Conference on Islam’s Role in Religious Harmony & Social Cohesion
Join us for a thought-provoking evening featuring keynote speaker Prof. Dr. Hussain Mohi-ud-Din Qadri, President of Minhaj-ul-Quran International, as he addresses the vital role of Islam in promoting peace, unity, and social integration.
Date: Saturday, 2nd August 2025
Time: 6:00 PM (AEST) | 1:00 PM (PST)
Venue: Bristol Clubhouse, 16 Georgina Cres, Kaleen, Australian Capital Territory
Special Guests:
• James Milligan – Shadow Minister for Business, Arts and Creative Industries
• Ralitsa Dimitrova – Vice President, Gungahlin Community Council
Register Now: Scan the QR code on the poster
For Info: 0490 508 789
Organized by: Minhaj-ul-Quran International Australian Capital Territory
#DrHussainQadri #ReligiousHarmony #SocialCohesion #MinhajUlQuran
غصہ اور جذبات کے مواقع پر صبر و حکمت سے کام لینا مومن کی نشانی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شدید رنج، دکھ اور آزمائش کے لمحات میں بھی جذبات کی شدت پر قابو پانا، انہیں عقل و فہم کے تابع رکھنا اور اپنے ردِ عمل کو حلم، بردباری اور اُمت کی بھلائی سے مربوط رکھنا ہی اعلٰی اخلاق کی علامت ہے۔ یہی وہ عظیم سبق ہے جو ہمیں سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے ملتا ہے۔
#PropheticCharacter #PatienceAndWisdom #SunnahOfPeace #EmotionalIntelligence #SeeratUnNabi #IslamicEthics #DrHussainQadri
ماہِ محرم ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآن و سنت نے حرمت والا قرار دیا ہے۔ ماہِ محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے، مگر تاریخِ اسلام میں یہ محض سال کا آغاز نہیں بلکہ قربانی، حق گوئی، عدل و انصاف، شعورِ بندگی اور شعورِ حریت کا پیغام ہے۔ اس مہینے کی فضیلت کو امامِ عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی نے امر کر دیا۔
اہلِ بیت اطہار علیہم السلام سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں؛ ایک اللہ کی کتاب (قرآن) اور دوسری میری عترت (اہلِ بیت)، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے جا ملیں۔"
حضرت امام حسین علیہ السلام نے ہمیں کربلا میں "دین کے لیے مرنے" کا درس دیا اور کربلا سے پہلے "دین کے لیے جینے" کا سلیقہ سکھایا۔ آپ نے ظلم، جبر، باطل اور فاسق حکمران یزید کے سامنے سر جھکانے کے بجائے، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ قربانی دے کر عدل و حق کا پرچم بلند کیا۔
امام حسین علیہ السلام کا پیغام فقط تلوار کی جنگ نہیں تھا، بلکہ عبادت، تقویٰ، حلم، بردباری، ایثار، اخلاق اور قرآن سے وفاداری پر مبنی ایک مکمل انقلابی پیغام تھا۔ آپ کی شجاعت کے ساتھ ساتھ آپ کی رحم دلی، عجز و انکساری، سخاوت اور شب زندہ داری بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ قرآن کی تعلیمات کے ساتھ آپ کی والہانہ وابستگی اس بات کی دلیل ہے کہ شہادت کے بعد بھی آپ کے لبوں پر تلاوت جاری تھی۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک جاری رہنے والا عہدِ شعور ہے۔ پیغامِ حسینیت عدل و امن کا پرچم ہے۔
پیغامِ کربلا ہی منہاج القرآن کا راستہ ہے، جہاں سے حق کی آواز ہمیشہ بلند ہوتی رہے گی۔
آئیے، ماہِ محرم الحرام میں اپنے ایمان کی تجدید کریں، اہلِ بیتِ اطہار سے عشق کو اپنی روح کا حصہ بنائیں اور امام حسین علیہ السلام کے بتائے ہوئے راستہ پر گامزن ہو کر دین و ملت کے لیے کردار ادا کریں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
#Muharram1447 #ImamHussain #Quran #Hadith #Message #Karbala #AhlulBayt #IslamicNewYear #Muharram #Hussain #MinhajulQuran #Truth #DrHussainQadri
17 جون 2014 کو بے گناہ شہریوں کا خون بہایا گیا۔آج بھی شہداء کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں،جبکہ قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔یہ صرف ایک مقدمہ نہیں،یہ انسانیت، آئین اور عدل کا امتحان ہے۔ ریاستی اور عدالتی اداروں سے مطالبہ ہے، رکاوٹیں ختم کریں، مجرموں کو سزا دیں۔
میاں عنصر محمود ، مرکزی جنرل سیکرٹری MSM پاکستان
۔
۔
۔
#11YearsOfInjustice #MSMPakistan #MSM #ModelTownMassacre #SanihaModelTown
The Declaration of Ghadir marks a momentous day in Islamic history — the day when the Holy Prophet ﷺ proclaimed Sayyiduna Ali (عليه السلام) as the "Mawla" (guardian and leader) of the entire Muslim Ummah. On this occasion, the love for Imam Ali (عليه السلام) and devotion to the noble Ahl al-Bayt were declared as essential elements of true faith. #Ghadir is not merely a historical event; it is a profound declaration of deep-rooted love for the #AhlulBayt and a cornerstone for understanding the essence of religion.
ولایتِ علی علیہ السلام قلبِ مؤمن کی روشنی ہے
18 ذو الحجہ کو نبی اکرم ﷺ نے غدیرِ خم میں سیدنا علیؑ کا دستِ اقدس بلند کر کے اعلان فرمایا: "جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے"۔ یہ اعلان محبتِ علی علیہ السلام کو صرف اختیاری جذبہ نہیں، بلکہ بندگی کا پیمانہ اور دین کی روح قرار دیتا ہے۔ جو مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جڑ گیا، وہ ہدایت سے جڑ گیا؛ اور جو مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کٹ گیا، وہ حق سے محروم ہو گیا۔ ولایتِ علی علیہ السلام قلبِ مؤمن کا نور ہے۔
#غدیر #Ghadeer #MolaAli #DrHussainQadri #MinhajulQruan
“The Noble Conduct of The Prophet Muhammad ﷺ” – Shaykh Hammad Mustafa al-Madani al-Qadri.
This powerful lecture was delivered by Shaykh Hammad Mustafa al-Madani al-Qadri as a keynote address at the Global Peace and Unity Conference 2024 - a landmark event attended by thousands.
Join us for Al Hidayah 2025 - a transformative three-day journey of knowledge, spirituality, and enlightenment in the inspiring presence of His Eminence Shaykh-ul-Islam Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri and Shaykh Hammad Mustafa al-Madani al-Qadri.
🗓️ Saturday 2nd August – Monday 4th August 2025
📍 University of Warwick, Coventry, UK.
🔗 Book your place now: https://t.co/QhjB9R0K5j
#AlHidayah2025 #AlHidayahWithDrQadri #ShaykhHammadMustafa
حج اطاعتِ الٰہی اور عشقِ حقیقی کی معراج ہے
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو عبادات و معاملات ہر دو قسم کے اعمال میں بندوں کی نیت اور اخلاص کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ جب بندہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم کرنے کا عہد کرتا ہے تو یہی اطاعت اصل بندگی ہے، اور یہی بندگی حج اور قربانی کا اصل پیغام ہے۔
جب بندہ احرام باندھتا ہے تو وہ دنیا کی زیب و زینت، وقتی آسائشوں اور ذاتی ترجیحات کو ترک کر کے ایک نئی روحانی کیفیت میں داخل ہوتا ہے۔ اس کی سادہ پوشاک اعلان کرتی ہے کہ وہ دنیاوی تفاخر اور شخصی تمیز سے نکل کر رب کے حضور بطور ایک عاجز بندہ حاضر ہوا ہے۔
حج کے مناسک دراصل اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی ادائیں ہیں، جنہیں ہر کوئی اختیار نہیں کر پاتا۔ یہ وہ عبادات ہیں جن کے ذریعے انسان اللہ کے قرب کی جستجو کرتا ہے۔ طواف، سعی، وقوفِ عرفہ اور رمیِ جمرات صرف اعمال نہیں بلکہ عشقِ الٰہی کی منازل ہیں، جن پر چل کر بندہ اپنی بندگی کو مکمل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا روحانی سفر ہے جس میں بندہ دنیا و مافیہا سے کٹ کر رب کی بارگاہ میں بے خودی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔
ان مناسک کی اصل حقیقت عقل کی گرفت سے باہر ہے۔ چاہے ان کے فوائد تلاش کیے جا سکتے ہوں، مگر ان کا جوہر اطاعت میں پنہاں ہے۔ سچی عبادت وہی ہے جو خالص اللہ کے حکم پر کی جائے، نہ کہ عقل و منطق کی بنیاد پر۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذٰلِكَ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ
"یہی (حکم) ہے، اور جو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے (یعنی ان جانداروں، یادگاروں، مقامات، احکام اور مناسک وغیرہ کی تعظیم جو اللہ یا اللہ والوں کے ساتھ کسی اچھی نسبت یا تعلق کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں) تو یہ (تعظیم) دلوں کے تقوٰی میں سے ہے (یہ تعظیم وہی لوگ بجا لاتے ہیں جن کے دلوں کو تقوٰی نصیب ہوگیا ہو)۔" (سورۃ الحج، آیت 32)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بندہ اللہ کی نشانیوں کا ادب و احترام کرتا ہے — چاہے وہ کعبہ ہو، صفا و مروہ، قربانی کے جانور ہوں یا دیگر شعائرِ حج — تو وہ دراصل دل کے تقویٰ کا عملی مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے، یہی کیفیت اسے اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔
آج کا نوجوان اکثر ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: "اس عبادت کا فائدہ کیا ہے؟" لیکن عبادت فائدے کے لیے نہیں، محض رب کے حکم پر کی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے جگر گوشے کو قربان کرنے کا جو جذبہ دکھایا، وہ عقل سے بالا تر تھا۔ یہ عشق کی معراج، بندگی کا کمال اور تسلیم و رضا کی انتہا تھی۔ قربانی دراصل اسی سنتِ ابراہیمی کی تجدید ہے — یہ اعلان کہ "اے رب! میں تیری رضا کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہوں۔"
اسی طرح حج میں طواف کے ابتدائی تین چکروں میں مردوں کے لیے تیز قدم اور سینہ تان کر چلنا سنتِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس کی عقلی توجیہ ممکن نہ بھی ہو، لیکن سچا عشق یہی کہتا ہے: "یہ رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے، اور یہی میرے لیے کافی ہے۔"
حج ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دین صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے۔ اس میں ہر عمل کا معیار اللہ کی رضا ہے۔ جب بندہ دنیاوی امور کو بھی اسی نیت سے انجام دے کہ یہ رب کی خوشنودی کا ذریعہ بنیں، تو وہی معمولی کام بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ یہی شعور نئی نسل کو دیا جانا چاہیے تاکہ وہ رسم و رواج سے نکل کر عبادت کی اصل روح کو پا سکے — یعنی اللہ کے لیے جینا اور مرنا۔
حج محض ایک رسمی عبادت یا جسمانی مشقت نہیں، بلکہ یہ صبر، عاجزی، قربانی اور فنا فی اللہ کی جامع تربیت ہے۔ یہ بندے کو رب کی اطاعت میں ڈھالنے اور اُس کے حضور جھکنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عبادات کو محض عقل سے نہیں، بلکہ عشق، اخلاص اور عاجزی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین، یا ربّ العالمین۔
https://t.co/rEmagJnYG7
#Hajj2025 #SpiritualJourney #SubmissionToAllah #LoveForAllah #PilgrimageOfFaith #EssenceOfWorship #SacredRituals #UnityOfUmmah #SunnahOfIbrahim #IslamicTeachings #MinhajUlQuran #DrHussainQadri #SacrificeAndDevotion #PathToAllah #LivingForAllah