنٹ میں عیاشیاں کروائے گا۔ کروڑوں روپے غریب عوام کے ٹیکس کے ضائع ہونگے۔ عدت کیس میں خان کی عزت کی دھجیاں بکھیرنے والے شاہزیب خانزادہ بھی انجوائے کرے گا۔
گرفتاری سے قبل عمران خان کا قوم کے نام وہ تاریخی پیغام جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے!🚨
حقیقی آزادی: آزادی کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، زنجیریں خود نہیں گرتیں بلکہ انہیں توڑنا پڑتا ہے!
جدوجہد کا مقصد: یہ جنگ میری ذات کی نہیں، آپ کے بچوں کے مستقبل اور نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔
لا الہ الا اللہ کا نظریہ: کلمہ حق ہمیں انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھاتا ہے۔
آخری حد تک ��رامن جدوجہد: جب تک ووٹ کے ذریعے اپنی حکومت منتخب کرنے کا بنیادی حق نہیں مل جاتا، پرامن احتجاج جاری رکھیں۔
ملک کو کسی "قبضہ گروپ" کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اب نہیں تو کب؟
ابو فوت ہو گئے ہیں کوئی کمانے والا نہیں ریڑھی لگاتا ہوں تو وارڈن والے اٹھا ��یتے ہیں
گھر میں اس قدر فاقے ہیں ہمیں زہر کے ٹیکے لگا کر ما دیں معصوم بچہ رو پڑا
ایک انڈین فلم تھی گنڈا راج ۔۔۔۔ جو کچھ اس فلم مین دکھایا گیا تھا آج بلکل ویسا ہی پاکستان میں ہو رہا۔۔۔ ریڑھی پے اگر مریم نواز کی تصویر نہ لگائی تو 20 ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔۔۔۔
آئینِ پاکستان میں نے بھی منگوا کر رکھا ہوا ہے،
فوجیوں کا کام حکومتیں کرنا نہیں ہوتا، فوجی کا کام حفاظت کرنا ہوتا ہے،
جو اسے ڈیوٹی ملی ہے وہ کرے، پیر اجمل قادری
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
پہلے اس کا چڑیا (منا کاکا) پیغام دیتا تھا اب یہ چ٘ریا خود ججوں کے فیصلے بتانا شروع ہو گیا ہے کہ اگلے مہینے علیمہ خان کو سزا ہو جائیگی۔
اسی سے تصدیق ہوتی ہے کہ عدالتوں کی حیثیت صرف ایک منشی کی رہ گئی ہے جو لکھے ہوئے فیصلے سناتی ہیں
تحریک انصاف میں بلو پاسپور�� والوں کی بھی جگہ نہیں ہے۔
تحریک انصاف میں عمران خان کی قید پر خاموش تماشائیوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں انڈر کور ایجنٹوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں منافقوں کی بھی جگہ نہیں ہے
تحریک انصاف میں دبے پاؤں کی بھی جگہ نہیں ہے
🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقا��د:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: م��اہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانیے کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!
نسل در نسل غلاموں میں اور باضمیر سپورٹرز میں فرق ہوتا ہے ۔ نسل در نسل غلام اپنے آقا کے خاندان کے ہر گند کو سپورٹ کر رہے ہیں وہ چاہے قتل ہو ، گینگ ریپ ہو، بھتہ خوری یا اغوا برائے تاوان ہو۔
لیکن باضمیر سپورٹرز ”بلو پاسپورٹ“ پر ہی جئی تئی پھیر کر رکھ دیتے ہیں ۔ زندہ باد