سُربندن میں پانی کا شدید بحران، شہری ایک ماہ سے پریشان
گوادر کے نواحی شہر سُربندن میں گزشتہ ایک ماہ سے پانی کا شدید بحران برقرار ہے، جس کے باعث وارڈ نمبر 1 سے لے کر تمام وارڈز تک پانی کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے۔ شہری پینے کے صاف پانی کے لیے دربدر ہو گئے ہیں، جبکہ
@HamidMirPAK@MHidayatRehman@Hidayat71695632@HammalKalmati_@geonews_urdu@Intekhabhd پائپ لائن دوبارہ پھٹ جاتی ہے، جس کے پیش نظر پریشر انتہائی کم رکھا گیا ہے، نتیجتاً پانی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔
علاقے کی واٹر ٹینکی بھی خستہ حالی کا شکار ہے، جس میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور بارش کا گندا پانی اندر شامل ہو رہا ہے، جس سے پانی نہ صرف ضائع ہو رہا ہے بلکہ نمکین اور
@HamidMirPAK@MHidayatRehman@Hidayat71695632@HammalKalmati_@geonews_urdu@Intekhabhd خواتین اور بچے مساجد اور ہمسایوں کے گھروں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق ابتدا میں پائپ لائن پھٹنے کے باعث سپلائی معطل ہوئی، جسے بعد ازاں مرمت تو کیا گیا، تاہم بوسیدہ اور ناکارہ پائپ لائنز کے باعث مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ جیسے ہی پانی کا پریشر بڑھایا جاتا ہے،
جان محمد بلوچ جنہیں 13 مارچ 2013 کو بلیدہ سے جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کا خاندان آج X پر مہم چلا رہا ہے۔ جو ساتھی اس وقت آن لائن ہے اس ہیش ٹیگ پر ٹویٹ کر کے جان محمد کے اہل خانہ کی آواز بنیں۔
#ReleaseJanMuhammad
بسمہ اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
کیا تم نے اسے دیکھا ہے جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے، وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا، پھر بڑی خرابی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کی جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو دکھاوا کرتے ہیں،
۔ سائفر کیس کی آڑ میں کسی سیاسی لیڈر کو سیاسی عمل سے خارج کرنا، قید کرنا ناقابل قبول ہے۔یہ فیئر ٹرائل نہیں تھا،اس سے پاکستان کو کوئی سیاسی استحکام نہیں ملے گا۔کیا پاکستان میں سیاسی قائدین ہی کو سزائیں ہوں گی؟
کیا ججز جرنیل قانون و دستور سے ماوراء ہیں؟
کیا دستور کو معطل و منسوخ کرنے، مارشل لاء لگانے، عشروں تک ملک کی قسمت سے کھیلنے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے کسی سابق ڈکٹیٹر/جرنیل کو سزا ہوئی ہے؟
عدالت کے فیصلے کے باوجود پرویز مشروف کو سزا دور کی بات ہے انہیں جیل کی ہوا تک لگنے نہیں دی گئی اور انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ بیرون ملک رخصت کیا گیا
#CipherCase
کوئٹہ :ہم اپنے لوگوں کی غیر مشروط احترام و عزت کے لیے مشکور ہیں جھنوں ہمارے راستوں پر پھول نچھاور کیے ہمارے استقبال میں ہزاروں کی تعداد میں نکلے ہمارے راستوں پر اپنی نگاہیں بچھا دی
27 جنوری کو ہم اس سے بھی بڑی تعداد میں نکلنے کی امیس کرتے ہیں آپ نے جس طرح ہمارا استقبال کیا جس طرح ہمارے تحریک کے ساتھ جوڑے یقین کریں وہ وقت دور نہیں جب زندانوں کے زنگ آلود تالے کھل جائیں گے ہمارے پیارے ہمارے ساتھ ہونگے تب گیت خوشی کے گائیں گے تب ملکر جشن منائیں گے اور اس دن سب ایک دوسرے کے گلے ملکر خوب روئیں گے
پشتون بھائیوں اور ہزارہ بہن بھائیوں کا بھی شکریہ جو ہمارے ساتھ ہمقدم رہے
اب وادی بولان میں ، جمہور کا میلہ ہے
ہے رقص میں اب عاشق
سرمست جہانوں کے
#MarchAgainstBalochGenocid
کوئٹہ : جن کو لگتا تھا اسلام آباد دھرنے سے واپس بلوچستان جانا ہماری شکست ہے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ہماری شکست :
ہم نے یہ کمایا ہے عوامی طاقت ہی ہماری فتح ہے عوامی طاقت سے ہی ریاستی تشدد بلوچ کش پالیسیوں کا مقابلہ کریں گے عوامی طاقت سے ہی اپنے پیاروں کو بازیاب کروائیں گے عوامی طاقت سے ہی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو روکیں گے
ہم خالی ہاتھ بلوچستان لوٹ کر نہیں ائے ہیں آپکی بربریت اپنے ساتھ کی جانے والی سلوک کی داستانیں لے کر ائے ہیں یہ عوامی اجتماعی ہمارے استقبال کے لیے نہیں بلکہ تمہاری دہشت اور وحشت کے خلاف تمہاری بے جا طاقت کے استعمال کرنے کے خلاف عوامی عدالت میں عوام کا فیصلہ ہے
جہاں مدعی عوام منصف بھی عوام ہی ہیں
ہماری جدوجہد اسلام آباد میں ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ جدوجہد نئی شکل نئی رنگ میں شروع ہوئی ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
ہمارے بچے بھی شعور کے اس سطح تک پہنچ چکے ہیں کہ خاموشی میں موت اور مزاحمت میں زندگی کے نظریہ کے ساتھ ہے۔
اور آپ اب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ آپ اس تحریک کو طاقت اور تشدد سے شکست دے سکتے ہو۔
ڈرتے وہ لوگ ہیں جنہیں اپنا عیش و عشرت کھونے کا ڈر ہو،
ہمارے تو گدان بھی جل چکے ہیں۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#IStandWithBalochMarch
On Monday, January 15, we met with Ms. Mio Sato, the former Chief Mission of the United Nations Mission to Pakistan, who is also the Chief Mission of the International Organization for Migration (IOM) in Pakistan, Mr. Shah Nasir Khan, the UN's Resident Coordinator officer, and Dr. Mariam Shaikh, a communications advisor in the UN. We informed them about the ongoing human rights abuses in Balochistan, including enforced disappearances, extrajudicial killings, crackdowns on peaceful marchers advocating for Baloch rights across the country, and threats to protest sit-in participants. They assured us of their support and mentioned that the case would be forwarded to the relevant section of the UN.
@ShahNasirKhan@UNmigration@miosato_iom@IOM_Pakistan
#MarchaagainstBalochGenocide
#IStandWithBalochMarch
بلوچستان کے شہروں کی آبادی پنجاب کی طرح لاکھوں کروڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے اور پورے خاران ضلع کی آبادی صرف 45 ہزار ہے لیکن آج جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج میں خاران شہر میں عوام کی شرکت دیکھئیے۔
ہر خاتون ہر مرد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے لئے باہر نکل آیا ہے
#IStandWithBalochMarch
A new dawn brings a fresh case of enforced disappearance.
This morning, Punjab Police unlawfully arrested more than 25 Activits along with Aslam Buzdar , Rasool Bakhsh Buzdar and Zulfiqar Baloch from Taunsa Sharif.
While we have been protesting against enforced disappearances and the Baloch Genocide, the state is intensifying the policy of enforced disappearance instead of addressing it.
If not the United Nations, then to whom should we appeal now?
#IStandWithBalochMarch
#MarchAgainstBalochGenoscide