عمران خان جیسا زمانہ پھر کبھی نہیں آنا
ریئل اسٹیٹ کے بزنس مین کہتے ہیں کہ وہ دور آئیڈیل تھا کنسٹرکشن کے حوالے سے کسان کہتے ہیں کہ اتنی برکت تھی کہ جو فصل کاشت کی بمپر کراپ ہوئی اور ریٹ بھی بہترین ملا اور پیسے بھی جلدی ملے اس جیسا دور کبھی آ نہیں سکتا۔ آٹو سیکٹر والے کہتے ہیں جتنی گاڑی خان کے دور میں بک رہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اتنا کام کبھی نہ ہوا۔ غریب کہتے ہیں کہ ہمارے جیب میں 10 لاکھ روپے کا چیک تھا جب بھی کسی کو کوئی بیماری ہوئی مفت علاج ہوا دوائیاں تک مفت ملا کرتی تھیں۔۔
واقعی ایک غریب پرور اللہ کا خوف والا حکمران پاکستان میں آیا تھا۔ جب سے گیا یے ملک برباد ایسے ہو رہا ہے جیسے کسی نے تیار فصل میں خنزیر چھوڑ دئیے ہوں
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
انتہائی رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ میرے والد صاحب محمد سلیم انور انتقال کر گئے ہیں۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا فرمائیں۔
گزشتہ روز ایک وفاقی وزیر سے دبئی شاپنگ مال میں اچانک ملاقات ھوگئی , ھم ایک ریسٹورنٹ میں چلے گئے , وہ مجھے قائل کر رھے تھے کہ وزیراعظم شہباز شریف مُلک کی تقدیر بدل دیں گے۔۔
وہ اس موضوع پر آدھا گھنٹہ بولتے رھے میں خاموشی سے سُنتا رہا ۔۔
اُنہوں نے پوچھا ۔۔
آپ چُپ کیوں ہیں , بولتے کیوں نہیں ؟
میں نے اُن سے پوچھا
آپ مجھ پر کتنا اعتبار کرتے ہیں ؟
وہ بولے ۔۔
اتنا اعتبار میں خود پر نہیں کرتا جتنا آپ پر کرتا ھوں ۔۔
میں نےکہا ۔۔
اچھا تو پھر مجھے دس لاکھ روپے اُدھار دے دیں ۔۔
اُنہوں نے پوچھا
واپس کب کریں گے ؟
میں نے کہا ۔۔
جب وزیراعظم مُلک کی تقدیر بدل دیں گے ۔۔
وہ بولے ۔۔
ایہہ تے فیر واپس نہ دین والیاں گلاں ھوئیاں ناں , میں کوئی نئیں دینے ۔۔
توفیق بٹ
(توفیقات)
تمام ننھی بچیوں کی ماؤں کے نام درد بھری گزارش!
خدا کے لیے جاگ جائیں!
یہ وہ زمانہ نہیں رہا جہاں ہر گلی محفوظ اور ہر چہرہ قابل اعتبار ہے۔ درندے اب جنگلوں نہیں،انسانوں کے روپ میں گلیوں میں گھوم رہے ہیں۔
اپنی ننھی بچیوں کو اکیلے دکان پر چیز لینے کے لیے مت بھیجیں، گلیوں اور محلوں میں بنا نگرانی کھیلنے کے لیے مت جانے دیں۔
شوہر کو دکان پر بھیجیں یا خود جائیں۔آپ کی عمر 35 یا 40 سال ہے، اگر آپ خود دکان تک چلی جائیں گی تو کوئی قیامت نہیں آ جائےگی لیکن اگر آپکی معصوم بچی کسی درندہ صفت انسان کے ہتھے چڑھ گئی تو آپ کی پوری زندگی قیامت بن جائے گی۔!
اپنے بچی کی اسکول انتظامیہ کو خبردار کریں کہ جب تک ہم والدین یا ہمارا نامزد کردہ بندہ نہ آئے، ہماری بچی کو اسکول سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ بچی صرف اسی شخص کے حوالے کی جائے جس کا اندراج پہلے سے آپ نے کروا رکھا ہو۔!
روزانہ اپنےبچی سے بات کریں۔ اس سے پوچھیں کہ آج کیا ہوا؟ کس سے بات ہوئی؟ کون ملا؟ گارڈ نے کیا بات کی؟ ڈرائیور کیا کہہ رہا تھا؟ نچیوں کو اس بات کا عادی بنائیں کہ وہ دن بھر کی کہانی فر فر آپ کو بتائیں۔ کیونکہ خاموش بچے اکثر شکار بن جاتےہیں۔!
اگر آپ بچوں کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس استعمال کرتی ہیں تو ڈرائیور کی مکمل چھان بین کریں۔ اس کا شناختی ریکارڈ، فون نمبر، گاڑی نمبر اور دیگر تفصیلات اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ اسے خبردار کریں کہ اس کی تمام معلومات متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہیں کیونکہ جب ایک شخص کو کان ہوں کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے تو اس کا دماغ درست رہتا ہے۔
یاد رکھیں! دنیا کا کوئی حفاظتی نظام سو فیصد ضمانت نہیں دے سکتا، لیکن احتیاط غفلت سے ہزار گنا بہتر ہے۔
اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر مت چھوڑیں۔اپنی مصروفیات، سستی یا بے فکری کو اپنی بچیوں کی سلامتی پر ترجیح مت دیں۔ آج محتاط رہیں تاکہ کل پچھتاوے کی آگ میں نہ جلنا پڑے۔
اپنے بچوں کی حفاظت کریں، کیونکہ ان کی دنیا آپ ہیں، اور آپ کی دنیا وہ ہیں۔
صحافی سحر ش مان ٹوئٹر (ایکس) پر کافی ایکٹیو رہا کرتی تھیں، لیکن کئی دنوں سے ان کا اکاؤنٹ خاموش نظر آ رہا ہے۔ کیا کسی کے پاس ان کے بارے میں کوئی خیر خبر ہے؟اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
@SMunirMaan