1879 میں مصر کے ایک عام دیہاتی علاقے کفر الشیخ کی ایک سادہ عورت مبارکہ خفاجی نے ایک کسان ابراہیم عطا سے شادی کی۔ غربت اور مالی مشکلات کی وجہ سے شوہر نے اسے اس وقت طلاق دے دی جب وہ حمل کے آخری مہینوں میں تھی۔
مبارکہ اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ اسکندریہ منتقل ہو گئی، جہاں اس نے اپنے بیٹے علی ابراہیم عطا کو جنم دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ہر حال میں اپنے بیٹے کو بہتر تعلیم اور بہتر مستقبل دے گی۔
زندگی نے اسے سخت حالات دیے، مگر اس نے مایوسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ اگر چاہتی تو اپنے بیٹے کو محنت مزدوری پر لگا سکتی تھی، مگر اس نے خود سڑکوں پر پنیر بیچ کر اس کی پرورش کی۔
اس نے اپنے بیٹے کو رأس التین پرائمری اسکول میں داخل کروایا۔ جب وہ ابتدائی تعلیم مکمل کر چکا تو اس کے والد اسے واپس لے جانے آئے تاکہ اسے صرف بنیادی تعلیم کے بعد مزدوری پر لگا دیں۔
لیکن مبارکہ کے خواب بڑے تھے۔ اس نے ہمت اور حکمت سے اپنے بیٹے کو چھپا کر قاہرہ منتقل کیا اور اسے خدیویہ اسکول درب الجمامیز میں داخل کروایا۔ تعلیم جاری رکھنے کے لیے وہ ایک گھرانے کے یہاں ملازمت کرتی رہی۔
علی نے شاندار کامیابی حاصل کی اور 1897 میں میڈیکل کالج میں داخل ہوا اور 1901 میں ڈاکٹر بن کر فارغ التحصیل ہوا۔
کچھ سال بعد سلطان حسین کامل شدید بیمار ہوئے اور ان کی بیماری کی تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر عثمان غالب نے ڈاکٹر علی ابراہیم کا نام تجویز کیا۔ انہوں نے کامیاب آپریشن کیا جس کے بعد انہیں سلطان کا چیف سرجیکل کنسلٹنٹ اور ذاتی معالج مقرر کیا گیا اور “بیگ” کا خطاب ملا۔
1922 میں انہیں بادشاہ فواد اول نے “پاشا” کا خطاب دیا۔
1929 میں وہ قاہرہ یونیورسٹی کے پہلے مصری ڈین بنے اور بعد میں اسی یونیورسٹی کے صدر بھی مقرر ہوئے۔
1940 میں وہ وزیر صحت بنے، اسی سال انہوں نے مصری میڈیکل سنڈیکیٹ قائم کیا اور اس کے پہلے صدر بنے، ساتھ ہی وہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
ایک ان پڑھ دیہاتی اور طلاق یافتہ ماں نے ایسا بیٹا پروان چڑھایا جس نے تاریخ بدل دی۔
سچ یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے۔
ہر اس ماں کو سلام جو زندگی کی حقیقی درسگاہ ہے��
انتہائی ایمویشنل لمحات
تقسیم ہند کے 79 سال بعد انڈین سکھ سردار پاکستان میں اپنا گھر اور زمینیں دیکھنے آیا جب اپنے گاؤں پہنچا تو جن زمینوں پر بچپن میں کھیتی باڑی کرتے تھے وہاں زمین پر لیٹ کر روتے رہے
برصغیر کے لوگوں کو گند اور گندگی میں رہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ اب کوئی صفائی کا نام لے تو ہم پہلے بدک جاتے ہیں، پھر مزاحمت اور پھر مذاق اڑاتے ہیں
پنجاب میں صفائی کا کام شروع ہوا تو مناظر بہتر لگنے لگے ہیں۔ شہر قصبے کچھ اچھے لگنے شروع ہوئے۔
کل کسی انڈیا لڑکی کا سری لنکا سے ٹریول لاگ دیکھ رہا تھا۔وہ کہنے لگی سری لنکا چھوٹا سا ملک ہے لیکن وہاں ٹوراسٹ جانا پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں صفائی ہے جو بھارت میں کم ہے۔
پنجاب میں صفائی پر توجہ دی جارہی ہے جو آپ کو اسلام آباد تک میں نظر نہیں آتی۔
انسانی آنکھوں کو صفائی ہمیشہ اچھی لگتی ہے۔ ہماری آنکھیں گندگی دیکھنے کی برسوں سے عادی ہیں لہذا صفائی دیکھنے اور اسے پسند کرنے اور تعریف کرنے میں ہمیں کچھ وقت لگے گا۔
@MaryamNSharif@CS_Punjab@GovtofPunjabPK@saaf
Hamdan bin Mohammed: On the occasion of Eid Al Adha, warm congratulations to the leadership, the people of the UAE, and everyone who calls this generous nation home. May Allah Almighty bless this occasion with goodness, prosperity, love, and tolerance, and continue to bestow upon the UAE the blessings of security and prosperity. Wishing everyone a blessed and joyful Eid.
On the occasion of Eid Al Adha, I extend my warmest greetings to the leadership and people of the UAE, and to the global Islamic community.
We wish you and your loved ones a joyful Eid filled with blessings and togetherness.
Eid Mubarak!
I extend my warmest congratulations to the leadership, the people of the United Arab Emirates, and the Arab and Islamic nations, on the occasion of Eid Al Adha — a day that reflects the values of compassion, unity, and connection.
Eid Mubarak.
🔹وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہر پاکستانی سمیت پوری امت مسلمہ کو عید الاضحی کی مبارکباد
🔹عید الاضحی کے دن عوام کی حفاظت کیلئے سرحدوں پر مامور جوانوں کو زبر دست خراج تحسین
كل عام وشعب الإمارات بخير .. كل عام ورئيس الإمارات وحكام الإمارات بخير .. كل عام والأمة الإسلامية في خير وسلام ورخاء واستقرار .. وعيد أضحى مبارك .. أعاده الله علينا وعليكم باليمن والخير والبركات.
On the occasion of Eid Al Adha, warm congratulations to the leadership, the people of the UAE, and everyone who calls this generous nation home. May Allah Almighty bless this occasion with goodness, prosperity, love, and tolerance, and continue to bestow upon the UAE the blessings of security and prosperity. Wishing everyone a blessed and joyful Eid.
I congratulate my brothers, the Rulers of the Emirates, all those who call the UAE home, and Muslims around the world on the occasion of Eid Al-Adha. We pray that God bestows his blessings on our nation and grants peace, stability, and prosperity to all.
On the Day of Arafah, the deepest meanings of mercy and divine generosity shine through. It is a day when the hearts of believers unite in prayer, turning to the Most Generous, the Most Forgiving, the Most Merciful. May Allah accept the Hajj of the pilgrims of His Sacred House, and accept from all of us our righteous deeds.
في يوم عرفة، تتجلّى أعظم معاني الرحمة والعطاء الرباني... يومٌ تتوحّد فيه قلوب المؤمنين على صعيدٍ واحد، تدعو الكريم الغفور الرحيم... تقبّل الله من حجاج بيته العتيق حجّهم، ومِنّا ومنكم صالح الأعمال.
يوم عرفة .. يوم المغفرة والرحمة وإكمال الدين وتمام النعمة .. اللهم تقبل من حجاج بيتك .. وتقبل من جميع المسلمين والمسلمات . وأعده علينا أعواماً عديدة وأزمنة مديدة..
Reinforcing its leading position locally, regionally and globally, DEWA won 502 prestigious awards between 2015 and 2025, comprising 344 international awards, 82 regional awards and 76 local awards.
#DEWANews
عوامی نیشنل پارٹی کے نام نہاد دانشور ادریس خان کا یہ چیلنج کہ علامہ اقبال کی ساری اردو اور فارسی شاعری نکال لو اور اگر وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی چوری نہ ہو تو میں مجرم ہوں، علمی اور ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مضحکہ خیز دعویٰ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔ موصوف شدید سیاسی و نظریاتی بغض کا شکار ہیں اور انہوں نے زندگی میں کبھی علم و ادب کی ہوا نہیں کھائی۔ رحمان بابا کا کلام خالصتاً صوفیانہ، درویشانہ، زہد و قناعت اور دنیا کی بے ثباتی پر مبنی ہے جبکہ خوشحال بابا کی شاعری قبائلی شجاعت، مغلوں کے خلاف جنگی ترانوں اور پختون قوم کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا شعری کینوس بالکل الگ، منفرد اور آفاقی ہے جس میں انہوں نے جرمن اور مغربی فلسفے کا رد کیا، کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظریات پر بحث کی، جدید سائنسی دور میں اسلام کے اجتہادی تصور کو ابھارا اور جاوید نامہ جیسا عظیم افلاکی شاہکار لکھا۔ ادریس خان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ مغربی فلسفے کا رد، اشتراکیت کے نظریات اور جدید دور کے سائنسی مسائل رحمان بابا یا خوشحال بابا کے ہاں موجود تھے جہاں سے اقبال نے چوری کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے یہ قوم پرست چوری کہہ رہے ہیں، وہ علم و ادب کی دنیا میں مشترکہ مآخذ کا فکری تسلسل کہلاتا ہے۔ پختونوں کے اپنے مایہ ناز محقق اور نقاد استاد جمیل یوسفزئی نے اپنی مستند تحقیق سرقہ جاتِ خوشحال خان خٹک میں یہ واضح کیا ہے کہ خوشحال بابا اور رحمان بابا کے اپنے سینکڑوں اشعار ایران کے اساتذہ جیسے حافظ شیرازی، شیخ سعدی، حکیم سنائی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کا تسلسل اور ترجمانی ہیں۔ چونکہ علامہ اقبال بھی مولانا رومی کے فکری مرید تھے، اس لیے اگر اقبال اور خوشحال بابا کے چند اشعار میں باز، شاہین، غیرت یا شجاعت کی ہم خیالی پائی جاتی ہے تو وہ چوری نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے یعنی فارسی تصوف اور کلاسیکی ادب سے فیض یاب ہونے کا فطری نتیجہ ہے۔ علامہ اقبال کا کلام تق��یباً ایک لاکھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں قرآنی تصورات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اس لیے چند اشعار کی ہم خیالی پر پوری شاعری کو چوری قرار دینا علمی بددیانتی ہے۔ ادریس خان جیسے لوگ جہاں مغرب کے نوبل پرائز کا رونا روتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کا قد کتنا کاٹھ دار ہے۔ ایران میں انہیں اقبالِ لاہور کہا جاتا ہے اور وہاں کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اقبال کے افکار کا مرہونِ منت ہے۔ ترکی میں مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی علامتی قبر ا�� کی عظمت کا اعتراف ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی جامعات میں اقبال کے فلسفے پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے۔ جرمنی میں دریائے نیکر کے کنارے ان کے نام پر "اقبال افر سڑک موجود ہے اور کیمبرج و آکسفورڈ میں ان کے نثری خطبات پڑھائے جاتے ہیں۔ ادریس خان جیسے رہنماؤں کو اصل تکلیف خوشحال بابا سے محبت نہیں، بلکہ ان کا اپنا سیاسی حسد ہے کیونکہ اقبال نے پشتونوں کی جس شجاعت کو اپنی شاعری میں ابھارا، اسے انہوں نے لسانی قوم پرستی کی تنگ نظری سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا، جس کی وجہ سے ان قوم پرستوں کی محدود سیاسی دکان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادریس خان صاحب، اقبال کا شاہین آپ جیسے چھوٹے سیاسی بونوں کی تصدیق یا تردید کا محتاج نہیں، وہ ہمیشہ فکری بلندیوں پر پرواز کرتا رہے گا اور آپ کی یہ علمی پستی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائے گی۔