@MuradSaeedPTI ان کو احتجاجوں سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔ان صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے بندوق۔ پاکستانی جب تک بندوق نہیں اٹھائیں گے کچھ بدلنے والا نہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ بندوق اٹھانے کے آگے عمران خان کھڑا ہوا ہے۔
@Ali_MuhammadPTI لانگ مارچ کے اختتام کے حوالے سے آپ کی خواہش پوری ہوگئی کیونکہ جو پوزیشن آپ نے لی تھی، اگر لانگ مارچ کامیابیاں سمیٹتا ہوا اگے بڑھتا تو آپ کی سیاسی موت اور بھی قریب ہوتی۔ ویسے آپ کی سیاسی موت تو واقع ہوچکی ہے ،اگلا الیکشن آنے دیں،تدفین بھی ہوجائے گی،انشاللہ
President Donald Trump played a historic role in advancing peace in South Asia. His timely intervention helped bring Pakistan and India back from the brink and secure a ceasefire, that is holding till today.
In recognition of his outstanding contribution, Pakistan had nominated President Trump for the Nobel Peace Prize.
We sincerely hope President’s efforts to promote peace and prevent conflict in our region receive due recognition this time.
@realDonaldTrump@NobelPrize
@noshigilani علی محمد خان دل ہی دل لانگ مارچ کی ناکامی کیلئے پرامید اور دعاگو رہے گا تاکہ وہ مستقبل میں کسی شرمندگی کا سامنا نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی ذہنیت اصلا ایسی ہی ہوتی ہے
خیبر پختونخوا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں فیصلہ سازوں کی طرف سے کل تک اہم فیصلے ہونے جارہے ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا کے حالات کو اس نہج تک پہنچا دیا گیا ہے کہ ریاست اور حکومت کے پاس اور کوئی آپشنز نہیں رہے ہیں ۔امن وامان کی صورتحال بدتر ہوچکی آئے روز پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی جانیں جا رہی ہیں صوبے کا وزیر اعلی صرف ایک شخص کو ایشو بنا کر دھرنوں احتجاج اور لانگ مارچ پر نکلا ہوا ہے اس کے نزدیک عوام کے جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں حالانکہ ساڑھے تین سال میں اس فتنے نے جو کچھ ملک کے ساتھ کیا اس کا خمیازہ اج عوام بھگت رہے ہیں۔ صوبہ اس وقت دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی انتظامی مشینری کو ناکارہ کردیا گیا ہے اور حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ فیصلہ سازوں کے پاس اور کوئی چوائس نہیں بچی اور کل تک خیبر پختون خواہ کے حوالے سے اہم فیصلوں کا اعلان ہو جائے گا جس کی آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔۔۔
Three years ago over 1,000 Jews (including 49 Americans) were brutally murdered in Israel in one of the worst Islamic terrorist attacks of our lives. May their memory be a blessing.
@JDVance and then natanyahu killed hundreds of thousands of innocent Palestinians humans and you feel no sorry for that genocide. hypocrisy is at it's best
آپ کے الفاظ آپ کی بزدلی کے عکاسی کرتے ہیں ۔پڑھا لکھا بزدل ہو ، غدار ہو یا کوئی کرپٹ شخص ہو اس کے پاس الفاظ کی کوئی کمی نہیں ہوتی ۔بڑے سے بڑا مجرم بھی اپنی صفائی کیلئے کئی عزر تراش سکتا ہے ۔ آپ کی بیغیرتی کا ثبوت یہ ہے کہ مرشد ابھی تک جیل کی سختیاں کاٹ رہا ہے اور آپ مزے کر رہے
ویسے تو زندگی میں مختلف لمحات آئے جب انسان مغموم ہوتا ہے۔ ذاتی امتحان یا صدمے تو ہر کسی کا اللّٰہ سے انفرادی و بہت ہی ذاتی معاملہ ہوتا ہے لیکن سیاسی سفر کی بات کی جائے تو چند لمحات ایسے ضرور ہیں جنہوں نے واقعی دکھی کیا۔
اپنی جیل اور اسیری کے دن کوئی ایسی بات نہیں کہ بندہ ہر وقت دوسروں کے سامنے اپنی تکلیف کا ذکر کرے۔ ویسے بھی اگر آپ بے گناہ ہوں تو پھر زندان اللّٰہ کے قرب کازریعہ بنتا ہے سو اسیری کے ایام کا ذکر ضروری نہیں سمجھتا۔
تحریک انصاف کیساتھ اس طویل سفر میں ایک دو واقعات نے واقعی دل پہ اپنا اثر چھؤڑا۔
عجیب بات یہ ہے کہ اپنے پہ گزری کسی تکلیف امتحان جیل کے دن یا لوگوں کی بے جا تنقید کا کوئی خاص اثر نہیں۔ اللّٰہ استقامت دے ہی دیتا ہے۔ جیسے میرا ایک اُصولی سیاسی موقف ہے کہ خان صاحب اور باقی اسیران کی رہائی مذاکرات یا کہیں کوئی مکالمہ کر کے ہوگی کیونکہ ان پہ مقدمات کوئی اصلی نہیں سارے سیاسی ہیں تو انکا حل بھی سیاسی ہے۔ کچھ ساتھی سمجھتے ہیں کہ صرف احتجاج سے ہوگا۔ نقطہ نظر کے اس اختلاف پہ لوگوں نے کیا کیانہیں کہا۔ یقین جانیے اس کا کوئی خاص اثر نہیں۔
جس چیز پہ میں کلئیر ہوں پھر اس سے میں پیچھے نہیں ہٹتا چاہے سارے ہی کیوں نہ خلاف ہوں۔ یہی وہ جزبہ تھا جس نے مجھے 9 اپریل کی رات پارلیمان میں تن تنہا کھڑا رکھا۔ میں اس پہ کلئیر تھا کہ جو ہو رہا ہے غلط ہے اور میں نے یہاں اپنے لیڈر کا مورچہ خالی نہیں چھوڑنا۔
یہی clarity یا سوچ کا ٹھراؤ جیل میں بھی اللّٰہ نے نصیب کیا کہ جب سب چھوڑ کرجا رہے تھے تو میں کوئی لوہے کا بنا ہوا تو نہیں تھا۔ مجھ پہ بھی کمزور لمحہ آسکتا تھا لیکن اللہ نے دل میں اک عجب اطمینان ڈالا کہ جہاں کھڑے ہو اور جس کے ساتھ کھڑے ہو وہ جگہ صحیح ہے۔سو امتحان تھا اللّٰہ نے عزت سےسرخرو کیا اور خوش اس بات پہ ہوں کہ جب باہر آیا تو خان صاحب کاخود میسیج آیا اور انہوں میری اس چھوٹی سی قربانی پہ مجھے حد سے زیادہ سراہا۔ اپنے لیڈر کے وہ الفاظ میرا سرمایہ ہیں۔
لیکن تحریک انصاف کے اس اس سیاسی سفر میں جن چند واقعات نے دل دکھی کیا وہ میری اپنی ذات سے متعلق کم اور میرے لیڈر اور رفقاء سے متعلق زیادہ ہیں۔
ایک واقعہ جو ذہن سے کبھی نہیں نکلتا اورشاید ساری زندگی اک داغ کی طرح سینے میں رہے وہ ہےخان صاحب کاان ظالموں کے ہاتھوں کالر سے پکڑ کر کھینچنا تھا۔ مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے یہ محض اس شخص کا کالر نہیں ہماری روح ہے جسے کانٹوں پہ گھسیٹا جا رہاہے۔ اپنے بچپن کے ہیرو اپنے لیڈر اورسابق وزیراعظم کےساتھ یہ سلوک وہ باہر آجائیں دوبارہ وزیراعظم بھی بن جائیں جنہوں یہ کیا وہ معافی بھی مانگ لیں تو شاید خان تو معاف کردے لیکن میرا دل کا وہ داغ شاید نہ دھل سکےجو ۹ مئی کے دن پوری قوم کے دل کو لگا۔
دوسرا واقعہ جس کا درد اتنے سال بعد آج بھی محسوس کرتا ہوں وہ شہریار آفریدی بھائی کا خالی آنکھوں کمزور بدن اور تاثرات سے خالی چہرے کے ساتھ ہاتھ میں قرآن تھامے اک صبر آزما اسیری کاٹنے کے بعد ان کی جیل سے رہائی کا دن تھا۔ لوگ کتنی جلدی بھول جاتے ہیں۔ قوم کا یہ وفادار بہادر اور دین دار سپوت اس سلوک کا مستحق تو ہرگز نہ تھا۔
ہاں تیسرا واقعہ ضرور میری ذات سے بھی متعلق ایک ہے جب طویل اسیری کے دوران آبائی علاقہ مردان کی دہشتگردی کی عدالت میں ملک سے غداری کا جھوٹا الزام لگا۔ دل جیسے کٹ کے رہ گیا کہ وہ جو اس پیر محمد خان کا پوتا ہے جس نے جناح کےساتھ ملکر پاکستان بنایا آج اسی علی محمدکو غدار کہہ رہے ہیں جس کے سیاست میں آنے کا مقصد ہی پاکستان کی سربلندی و استحکام ہے۔ یہ تو چلو بیچ میں اک پرسنل ذاتی بات بھی آگئی۔
لیکن جو ایک اور واقعہ نے دل پہ بہت بوجھ ڈالا وہ یہ ہے کہ چلو خان صاحب ، شہریار آفریدی یا میرے ساتھ تو اغیار نے کیا جن کو ہم نے کم از کم کبھی غیر نہیں سمجھا لیکن جو سینئر رہنما اور بڑے بھائی شوکت یوسفزئی بھائی کے ساتھ ہوا اور ان کی آنکھیں بھر آئیں اور ان سے بات تک نہ ہوسکی وہ تو اپنوں کے ہاتھوں ہوا۔
کیا صرف نقطہ نظر اور طریقہ کار کے اختلاف پہ کسی کو غدار کہنا جائز ہے ؟ اور وہ بھی اس شخص کو جس نے زندگی کے 29 سال اسی تحریک کو دئیے۔ جنہوں نے غداری کے فتوے بانٹے وہ تب شاید پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب سے یہ شریف آدمی عمران خان کے ساتھ ہے۔
کیا اپنوں سے اپنے ملک کے وفاداروں سے یہ سلوک جائز ہے۔
یاد رکھیے جو لوگ اپنے وفاداروں کی بے قدری کرتے ہیں وہ پھر بے وفاؤں کے ہاتھ میں ہی کھیلتے ہیں۔
اللّٰہ ہمیں حق کو پہچاننے سچ کہنے ایک دوسرے کی قدر کرنے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھتے ہوئے اور اختلاف کے باوجود باہمی عزت و تکریم کے رویے اپنانے کی بھی توفیق دے اور اس ملک کی حقیقی خدمت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائۓ تاکہ ہم اسے جناح کا پاکستان بنا سکیں۔ آمین
پاکستان 🇵🇰 زندہ باد
@Ali_MuhammadPTI آپ کے الفاظ آپ کی بزدلی کے عکاسی کرتے ہیں ۔پڑھا لکھا بزدل ہو ، غدار ہو یا کوئی کرپٹ شخص ہو اس کے پاس الفاظ کی کوئی کمی نہیں ہوتی ۔بڑے سے بڑا مجرم بھی اپنی صفائی کیلئے کئی عزر تراش سکتا ہے ۔ آپ کی بیغیرتی کا ثبوت یہ ہے کہ مرشد ابھی تک جیل کی سختیاں کاٹ رہا ہے اور آپ مزے کر رہے
@Ali_MuhammadPTI ابے منافق اعظم ،اسمبلیوں سے چمٹے رہنا اس نظام کی مضبوطی کے مترادف ہے۔ عمران خان کا پیغام بند نہ ہوا ہوتا تو وہ کب کا اسمبلیوں سے استعفے کا کہتا ،تم اس وقت بھی نہ مانتے؟ تم جیسے منافق خوب ایکسپوز ہوگئے ہیں ۔
The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering
• Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference
• Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province
• Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups
• Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP
• No contact with the Interim Afghan Government
• Substantial funding for counterterrorism operations and the police
• Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces
• Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts
• Implementation of the National Action Plan
Last night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War
@Waqarkhan یہ مہا احمق ہیں ۔ان سے یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ فلاں معاملہ افورڈ کرسکتے ہیں یا نہیں ۔ ان کیلئے افورڈ شفورڈ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ایک اور بنگل دیش بنائے بغیر یہ آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔یہ وہ جواری ہے جو سب کچھ ہارجانے کے باوجود بھی جوئے سے باز نہیں آتے