محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوامی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ وہی رہنما تھے جنہوں نے دنیا کے سامنے اپنے نبی کریم ﷺ کی حرمت و عزت کا واضح مؤقف پیش کیا اور کہا کہ جو ہمارے نبی ﷺ کی عزت و احترام نہیں کرے گا، ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے۔
اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں ایک فوجی حکومت نے بدنام زمانہ جیلوں میں قید رکھا، طویل عرصے تک قیدِ تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی رہی۔ وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن ان کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بارہا طبی سہولیات کے حوالے سے خدشات سامنے آتے رہے۔
شہادت والے دن انہیں ایک مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت میں لایا گیا۔ انہیں شیشے کے ایک بند پنجرے میں رکھا گیا۔ شدید کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا۔
بیان ختم کرنے کے فوراً بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ وہ اسی پنجرے کے اندر بے سدھ پڑے رہے اور بالآخر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ان کی موت کے بعد بھی ان کی مقبولیت سے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا گیا کہ ان کے جنازے میں عام عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں رات کے اندھیرے میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آج سوال مصر سے زیادہ پاکستان سے ہے۔
کیا پاکستانی قوم بھی کسی ایسے المیے کا انتظار کر رہی ہے؟
کیا ہم اس وقت جاگیں گے جب بہت دیر ہو چکی ہوگی؟
کیا ہم تب آواز اٹھائیں گے جب ہمارا محبوب قائد ہمارے درمیان موجود نہیں ہوگا؟
کیا ہم تب سڑکوں پر نکلیں گے جب صرف پچھتاوا باقی رہ جائے گا؟
عمران خان آج بھی ہمارے درمیان ہیں۔ وہ قید میں ہیں، مشکلات میں ہیں، لیکن اپنی قوم کے حق، آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ محمد مرسی کے ساتھ جو ہوا، وہ تاریخ بن چکا ہے؛ عمران خان کے معاملے میں تاریخ ابھی ہمارے سامنے لکھی جا رہی ہے۔
پاکستانیو! بے حس مت بنو۔ خاموشی کو اپنی تقدیر مت بناؤ۔ اپنے حق کے لیے، اپنے آئین کے لیے، اپنے ووٹ کے احترام کے لیے اور عمران خان کی زندگی، صحت اور آزادی کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرو۔
یہ وقت گھروں میں بیٹھ کر تماشائی بننے کا نہیں۔
یہ وقت سوشل میڈیا پر صرف غصہ نکالنے کا نہیں۔
یہ وقت ایک دوسرے کا حوصلہ بننے، آئین و قانون کے دائرے میں متحد ہونے اور اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔
یاد رکھو، لیڈر اکیلا قوم کو نہیں بچاتا، قوم اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہو کر اپنی تقدیر بدلتی ہے۔
اگر آج ہم خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب وقت تمہارے سامنے کھڑا تھا، جب تمہارے قائد کو تمہاری آواز کی ضرورت تھی، جب تمہارے آئین اور ووٹ کی حرمت کو تمہاری جدوجہد درکار تھی، تب تم کہاں تھے؟
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
خاموش تماشائی بننا ہے یا تاریخ کا حصہ بننا ہے؟
عمران خان صرف ایک شخص کا نام نہیں، یہ کروڑوں پاکستانیوں کے ووٹ، امید اور حقیقی آزادی کی آواز ہے۔
اپنے گھروں سے نکلو، پُرامن اور آئینی جدوجہد کی تیاری کرو، اپنی آواز بلند کرو کیونکہ قومیں اپنے حقوق مانگنے سے نہیں، اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہونے سے تاریخ بناتی ہیں
#عمران_خان_کو_بچاؤ
#ReleaseImranKhan
#حقیقی_آزادی
*عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ہے* اور اسے دوبارہ جیل سے کیوں رہا نہیں کرتے۔ عمران خان کوجیل میں قتل کرنے کی سازش کیوں ہو رہی ہے
انگریزی تحریر : *جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال*
میں آپ کو بتاؤں کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔
*1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے*۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔
بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم سب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔
*2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا*۔
جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی -
دوئم ہندوستان سے روسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا - یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔
*عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا*۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔
*عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا*۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔
*اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا*۔
*عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک صدام حسین اور معمر قذافی کے پاس نہیں پہنچا جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں*.
*اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی رک جائے گی*.
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے سوچیں.
یہی یہ سب کچھ موجودہ حکومت کر لے تو ملک خوشحال ھو سکتا ھے۔
........ .......... ،،
آپ کو خدا کا واسطہ ہے
اس تحریر کو سچا مسلمان اور محب وطن بن کر سوچیں 40 سال سے منافقت کی سیاست سے ہٹ کر سوچیں
حکومتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔ پچھلے دنوں اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبروں کے باوجود بحث خبر دینے والوں پر فوکس رہی، جب کہ اُس خبر کی اب تصدیق ہورہی ہے۔ آنکھ ضائع ہوگئی، ناحق اسیری کو تین سال ہوگئے، ملاقاتیں بند کروائی گئیں، جان لیوا حملے ہوئے اور اب کبھی آپ کی صفوں کے اندر سے نئی بحث شروع کروا کر اصل ایشو کا رخ موڑ دیا جاتا ہے کبھی کوئی شوشہ چھوڑ کر تو کبھی کوئئ تماشہ لگا کر۔ آہستہ آہستہ سب نارملائز ہوچکا ہے۔ لندن پلان سے لے کر آج تک کے تمام واقعات، حادثات اور حالات سے اگر ابھی تک کے تمام حالات اور واقعات کو جانتے ہوئے بھی، ان کے مضموم مقاصد کے متعلق اگر کسی کی آنکھ نہیں کھلتی، نشانہ سیدھا نہیں رکھتا، فوکس نہیں رہتا تو پھر وہ بھی کسی نہ کسی انداز سے سہولت کاری کرکے پاکستان کے مستقبل اور عمران خان کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے خان صاحب نے کہا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز یعنی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم تک رسائی اور انصاف کے حصول کے لیے کیسسز کی سنوائی تک سپریم کورٹ کے باہر پر امن دھرنا دیا جائے۔خان صاحب کی ہدایت بروقت پہنچائی بھی گئیں اور یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
لاحاصل بحثوں میں پڑنے اور خبر دینے والوں کا زائچہ تیار کرنے کے بجائے خان صاحب کی ہدایت پر عمل کریں۔
کیا وہ نا حق مقید ہیں؟ جی۔
کیا خان صاحب کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ ان کی تحویل میں ہیں؟ جی۔
کیا ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوئ ہیں؟ جی۔
کیا اسیری سے قبل صحت مند ہونے کے باوجود ان کی آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا؟ جی۔
کیا ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کن معلومات موصول ہورہی ہیں؟ جی۔
کیا عمران خان کی کسی سے ملاقات کروائ گئی ہے؟ نہیں۔
کیا عمران خان کی آنکھ میں خرابی کی خبر سے لے کر آنکھ ضائع ہونے اور ابھی تک ذاتی ڈاکٹرز یا کسی سے ملاقات ہوئی؟ نہیں۔ تو جب ان کے صحتمند ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی تو بار بار ان کی جان کو لاحق خطرات کا علم ہونے کے باوجود تردید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کی فوری ہسپتال منتقلی ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں تمام ٹیسٹ اور علاج کا سوال اہم ہے، ناحق اسیری ختم ہونا اہم ہے یا دیگر بحث؟
ہر فورم استعمال کرکے فوری ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں علاج اور کیسسز کی سنوائی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد یہی عمران خان کی ہدایت تھی، یہی عمران خان کی ہدایت ہے۔ اس ہفتے خان صاحب کے کیسسز لگے ہیں،مستقل دھرنا تو نہیں دیا گیا امید ہے خان صاحب کے کیسسز کی سنوائی کے لیے متعلقہ تمام زمہ داران پہنچ جائینگے۔ ہاں احتجاج کے لیے کارکن سے لے کر سوشل میڈیا تک کی رائے اور آپشنز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خان صاحب کی یہی ہدایت تھی ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور تمام کیسسز کی سنوائی اور انصاف تک وکلاء اراکین اسمبلی اور مرکزی قیادت کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا۔
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
@MuzzammilAslam3 ایک ہی شہباز گل بولنے والا بچا ہوا ہے۔۔ ذلیل اسلم جرنیلوں کے کتے اس پر مت بھونکو۔۔ خان جب آئے گا انشاءاللہ تمھاری ذلت سب سے پہلے والوں میں ہوگی۔۔
میرے پاس نا تو مستند زرائیع ہیں نا ہی مقتدرہ کا نمبر ! لیکن اتنی بات مجھ نادان کو بھی معلوم ہے کہ اگر کہیں عمران خان کے قتل کا منصوبہ بن رہا ہے تو اُس میں تحریک انصاف کی اہم قیادت اور عمران خان کے قریبی لوگ شامل ہیں
"صحت کی سہولت تک رسائی ہر قیدی کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی طبیعت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے پیش نظر، یہ انتہائی ضروری ہے کہ انہیں فوری طور پر ان کے قانونی مشیروں (وکلاء) اور خاندان کے افراد کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ ہو سکے۔
صحت اور علاج جیسے انسانی معاملات پر سیاست یا تاخیر سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔"
— علیمہ خان۔۔