ایک اپیل زعیم لغاری کے موبائل کے حوالے سے
سندھ، کوٹ سبزل کے مقام پر سہیل آفریدی کے قافلے کی آمد کے موقع پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں زعیم لغاری صاحب کا موبائل فون سام سنگ S20 ان کی جیب سے کسی نے نکال لیا۔
چور صاحب سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ لغاری صاحب کا موبائل واپس کر دیں۔
اس موبائل میں زعیم لغاری صاحب کا اہم اور قیمتی ڈیٹا موجود ہے۔ موبائل کی اپنی قیمت یا ری سیل ویلیو بھی کوئی خاص زیادہ نہیں، لیکن اس میں موجود ڈیٹا ان کے لیے بہت اہم ہے۔
لہٰذا جس بھائی کے پاس بھی یہ موبائل ہے، خدارا اسے واپس کر دیں۔
نہ آپ کا کوئی نقصان ہوگا، نہ کسی کا حق ضائع ہوگا۔
یہ ایک مخلصانہ اپیل ہے کہ موبائل واپس کر کے ایک مشکل آسان کر دیں۔
یہ جنازہ زین کا نہیں ہے بلکے ہمارے اس سسٹم کا ہے جو گل سڑ گیا ہے ، بدبودار سسٹم کے حصہ دار ٹریفک وارڈن جس نے صرف دو ہزار کا چالان کرنے کے لئیے 12 ربیع الاول کو زین کے سامنے آ کر اسے دھکا دیا بعد ازاں اس پر نشہ میں ڈرائیونگ کرنے کا سنگین الزام لگا کر ایف آئی آر دے دی ، جی ہاں ایک طرف وہ نوجوان جس کی گھر والوں نے شوق سے منگنی کی تھی، دسمبر میں ماں نے سہرا سجانا تھا اور موت کی کشمکش میں سروسز ہسپتال میں داخل نوجوان کو مجرم ٹھہرا کر سسٹم کے محافظ چین کی نیند سو رہے تھے کہ پانچویں روز زین دم توڑ گیا اس دوران زین کے بھائی ہر بڑے ،چھوٹے پولیس افسر کے دفتر درخواست دیتے ہے کہ انصاف کیجئے مگر کہیں شنوائی نا ہوئی بالآخر ناحق خون بول اٹھا سی سی ٹی وی سامنے آئی تو سسٹم کے رکھوالے ٹریفک حکام نے فوری طور پر زین کے بے جان جسم کو قبضے میں لیا اور فوری طور پر جنرل ہسپتال ڈیڈ ہاوس منتقل کر دیا ، لواحقین کو صاف یہ کہ دیا گیا کہ صلح نامہ کرو اور قبول کرو کہ غلطی تمہارے بچے کی تھی تو ہم ڈیڈ باڈی دیں گے یوں دو دن بعد انگوٹھے لگوا کر ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کی گئی ، دو ہزار کے چالان کی خاطر دھکا دینے والے سفاک ٹریفک وارڈن کو معاملہ ٹھنڈا ہونے تک معطل کر دیا گیا
اس ملک میں اصل میں تو تاحیات انسانیت کا معطل کر دیا گیا ہے ، کل پھر یہی کہانی ہو گی یہی کوئی المیہ ہو گا یہیں ہم میں سے کسی کا بھائی ، بیٹا ، رشتہ دار دوست زین تڑپ رپا ہو گا اور سسٹم کے نمائندے دھمال ڈال رہے ہونگے
چاچا 2 کلو آٹا دے دو گھر سب بھوکے ہیں
منصوبہ سازوں کے بچے یورپ میں عیاشیاں کر رہے ہیں اور ہمارے بچے دو وقت کی روٹی کے لیے ترس گئے
پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں ایک 12 سال معصوم بچہ آٹا چوری کے کرتے ہوئے پکڑا گیا ظالم مدد کرنے کے بجائے اس پر تشدد کرتے رہے لیکن وہ پھر بھی آٹا مانگتا
لداخ میں BJP رہنما ونے کمار نے ظلم کی انتہا کردی
کانگریس کے حق میں بولنے والی لڑکی کو آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعے گھر سے اغوا کر لیا
کیا بھارت میں سیاسی اختلاف رکھنا گناہ ہے؟ اس ظلم کا کون حساب لے گا مودی اور اس کے ساتھیوں سے
صرف 2000روپےکے چالان کی خاطر نوجوان کی جان لے لی گئی!
ٹریفک اہلکار قاتل کیوں بن گئے؟جسکے پاس ہیلمٹ نہیں اُسکی سزا موت ؟وزیر اعلیٰ ہمیں انصاف دے،اس لیے ووٹ لیے تھے 💔💔💔
خدارا پاکستانیوں اس پوسٹ کو شیئر کریں اور ظلم کے خلاف یکجا آواز بلند کریں 🙏
وزارتِ آئی ٹی کی سرکاری کمپنی میں ایک پورا خاندان ہی نوکریوں پر لگ گیا، اور ’’خیر‘‘ سے دس دس کلوواٹ کے سولر سسٹم بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر مفت لگوا لیے۔
سرکاری ادارہ ہو، نوکریاں بھی سرکاری، سولر بھی سرکاری…
بس عوام کے لیے کیا بچا؟
پانچ کروڑ کی مرسیڈیز کا دروازہ کھُلا اور اس میں سے پچیس چھبیس سال کا نوجوان اُترا اور پیچھے کی طرف چل دیا۔اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کا گلاس تھا۔جسے پھینکنے کے لیے وہ ڈسٹ بن ڈھونڈ رہا تھا۔پھر اُسے ایک کونے میں ڈسٹ بن نظر آیا اور وہ اسے وہاں پھینکنے گیا۔
وہ چاہتا تو چلتی گاڑی سے بھی پھینک سکتا تھا۔یا پھر فیشن ایبل لوگوں کی طرح آرام سے کسی بھی جگہ گلاس کھڑا کر سکتا تھا۔لوگ اسے بھی ٹھیک سمجھ کے اکثر کر لیتے ہیں لیکن پھر دو منٹ میں ہوا کے ساتھ ہی وہ گر جاتا ہے۔اور پھینکا ہوا لگتا ہے،
خیر اس نے بہت اچھا کام کیا۔اور زیادہ تر میں بڑی گاڑیوں میں اس طرح کے سُلجھے لوگ ہی دیکھتا ہوں۔ زیادہ گند باہر پھینکنے والوں میں چھوٹی گاڑیاں ہی شامل ہوتی ہیں۔ہمارے شہر ہیں ہم نے خود ہی انہیں صاف رکھنا ہے۔اب تو پنجاب میں جُرمانہ بھی لگا دیا ہے کوڑا پھینکنے پہ۔اس لیے کوشش کریں تھوڑی سی ہل جُل کر لیا کریں۔
اس اماں جان کی داستان سنیں اور انکے پیارے ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔۔۔!!
"میرا نام خالدہ بی بی ہے۔ میں لاہور میں رہتی تھی مجھے سہی سے یاد نہیں کہ مجھے کب بیچا گیا تھا۔ لیکن 1950 سے پہلے کی بات ہے۔ میرے ابو کا نام رحمت علی تھا۔ اور میرے ابو رحمت علی ریل گاڑی چلاتے تھے۔اور امی کا نام رسولاں بی بی تھا۔ میری 3 بہنیں تھی اور ایک بھائی تھا بھائی کا نام شفیق تھا۔اس وقت میری عمر تقریباً 13 سال ہو گی۔
میرے چچا مجھے بہانے سے لے گئے اور بیچ آئے۔
میرے چچا کا نام سردار تھا جس نے مجھے بیچ دیا تھا۔ ہماری قوم مجھے سہی سے یاد نہیں لیکن شاید آرائیں پنجابی تھی۔مجھے بہنوں کے نام یاد نہیں ہیں۔
ہمارا گھر چڑیا گھر کے ساتھ تھا۔ بانوں بازار ساتھ لگتی تھی۔ ہمارے گھر کے ساتھ شاہی قلعہ مسجد شریف بھی لگتی تھی۔ مجھے ایک ماموں کا نام یاد ہے ماموں کا نام شریف تھا۔ اور کچھ سہی سے یاد نہیں ہے۔ مجھے وہاں پر سکول میں ایک چوٹ لگی تھی۔ تھوڑی کے نیچے اب بھی اس چوٹ کا نشان ہے۔ مجھے ڈھونڈنے کے لیے وہ لوگ یہاں پر آئے تھے لیکن مجھے مل نا سکے۔ ان کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ لوگ ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک آئے تھے۔ اب میرا ایک بہت بڑا خاندان ہے میرے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ اور ان کے بھی بچے ہیں وہ سب بھی اپنے گھر بار اور بال بچوں والے ہیں لیکن میں اب بھی اپنے ماں باپ بہنوں اور بھائی کو یاد کرتی ہوں ۔ میں چاہتی ہوں کہ میں مرنے سے پہلے اپنے گھر والوں کو ملوں بس ایک بار میری آخری خواہش ہے یہ ۔ "
تمام قارئین اس بےبس اماں جان کی مدد کریں۔ اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 Sep 2026
#waliullahmaroof
پاکستان کا موجودہ فرسودہ عوام کا خون چوس نظامِ حکومت اپنی بقا کی سب سے بڑی سیاسی مگر آخری جنگ میں داخل ہوگیا ہے نئے صوبوں، طاقتور انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کی بحث نے ملک کی سیاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی سے واضح اعلان کردیا ہے کہ سندھ میں نظام حکومت اور موجودہ صوبائی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا دوٹوک مؤقف ہے: سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ دوسری طرف یہ دلیل زور پکڑ رہی ہے کہ 25 کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان کو صرف چار بڑے صوبوں سے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوچکا ہے اور اختیارات کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے اضلاع اور شہروں تک منتقل ہونے چاہئیں۔اسی بحث کے دوران مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے تعلقات بھی دباؤ میں ہیں، جبکہ ممکنہ آئینی تبدیلیوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔یہ معاملہ کہاں تک جاسکتا ہے؟ On My Radar کی مکمل رپورٹ دیکھنے کے لیے OMR کا YouTube لنک ضرور کلک کریں https://t.co/tKU8Tkahrj
حق کے راہ میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں،
ان کو شرم نہیں آتی؟ غریب موٹر سائیکل والوں کے چالان کرتے ہیں، دو دو ہزار روپے ان کی جیبوں سے نکالتے ہیں۔ غریب لوگوں کی ریڑھیاں گرا دیتے ہیں، ان کا سامان برباد کرتے ہیں، روزگار چھین لیتے ہیں۔ جو قومیں ظلم پر کھڑی ہوتی ہیں، وہ آخرکار تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔
چارسدہ میں میٹر ریڈر کی بے حسی80سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا🥹
آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور حسن چارسدہ میں واقع پیسکو کے سنسان دفتر میں کرسی پر ٹڑپتا رہا
اور عملہ انسانیت کو بھلا کر دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے
امحکمہ تعلیم کے اس سابق ملازم کے گھر جب پچاس ہزار روپے کا بل اور جرمانہ بھیجا گیا
تو ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں تھے
ان کے بھائیوں نے ترس کھا کر ان کے گھر پر ایک چھوٹا سولر پینل لگایا تھا
تاکہ بجلی کا بل ان کے کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنے
مگر پیسکو اہلکاروں نے بغیر کسی جواز کے پچاس ہزار کا بل تھوپ دیا
ورثاء کا الزام ہے
کہ میٹر ریڈر فیاض ان سے جرمانہ ختم کرنے کے بدلے رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا
جس کی ادائیگی بابا کی استطاعت سے باہر تھی
بدھ کی صبح بابا نور حسنجب اپنا بل کم کرانے پیسکو دفتر پہنچے تو وہاں مذکورہ میٹر ریڈر سے تکرار ہوئی
اور اس دوران ایس ڈی او کے دفتر میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا افسوسناک بات یہ ہے
کہ پیسکو عملہ بابا کی مدد کرنے کے بجائے دفتر چھوڑ کر نکل گیا
اور وہ 15 منٹ تک وہیں
فرش پر تڑپتے رہے
جب لوگ اندر پہنچے تو بابا نور حسن کی روح پرواز کر چکی تھی
واقعے کے بعد ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے
پولیس کو میٹر ریڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے
جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے
حکومت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے
کہ وہ پیسکو کے آڈٹ اور بلنگ کے فرسودہ نظام کی مکمل اصلاح کریں
تاکہ آئندہ کسی اور غریب کا بوڑھا باپ اس بے حسی کی بھیٹ نہ چڑھے۔
بریکنگ 🚨 اسرائیلی مجرم ممنوعہ بم استعمال کرتے ہیں جو ان کے فلسطینی متاثرین کے جسموں کو بھاپ بنا کر اڑا دیتے ہیں، اور محاصرہ شدہ شمالی غزہ کے علاقے بیت لاحیا میں اس ہولناک منظر کی عکاسی کی گئی ہے!
ایک آدمی اٹھ کر کہتا ہے سسٹم ناکارہ ہو گیا، اگر ناکارہ ہو گیا ہے تو تم وزیر کیوں ہو؟ تمہں PCB کی چئیرمین شپ دی تم سے ایک ٹیم نہیں بن رہی، جدھر جاتی ہے منہ کالا کرا آتی ہے‘‘ MPA پیپلز پارٹی سردار خان چانڈیو
مراد علی شاہ، شرجیل میمن، ناصر شاہ، سعید غنی سمیت دیگر ارکان کی ہنسی
لاہور میں ٹریفک وارڈنز کونوں کھدروں میں کھڑے ہو کر شکار کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں
یا اچانک ختم ہونے والے موڑ پر جتھے کی شکل میں کھڑے چالانوں کے ٹارگٹس پورے کر رہے ہوتے ہیں
ان کا شکار عام طور پر غریب موٹر سائیکل والے یا لڑکے ہوتے ہیں
جسے روک لیتے ہیں ، چالان کئے بنا نہیں جانے دیتے
دوسری طرف ٹریفک کیسے چل رہی ہوتی ہے
انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی
پہلے بھی ان محکموں کا کوئی حال نہیں تھا
مگر اس ظالم شیطان رجیم نے تو ہر ایک سرکاری اہلکار کو درندہ بنا دیا ہے
کتنے ہی حادثات ہو چکے مگر کسی کو ذرا شرم نہیں ،۔ ذرا بھی احساس نہیں
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
#پاکستان
ٹریفک پولیس کے اختیارات سے تجاوز اور غفلت سے 27 سالہ زین جاں بحق ہو گیا پولیس نے متوفی پر مقدمہ درج کر دیا
جاں بحق نوجوان کی والدہ کی ہولیس نے فریاد سننے بجائے دھمکیاں دینا شروع کر دی۔
آئی جی پنجاب کیا انصاف کر پائیں گے؟
بھارت میں، ایک ہندو رجحان نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف اپنی گھناؤنی توہین کو اس طرح شیئر کیا جیسے یہ فخر کرنے والی چیز ہو 💔💔💔
اس غنڈہ گردی کو نظر انداز نہ کریں، SHARE کریں !
عمران خان سخت گرمی میں موت کی چکی میں بند ہیں، اس دن مجھے بڑا دکھ ہوا جب عمران خان کی ساری شرٹ اور ٹراوزر پسینے سے بھیگ ہوئی تھی۔۔اس اذیت ناک قید میں بھی عمران خان نے کبھی اپنی ذات کی بات نہیں کی
ایڈووکیٹ فيصل ملک
پیدہ کرنے والے کی قسم یہ پولیس والے بھیڑے درندے بھی حکومت کے گناہوں میں برابر کے شریک ہیں ان کو بھی حساب دینا ہوگا ۔ ایک مولوی ہاتھ میں قرآن پکڑ کر پنجاب پولیس کو جہنمی ثابت کر رہا ہے