‼️ کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں پاک فوج کا ایک تربیتی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، حادثے کے وقت طیارے میں عملے کے دو ارکان سوار تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ تاحال عملے کے ارکان کی حالت، ممکنہ جانی ��قصان اور حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
‼️ بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکم سے 9 اکتوبر کے دوران 10 کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں تین پاکستانی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد تجارتی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ سے منسوب بیان کے مطابق، یہ کارروائیاں قلات، سوراب، کیچ اور چاغی کے اضلاع میں کی گئیں۔ بی ایل ایف نے دعویٰ کیا کہ 9 اکتوبر تک جاری رہنے والی ان کارروائیوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ تجارتی گاڑیوں اور سرکاری تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔
🚨 اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کانفرنس، ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں اور پاک افغان سیکیورٹی اختلافات زیرِ بحث
اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح تنظیموں سے لاحق سیکیورٹی خطرات اور علاقائی سلامتی کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان کے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی، جنگجوؤں کی بھرتی اور تربیت کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے۔
کانفرنس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت پاکستانی حکام، سیکیورٹی امور کے ماہرین اور بین الاقوامی شرکاء کی شرکت بھی طے تھی۔
دوسری جانب افغان طالبان حکام پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ افغان سرزمین مسلح گروہوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور سرحدی سلامتی کے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
‼️ کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کوہاٹ کے علاقے لاچی کے کڑپہ میں ایس ایچ او پر حملے اور جنوبی پنجاب میں تنظیم کے جنگجوؤں کی جانب سے پولیس چوکیوں پر کیے گئے کواڈ کاپٹ�� حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
‼️ بلوچستان کے ساحلی علاقے جیوانی، ضلع گوادر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی دو کشتیوں پر گھات لگا کر کیے گئے حملے کی ویڈیو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے جاری کردی ہے، جس میں حملے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، یہ کارروائی اس کی بحری یونٹ ’حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس‘ نے انجام دی تھی۔ بی ایل اے نے حملے میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے 13 اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
‼️ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری یونٹ ’حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس‘ نے بلوچستان کے ساحلی علاقے ��یوانی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی دو کشتیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 13 اہلکار ہلاک ہوئے۔
‼️ کراچی میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کے مشتبہ رکن فضل حق خان کو گرفتار کرلیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق، کارروائی کے دوران گرفتار شخص کے قبضے سے ایک ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوا ہے۔ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ گرفتار شخص سے مزید تفتیش جاری ہے۔
🚨 خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے کے خلاف ٹی ٹی پی کا اعلامیہ، عوام سے تنظیم کا ساتھ دینے کی اپیل
کالعدم شدت پسند ٹی ٹی پی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں تنظیم نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی ا��ر صوبے کے عوام سے ٹی ٹی پی کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام واقوام کی خواہشات کے بالکل برعکس فوجی ٹولے کی طرف سے مسلط کردہ فیصلہ ہے، یہ جبری اور ظالمانہ فیصلہ نہ مذہبی جماعتوں کو قابلِ قبول ہے اور نہ سیاسی جماعتوں کو، بلکہ تمام طبقات نے اسکو کلی طور پر مسترد کر دیا ہے ۔
اعلامیے میں وفاقی حکومت کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اس کام کو درست ظاہر کرنے کے لئے آئینِ پاکستان کے کئی آرٹیکلز کا سہارا لیا ہے، حالانکہ یہ بات چمکتے سورج کی طرح واضح ہے کہ پاکستانی آئین اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی ہے، اپنے مفادات کے لئے آئین میں اس نے وہ سب کچھ شامل کیا ہے جسے وہ ضرورت کے وقت استعمال کرکے ایک سطحی بیانیئے کی صورت میں میڈیا پر لوگوں کی ذہن سازی کے لئے کام میں لائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر دیکھا جائے تو پورے پاکستان میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں چونکہ جو سیاسی جماعت اور اس کے حلیف بر سر اقتدار تھے وہ ��سٹیبلشمنٹ کے یہاں معتوب اور انکی جبری پالیسی سے نالاں ہیں اس لئے ان کے آئینی حق کو وفاق کی طرح صوبے کی سطح پر بھی چھین لیا گیا ۔
امن و امان کی بحالی کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن وامان کی بحالی کے جس بہانے پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے وہ نہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور نہ فوجی رژیم کی پالیسی کا حصہ ہے ۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امن کی بحالی کے لئے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا پڑتا ہے، جس کے ماننے کے لئے یہ دونوں بالکل غیر سنجیدہ ہیں ۔
ٹی ٹی پی نے خیبر پختونخوا کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا ہے کہ ہم خیبرپختونخوا ��ے عوام (خصوصاً جن کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے) سے اپیل کرتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑانے کے لئے میدانِ عمل میں آکر تحریک طالبان پاکستان کا ساتھ دیں ، ورنہ آپ کے وسائل اور حقوق کو لوٹنے کے لئے یہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔
اعلامیے کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ بات پوری قوم کے ذہن نشین رہے کہ گورنر راج کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے ۔ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔
🚨 خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی اطلاعات، مولانا فضل الرحمٰن کا حکومت پر مذاکرات سے انحراف کا الزام
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مبینہ طور پر وفاقی حکومت پر سیاسی مذاکرات سے انحراف کا الزام عائد کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ڈی آئی خان نیوز کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا تھا، تاہم اس کے بعد صوبے کے انتظامی معا��لات میں تبدیلیوں کی جانب پیش رفت کی گئی۔
گردش کرنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبے کے انتظامی اختیارات سونپنے اور ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو صحت، کفایت اللہ خان کو داخلہ امور اور ثمر بلور کو اطلاعات و نشریات کی ذمہ داریاں دینے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں انتظامی اور سیکیورٹی امور میں معاونت کے لیے پاک فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب، ڈی آئی خان نیوز کے مطابق سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کیے جانے اور وہاں پولیس اہلکار تعینات ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے انتظامی معاملات میں تبدیلیوں پر غور کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
تاہم، گورنر راج سے متعلق اقدامات، اختیارات کی منتقلی، مشاورتی کونسل کی تشکیل، فوج کی تعیناتی اور علی امین گنڈاپور کی مبینہ نظر بندی کے حوالے سے ان اطلاعات کی آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق تاحال نہیں ��وسکی۔
‼️ کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر تنظیم کے ارکان کو بلوچستان میں پنجگور–کراچی شاہراہ پر گاڑیوں کی اچانک چیکنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
‼️ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق، دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے کی سہ پہر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اتھارٹی کے بیان کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری اور آٹھ غیر ملکی باشندے شامل ہیں، جن کا تعلق بنگلہ دیش، امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے بتایا گیا ہے۔ حملے کے نتیجے میں مالی نقصان بھی ہوا ہے، جس کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
‼️ کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے کوہاٹ اور نوشہرہ کے درمیان واقع علاقے نظام پور میں زیرے پوسٹ کے قریب سے اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کی ویڈیو جاری کردی ہے، جس میں اہلکاروں کو ٹی ٹی پی کی تحویل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار مبینہ طور پر اس بات کا اقرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور مناسب سلوک کیا گیا۔ قبل ازیں اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ مقامی مشران کی ثالثی ��یں مذاکرات کے بعد مذکورہ اہلکاروں کو رہا کردیا گیا تھا۔
‼️ افریقی ملک مالی کے علاقے ٹمبکٹو میں داعش کے جنگجوؤں نے مبینہ طور پر القاعدہ سے وابستہ عسکریت پسند گروہ جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین کے جنگجوؤں پر حملہ کیا، جس کے دوران متعدد ہتھیار قبضے میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، جھڑپ کے دوران داعش کے جنگجوؤں نے ایک اے کے 103 رائفل، ایک ٹائپ 56-1 رائفل اور ایک ٹائپ 80 مشین گن سمیت متعدد ہتھیار قبضے میں لے لیے۔ واقعے میں جانی نقصان، جھڑپ کے درست مقام اور تصادم کے حالات سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
‼️ کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنی کتاب ’’عسکری تنظیمات کے لیے بقا و کامیابی کے اصول‘‘ میں افغانستان کی تاریخ اور مختلف تاریخی ادوار میں قبائلی برادریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ کتاب میں افغانستان کے سابق حکمران امیر عبدالرحمان خان اور امان اللہ خان کے ادوار سمیت 2001ء سے 2021ء تک جاری رہنے والے تنازع کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے مختلف تاریخی ادوار میں قبائلی برادریوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کا تنقیدی تجزیہ بھی کیا ہے۔
‼️ بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے سراتی سے 10 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں رارا شام کے بنیادی مرکزِ صحت (BHU) منتقل کر دیا گیا ہے۔ جن کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی۔
1. حفیظ ولد اختر محمد
2. حسن ولد عمر خان
3. اقبال ولد نواب خان
4. کریمو ولد دین محمد
5. مزار ولد شاہ داد
6. سعید خان ولد امیر
7. شیری ولد ناہی بخش
8. واحد بخش ولد خدا بخش
9. ظویر ولد نواب خان
10. پائند خان ولد قیصر
تاحال ان افراد کی موت کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
‼️ بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچر میں مسلح افراد نے خالق آباد کے ایس ایچ او علی اصغر نیچاری اور ان کے گارڈ محمد سلمان کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ ان کے موجودہ مقام اور صورتِ حال سے متعلق معلومات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔ واقعے کی ذمہ داری بھی اب تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
‼️ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے ساتھ جاری تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ماسکو فارمیٹ مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے متقی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اس معاملے کو باہمی الزامات اور پروپیگنڈے کی جنگ میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا بلکہ مقصد مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے، نہ کہ اسے طول دینے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنا۔ متقی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان علاقائی اقتصادی راستوں، مہاجرین اور تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف طلبہ سمیت انسانی نوعیت کے معاملات کو زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے بطور ذریعہ استعمال کر رہا ہے۔
‼️ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے طالبان کے امیر ہبت اللہ اخوندزادہ سمیت چار اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم اور صنفی بنیاد پر مبینہ ظلم و ستم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ عدالت کے مطابق دیگر تین عہدیداروں میں چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، وزیرِ تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیرِ اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم شامل ہیں۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر معقول بنیادیں موجود ہیں کہ مذکورہ عہدیدار خواتین، لڑکیوں اور طالبان کی صنفی پالیسیوں سے متاثر یا ان کی مخالفت کرنے والے دیگر افراد کے خلاف مبینہ ظلم و ستم کے احکامات ��ینے یا اس پر اکسانے ��یں مجرمانہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اخوندزادہ اور عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ 8 جولائی 2025 جبکہ حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے وارنٹ 9 ستمبر 2025 کو جاری کیے گئے تھے، جنہیں اب باضابطہ طور پر منظر عام پر لایا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ وارنٹ گرفتاری کسی جرم میں سزا یا حتمی عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ملزمان کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کے لیے ابتدائی قانونی بنیاد کی عکاسی کرتے ہیں۔
‼️ بلوچ لبریشن آرمی-آزاد (BLA-A) نے مجیب خیازئی نامی ایک شخص کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ادارے کے لیے کام کرتا تھا۔ تنظیم کے ترجمان آزاد بلوچ سے منسوب بیان کے مطابق، مجیب خیازئی کو 20 ستمبر کو بلوچستان میں ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اس سے تفتیش کی گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ریکارڈ کیے گئے ایک اعترافی بیان ��یں خیازئی نے پاکستانی سکیورٹی اداروں سے روابط اور تنظیم کے ارکان سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا۔ بیان کے مطابق، تنظیم کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد ’’بلوچ قومی عدالت‘‘ نے بعد ازاں اسے سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا۔
‼️ کالعدم شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس ویڈیو کو جعلی قرار دے دیا ہے جس میں مبینہ طور پر مفتی ندیم درویش کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جاری احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے مطابق تنظیم نے موجودہ سیاسی صورتِ حال یا پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ادارے عوامی احتجاج کو ٹی ٹی پی سے منسلک کرنے کی کوشش کے تحت اس نوعیت کا مواد پھیلا رہے ہیں۔