کچھ لکھنا چاہتا ہو بولنا چاہتا ہو چیخنا چاہتاہوں بہت اداس ہو پر لکھ نہیں سکتا کیونکہ کوئی سمجھےگا ہی نہیں الفاظ کے درد کو بول نہیں سکتا کیونکہ سننے کیلئے کوئی مخلص دوست میسر نہیں چیخ نہیں سکتا کیونکہ لوگ تپھڑ مارینگے ہر کوئی پریشان ہے پر میں کیا کرو
#گوہر_نایاب
ہمارا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کے لیے پُرامن طور پر آواز بلند کرنے اور اجتماع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آواز عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچائیں گے۔
عوامی مینڈیٹ کو کچل کر ملک پر مسلط ہونے والے وفاقی وزراء کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ اختلافِ رائے کو دبانے یا شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے فارم 47 حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات سنے، آئینی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی معاملات کا حل مکالمے، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر ذی شعور شہری آئین کی اصل حالت میں بحالی اور ناحق قید سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے- پاکستان کا نوجوان روزگار اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مزدور اپنے معاشی حقوق اور باعزت زندگی کی جدوجہد کر رہا ہے۔ کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ اور معاشی تحفظ چاہتا ہے۔ اور ہر شہری انصاف، مساوات، آئینی آزادیوں اور باوقار زندگی کا حق مانگ رہا ہے۔ ان آوازوں کو دھمکیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور مؤثر حکمرانی سے جواب دیا جانا چاہیے۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رہے گا اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ ہم ریاستی اداروں اور فارم 47 حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کریں گے، پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔
ملک اس وقت بہتر ہوگا جب دھمکیوں کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دی جائے گی؛ جب عوامی رائے کا احترام ہوگا؛ جب پارلیمنٹ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرے گی؛ جب عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی یقینی ہوگی؛ آئین بحال ہو گا اور سیاسی اسیران رہا ہوں گے اور جب صحافت کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح ہے: آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی، سیاسی اسیران کی رہائی ، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کا احترام۔
دباؤ، دھمکی یا خوف ہماری پُرامن اور آئینی جدوجہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہوئے اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں۔
“Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results.”
- Imran Khan @ImranKhanPTI#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی#ستمبر27_انقلاب_کی_دستک
#ستمبر27_انقلاب_کی_دستک
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
اے ائی اپکو کیا لگتا ہے 27 ستمبر کی کال سے حکومت کو کیا خطرہ ہے اور حکومت پر کوئی فرق پڑےگا کہ نہیں؟
دوسرا سوال پاکستان کا اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟ @grok#ستمبر27_انقلاب_کی_دستک
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ
عمران خان کی ہمشیرہ سے جیل میں گفتگو:
یہ ایک ٹریپ ہے ، مجھے ہسپتال لے کر جائے یا نا لے کر جائے ، مجھے رہا کروانے کا اعلان ہی کیوں نا کر دے ، سہیل آفریدی 27 کو لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے ۔ جب تک میرا ڈائریکٹ میسیج نہیں آجاتا کوئی واپس نہیں جائے گا نا ہی باہر کوئی بھی لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتا ہے نا ہی کوئی رد بدل کر سکتا ہے ، اس کا فیصلہ صرف میں کرونگا ۔
ستائیس تاریخ کو پانچ جگہ پر ہم کراچی کو بند کریں گے نوجوانو صرف پانچ دن آپ کراچی کو بند کر دیں یہ عمران خان کے پاؤں پکڑیں گے۔ آپ نے نکلنا ہے پاکستان کو آزاد کرانا ہے!
سہیل آفریدی
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ
کراچی نے ہمیشہ عمران خان کے ساتھ وفا کیا رات بھر کراچی والے کپتان کے کھلاڑی کا انتظار کرتے رہے اور تاریخی والہانہ استقبال کیا شکریہ کراچی
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
@HamidMirPAK افسوس کا مقام ہے ایک صوبہ کی وزیراعلی کے الفاظ سے ثابت ہوا کہ کھوتوں میں عقل کی گنجائش نہیں اگر یہی بات دیگر صوبوں کے وزیراعلی کہتے تو آرٹیکل 6 لگ چکے ہوتے یہ مہارانی کس کو خوش کرنے کیلئے یہ سب بول رہی ہے؟
ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مزید سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔
*حماد اظہر کی گرفتاری سیاسی انتقام اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے،پاکستان تحریک انصاف*
پاکستان تحریک انصاف نے سابق وفاقی وزیر اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور فسطائی ہتھکنڈوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
حماد اظہر کو سیاسی بنیادوں پر مسلسل انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت سیاسی مخالفین کو دبانے اور تحریک انصاف کی آواز خاموش کرنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔
حماد اظہر ایک سابق وفاقی وزیر ہیں، ان کے خلاف اگر کوئی مقدمہ ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو بلاجواز گرفتار کرکے خوف و ہراس پھیلانا جمہوریت اور آئین کی روح کے منافی ہے۔
گرفتاریوں، مقدمات اور ریاستی جبر کے ذریعے عمران خان اور تحریک انصاف کے نظریے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ظلم و جبر کا ہر ہتھکنڈا عوام کے عزم کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ حماد اظہر کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے، ان کے بنیادی اور قانونی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
اس وقت ٹول پلازہ پر ہزاروں کی تعداد میں ورکرز پہنچ گئے ہیں سہیل آفریدی حیدرآباد سے کراچی کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔۔
انشاء اللہ کراچی کپتان کے کھلاڑی کا شاندار استقبال کیلئے تیار ہے
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا