تمہارے حسن سے رہتی ہے ہمکنار نظر
تمہاری یاد سے دل ہم کلام رہتا ہے
رہی فراغتِ ہجراں تو ہو رہے گا طے
تمہاری چاہ کا جو جو مقام رہتا ہے
کھِلے جو ایک دریچے میں آج حسن کے پھول
تو صبح جھوم کے گلزار ہو گئی یکسر
جہاں کہیں بھی گرا نور اُن نگاہوں سے
ہر ایک چیز طرحدار ہو گئی یکسر