اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ
یا اللہ میں پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت دی ہوئی کے پلٹ جانے سے اور تیرے ناگہانی عذاب سے اور سب تیرے غضب والے کاموں سے۔آمین
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا چیز ہے؟ شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اُس میں فرشتے اور رُوح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لئے اُترتے ہیں، وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔
سورۃ القدر
اے ایمان والو۔ جو کچھ تم نے کمایا ہو اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا کرو، اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے تو نفرت کے مارے)
١/۲
لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت خوشنما بنادی گئی ہے جو ان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہیں، یعنی عورتیں، بچے، سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں۔ یہ سب دُنیوی زندگی کا سامان ہے (لیکن) ابدی انجام کا حسن توصرف اللہ کے پاس ہے۔
سورۃ آل عمران
وہ ایک غلام ذہنیت والے معاشرے میں ایک آزاد انسان تھا، جس نے اپنے خون سے آزادی کی شمع جلائ۔۔
اس کی سوچ کا سورج آج کروڑوں ذہنوں میں پنپ رہا ہے، چمک رہا ہے
اے پیغمبر(ﷺ)! سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو۔ یاد رکھو کہ فجر کی تلاوت میں مجمع حاضر ہوتا ہے۔
﴿سورۃ الاسراء، ۷۸﴾
Today we stand at a turning point in our Constitutional history where we can be like Turkiye or become another Myanmar. Everyone must choose whether they stand, as PTI does, with Constitution, Rule of Law & democracy; or with a corrupt mafia, law of the jungle & fascism.
جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اُس وقت وہ کہے کہ ’’ اے میرے ربّ ، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا ۔‘‘(سورۃ المنفقون10)
اور رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔ اور جو راتیں اس طرح گزارتے ہیں کہ ��پنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں، اور (کبھی) قیام میں۔اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ :
١/٢
اے ایمان والو ! جب جمعہ کےدن نماز کےلیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارےلیےبہتر ہے،اگر تم سمجھو۔
پھر جب نماز پوری ہوجائےتو زمین میں منتشر ہوجاؤ، اور اللہ کافضل تلاش کرو،اور اللہ کو کثرت سےیاد کرو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔
﴿الجمعہ۔۹،۱۰﴾
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دِکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے، وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔
﴿سورۃ البقرۃ، ۱۸۵﴾