انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
It is critical and urgent that Imran Khan be examined and treated at a proper medical facility. Our recommendations to CJP clearly demanded that he be examined and treated at Shifa International Hospital (Islamabad) by specialist doctors, under the supervision of his personal physicians and in the presence of his family members. It is extremely unfortunate that Chief Justice Yahya Afridi expressed satisfaction with the doctors’ visit to Adiala Jail and completely disregarded the family’s lawful and legitimate demands.
What are they hiding?
The extraordinary effort by the government and establishment to prevent Imran Khan from being properly examined, tested, and treated in a reputable tertiary care hospital, under the supervision of his own doctors and in the presence of his family, raises serious questions. Government ministers have falsely claimed that his treatment was delayed because the family insisted on their presence along with his personal doctors. This was not a delaying tactic; it was a necessary safeguard to ensure transparency, proper care, and his safety. The additional doctor who accompanied the PIMS doctor to Adiala Jail was sent ONLY for examination, not treatment. What kind of comprehensive examinations can be conducted inside a jail facility, which lacks the equipment, environment, and safeguards of a proper hospital?
The PIMS doctors, along with a specialist from Al-Shifa Trust Eye Hospital, were sent to Adiala Jail on Monday, 16th February, to show compliance with the deadline set by Chief Justice Yahya Afridi. However, on Tuesday, 17th February, Imran Khan conveyed a message through Bushra Bibi via her daughter, clearly stating that he was NOT satisfied with the doctors’ visit or the treatment being provided, and he specifically asked that his blood tests should be conducted in the presence of his personal doctors, Dr. Asim and Dr. Faisal. We REJECT any medical reports drawn up as a result of examinations conducted in the absence of Imran Khan’s personal physicians and family member. URGENCY IS OF THE UTMOST IMPORTANCE.
میرے لیڈر کا ایمان پختہ ہے۔۔یہی وہ ایمان ہے جس کے پیچھے عوام اپنی جان دینے کو تیار ہے۔۔میرا رب ہر اس تکلیف کا حساب لے گا جو ظلم کی صورت میں آپ نے خان صاحب پر کیا ہے
اداکارہ حنا بیت آبدیدہ💔
”ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ اسٹریٹ موومنٹ ہے، لیکن کراچی نے ثابت کر دیا کہ یہ سونامی موومنٹ ہے. امید ہے کہ عمران خان کی رہائی اب دور نہیں انشاء اللہ جلد ہی عمران خان ہمارے درمیان ہوں گے. کراچی نے آج جس طرح ہم سے، اور خاص طور پر عمران خان صاحب سے، محبت کا اظہار کیا ہے، ہم تاحیات اس کے مشکور رہیں گے۔“
— ایم این اے @naseem_mna
#سندھ_عمران_خان_کا
ظلم اور جبر کی انتہا۔۔۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کو پولیس غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے لے جا رہی ہے، پہلے بہنوں اور باقی خواتین پر واٹر کینن سے حملہ کیا گیا اور اب گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے جایا جا رہا ہے،
#FascismUnderAsimLaw
پانچ کروڑ عوام کے صوبے کا وزیراعلی اس شدید سردی میں اپنے لیڈر سے ملاقات کے لیے سڑک پر بیٹھا ہے افسوس جس طرح عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، یہ صرف عدالتی احکامات کی نہیں ایک صوبے کے عوام کے ووٹ کی توہین ہورہی ہے۔جب نواز شریف اور زرداری جیل میں تھے تو ہم لوگ وہاں جاکر گپیں لگاتے تھے اور آج پی ٹی آئی کو اپنے لیڈر کی صحت خیریت جاننے کے لیے ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی۔
سینئر صحافی حرمیت سنگھ
@HarmeetSinghPk
خیبرپختونخوا لیبارٹری نہیں ہے تجربہ گاہ نہیں ہے ایک بندہ آتا ہے دہشتگردوں کو ہیرو اور مجاہد بناتا ہے دوسرا بندہ آتا ہے آپریشن کرتا ہے تیسرا بندہ آتا ہے دوبارہ آباد کرتا ہے چوتھا بندہ آتا ہے دوبارہ آپریشن کرتا ہے یہ سلسلہ اب نہیں چلے گا۔
سہیل آفریدی
“My so-called trial in Adiala Jail is not being conducted by a judge but by an ISI Colonel, who takes instructions directly from the Army Chief, Asim Munir. This is a military trial, not a civilian one.
Everything in Pakistan today is being done under Asim Law, with the Constitution and legal framework in shreds. Over three hundred fabricated cases have been registered against me, all of which I am facing. I will emerge with justice from the courts without making any deal. Every form of oppression has been inflicted upon our party. My wife and I would be freed today if cases were decided on merit. All our human rights have been violated. We are deprived even of the basic facilities granted to ordinary prisoners. My books are withheld, and in eight months I was allowed to speak to my children only once. The judges in my cases hold no authority; they cannot conduct the trials independently. Their decisions are dictated by a Colonel, who merely executes the orders of Asim Munir.
I instruct my entire party to remain united. This oppressive system cannot endure for long. It is essential that all of you retweet posts from my account, in a clear message of unity and alignment.
A grand public rally must be announced in Khyber Pakhtunkhwa, where participants from across the country can stand together against the darkness that engulfs us.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
3/3
ہماری جدوجہد ہمارا حق ہے، کیونکہ پاکستان کی 80 فیصد عوام میرے ساتھ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دھاندلی کا 90 فیصد عمل پولنگ کے بعد سے لے کر نتائج کے درمیان ہوا ہے۔ میں نے دو سال الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے کوشش کی، اگر ۸ فروری کو EVM ہوتی تو گیم وہیں ختم ہو جاتی۔ آج بھی کہتا ہوں، اگر انتخابات میں شفافیت چاہیئے تو EVM کا نظام لایا جائے، دھاندلی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو (24 جولائی 2025)
2/2
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.” 2/2
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
“It is not Martial Law but ‘Asim Law’ that is imposed in Pakistan.
The country is being run under Asim Munir's law, and the ISI is giving it protection. Whatever strengthens Asim Munir's power is made the law of the land. He is prepared to sacrifice every national interest to maintain his hold on power. This Army Chief is disgracing the military just as Yahya Khan once did.
At this time, the Senate, the National Assembly, the Prime Minister, and the President, are all unconstitutional. A sham constitutional court was created, which reduced our seats in parliament. In an unprecedented move, one party’s seats were simply handed over to others. The constitutional courts, which are meant to deliver justice, are now filled with Asim Munir’s personal minions. Sikandar Sultan Raja perpetrated an historic electoral fraud, and instead of being held accountable, he was granted an extension to safeguard that rigging. A judge of the Islamabad High Court is not hearing my appeals for seven months because he too receives instructions from Asim Munir. At this time, Asim Munir’s law prevails in our country, as if he owns Pakistan.
The judiciary, state institutions, and democracy have been systematically dismantled. Military courts have been declared legal, an act that is essentially a vote of no confidence by the judiciary against itself. My wife, Bushra Bibi, is being used as a weapon to break me, but let me make this absolutely clear: I would rather die than accept Asim Munir’s monarchy. This is nothing more than a group that has forcibly seized control of the country.
A ‘Dacoits-and-Duffers Alliance’ has taken full control of Pakistan. The 26th Amendment has completely abolished the independence of the judiciary. Judicial orders hold no weight anymore; even an ordinary policeman can openly defy a judge’s directives. Today, during court proceedings, the judge repeatedly ordered that my family, waiting outside the prison gates, be brought inside and even halted proceedings several times, yet my family was not allowed in. This shows that the judge’s order holds no value for the police. Our justice system has been decimated.
Nations collapse when incompetent people are put in charge.
Asim Munir has assumed control of the country, while Mohsin Naqvi is busy destroying cricket. What qualifications do they have? Due to Mohsin Naqvi, our test cricket team has dropped to ninth place. When such unqualified individuals are placed in charge, this is the fate that befalls every sector, not just sports. A country is doomed when the incompetent are imposed upon institutions through force.
The torture inflicted upon me has intensified. I am kept in solitary confinement in my cell for 22 hours a day. I am denied books, newspapers, and television to keep me cut off from current affairs. This is not just a violation of local law but a grave breach of international human rights standards. Today, following a court order, I was given only a single book after three hours, while my family has already sent over two dozen books in the past month and a half. Ever since the new jail superintendent Ghafoor Anjum has taken over, torture against me has drastically intensified under his supervision.
We want peace in Pakistan. Whoever stands for peace and participates in peace marches must be supported wholeheartedly.
It has now been seven months since I have been allowed to speak to my children. It is their right to approach the courts, and I have personally told my sons to take the matter to international courts on the basis of fundamental human rights. They are not asking anyone in the United States for help; they are only raising their voices for their rights. Even when President Trump first came into office, I said that decisions about Pakistan must be made in Pakistan. 1/2
فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے رہنما سابق چیئرمین فیسکو تحسین اعوان کے ڈیرے پر چھاپے میں تقریباً 400 ملکی وغیر ملکی مرد وخواتین کو حراست میں لیاگیا جن پر شہریوں سے آن لائن فراڈ، بینک اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانے اور بزنس ویب سائٹس ہیک کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں۔