ع
یوں تو ہر ایک غم سے پھر ہم نے نباہ کر لیا
ایک دریدہ شاخِ دل خوب ہری بھری رہی
پھر یوں ہوا کہ نیند سے خوابوں کا فاصلہ رہا
پھر یوں ہوا کہ رات بھر آنکھوں کو بےکلی رہی
ذکیہ ��زل
السلام علیکم،
تمام احباب کو عید کی دلی مبارکباد ، عید الفطر انعامِ الٰہی ہے،
اللہ کی بارگاہ میں سجدہءشکر ہے، اور شکر گزاری کے ان لمحات کا احترام کرتے ھوئے، میری جانب سے عید کی ساعتیں آپ کو اور آپ کے اھلِ خانہ کو مبارک ھوں۔
❤️💞
ہونٹوں پہ ثنا سامنے ہو گنبدِ خضرا
بارش تری رحمت کی ہو اور صحنِ حرم ہو
شرمندہ گناہوں پہ ہوں مایوس نہیں ہوں
آقاؐ درِ اقدس پہ نہ رسوائی کا غم ہو
جاؤ جو غزل تم بھی کبھی شہرِ مدینہ
دامانِ طلب اشکِ ندامت سے بھی نم ہو
ذکیہ غزل
"نعتِ رسول صل اللہ علیہ وسلم"
اک بار مدینے کا سفر ہو تو کرم ہو
روضہ پہ پہنچ جاؤں تو پھر نعتؐ رقم ہو
خواہش مجھے دنیا کی نہیں ہے مرے آقاؐ
اب جو بھی سفر ہو، سوئے بطحا و حرم ہو
منگتی ہوں ترے در کی نہ خالی مجھے لوٹا
قائم یونہی بس میری دعاؤں کا بھرم ہو
ذکیہ غزل
درد کی جھیل میں قصے تھے تہہِ آبِ رواں
جب سنے ہم سے زبانی، تو ہمارے ہوئے لوگ
آج کانٹوں سے بھرا لاکھ ہو دامن اپنا
تھے کبھی ہم بھی غزل پھول سے وارے ہوئے لوگ
ذکیہ غزل
"غزل"
قریہء جاں مضطرب تو ھے، مگر خاموش ھے
یاد چوکھٹ پر کھڑی ھے، اور گھر خاموش ھے
ایک بے چہرہ بدن کو نام دینے کے لیے
چاک سرگرمِ عمل ھے، کوزہ گر خاموش ھے
دل کی وہ آواز جس کو سن کے وہ پلٹا نہ تھا
وہ صدا، اب بھی ھوا کے دوش پر خاموش ھے
ذکیہ غزل
تازہ غزل
ہیں ہمِیں درد کی شدت سے نکھارے ہوئے لوگ
تم نے دیکھے ہیں کہاں، جیت کے ہارے ہوئے لوگ
سارے ہی ہجرزدہ خواب کی تعبیر میں گم
سارے ہی خواب کی دنیا سے گزارے ہوئے لوگ
ایک ہم ہی تو نہیں دردِ شکستہ کی مثال
ایک ہم ہی تو نہیں پیار کے مارے ہوئے لوگ
ذکیہ غزل
ِیاد کے ابر میں چمکا، کوئی بھٹکا جگنو
چاند کی دید میں جاگے، تو ستارے ہوئے لوگ
دل کی پتھرائ ہوئ آنکھ میں دریا چپ تھا
اور دریا کا چلن دیکھ، کنارے ہوئے لوگ
ذکیہ غزل