حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا نے سب کو اپنی اپنی اوقات یاد دلا دی۔
انہیں چٹھی کا دودھ یاد دلایا۔
چن چن کر سب سے اپنے بدلے چند ہی لمحوں میں لے لئے۔
چاہے وہ سیاسی جماعتیں ہو یا اسٹبلشمنٹ!!!
امید ہے آج قومی اسمبلی میں ایک دھواں دھار قسم کی تقریر ہوگی۔۔۔ منتظر رہیئے
#آئین_کامحافظ_مولانا
یوں تو منصور علی خان مولانا کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب پورا نام لے کر پکارتے ہیں مگر اب صورتحال یہ ہے کہ وہ صرف مولانا صاحب ہی کہہ کر پکار رہے ہیں وجہ یہ ہے کہ ایک وی لاگ مولانا کا نام اتنا ڈسکس ہو رہا ہے کہ پورا نام لینا ہی ممکن نہیں رہا۔
#آئین_کامحافظ_مولانا
قا دیانیت کی شکست پر پوری مذہبی طبقہ کو ڈھیر ساری مبارکباد۔۔۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو پوری قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔۔
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
تاجدار ختم نبوت زندہ باد
قائد محترم کو ختم نبوت اور ناموس رسالت کی بہترین چوکیداری پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
رب تعالیٰ اس کا اجر دنیا و آخرت میں عطاء فرمائے اور اسے پورے ملک و قوم کے باعث خیر بنائے آمین
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
مفتی تقی عثمانی صاحب کے مشورے اور مولانا فضل الرحمان کی سپریم کورٹ میں دبنگ انٹری کے بعد مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ نے نظر ثانی کے اپنے فیصلے کے پیراگراف نمبر 7 کو حذف کردیا۔
پوری قوم کو مبارک ہو
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
میاں نوازشریف پاکستانی سیاست کاحصہ ہیں اورانہیں سیاست میں اپنارول اداکرناچاہئے میرےدل میں میاں نوازشریف کابہت احترام ہےمیں اب بھی انکااحترام کرتاہوں اورآئیندہ بھی انکااحترام کرتارہوں گامیراانکےساتھ بہت اچھاوقت گزراہواہے
مولانا فضل الرحمن
#ایوان_نہیں_میدان
جےیو آئی کے مرکزی مجلس عاملہ نے 8 فروری 2024 کے انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر مسترد کردیا ہے ۔ انتخابی دھاندلی نے 2018 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے ۔الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے ۔جے یو آئی الیکشن کمیشن کے اس بیان کو مسترد کرتی ہے جسمیں الیکشن کو شفاف قرار دیا گیا ہے ۔
جے یو آئی سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے اور جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، لگتا ہے اب فیصلے ایوان کی بجائے میدان میں ہونگے ۔
جے یو آئی پارلیمانی کردار ادا کرے گی تاہم اسمبلیوں میں ہماری شرکت تحفظات کے ساتھ ہوگی ۔
مرکزی مجلس عاملہ نے جے یو آئی پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ وہ جماعت کی پارلیمانی سیاست بارے فیصلہ دے کہ جے یو آئی مستقل پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہوتاکہ عوامی جدوجہد کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں عوام کی حقیقی نمائندگی کی حامل اسمبلیوں کے انتخابات ممکن ہوسکیں ۔
چاروں صوبائی مجالس عمومی کے اجلاس صوبوں کے مرکزی مقامات میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں بارے انہیں اعتماد میں لیا جائے ۔
جے یو آئی سمجھتی ہے کہ جے یو آئی کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی اسلام دشمن عالمی قوتوں کے ذریعے سے ہوئی ہے ۔
ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے افغانستان میں امارت اسلامیہ کے استحکام اور پاکستان افغانستان پرامن تعلقات کے لئے کردار ادا کیا نیز جے یوآئی نے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف حماس کے موقف کی حمایت کی ہے ۔
جے یو آئی نظریاتی قوت ہے ۔ملک کا یہ داخلی نظام اور بین الاقوامی مسائل کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوگی ۔نیز مشاورت کے بعد ملک میں اپنے مقاصد کے لئے تحریک چلائے گی ۔
کارکن اپنی تاریخ کو اپنی قربانیوں سے تابندہ رکھنے کے عزم کے ساتھ تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے لئے تیار رہیں ۔
اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں تو پھر اس کا معنی ہے کہ فوج کا نو مئی کا بیانیہ دفن ہوچکا ہے، اور عوام نے ان کے غداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔
الیکشن کے نتائج اس بات کا بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ کامیاب یا ناکام امیدواروں سے رشوتیں لی گئیں ہیں اور بعض کو تو پیسوں کے بدلے پوری صوبائی اسمبلیاں دی گئیں ہیں ۔
مسلم لیگ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا روز اول سے کردار مشکوک رہا ہے ۔اب بھی اسلام آباد میں الیکشن کمیشن ہمارے امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت سے انکار کررہا ہے اور نوٹس جاری کئے بغیر درخواستوں کو خارج کررہا ہے ۔22 فروری کو جے یو آئی اسلام آباد ،25 فروری کو جے یو آئی بلوچستان ، 27 فروری کو جے یو آئی کے پی ، 3مارچ کو جے یو آئی سندھ جبکہ 5 مارچ کو جے یو آئی پنجاب کی مجالس عمومی کے اجلاس ہونگے ۔
مولانا مفتی امداد اللہ صاحب اور ابن شامزئی مولانا تقی الدین شامزئی صاحب اور عظیم محدث مولانا شیخ محمد ادریس صاحب اور صوبہ بلوچستان کے عظیم ہستی مولانا حاجی عبد الغنی صاحب رحمہ اللہ کی علوم کا امین مولانا حافظ محمد یوسف صاحب قائد محترم کے ہمراہ شہیدوں کی پاک دھرتی پر۔
ہم پاکستان میں سرمایہ داری کی حفاظت کے لیے اسلام کا نام استعمال نہیں ہونے دیں گے، سرمایہ داری کے ظالمانہ نظام کی حفاظت کے خواہاں اور امریکی سامراج کی مدد سے پاکستان کو ترقی دینے کے دعویدار پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن ہیں۔‘‘
مفتی محمود رحمہ اللہ
#مفکراسلام_مفتی_محمود
مغربی استعماری نظام، مغرب زدہ ظالمانہ نظام ہمارے تمام مسائل کی بنیاد ہے، جب تک اس کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک معاشرے میں فلاح کا کوئی تصور بے سود ہے، بے کار ہے، خام خیالی ہے
مفتی محمود رحمہ اللہ
#مفکراسلام_مفتی_محمود
موجودہ سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت جس میں غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر بنتے جا رہے ہیں، اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔
مفتی محمود رحمہ اللہ
#مفکراسلام_مفتی_محمود
ہمارے اکثر ملکی قوانین ایسے ہیں جو رشوت کا دروازہ کھولتے ہیں اور لوگوں کے مصائب میں اضافہ کرتے ہیں، ان کا جائزہ لے کر ہر قانون میں چور دروازے بند کیے جائیں۔
رشوت بدعنوانی پر کڑی سزائیں دی جائیں اور ان کا قلع قمع کیا جائے
مفتی محمود رحمہ اللہ
#مفکراسلام_مفتی_محمود
ایسے ضوابط بنائے جائیں کہ جھوٹ چھاپا یا لکھا نہ جا سکے۔ جھوٹ ایک زہر ہے جو معاشرہ کی اچھائیوں کو ڈس لیتا ہے۔ بے حیائی اور فحاشی کی روک تھام ہو اور ذرائع ابلاغ کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔‘‘
مفتی محمود رحمہ اللہ
#مفکراسلام_مفتی_محمود
ہم پاکستان کے غریب عوام، کسانوں،مزدوروں، طالب علموں اور تمام آدمیوں کو اس سطح پر لانا چاہتےہیں جہاں پاکستان کے تمام مسلمان عملا بھائی بھائی نظر آ سکیں
اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جبکہ بےلاگ طور پر ملک میں قرآن و سنت کے احکام نافذ کر دیےجائیں
مفتی محمود رحمہ اللہ
#مفکراسلام_مفتی_محمود