ہر دھڑکن قیمتی ہے
وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif کے وژن کے تحت چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کے ذریعے مارچ 2026 سے اب تک 1,000 سے زائد مفت دل کی سرجریاں مکمل کی جا چکی ہیں، جن پر 50 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔پنجاب حکومت کا عزم ہے کہ کوئی بھی شہری مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔
ڈگری تو ہاتھ میں ہے مگر عالمی معیار کا سرٹیفکیٹ یا تجربے کا ثبوت نہیں؟
آج بہت سے نوجوان صرف اسی کمی کی وجہ سے اچھی ملازمتوں اور بین الاقوامی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام نوجوانوں کو عالمی معیار کے آئی ٹی سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کا موقع فراہم کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے ثابت کر سکیں اور بہتر روزگار، فری لانسنگ اور روشن مستقبل کی جانب اعتماد سے قدم بڑھا سکیں۔اب صرف ڈگری نہیں، بلکہ ایسی مہارت اور سرٹیفیکیشن بھی جو کامیابی کی نئی راہیں کھول دے۔
کمزور چھتیں اب معصوم جانوں کی دشمن نہیں بنیں گی کاہنہ کا دل دہلا دینے والا سانحہ کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، مگر اب ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے عملی قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
اپنا گھر، محفوظ گھر پروگرام
کمزور چھت کو پکا کرنے کے لیے 5 لاکھ روپے، اضافی کمرہ بنانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک سود فری قرض مقصد ایک ہی ہر غریب خاندان کو محفوظ چھت فراہم کرنا۔
صرف افسوس نہیں، بلکہ عملی ا��دام تاکہ کوئی اور معصوم بچہ کمزور چھت کا شکار نہ بنے۔
تعلیم کا سفر اب مزید آسان
وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif ای بائیکس پروگرام کے تحت طلبہ و طالبات کو جدید، ماحول دوست اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ بغیر کسی سفری پریشانی کے اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دے سکیں۔
یہ صرف ایک بائیک نہیں، بلکہ نوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔
الحمدللہ پنجاب کے دیہاتوں کو جدید اور پختہ راستوں سے منسلک کرنے کا وژن اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ 79 ارب روپے کی لاگت سے ریکارڈ 75 دنوں میں 1567 سڑکوں کے مقررہ ہدف میں سے 1129 رابطہ سڑکیں مکمل کر لی گئی ہیں۔ 40 ارب روپے کی لاگت سے جاری اس منصوبے میں کڑی نگرانی سے قوم کے 11 ارب روپے بچائے گئے۔ انشاءاللہ بنیادی ڈھانچے کی یہ پائیدار تبدیلی دیہی معیشت کو نئی زندگی دے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کے نئے افق روشن کرے گی۔��نجاب کے تمام شہروں اور دیہات میں پہلی بار ترقی کے یکساں موقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا غریب پرور زرعی منصوبہ " اپنا کھیت اپنا روزگار" کامیابی سے ہمکنار ہو گیا ہے۔ پنجاب کی1 لاکھ 21 ہزار ایکڑ قابلِ کاشت سرکاری اراضی 30000 نادار خاندانوں کو محض 100 روپے سالانہ کی علامتی لیز پر 20 سال کے لیے تفویض کر دی گئی ہے۔ سو فیصد میرٹ پر کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ کے ذریعے ضرورت مند طبقے کو نہ صرف اراضی کا مالکانہ اختیار دیا گیا ہے بلکہ زمین کی تیاری کے لیے 50 ہزار روپے فی ایکڑ مالی امداد اور جدید فنی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ تھل سے پوٹھوہار تک پھیلی اس سکیم میں 20 فیصد کوٹہ خواتین کا رکھا گیا ہے تاکہ ہماری مائیں اور بہنیں بھی معاشی طور پر بااختیار بن سکیں۔ انشاءاللہ اب محنت بھی کسان کی ہوگی اور پورا منافع بھی اسی کا ہوگا، عزتِ نفس کے ساتھ۔
جیہڑا واہے، اوہ ہی کھائے !
We need a massive drive and massive funding aligned for this cause.
Higher ed participation is also going down.
Both require attention at the highest level.